تاریخقومیکھیل

سمیع اللہ ہاکی کی دنیا میں فلائنگ ہارس

ہاکی کی دنیا میں ’’فلائنگ ہارس ‘‘ کے نام سے مشہورسمیع اللہ خان کی گرانقدر خدمات

 سمیع اللہ خان اپنی بے مثال تیز رفتاری اور شاندار کھیل کی وجہ سے ’’فلائنگ ہارس ‘‘کے لقب سے مشہور ہیں۔ وہ نوابوں کے شہر بھاولپور میں پیدا ہوئے۔ ہاکی کے کھیل میں لیفٹ ونگر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اپنی رفتار، مہارت، اور شاندار کراسز کے لیے مشہور ہیں جو اکثر گول میں تبدیل ہوتے تھے۔سمیع اللہ کی تیز رفتاری اور بال کنٹرول نے انہیں حریفوں کے لیے ایک خطرناک کھلاڑی بنا دیا تھا۔ وہ میدان میں برق رفتاری سے دوڑتے، حریف کے دفاع کو چیرتے ہوئے گول کے مواقع پیدا کرتے تھے۔ ان کی رفتار اور مہارت نے انہیں ہاکی کے کھیل میں ایک لیجنڈری حیثیت دی۔

سمیع اللہ ہاکی کے میدان میں مطیع اللہ کے بھتیجے ہیں، جو 1960 کے روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے رکن تھے۔ ان کے بھائی کلیم اللہ بھی قومی ہاکی ٹیم کے رائٹ ونگر تھے، جس نے سمیع اللہ کی کھیل کی مہارت میں مزید نکھار پیدا کیا۔رواں سال فروی میں انہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے انہیں قومی ہاکی ٹیم کا چیف سلیکٹر مقرر کر دیا۔جس کا مقصد ایک نئے انتظامی ڈھانچے سے قومی کھیل کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا ہے۔

سمیع اللہ 1976 میں مونٹریال اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ 1978 اور 1982 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کا بھی حصہ تھے، جبکہ 1975 کے ورلڈ کپ میں وہ رنر اپ ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ انہوں نے تہران میں 1974 کے ایشین گیمز، بنکاک میں 1978 کے ایشین گیمز اور دہلی میں 1982 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کی بھی نمائندگی کی۔

سمیع اللہ کا تیز رفتار کھیل، بہترین بال کنٹرول اور شاندار باڈی ڈاجز انہیں ایک ناقابل شکست کھلاڑی بناتے تھے۔ ان کی سنسنی خیز رنز اور حیرت انگیز مہارتوں نے انہیں دنیا بھر کے ہاکی شائقین کے دلوں میں جگہ دی۔سمیع اللہ کے بھائی ہدایت اللہ قومی ہاکی ٹیم کی طرف سے کھیلتے رہے، اگرچہ ان کا کریئر مختصر تھا لیکن انہوں نے پی آئی اے کی طرف سے طویل عرصے تک قومی سطح پر ہاکی کھیلی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

1975 میں ملائیشیا میں منعقدہ تیسرے عالمی ہاکی کپ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پاکستان اور جرمنی مدِمقابل تھے۔ میونخ اولمپکس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان یہ پہلا مقابلہ ہونے جا رہا تھا۔میونخ اولمپکس کی تلخ یادیں پاکستانی شائقین اور کھلاڑیوں کے ذہنوں سے ابھی محو نہیں ہوئی تھیں لیکن اس بار کوئی تلخ واقعہ رونما نہیں ہوتا اور پاکستانی ہاکی ٹیم جرمنی کو ایک کے مقابلے میں پانچ گول سے آؤٹ کلاس کر دیتی ہے۔پاکستانی ہاکی ٹیم کی اس یکطرفہ جیت میں ایک کھلاڑی کا کھیل سب سے نمایاں رہتا ہے، جو نہ صرف خود دو گول کرتے ہیں بلکہ میچ میں پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے دیگر تین گول بھی انھی کی کوششوں کے نتیجے میں ہوئے۔اگلے دن ملائیشیا کے تمام بڑے اخبارات میں پاکستانی ٹیم کی جیت کی خبروں میں اس کھلاڑی کی غیرمعمولی کارکردگی کا ذکر تھا۔ یہ کھلاڑی لیفٹ آؤٹ سمیع اللہ تھے۔

