بزنسسیاستشعبہ انٹرنیشنل

جنگ معاہدہ اور خاموش دنیا

Share your Love

تحریر: حیران مومند

ہر جنگ بندوق سے شروع نہیں ہوتی اور ہر جنگ بندی امن پر ختم نہیں ہوتی۔ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات جنگ میدانِ جنگ سے زیادہ الفاظ، دھمکیوں، پابندیوں اور سفارتی بیانات میں لڑی جاتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی اسی پیچیدہ عالمی شطرنج کا حصہ ہے، جہاں عارضی جنگ بندی یا محدود معاہدے کے باوجود سخت بیانات، باہمی الزامات اور طاقت کے مظاہرے جاری رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ کیا دنیا واقعی امن کی طرف بڑھ رہی ہے یا صرف اگلے بحران کی تیاری کر رہی ہے۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ پابندیاں، جوہری پروگرام، خلیج فارس کی سلامتی، اسرائیل، علاقائی اتحادی، تیل کی تجارت اور مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ جیسے عوامل اس تنازع کو مسلسل زندہ رکھتے آئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جب دونوں ممالک کے درمیان محدود جنگ بندی یا عارضی مفاہمت کی بات سامنے آئی تو امید پیدا ہوئی کہ شاید کشیدگی میں کمی آئے گی، لیکن اس کے بعد آنے والے سخت بیانات، ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات اور فوجی تیاریوں نے واضح کر دیا کہ اعتماد اب بھی دونوں کے درمیان سب سے نایاب چیز ہے۔
بین الاقوامی تعلقات میں عارضی معاہدے اکثر مستقل امن کی ضمانت نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات وہ صرف جنگ کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے وقفہ ثابت ہوتے ہیں۔ جب کسی تنازع کی بنیادی وجوہات برقرار رہیں، فریقین کے درمیان اعتماد نہ ہو اور ہر قدم کو طاقت کے توازن کی نظر سے دیکھا جائے تو معاہدے کاغذ پر تو موجود رہتے ہیں لیکن زمینی حقیقت مختلف ہوتی ہے۔
ایران کا مؤقف عمومی طور پر یہ رہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور جوہری پروگرام کے بارے میں بیرونی دباؤ قبول نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی علاقائی سرگرمیوں اور جوہری صلاحیت کو اپنے مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ یہی بنیادی اختلاف ہر نئے معاہدے کو بھی غیر یقینی بنا دیتا ہے۔
جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے، ان کے بیانات اور پالیسیوں کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ “امن کے ذریعے طاقت” کی حکمت عملی اپناتے ہیں اور سخت مؤقف اختیار کر کے بہتر شرائط پر مذاکرات چاہتے ہیں۔ ناقدین کے نزدیک وہ دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور جارحانہ سفارت کاری کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، جس سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ وہ کسی ایک مقصد کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، قطعی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ سیاسی رہنما بیک وقت داخلی سیاست، اتحادیوں کے مفادات، انتخابی حکمت عملی، قومی سلامتی اور عالمی طاقت کے توازن جیسے کئی عوامل کو مدنظر رکھتے ہیں۔
اس تنازع کا ایک اہم پہلو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا کردار بھی ہے۔ اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ جب بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو اقوام متحدہ مؤثر کردار ادا نہیں کر پاتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے ویٹو اختیارات اور باہمی اختلافات بہت سے فیصلوں کو محدود کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بین الاقوامی بحرانوں میں اقوام متحدہ کی قراردادیں، اپیلیں اور سفارتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتیں۔
البتہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اقوام متحدہ مکمل طور پر “سوئی ہوئی” ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے مختلف ادارے انسانی امداد، سفارتی رابطوں اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے کام کرتے رہتے ہیں، لیکن جب بڑی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات آپس میں ٹکرا جائیں تو اس کی عملی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔
استعارے کی زبان میں دیکھا جائے تو موجودہ عالمی نظام ایک ایسے بازار سے مشابہ ہے جہاں ہر طاقت امن کی بات بھی کرتی ہے اور اپنی تلوار بھی تیز رکھتی ہے۔ ہر ملک امن کا پرچم اٹھاتا ہے لیکن اپنی فوجی تیاریوں میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ مذاکرات کی میز بھی سجی رہتی ہے اور جنگی منصوبے بھی تیار رہتے ہیں۔ یہی جدید عالمی سیاست کا سب سے بڑا تضاد ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی یا کم ہوتی کشیدگی صرف ان دو ممالک کا مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات تیل کی عالمی قیمتوں، بحری تجارت، خلیج فارس، آبنائے ہرمز، مشرق وسطیٰ کے استحکام، عالمی مہنگائی اور ترقی پذیر معیشتوں تک پہنچتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو توانائی کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، ایسے ہر بحران کے معاشی اثرات محسوس کرتے ہیں۔
موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام فریق طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور مسلسل مذاکرات کو ترجیح دیں۔ پائیدار امن صرف عارضی معاہدوں سے نہیں بلکہ اعتماد سازی، شفاف مکالمے اور ایسے سیاسی فیصلوں سے ممکن ہے جو خطے کے عوام کو جنگ کے بجائے استحکام اور ترقی کی طرف لے جائیں۔ تاریخ بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان، لیکن اس کے نتائج پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا عالمی قیادت کے لیے اصل امتحان طاقت دکھانا نہیں بلکہ ایسا امن قائم کرنا ہے جو اگلے بحران تک محدود وقفہ ثابت نہ ہو بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ محفوظ مستقبل کی بنیاد بن سکے۔

اگر موجودہ صورتحال کو وسیع تر جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کیا ہوگا، بلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ اس کشیدگی سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو اور نقصان کس کو پہنچے گا۔ عالمی سیاست میں اکثر جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ معیشت، سفارت کاری، اطلاعات، پابندیوں، توانائی کی منڈیوں اور اتحادیوں کی صف بندی کے ذریعے بھی اپنا نتیجہ مرتب کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو صرف دو ریاستوں کا تنازع سمجھنا زمینی حقیقت کا مکمل عکس نہیں ہوگا۔
آج مشرق وسطیٰ ایک ایسے آتش فشاں پر کھڑا ہے جس کے گرد اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، عراق، شام، لبنان، روس، چین اور یورپی طاقتوں سمیت تقریباً ہر اہم ملک کے اپنے اپنے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی، بحری راستوں کی سلامتی اور اتحادیوں کے تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے، جبکہ ایران خود کو ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے جو بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں کا خود فیصلہ کرے۔ یہی دو مختلف تصورات اس پورے بحران کو مسلسل زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے مذاکرات کی بہتر پوزیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری رائے کے مطابق ایسے بیانات داخلی سیاسی حمایت، اتحادیوں کو یقین دہانی اور عالمی سطح پر امریکی قیادت کے تاثر کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے، حقائق کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا، کیونکہ خارجہ پالیسی ہمیشہ متعدد عوامل کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔
دوسری طرف ایران بھی صرف عسکری زبان استعمال نہیں کر رہا بلکہ وہ یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ پابندیوں، فوجی دباؤ اور سفارتی تنہائی کے باوجود وہ پسپائی اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ اس لیے دونوں جانب سے آنے والے تند و تیز بیانات دراصل نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی سمجھے جا سکتے ہیں، جن کا مقصد صرف مخالف ریاست نہیں بلکہ اپنے عوام، اتحادیوں اور عالمی رائے عامہ کو بھی متاثر کرنا ہوتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارے مسلسل کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ جنگ روکنے کی اپیل تو کر سکتی ہے، لیکن جب سلامتی کونسل کے مستقل اراکین خود مختلف فریقوں کی پشت پناہی کر رہے ہوں تو اس کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف بحرانوں میں بین الاقوامی قانون اور طاقت کی سیاست اکثر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔
معاشی اعتبار سے بھی اس کشیدگی کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر خلیج فارس یا اہم بحری گزرگاہوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتیں، بحری انشورنس، عالمی سپلائی چین، خوراک اور صنعتی خام مال کی لاگت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک پر پڑ سکتا ہے، جہاں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی، صنعتی پیداوار اور عام شہری کی زندگی پر دباؤ بڑھا دیتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس وقت سب سے دانشمندانہ راستہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ متوازن سفارت کاری، علاقائی امن اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دے۔ کسی بھی بڑی طاقت کے تنازع میں فریق بننے کے بجائے پاکستان کو ایسے سفارتی کردار کی کوشش کرنی چاہیے جو مکالمے، اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کرے۔ یہی رویہ اس کی داخلی معیشت، علاقائی روابط اور قومی سلامتی کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
آخرکار یہ بحران ایک بار پھر دنیا کو یاد دلا رہا ہے کہ جدید دور میں جنگ کا سب سے بڑا شکار صرف فوجیں نہیں ہوتیں بلکہ عام شہری، معیشتیں، بازار، تعلیمی ادارے، سرمایہ کاری اور آنے والی نسلیں بھی اس کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ اگر عالمی قیادت نے طاقت کے توازن کو ہی امن کا واحد راستہ سمجھا تو کشیدگی کے یہ بادل بار بار لوٹتے رہیں گے۔ لیکن اگر سفارت کاری، باہمی احترام، بین الاقوامی قانون اور حقیقی سیاسی مکالمے کو ترجیح دی گئی تو شاید دنیا ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ سکے جہاں عارضی جنگ بندیوں کی جگہ پائیدار امن لے سکے۔ یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت اور عالمی قیادت کا اصل امتحان ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *