ریت کا فلسفلہ
تحریر: راجہ عاطف رضا
سارا دن ویران صحرا میں سفر کرنے کے بعد میں شدید تھکن کے عالم میں ریت پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں نے ریت کو ہاتھ میں اٹھا کر مٹھی بند کی تو ریت ہاتھ سے نکل کر زمین پر بکھر گئی۔ اتنی آسانی اور بے رحمی سے جیسے میرے ہاتھ کی گرفت کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ میں نے حیران ہو کر پھر وہی عمل دہرایا ہر بار ریت ہاتھ سے پھسل کر بکھر جاتی۔ مجھے نہ خوف محسوس ہوا اور نہ سکون بلکہ ان دونوں کے درمیان کی کوئی کیفیت تھی۔ جیسے صحرا مجھے دیکھ رہا ہو غصے سے نہیں ایک گہرے ٹھہراؤ سے۔ جیسے اس نے مجھ سے پہلے لاکھوں لوگوں کو دیکھا ہو اور میرے بعد بھی لاکھوں اور کو دیکھتا رہے گا۔
شام ہوئی تو سورج نے پہلے سنہری پھر نارنجی اور آخر میں سرخ رنگ بدل کر غروب ہونا شروع کیا۔ سورج کے ساتھ صحرا نے بھی اپنا رنگ بدلا بھوری ریت پہلے نیلی اور پھر سیاہ ہو گئی۔ میں نے وہیں رات قیام کیا آسمان پر ستارے اتنی تیزی سے ٹمٹمانے لگے جیسے کسی نے چراغ جلا دیے ہوں۔ میں اپنی چادر بچھا کر ریت پر لیٹ گیا۔ آسمان میری چھت بن گیا ستارے میرے چراغ بن گئے اور ٹھنڈی ریت میرے بستر کی طرح نرم لگی۔
آنکھیں بند کیں تو صحرا بولنے لگا۔ ہوا بہت ہلکی اور بالکل آہستہ سے آئی جیسے صحرا سانس لے رہا ہو۔ ریت کے ذرے اڑے اور میرے چہرے کو چھو کر گزر گئے۔ بہت دور سے ایک آواز آئی شاید کسی اونٹ کی گھنٹی کی جھنکار، یا شاید میرے اپنے دل کی دھڑکن جو صحرا کی وسعت میں گونج رہی تھی۔ پھر وہ خاموشی آئی جو بولتی ہے اور وہ سناٹا جو سب کچھ سنتا ہے۔ میں نے اس رات صحرا کی بہت سی باتیں سنیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہاں سے کتنے قافلے، بادشاہ، لشکر، تاجر، عاشق، مجنوں،قیدی اور مجرم گزرے مگر صحرا میں اپنی داستانیں چھوڑ گئے۔ ستاروں کو دیکھتے دیکھتے میری آنکھ لگ گئی۔
میں نے خواب میں ایک نقاب پوش بزرگ کو سفید لباس میں صحرا کے درمیان کھڑے دیکھا۔ انہوں نے ہاتھ میں ریت اٹھا کر مٹھی بند کی تو ریت بکھر گئی۔ انہوں نے پھر دونوں ہاتھوں سے ریت اٹھائی تو ریت ہوا میں اڑ گئی وہ ستاروں کی طرح چمک کر ان کے قدموں میں آ گِری۔ میں چونک کر جاگ گیا۔ صبح کی پہلی کرن صحرا پر پڑی تو ایسا لگا جیسے کسی نے سنہری چادر بچھا دی ہو۔ ہر ذرہ روشنی کا آئینہ بن گیا۔ میں اٹھا؛ میرے کپڑے ریت سے بھرے ہوئے تھے۔ صحرا نے مجھے اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔
میں نے اردگرد دیکھا کوئی نظر نہیں آیا۔ میں نے خواب کے بارے میں سوچا اور سمجھ آیا کہ ہم ساری زندگی دولت، شہرت، رشتے اور عزت کو پانے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں، لیکن وقت مٹھی میں پھسلتی ہوئی ریت کی طرح گزر جاتا ہے۔ اگر وقت کی قدر کی جائے تو کامیابی انسان کے قدم چھوتی ہے۔
ریت چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنتی ہے۔ ہر ذرہ الگ ہوتا ہے، مگر سب یکجا ہو کر زمین پر پھیل جاتے ہیں اور صحرا ان کی حفاظت کرتا ہے۔ انسان بھی ان ریت کے ذروں کی طرح ہے۔ جیسے ریت آندھی کا مقابلہ کرتی ہے، انسان بھی زندگی میں ہر مصیبت کا سامنا کرتا ہے۔ تیز طوفان آتے ہیں تو ریت کو اڑا کر لے جاتے ہیں، وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلی جاتی ہے بالکل اسی طرح حالات انسان کو مسافر بنا دیتے ہیں اور ریت تیز ہواؤں میں بکھرنے کے بعد آخرکار واپس اپنے مقام پر آ جاتی ہے۔ انسان بھی ایک مسافر کی طرح دنیا بھر کی ٹھوکریں کھا کر آخرکار اپنے اصل مقام پر پہنچ جاتا ہے۔
جس مٹی سے انسان کا وجود بنایا جاتا ہے، وہ آخرکار اسی میں لوٹ جاتا ہے۔ ریت بھی اسی مٹی کا حصہ ہے—وہی ذرے، وہی سفر، وہی آغاز، اور وہی انجام۔ صحرا اس کا گواہ ہے اور میں صرف ایک مسافر ہوں جو اسے لفظوں میں ڈھال رہا ہوں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