سمیع اللہ کو آج بھی یاد ہے کہ ’فلائنگ ہارس‘ کا خطاب کس طرح ان کے نام کا حصہ بنا تھا۔وہ بتاتے ہیں کہ سیمی فائنل کے اگلے دن اختر رسول میرے کمرے میں آئے۔ ان کے ہاتھ میں چند اخبارات تھے، انھوں نے ازراہ تفنن کہا کہ لگتا ہے کہ یہ اخبار والے سب تمہارے دوست ہیں جنھوں نے تمہاری اتنی زیادہ تعریفیں لکھی ہیں۔ایک جرمن فوٹو گرافر نے ان کے کھیلنے کی دس تصاویر ایک ترتیب سے بنائی تھیں تاکہ وہ شائقین کو یہ بتا سکیں کہ گیند کے ساتھ ان کی موومنٹ کس طرح رہتی ہے۔ انھی خبروں میں جرمن ٹیم کے کوچ پال لیزیک کا بیان بھی شامل تھا جنھوں نے کہا تھا کہ سمیع اللہ فلائنگ ہارس نے ہماری ٹیم کو تباہ کر کے رکھ دیا۔یہی وہ پہلا موقع تھا جب انہیں کسی نے ’فلائنگ ہارس‘ کے نام سے پکارا جو بعدازاں ان کے نام کا مستقل حصہ بن گیا۔

سمیع اللہ کو اس بات کا بہت دکھ ہے کہ اسی ورلڈ کپ کے فائنل میں وہ انڈین ہاف بیک وریندر سنگھ کی سٹک پاؤں میں پھنسنے کی وجہ سے گرے تھے اور ان کی ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، جس کی وجہ سے انھیں تین ماہ ہاکی سے دور رہنا پڑا تھا۔
سمیع اللہ کاخاندان ایتھلیٹکس کیا کرتا تھا۔ دو چچا اولمپیئن مطیع اللہ اور امان اللہ زمانہ طالب علمی میں ایتھلیٹک میٹ میں حصہ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے سکول اور کالج کے زمانے میں ایتھلیٹکس میں باقاعدہ حصہ لیا۔ 1971 میں وہ بہاولپور میں صادق ایجرٹن کالج کے بہترین ایتھلیٹ قرار پائے تھے۔

چچا مطیع اللہ انہیں پچاس میٹر اور پھر سو میٹر کی سپرنٹ لگوایا کرتے تھے۔ وہ جب بھی پریکٹس کے لیے جاتے تھے سمیع اللہ ان کے ساتھ جایا کرتے تھے اور دیکھا کرتے کہ وہ کس طرح ہٹ لگاتے ہیں اور کس طرح گیند روکتے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ تم اس وقت تک اچھے کھلاڑی نہیں بن سکتے جب تک صحیح طریقے سے گیند نہ روک سکو۔سمیع اللہ بتاتے ہیں کہ ان کے چچا مطیع اللہ روم اولمپکس کی فاتح ٹیم کے کھلاڑی تھے جنھوں نے لطیف الرحمن جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی کی جگہ لی تھی۔ مطیع اللہ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ْمڑے بغیر کراس لگاتے تھے اور گیند پنالٹی سٹروک کے نشان اور گول کیپر کے درمیان میں جایا کرتی تھی، یہی خوبی بعد میں سمیع اللہ کے کھیل کا حصہ بنی۔ان کی سپیڈ شروع سے ہی تھی لیکن جب انہوں نے ہاکی کھیلنی شروع کی تو نبی کیلاٹ مرحوم اور سابق اولمپیئن سعید انور نے انہیں مہارت سکھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمہاری رفتار بہت تیز ہے، لہٰذا تمہارے ساتھ اگر کوئی ہاف بیک بھاگتا آ رہا ہو تو تم فوراً کوشش کرو کہ اسے اپنے پیچھے لے آؤ۔ سمیع اللہ نے ان کی باتوں پر عمل کیا اور اپنی سپیڈ سے فائدہ اٹھایا۔
وہ کہتے ہیں کہ شہناز شیخ ڈربلنگ بہت کرتے تھے لیکن وہ جارحانہ انداز نہیں رکھتے تھے، میں نے یہ انداز دکھایا کہ جیسے ہی پچیس گز کے اندر جاتا تھا فوراً ’’کٹ اِن‘ ‘کرتا تھا۔ ہم نے ایک نئی روایت یہ ڈالی کہ بائیں جانب سے حریف ٹیموں پر حملے شروع کیے، دنیا کے لیے یہ حیران کن بات تھی کیونکہ پہلے پاکستانی ٹیم صرف دائیں طرف سے اٹیک کیا کرتی تھی۔

’’گیند کلیم اللہ سے سمیع اللہ پھر کلیم اللہ ۔ہاکی کمنٹری میں سنا جانے والا یہ دلچسپ جملہ محض ذہنی اختراح یا مزاح نہیں بلکہ یہ سب کچھ میدان میں دیکھنے کو ملتا تھا۔کلیم اللہ ابتدا میں سینٹر ہاف کھیلا کرتے تھے لیکن جب بریگیڈیئر عاطف اور سعید انور نے ان کی پوزیشن رائٹ ہاف کرنے کی کوشش کی تو سمیع اللہ نے ان سے کافی بحث کی کہ انھیں کسی دوسری پوزیشن پر کھلایا جائے۔اس گفتگو میں ایئرمارشل نور خان بھی شامل تھے، بلاآخر کلیم اللہ کو اصلاح الدین کی ریٹائرمنٹ کے بعد رائٹ آؤٹ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ کلیم اللہ کے پاس سپیڈ بھی تھی اور ان کے کھیل میں ورائٹی بھی تھی، اس کے علاوہ انھیں منظور جونیئر جیسا بہترین رائٹ ان بھی ملا جو انھیں گیند بنا کر دیا کرتا تھا۔سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ سب کو یاد ہو گا کہ جب میں لیفٹ آؤٹ اور کلیم اللہ رائٹ آؤٹ کھیلا کرتے تھے تو ہم بہت انٹرچینج کرتے تھے۔ ہم دونوں میں بہت ہم آہنگی تھی۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک مشہور فقرہ آج بھی دنیا کو یادہے کہ سمیع اللہ سے کلیم اللہ۔ کلیم اللہ سے سمیع اللہ۔ یہ دونوں ہی آپس میں کھیلے جا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل ہاکی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دونوں ونگرز آپس میں کراسنگ کریں اور کسی دوسرے کھلاڑی کے پاس گیند نہ جائے۔

سمیع اللہ کے بڑے بھائی ہدایت اللہ 1973 کے عالمی کپ میں سمیع اللہ کے ساتھ کھیلے تھے۔ہدایت اللہ ان سے دو سال بڑے تھے لیکن جب بھی کوئی مشکل میچ آتا تھا تو ان کے ہاتھ پیر پھول جاتے تھے۔ 1973 کے عالمی کپ میں وہ لیفٹ آؤٹ تھے اور سمیع اللہ لیفٹ ان کھیل رہے تھے۔ اکثر یہ ہوا کہ وہ انھیں گیند دیتے اور وہ فوراً انہیں واپس کر دیتے۔سمیع اللہ کہتے ہیں ’’میں نے ان سے کہا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ گیند کو اپنے پاس رکھ کر اسے آگے لے جانا چاہیے لیکن جب میں نے دو میچوں میں دیکھا کہ میری بات کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا تو مجھے خود ہی ان کا کام بھی کرنا پڑا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے انڈیا کے خلاف سیمی فائنل میں گول بھی کیا لیکن وہ آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔‘‘

