!ریٹائرمنٹ اختتام نہیں ایک نئی شروعات
تحریر: ہارون رشید قریشی

ریٹائرمنٹ صرف ملازمت یا پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے اختتام کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کا آغاز ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی طویل عملی زندگی، قیمتی تجربات اور بے لوث خدمات کے بعد روزمرہ کی ملازمت کی مصروفیات سے آزاد ہو کر اپنی زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر توجہ دیتا ہے۔ لفظ ریٹائرمنٹ (Retirement) فرانسیسی فعل Retirer سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں پیچھے ہٹنا، الگ ہونا یا کسی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا۔ اس فعل کی جڑیں لاطینی زبان میں ملتی ہیں جہاں اس کا مفہوم کسی ذمہ داری سے باوقار انداز میں دستبردار ہو کر زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونا تھا۔
ابتدائی ادوار میں ریٹائرمنٹ کا تصور صرف ملازمت چھوڑنے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا تعلق فوجی خدمات، عوامی ذمہ داریوں اور مذہبی یا سماجی فرائض سے سبکدوش ہو کر نسبتاً پرسکون زندگی اختیار کرنے سے تھا۔ جدید دور میں ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ تصور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے بعد سامنے آیا جب ملازمین کے حقوق اور سماجی تحفظ کے نظام کو فروغ ملا۔ 1889ء میں جرمنی کے چانسلر اوٹو وان بسمارک نے بزرگ شہریوں کے لیے باقاعدہ سرکاری پنشن کا نظام متعارف کرایا، جسے دنیا میں جدید ریٹائرمنٹ کے تصور کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
آج اہلِ دانش ریٹائرمنٹ کو زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی شروعات قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ملازمت سے ریٹائر ہوتا ہے، اپنی صلاحیت، تجربے، علم اور خدمت کے جذبے سے نہیں۔ زندگی کا یہ مرحلہ نئی راہوں کی تلاش، ادھورے خوابوں کی تکمیل، معاشرے کی خدمت اور ذاتی دلچسپیوں کو آگے بڑھانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ریٹائرمنٹ زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی شروعات ہے۔
حقیقی معنوں میں ریٹائرمنٹ ایک شخص کی خدمات کا اعتراف اور اس کے تجربے کا احترام ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایسی زندگی شروع ہوتی ہے جو انسان بھول چکا ہوتا ہے۔ آج مجھے بینک سے ریٹائر ہوئے تقریباً دس سال ہونے کو آئے ہیں۔ میری الوداعی پارٹی کے دن میرے ایک پرانے ساتھی کے ایک وائس میسج نے میری سوچ ہی نہیں بلکہ میری آئندہ زندگی کا رخ بدل دیا۔ ہارون رشید! تم کام سے ریٹائر ہو رہے ہو زندگی سے نہیں۔ انھوں نے ایک اور خوبصورت بات کہی جو آج بھی میرے دل میں نقش ہو گئی ہے۔ بہت سے لوگ ساٹھ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ تم زندگی کی ساٹھ بہاریں دیکھ چکے ہو۔ اب مایوس ہونے کے بجائے نئی امید اور نئے جذبے کے ساتھ زندگی کا سفر جاری رکھو۔ اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ ریٹائرمنٹ کو اپنی زندگی کا اختتام نہیں بناؤں گا بلکہ ایک نئی شروعات کروں گا۔
میں نے اپنی زندگی میں ایسے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو ریٹائرمنٹ کو دل پر لے لیتے ہیں۔ میرے ایک بہت اچھے دوست جو ستر سال کی عمر میں ریٹائر ہوئے اور وطن واپس چلے گئے۔ اس کے بعد وہ کبھی قطر نہیں آئے۔ جب میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا اب واپس آ کر کیا کروں گا؟ لوگ کہیں گے کہ اب میں ریٹائر ہو چکا ہوں۔ اس جواب نے مجھے بہت سوچنے پر مجبور کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ صرف ملازمت سے ہوتی ہے انسان کی صلاحیت اور تجربہ اور علم کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے لکھنا شروع کیا مطالعہ بڑھایا اور نئے لوگوں سے رابطے بنائے۔ اسی دوران میری ٹیلی فون پر ڈاکٹر عامر سہیل صاحب سے ملاقات ہوئی جو ایبٹ آباد پیبلک اسکول میں اردو کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ وقت کے ساتھ ہمارے درمیان بہت اچھا تعلق قائم ہو گیا۔ میں اخبار کے معاملات اور اپنے مضامین کے سلسلے میں ہمیشہ ان سے رہنمائی لیتا رہا۔ وہ اکثر کہتے “آپ ک اسلوب بہت اچھا ہے میں نے صرف املا کی اصلاح کی ہے”۔ میرے ساتھ کبھی بھی بیزارگی کا اظہار نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ کہتے فارغ ہو کر دیکھتا ہوں۔ ان کے اس مثبت رویے سے مجھے یقین ہو گیا ان کا رویہ سب کے ساتھ ایسا ہی ہو گا۔ ان کی یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی اور آج تک اچھے شاگرد کی طرح ان کے علمی ویژن سے فیض حاصل کر رہا ہوں جو ایک ایسے کنویں کی طرح ہے جس کا پانی کبھی خشک نہیں ہوتا۔ایک دن انہوں نے قدرے جذباتی انداز بتایا مگر ان کے لہجے میں ایک ہلکی سی خوشی کی کرن تھی اور کہا قریشی بھائی! میں بھی ریٹائر ہونے والا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کو خندہ پیشانی اور خوش دلی سے قبول کیا ہو۔ ڈاکٹر عامر سہیل یکم اگست 2026 کو اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان کے بچے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے شعبوں میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ انھیں کبھی بھی کسی معاشی پریشانی یا فکر کا سامنا نہیں۔ اور سب سے بڑھ کرانہیں ایک ایسی شریک حیات میسر ہے جو ہر مرحلے میں ان کا مضبوط سہارا بنی رہی۔ ریٹائرمنٹ کے بارے میں وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہی زندگی ہے اور ایک دن ہر انسان نے اپنی ذمہ داریاں دوسروں کے حوالے کر کے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ سب سے خوش آئندہ بات یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد انھوں نے ایک نئے تعلیمی ادارے میں شعبہ اردو کے سربراہ کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قابل اور باصلاحیت لوگ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے بلکہ صرف اپنی ذمہ داریوں کی جگہ اور میدان بدلتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتنا حوصلہ، صبر اور حکمت عطا فرمائے کہ ہم ریٹائرمنٹ کو خوش دلی سے قبول کریں جیسے ڈاکٹر عامر سہیل صاحب نے کیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب! ہم سب آپ کی پیشہ ورانہ زندگی کی دوسری اننگز کےآغاز پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں اور امید ہے پہلی اننگز کی طرح کامیاب اور کامران ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، خوشی، دلی سکون، لمبی عمر اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آپ جہاں بھی رہیں اپنی صلاحیتوں، تجربے اور علم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے رہیں جس طرح آپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی سے ہٹ کر علم و تدریس کا کام خقوق العباد کی طرح کیا ہے۔ میں ذاتی طور پر یہ اعتراف کرنا چاہوں گا کہ اگر آج رہبر کسان انٹرنیشنل میں یا میری شخصیت میں کچھ مثبت تبدیلیاں اور بہتری نظر آتی ہے تو اس میں ڈاکٹر عامر سہیل صاحب کی رہنمائی حوصلہ افزائی اور مخلصانہ مشوروں کا بھی اہم حصہ ہے۔
آخر میں میں اپنے اس پرانے ساتھی کے الفاظ ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا۔ ڈاکٹر صاحب! آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں، زندگی سے نہیں۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندگی کی ساٹھ بہاریں دکھائیں۔ بہت سے لوگ اس منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ آپ نے صرف ایک عہدہ چھوڑا ہے، خدمت کا سفر نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ نے ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی نئی ذمہ داریاں سنبھال کر ہم سب کے لیے ایک بہترین مثال قائم کر دی ہے۔ مجھے یقین آپ کا یہ طرز فکر آنے والے ریٹائرد ہونے لوگوں کے مشعل راہ ثابت ہوگا۔
“ڈاکٹر عامرسہیل صاحب نے صرف طلبہ کو اردو نہیں پڑھائی بلکہ اپنے اخلاق، انکساری اور علم دوستی سے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔ ایسے اساتذہ ریٹائر تو ہو جاتے ہیں، مگر ان کی تربیت، کردار اور علمی وراثت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔”
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

