متفرققومیمعاشرہ

بزدل روحیں

تحریر: عمران الرحمٰن

تعلقات کے تقاضے جب الٹ جائیں تو اس کے نتائج بھیانک ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں ہمارے ذہن پر نقش ہو کر ایک غلط سمت طے کر دیتی ہیں۔ کبھی کبھار تمام عمر گزار کر بھی اپنے اردگرد لوگوں کا ادراک نہیں ہو پاتا کہ تعلق سپاٹ کیوں ہے اور تعلق ہے بھی یا صرف رشتے کا بوجھ ہی ڈھویا جا رہا ہے اور اس بوجھ کو عمر بھر ڈھوتے رہنے کا کام کرتی ہیں “بزدل روحیں۔”

اکثر اوقات آغاز کسی بڑی دشمنی یا کھلی بیزاری سے نہیں ہوتی، بلکہ چھوٹی چھوٹی ندیدگی، خاموش تلخیاں اور ان کہی باتیں ہمارے ذہنوں میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہی چھوٹی باتیں وقت کے ساتھ ایک ایسا غبار بن جاتی ہیں جو سوچ اور فکر کی سمت ہی بدل دیتا ہے۔ ہم انسانوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم سامنے والے کو سمجھنے کی بجائے اپنی ہی بنائی ہوئی فرضی کہانیوں اور وہم کے خول میں بند ہو جاتے ہیں۔ اس ناسمجھی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی پوری عمر ایک ہی چھت کے نیچے گزار دیتا ہے مگر پھر بھی اپنے اردگرد موجود لوگوں کی سچی شخصیت اور ان کے دل کے حال کا ادراک نہیں کر پاتا۔ انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ آخر اکتساب کا یہ سفر اتنا سپاٹ اور روح سے خالی کیوں ہے؟ یہ سوال ہمیشہ دل و دماغ پر دستک دیتا رہتا ہے کہ کیا یہ واقعی کوئی سچا جذباتی تعلق ہے یا صرف نام نہاد رشتے کا وہ ناگزیر بوجھ، جسے معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ڈھویا جا رہا ہے۔ اس بوجھ کو تمام عمر بغیر کسی احتجاج کے خاموشی سے ڈھوتے رہنے کا کام “بزدل روحیں” کرتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکے ہوتے ہیں لیکن سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ ان میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ بیٹھ کر کھلے دل سے بات کر سکیں، رشتے کے نقائص پر بات کریں یا پھر کسی ایسے تعلق کو ختم کر دیں جو روزانہ ان کی خودداری اور خوشیوں کا خون کر رہا ہوتا ہے۔

بزدل روحیں تلخ حقیقت کے بدلے ایک پرسکون لیکن کھوکھلی خاموشی کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ حالات کو بدلنے کا رسک لینے کی بجائے خود کو بدحالی کا عادی بنا لیتی ہیں اور یوں ایک مصنوعی مسکراہٹ کا نقاب اوڑھ کر زندگی کو بس گزارتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا بھیانک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نسل در نسل محبت کی جگہ مجبوری اور خلوص کی جگہ رسم و رواج لے لیتے ہیں۔ جب ہم اپنے اندر کے خوف کو شکست دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو رشتوں میں گرمجوشی، روح اور مٹھاس ختم ہو جاتی ہے اور صرف کھوکھلے خالی قالب باقی رہ جاتے ہیں۔ تعلقات کو زندہ رکھنے کے لیے شجاعت، کھلے پن اور سچائی کی ضرورت ہوتی ہے؛ اگر یہ اوصاف نہ ہوں تو انسان اپنے ہی تراشے ہوئے خوف کے زندان میں قید ہو کر بزدل روح بن جاتا ہے اور عمر بھر صرف ایک بے معنی بوجھ ڈھوتا رہتا ہے۔

اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اور فرد اپنے رویوں اور ترجیحات پر ازسرنو غور کریں۔ آج کے دور میں جہاں مادیت پرستی، سوشل میڈیا کی سجی سنوری دکھائی دنیا اور معاشرتی دکھاوے نے انسانوں کے درمیان دراڑیں مزید گہری کر دی ہیں، وہاں حقیقی جذباتی وابستگی کہیں کھو کر رہ گئی ہے۔ ہم نے اپنے اردگرد بنی بناوٹ کی دیواروں کو مضبوط کرنے اور “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف کو اتنا حاوی کر لیا ہے کہ ہم روز مرہ زندگی میں اپنی ہی بزدل روحوں کے قیدی بن چکے ہیں۔

معاشرتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہمارے نظام نے سچ کا سامنا کرنے، صاف گوئی سے بات کرنے اور دل کے حال کو کھول کر بیان کرنے کی صلاحیت کو سنوارنے کی بجائے سدا گھٹ کر جینے اور خاموش رہنے کو “صبر” اور “قرینۂ زندگی” کا نام دے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نسل در نسل بزدل روحوں کی ایک ایسی نسل انسانی تیار کر رہے ہیں جو محبت اور گرمجوشی کا تجربہ کرنے کے بجائے صرف اور صرف سمجھوتوں، مجبوریوں اور مصنوعی رشتوں کو ہی مقدر مان لیتی ہیں۔ لیکن یاد رکھیے، اس طرح کا سکوت اور کھوکھلا پن بالآخر پورے معاشرے میں جذباتی بیگانگی، نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ اور گھٹن کا سبب بنتا ہے۔

اس بھیانک انجام سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے شجاعت کا انتخاب۔ ہمیں اپنے اندر کی بزدل روح کو بیدار کر کے دلیر بنانا ہوگا۔ رشتوں میں شفافیت، کھلے دل سے مکالمہ اور سچائی کو قبول کرنے کی جرأت ہی وہ بنیادیں ہیں جو کسی تعلق میں دوبارہ روح پھونک سکتی ہیں۔ چاہے بات سچ کا سامنا کر کے رشتوں کی تعمیرِ نو کی ہو یا پھر کسی زہریلے اور مردہ تعلق سے باعزت طریقے سے راستے الگ کرنے کی، فیصلہ ہمیشہ بزدلی کے بجائے دلیری پر مبنی ہونا چاہیے۔ جب ہم اپنے خوف کے زندان کو توڑ کر سچائی کے ساتھ جینا شروع کریں گے، تب ہی ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں گے جہاں رشتے بوجھ نہیں بلکہ روح کی بالیدگی اور حقیقی خوشی کا ذریعہ بنیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *