ساغر صدیقی کی غزل میں اندھے نظام کا نوحہ
تحریر: حیران مومند
ساغر صدیقی کی یہ غزل اردو شاعری کے اس مزاج کی نمائندہ ہے جس میں ذاتی کرب اجتماعی دکھ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور شاعر کی داخلی بے چینی معاشرے کی خارجی بے حسی کا آئینہ بن جاتی ہے۔ بظاہر چند اشعار پر مشتمل یہ غزل ایک مخصوص عہد کی سیاسی، معاشی، مذہبی اور سماجی صورت حال پر احتجاج محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کا دائرہ محض عہد حاضر تک محدود نہیں۔ اس میں انسان، اقتدار، تقدیر، دولت، محنت، مذہب، ایمان، شاعری اور اجتماعی شعور کے درمیان موجود تضادات کو اس شدت سے پیش کیا گیا ہے کہ غزل ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ ساتھ انسانی سماج کی نفسیاتی اور اخلاقی ساخت پر بھی سوال بن جاتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت لفظ اندھے کی مسلسل تکرار ہے، جو ہر شعر کے اختتام پر ایک ایسے استعارے میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے ذریعے شاعر اپنے عہد کی بصیرت سے محرومی کو بے نقاب کرتا ہے۔
پہلے ہی شعر میں شاعر ایک ایسی دنیا کا نقشہ کھینچتا ہے جہاں دستور گونگے اور فرمان اندھے ہیں۔ دستور کا گونگا ہونا اور فرمان کا اندھا ہونا محض لفظی صنعت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی استعارہ ہے۔ دستور کا بنیادی مقصد ریاست، شہری اور اقتدار کے درمیان حقوق و فرائض کا رشتہ قائم کرنا ہوتا ہے، لیکن جب دستور گونگا ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون موجود ہونے کے باوجود مظلوم کی آواز نہیں بن رہا۔ اسی طرح فرمان کا اندھا ہونا اس اقتدار کی علامت ہے جو دیکھے بغیر حکم دیتا ہے، حالات کو سمجھے بغیر فیصلے کرتا ہے اور انسان کو محض رعایا یا عدد سمجھتا ہے۔ شاعر جب کہتا ہے کہ خدا کا نام نہ لے، ایمان یہاں بھی اندھے ہیں تو مذہب کی نفی نہیں کرتا بلکہ مذہب کے نام پر موجود منافقت اور بے بصیرتی کو نشانہ بناتا ہے۔ یہاں ایمان کا اندھا ہونا اس وقت ایک شدید طنزیہ معنی اختیار کرتا ہے جب مذہبی دعوے اخلاقی کردار سے الگ ہوجائیں۔
یہاں ساغر صدیقی کی شاعری کی ایک بنیادی خصوصیت سامنے آتی ہے، یعنی وہ لفظ کو اس کے لغوی معنی سے نکال کر اجتماعی علامت بنا دیتے ہیں۔ دستور، فرمان، ایمان، مضمون، عنوان، زردار، نادار، مزدور، انسان، شاعر اور سلطان سب ایسے الفاظ ہیں جو ایک پورے معاشرتی ڈھانچے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شاعر کسی ایک فرد کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا بلکہ پورے نظام کے کرداروں کو ایک بڑے منظرنامے میں رکھ کر دیکھتا ہے۔ اس طرح غزل کا ہر شعر الگ شکایت نہیں رہتا بلکہ اجتماعی بیماری کی ایک نئی علامت بن جاتا ہے۔
دوسرے شعر میں تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپٹے ہونے کا استعارہ انتہائی معنی خیز ہے۔ کمبل عام طور پر ڈھانپنے اور چھپانے کی علامت ہوسکتا ہے، جبکہ کالا رنگ مایوسی، جبر، تاریکی اور بدقسمتی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک عظمت کی وہ کہانیاں جن پر قومیں فخر کرتی ہیں، ایک ایسے سیاہ پردے میں لپٹی ہوئی ہیں جس کے نیچے حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ اس کے بعد مضمون کے بہرے اور عنوان کے اندھے ہونے کی ترکیب ایک منفرد طنزیہ کیفیت پیدا کرتی ہے۔ مضمون اگر بہرا ہے تو وہ زمانے کی آواز نہیں سنتا، اور عنوان اگر اندھا ہے تو وہ حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ یہ دراصل اس علمی اور ادبی ماحول پر تنقید بھی ہوسکتی ہے جہاں تحریر موجود ہے مگر شعور غائب ہے، کتاب موجود ہے مگر بصیرت نہیں۔
یہ شعر صحافت، ادب اور تاریخ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ اگر مضمون سماج کے دکھ نہیں سنتا اور عنوان حقیقت کی نشاندہی نہیں کرتا تو الفاظ محض رسمی سرگرمی بن جاتے ہیں۔ ساغر کی نظر میں علم کی اصل قدر اس وقت ہے جب وہ انسان کے دکھ کو محسوس کرے۔ ایسی دانش جو عوام کی بھوک، ظلم، ناانصافی اور بے بسی سے لاتعلق ہو، شاعر کے نزدیک بہرے مضمون سے زیادہ کچھ نہیں۔
تیسرے شعر میں معاشی ناہمواری کا منظر سامنے آتا ہے۔ زردار کی نادار کی گاڑھی محنت پر توقع رکھنا ایک ایسے طبقاتی نظام کی نشاندہی کرتا ہے جہاں دولت مند طبقہ اپنی آسائش اور ترقی کے لیے غریب کی محنت پر انحصار کرتا ہے۔ یہاں زردار اور نادار محض دو افراد نہیں بلکہ دو معاشی طبقات ہیں۔ مزدور کو دیوانہ کہنا بھی ایک تلخ طنز ہے۔ مزدور اپنی محنت کے بدلے مناسب زندگی چاہتا ہے مگر نظام اسے مسلسل محنت کے باوجود محرومی دیتا ہے۔ دوسری طرف ذیشان، یعنی صاحب ثروت یا صاحب اقتدار طبقہ، اندھا ہے۔ وہ محنت کا نتیجہ تو دیکھتا ہے مگر محنت کرنے والے انسان کو نہیں دیکھتا۔
اس شعر میں مارکسی نوعیت کا طبقاتی شعور بھی محسوس کیا جاسکتا ہے، اگرچہ اسے براہ راست نظریاتی شاعری قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ ساغر کی بنیادی توجہ انسان کی محرومی پر ہے۔ وہ اس معاشی حقیقت کو دیکھتے ہیں کہ دولت اکثر اس شخص کے پاس جمع ہوتی ہے جس کی پیداوار میں براہ راست محنت کم ہوتی ہے، جبکہ اصل محنت کرنے والا اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرتا ہے۔ یہ تضاد غزل کو محض رومانوی شاعری سے نکال کر سماجی احتجاج کی سطح پر لے جاتا ہے۔
چوتھے شعر میں شاعر مذہبی علامتوں کے ذریعے انسانی بے قراری کا ایک پیچیدہ نقشہ بناتا ہے۔ کچھ لوگ تسبیح کے چلتے دانوں پر بھروسہ کرتے ہیں، مگر انسان خود اندھا ہے۔ یہاں تسبیح عبادت کی علامت بھی ہے اور محض ظاہری مذہبیت کی علامت بھی بن سکتی ہے۔ شاعر کا سوال یہ ہے کہ اگر انسان کے ہاتھ میں تسبیح ہے مگر دل میں بصیرت نہیں، اگر زبان پر مذہبی کلمات ہیں مگر عمل میں انسانیت نہیں، تو اس عبادت کی اخلاقی معنویت کیا رہ جاتی ہے؟ یوں شاعر مذہب کے خلاف نہیں بلکہ مذہب کے ظاہری استعمال اور انسانی کردار کے درمیان موجود تضاد کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔
بے چین یزداں کا جنوں اور انسان کے اندھے پن کا تضاد بھی قابل غور ہے۔ خدا کی تلاش میں بے قراری اور انسان کی اخلاقی بے حسی ایک دوسرے کے سامنے رکھی گئی ہیں۔ یہاں شاعر شاید اس بنیادی انسانی المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان خدا کو تلاش کرتا ہے مگر انسان کو بھول جاتا ہے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتا ہے مگر زمین پر اپنے جیسے انسان کے دکھ کو نہیں دیکھتا۔ یہ سوال صوفیانہ روایت کے اس بنیادی تصور سے جڑتا ہے کہ خدا کی محبت انسان کی محبت سے الگ نہیں ہوسکتی۔
پانچویں شعر میں بے نام جفا کی راہوں پر خاک اڑنے کا منظر ایک ویران اور بے مقصد سفر کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ خاک یہاں وقت کے گزرنے، بربادی، بے ثباتی اور انسانی زندگی کے بے نشان سفر کی علامت بن جاتی ہے۔ دِلوں کے آئینے حیران ہیں، کیونکہ آئینہ حقیقت دکھاتا ہے مگر جب دل خود حقیقت سے ناواقف ہوجائیں تو آئینہ بھی حیران رہ جاتا ہے۔ نادان کا اندھا ہونا اس شعر کو ایک عمومی انسانی تنقید میں بدل دیتا ہے۔ شاعر کے نزدیک مسئلہ صرف حکمرانوں یا دولت مندوں کا نہیں، عام انسان بھی اپنی بے خبری، تعصب اور خود غرضی کی وجہ سے اجتماعی اندھے پن کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہاں آئینہ ایک اہم علامت ہے۔ اردو شاعری میں آئینہ عموماً خود شناسی، حقیقت اور باطن کی علامت ہوتا ہے۔ ساغر کے ہاں دلوں کے آئینے حیران ہیں، یعنی انسان اپنے اندر جھانکنے کی صلاحیت بھی کھوتا جارہا ہے۔ جب خود شناسی ختم ہوجائے تو اجتماعی اصلاح بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ معاشرہ اپنے زخم دیکھنے کے بجائے انہیں چھپانے لگتا ہے، اور یہی چھپاؤ ایک بڑی اخلاقی بیماری بن جاتا ہے۔
آخری شعر میں بے رنگ شفق اور بے نور سویروں کا منظر غزل کے پورے فکری ماحول کو سمیٹ لیتا ہے۔ شفق عام طور پر امید، حسن اور آنے والی روشنی کی علامت ہوتی ہے، مگر یہاں شفق بے رنگ ہے اور صبح بے نور۔ یعنی مستقبل کی امید بھی ماند پڑچکی ہے۔ اس کے باوجود شاعر کا تصور زندہ ہے، اگرچہ بھوکا ہے۔ یہ ترکیب غیر معمولی ہے کیونکہ شاعر کے لیے تخیل صرف جمالیاتی سرگرمی نہیں بلکہ روحانی اور فکری ضرورت ہے۔ لیکن جب شاعر خود بھوکا ہو تو اس کا تخیل بھی سماجی حقیقت سے آزاد نہیں رہ سکتا۔
شاعر کا تصور بھوکا ہونا دراصل فنکار کی معاشی اور سماجی بے بسی کا استعارہ ہے۔ معاشرہ شاعر سے خواب، حسن، سچ اور امید کی توقع رکھتا ہے مگر اس کے بنیادی معاشی حقوق کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ یہ تضاد آج بھی فنکاروں، ادیبوں اور اہل قلم کی زندگی میں دکھائی دے سکتا ہے۔ معاشرہ ان کے الفاظ سے لطف لیتا ہے مگر ان کی زندگی کی مشکلات سے بے خبر رہتا ہے۔ اسی شعر میں سلطان کا اندھا ہونا اقتدار کی اس بے حسی کی آخری تصویر ہے جو شاعر کی بھوک کو دیکھنے سے قاصر ہے۔
اس غزل کی سب سے اہم فنی خوبی تکرار ہے۔ لفظ اندھے بار بار آتا ہے، مگر ہر بار اس کا مفہوم مختلف سطح اختیار کرتا ہے۔ کہیں دستور اندھا ہے، کہیں فرمان، کہیں ایمان، کہیں عنوان، کہیں ذیشان، کہیں انسان اور آخر میں سلطان۔ اس تکرار کے ذریعے شاعر ایک مکمل تہذیبی منظرنامہ بناتا ہے جس میں اندھا پن فرد سے شروع ہوکر ادارے، معاشرے، مذہب، دولت، علم، اقتدار اور انسانی شعور تک پھیل جاتا ہے۔ یوں اندھا پن جسمانی کیفیت نہیں رہتا بلکہ اخلاقی، سیاسی، فکری اور روحانی علامت بن جاتا ہے۔
غزل کی زبان سادہ مگر تہہ دار ہے۔ ساغر مشکل فلسفیانہ اصطلاحات استعمال نہیں کرتے، بلکہ روزمرہ کے الفاظ کو استعاراتی گہرائی عطا کرتے ہیں۔ یہی سادگی ان کے احتجاج کو زیادہ مؤثر بناتی ہے۔ ان کے الفاظ براہ راست دل پر اثر کرتے ہیں کیونکہ ان میں تصنع کم اور تجربے کی حرارت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ طنز، المیہ، احتجاج، خود کلامی اور اجتماعی شعور ایک دوسرے میں اس طرح گھل جاتے ہیں کہ شعر محض بیان نہیں رہتا بلکہ ایک ذہنی کیفیت بن جاتا ہے۔
اس غزل میں ردیف اور قافیہ بھی فکری وحدت پیدا کرتے ہیں۔ اندھے کی مسلسل بازگشت ہر شعر کو ایک بڑے مرکزی خیال سے جوڑتی ہے۔ ہر شعر ایک الگ دروازہ کھولتا ہے مگر تمام دروازے ایک ہی تاریک مکان میں کھلتے ہیں۔ کہیں سیاست ہے، کہیں مذہب، کہیں معیشت، کہیں ادب، کہیں انسانی نفسیات اور کہیں فنکار کی بھوک۔ یہ ہمہ گیری غزل کو محض سیاسی احتجاج سے بلند کرکے ایک تہذیبی مرثیے میں تبدیل کرتی ہے۔
ساغر صدیقی کی شاعری میں ذاتی محرومی اور اجتماعی محرومی کا رشتہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی زندگی کے حالات کو سامنے رکھا جائے تو شاعر کی بھوک، تنہائی اور بے اعتنائی محض تخیلاتی استعارے نہیں رہتے۔ تاہم کسی ادبی تخلیق کو صرف شاعر کی سوانح سے سمجھنا بھی درست نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ ذاتی دکھ اجتماعی تجربے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ساغر اپنے زخم کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کو اپنے معاشرے کا زخم دکھائی دینے لگتا ہے۔
فلسفیانہ سطح پر یہ غزل انسانی بصیرت کے بحران کی شاعری ہے۔ انسان کے پاس علم ہے مگر حکمت کم، مذہب ہے مگر اخلاق کم، دستور ہے مگر انصاف کم، دولت ہے مگر احساس کم، ادب ہے مگر سماجی شعور کم اور اقتدار ہے مگر جواب دہی کم۔ یہی تضادات غزل کے اندھے پن کو جنم دیتے ہیں۔ شاعر دراصل پوچھ رہا ہے کہ دیکھنے کے باوجود انسان دیکھ کیوں نہیں رہا۔ آنکھیں موجود ہیں مگر بصیرت کہاں ہے؟ زبان موجود ہے مگر سچ کہاں ہے؟ ایمان موجود ہے مگر انسانیت کہاں ہے؟ دستور موجود ہے مگر انصاف کہاں ہے؟
یہ سوال آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا اس غزل کے تخلیقی ماحول میں رہا ہوگا۔ زمانہ بدل گیا، سیاسی نظام بدل گئے، ذرائع ابلاغ بدل گئے، ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا، لیکن انسانی معاشرے کے بنیادی تضادات ختم نہیں ہوئے۔ دولت اور غربت کے درمیان فاصلے، اقتدار اور عوام کے درمیان خلیج، مذہبی دعووں اور عملی کردار کا تضاد، فنکار کی معاشی بے بسی اور عام انسان کی فکری بے حسی اب بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اس لیے غزل اپنے عہد سے نکل کر ہر ایسے زمانے کی آواز بن جاتی ہے جہاں طاقت دیکھنے سے انکار کرے اور معاشرہ سچ سننے سے۔
ساغر صدیقی کی یہ غزل آخرکار مایوسی کا اعلان ضرور ہے مگر مکمل طور پر امید سے خالی نہیں۔ شاعر کا تصور اگرچہ بھوکا ہے، پھر بھی تصور موجود ہے۔ یہی موجودگی اہم ہے۔ جب تک شاعر سوال کررہا ہے، جب تک آئینہ حیران ہے، جب تک انسان کے اندھے پن پر اعتراض موجود ہے، تب تک شعور کی کوئی نہ کوئی روشنی باقی ہے۔ مکمل اندھیرا وہ ہوتا ہے جہاں اندھیرے کو اندھیرا سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجائے۔ ساغر کا احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے اندر روشنی کی خواہش ابھی زندہ ہے۔
اسی لیے اس غزل کو محض چند تلخ اشعار کا مجموعہ سمجھنا اس کی فکری وسعت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل ایک ایسے شاعر کی آواز ہے جو اپنے عہد کے سیاسی جبر، معاشی ناہمواری، مذہبی منافقت، فکری بے حسی، انسانی تنہائی اور فنکار کی محرومی کو ایک ہی استعارے میں سمیٹ دیتا ہے۔ اندھا پن یہاں صرف دوسروں کا عیب نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کے سامنے رکھا ہوا سوال ہے۔ ساغر صدیقی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ آنکھوں کا نہ دیکھنا نہیں، بلکہ دل، عقل اور ضمیر کا دیکھنے سے انکار کرنا ہے۔ جب دستور بول نہ سکے، فرمان دیکھ نہ سکے، ایمان انسان نہ بنا سکے، دولت محنت نہ پہچان سکے، علم زمانے کی آواز نہ سن سکے اور سلطان بھوک نہ دیکھ سکے تو شاعر کا سوال ناگزیر ہوجاتا ہے۔ شاید اسی سوال میں اس غزل کی سب سے بڑی قوت پوشیدہ ہے، کیونکہ شعر کا کام ہمیشہ جواب دینا نہیں ہوتا؛ بعض اوقات اس کا سب سے بڑا کام سوئی ہوئی بصیرت کو جھنجھوڑ کر یہ پوچھنا ہوتا ہے کہ آخر اس دنیا میں اندھا کون ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