سمیع اللہ نے چار ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی، جن میں سے 1978 اور 1982 کے عالمی کپ پاکستان نے جیتے۔ سمیع اللہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے چاروں ورلڈ کپ مقابلوں میں گول کیے۔
سمیع اللہ دو چیمپنز ٹرافی اور تین ایشین گیمز جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں بھی شامل تھے۔وہ 198

میں ایشین گیمز جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جس نے فائنل میں انڈیا کو ایک کے مقابلے میں سات گول سے شکست دی تھی۔ یہ وہی میچ ہے جس میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اپنی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی سے دلبرداشتہ ہو کر میچ ادھورا چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔

سمیع اللہ خان کی ہاکی کے میدان میں خدمات اور کارنامے آج بھی یادگار ہیں اور ان کا نام ہمیشہ ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل رہے گا۔

سمیع اللہ خان…بے مثال۔تیز رفتار

سمیع اللہ خان اپنی بے مثال تیز رفتاری اور شاندار کھیل کی وجہ سے ’’فلائنگ ہارس ‘‘کے لقب سے مشہور ہیں۔6 ستمبر 1951 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ وہ ہاکی کے کھیل میں لیفٹ ونگر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اپنی رفتار، مہارت اور شاندار کراسز کے لیے مشہور ہیں جو اکثر گول میں تبدیل ہوتے تھے۔

٭٭٭

سمیع اللہ کی تیز رفتاری اور بال کنٹرول نے انہیں حریفوں کے لیے ایک خطرناک کھلاڑی بنا دیا تھا۔ وہ میدان میں برق رفتاری سے دوڑتے، حریف کے دفاع کو چیرتے ہوئے گول کے مواقع پیدا کرتے تھے۔ ان کی رفتار اور مہارت نے انہیں ہاکی کے کھیل میں ایک لیجنڈری حیثیت دی۔

٭٭٭

سمیع اللہ ہاکی کے میدان میں مطیع اللہ کے بھتیجے ہیں جو 1960 کے روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے رکن تھے۔ ان کے بھائی کلیم اللہ بھی قومی ہاکی ٹیم کے رائٹ ونگر تھے جنہوں نے سمیع اللہ کی کھیل کی مہارت میں مزید نکھار پیدا کیا۔بہترین بال کنٹرول اور شاندار باڈی ڈاجز انہیں ایک ناقابل شکست کھلاڑی بناتے تھے۔

٭٭٭

سمیع اللہ 1976 میں مونٹریال اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ 1978 اور 1982 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کا بھی حصہ تھے جبکہ 1975 کے ورلڈ کپ میں وہ رنر اپ ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ انہوں نے تہران میں 1974 کے ایشین گیمز، بنکاک میں 1978 کے ایشین گیمزاور دہلی میں 1982 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کی بھی نمائندگی کی۔

٭٭٭

سمیع اللہ کے بھائی ہدایت اللہ بھی قومی ہاکی ٹیم کی طرف سے کھیلتے رہے، اگرچہ ان کا کریئر مختصر تھالیکن انہوں نے پی آئی اے کی طرف سے طویل عرصے تک قومی سطح پر ہاکی کھیلی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔حکومت پاکستان نے ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔

٭٭٭

وہ بھاولپور میں ہی مقیم ہیں جہاں وہ زیادہ وقت سماجی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں۔انہوں نے ماڈل ٹائون اے کے علاقے میں خان آ ئی ہسپتال کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔یہاں شہر اور گردو نواح کے مریضوں کو علاج کی مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔سمیع اللہ ہسپتال کی نگرانی خود کرتے ہیں۔

(منقول)

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *