Latestاردو ادبانٹرویوتعلیم و صحتشخصیتمتفرق

انٹرویو ۔ ۔ ۔ احسان فیصل کنجاہی 

Share your Love
تحریر و تحقیق: عیشا صائمہ (نمائندہ ہفت روزہ لاہور انٹرنیشنل)
کنجاہ ضلع گجرات کے ایک قصبہ کا نام ہے اسے “راجہ کنج پال” نے آباد کیا تھا اسی وجہ سے اس کانام کنجاہ رکھا گیا یہاں کی سرزمین نے  اہم ترین سپوتوں کو جنم دیا جن میں “جنرل راحیل شریف”کا نام قابل ذکر ہے جنہیں عسکری قیادت کے لیے چنا گیا ان  پر قوم کو فخر تھا – ایسے ہی علم و ادب کے فروغ کیلئے کام کرنے والی شخصیات نے اس علاقے کی شہرت کو چار چاند لگا دیے-“غنیمت کنجاہی اور” شریف کنجاہی” یہاں کی علم و ادب کے حوالے سے اہم اور مشہور شخصیات گزری ہیں ان میں” غنیمت کنجاہی” نے  فارسی ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا اسی طرح” شریف کنجاہی “بیسویں صدی کے معروف پنجابی شاعر تھے ان کی ادبی خدمات کے صلے میں انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ان کی شاعری  انسانی محبت اور رشتوں کی شاعری ہے اسی وجہ سے اسے بہت پذیرائی ملی ہے – اس چھوٹے سے قصبہ کے علم و ادب کے باغ میں ایک مہکتا پھول “محترم احسان فیصل کنجاہی” ہیں جن کی مختلف اصناف پہ اکیس کتب شائع ہو چکی ہیں جو ان کے علمی و ادبی ذوق کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اپنے اس ادبی سفر میں وہ بہت سے اعزازات و ایوارڈز اور گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں – آج ان سے کی گئ گفتگو لاہور انٹرنیشنل میگزین لندن کے پیارے قارئین کی نذر ہے جو ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرانے میں آپ کی مدد کرے گی – 
س۔ آپ کا نام کیا ہے؟
ج۔ جی میرے والدین نے میرا نام محمد احسان رکھا تھا اور سکول کے زمانے میں اس نام کے ساتھ فیصل تخلص لگا لیا اور اپنی جنم بھومی کنجاہ کی وجہ سے میرا پورا ادبی نام احسان فیصل کنجاہی ہے۔
س۔ کیا بچپن شرارتوں میں گزرا؟
ج۔ جی میں کوئی اتنا زیادہ شرارتی نہیں تھا البتہ پہلی یا دوسری کلاس میں اپنی سکول ٹیچر کی جوتی توڑ دی جو لاشعوری طور پر شرارت سمجھ لیں۔ اس کے علاوہ دوستوں کے ساتھ مل کر گاؤں میں گنے اور امرود باغ سے چوری اتار کر کھانے کا ایک اپنا ہی مزہ ہوتا تھا۔
س۔ آپ نے اپنی مرضی سے پیشے کا انتخاب کیا یا والدین کی مرضی سے اس فیلڈ میں آئے؟
ج۔ جی بالکل میں نے اپنی مرضی سے ادب کو پڑھنا اور لکھنا شروع کیا چونکہ میرے والدین ان پڑھ تھے صرف والدہ پرائمری پاس تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کنجاہ قصبہ میں قدیم ادبی تنظیم بزم غنیمت اور محترم پروفیسر شریف کنجاہی کی صحبت اور المیر ٹرسٹ لائبریری گجرات کے اتواری اکٹھ جیسے ماحول نے مجھے پڑھنے اور لکھنے کی تحریک دی ہے۔
س۔ تخلیقی صلاحیتوں کا کب پتہ چلا کب سے لکھ رہے ہیں؟ 
ج۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ مڈل کلاس کے بعد اس قسم کی سوچیں آنی شروع ہو گئیں تھیں اور باقاعدہ طور پر کالج کے زمانے میں تخلیقی کام شروع کر دیا تھا۔
س۔ ادب کی طرف آنے میں کس شخصیت نے رہنمائی کی؟
ج۔ جی سکول کے زمانے میں میرے پسندیدہ استاد ماسٹر نصراللہ خاں صاحب اور کالج کے زمانے میں پروفیسر منظور احمد مرزا اور ادبی میدان میں پروفیسر شریف کنجاہی اور پروفیسر زہیر کنجاہی صاحبان نے رہنمائی کی۔
س۔ اساتذہ کے ساتھ آپ کا تعلق کیسا تھا؟ 
ج۔ جی ہمیشہ سے اساتذہ کے ساتھ احترام والا رشتہ رہا اور میں اپنے اساتذہ پر ہمیشہ فخر کرتا ہوں اور اساتذہ نے بھی شاگردوں سے بڑھ کر اپنی اولاد کی طرح ہمیں پڑھایا اور سکھایا۔
س۔ ادب کی کس صنف پہ کام کرنا زیادہ پسند ہے؟
ج۔ جی ابھی تک ادب کے طالب علم کی حیثیت سے اردو شاعری، پنجابی شاعری، کالم نگاری، افسانہ نگاری، تحقیقی کام اور کچھ تالیفی کام کئے ہیں البتہ معلومات اکھٹی کرنا اور دوسروں تک پہنچانا یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔
س۔ آپ کی کس ادبی تخلیق کو زیادہ پذیرائی ملی؟
ج۔ میں تو ادب کا چھوٹا سا طالب علم ہوں ابھی تو کوئی ایسا کام نہیں سمجھتا کہ مجھے پذیرائی ملے البتہ اللہ کے فضل و کرم سے میری ادبی و صحافتی خدمات پر مقالہ ہوا ہے، پھر میری اردو نظم پر مقالہ ہوا ہے اور حالیہ میرے افسانوں پر بھی مقالہ لکھا گیا ہے۔
س۔ لکھنے کے لئے کوئی وقت مخصوص کیا ہے آپ نے یا ہر روز لکھتے ہیں؟
ج۔ ویسے تو لکھنے کا کوئی بھی وقت نہیں ہوتا البتہ زیادہ تر رات کو مطالعہ کرتا ہوں اور صبح نماز فجر سے پہلے اور بعد میں لکھتا ہوں یہ عادت میرے استاد محترم پروفیسر شریف کنجاہی صاحب کی بھی تھی۔
س۔ پہلی کامیابی کون سی تھی اور اس پہ کیسا لگا؟
ج۔ جی میری پہلی کتا ب ” احکام خداوندی ” شائع ہوئی اور جناح اسٹینڈرڈ ہائی سکول کے “پرنسپل محمد افضال رانجھا” سے پہلا ایوارڈ ملا اور ارسلان احمد نے میرے ادبی و صحافتی خدمات پر مقالہ لکھ کر ایم فل کیا اور تنظیم کار خیر گوجرانوالہ کے چیئرمین علامہ ماجد المشرقی سے مجھے اور میری بیٹی مرحا فیصل کو اکھٹے گولڈ میڈلز ملے یہ میری ادبی خوشیاں ہیں اور جب سے اللہ تعالیٰ نے پہلی بیٹی اور دوسری بیٹی عطا فرمائی تو اس رحمت کے صدقے مجھے ہمیشہ کامیابیاں ملیں۔ ان سب پہ میں خوش ہوں۔
س۔ آپ کیا سمجھتے ہیں ایمانداری کسی بھی شعبے میں کتنی ضروری ہے؟
ج۔ میرے خیال میں ہر شعبے میں ایمانداری کے ساتھ ساتھ حکمت بھی بہت ضروری ہے اور جو لوگ ایمانداری سے چلتے ہیں دنیا میں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ ہم سب مسلمانوں کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی ایمانداری اتنی زیادہ مشہور تھی کہ آپ  ﷺ کے مخالفین بھی ایمانداری کی مثالیں دیتے تھے۔
س۔ آپ کا اکیسواں مجموعہ سامنے آ رہا ہے یہ کس حوالے سے ہے اور کیا آپ نے لکھنے کے آغاز میں سوچ لیا تھا کہ ہر سال ایک ادبی تخلیق سامنے لانی ہے یا اسے قلم کی روانی کہا جا سکتا ہے؟
ج۔ جی انشاء اللہ 2024 ء میں میری اکیسویں کتاب   افسانوں کا مجموعہ” مٹی کے رنگ ” شائع ہو جائے گا۔ بس یہ میرے ادبی ذوق کی وجہ ہے کہ ہر سال کتاب شائع ہو جاتی ہے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ سوچ لیا تھا۔
س۔ کتاب کی اشاعت مشکل مرحلہ ہے یا اسے قارئین تک پہنچانا؟ کیا آپ سمجھتے ہیں آج کل لوگ کتاب سے دور ہو گئے ہیں اگر ایسا ہے تو کیسے کتاب سے تعلق قائم کروایا جا سکتا ہے؟
ج۔ جی اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب کی اشاعت مشکل مرحلہ ہے اور آج کل لوگ کتاب سے دور ہو گئے ہیں مگر کچھ فرق تو پڑا ہے البتہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کتاب کبھی بھی ختم نہیں ہو گی لکھنے والوں نے لکھتے رہنا ہے اور پڑھنے والوں نے پڑھتے رہنا ہے کچھ شکلیں تبدیل ہوئی ہیں اب کمپیوٹر اور موبائل کا زمانہ ہے لوگ نیٹ کے اوپر پڑھ لیتے ہیں البتہ پڑھتے تو کتاب ہی ہیں باقی اگر گورنمنٹ لائبریریوں کی طرف توجہ دے اور تحقیقی کام کروائے جائیں تو یقینا لوگ کتابوں کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔
س۔ آپ  تعلیمی نظام کو کیسا دیکھتے ہیں؟
ج۔ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ نہیں البتہ کسی زمانے میں پرائیویٹ سکول چلایا تھا اور اس وقت احساس ہوا تھا کہ ہمارے ملک میں نظام تعلیم یکساں ہونا چاہیے جب امیر اور غریب کی تعلیمی تفریق ختم ہو گی تو تب اچھا معاشرہ اور مضبوط پاکستانی سامنے آئے گا۔
س۔ کیا آج کا تعلیمی نظام اخلاق و کردار میں مثبت تبدیلیاں لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے؟
ج۔جی میں سمجھتا ہوں اپنی اپنی جگہ پر تو سب ہی دعویٰ کرتے ہیں مگر معاشرے میں تبدیلی کم دکھائی دیتی ہے۔
س۔ ایک تعلیمی ادارے کو کامیابی سے چلانے کے کیا اصول ہیں۔
ج۔میرے خیال میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ نے فرمایا تھا ایمان، اتحاد، تنظیم بس یہی اصول کافی ہیں اگر مکمل ان پر عمل ہو جائے۔
س۔ کیا پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تعلیمی پالیسی سے مطمئن ہیں؟
ج۔ جی اداروں کی یہ سوچ ہے کہ گورنمنٹ سیکٹر کا ہاتھ بٹایا ہوا ہے اور خالص تعلیم کی بات کرتے ہیں وہ تو ٹھیک پالیسی ہے مگر جو لوگ تعلیم سے وابستہ نہیں صرف کاروباری نظریہ کے قائل ہیں وہ پالیسیاں بھی ایسی ہی دیں گے یہ انحصار کرتا ہے ادارے کے سربراہ پر وہ کیسی سوچ کا مالک ہے۔
س۔ زندگی نے کیا سکھایا آپ کو؟
ج۔ اپنے لئے تو زندہ ہیں مگر میرے نزدیک دوسروں کے لئے زندہ رہنا ہی زندگی ہے۔
س۔ ایک ادیب کو کیسا ہونا چاہیے؟
ج۔ ایک ادیب اپنے معاشرے کی نبض جان کر ادب تخلیق کرے گا تو یقینا اس کا مثبت تخلیقی ادب ایک اچھے معاشرے کو جنم دے گا۔
س۔ کیا کبھی تنفید کا سامنا کرنا پڑا ، رد عمل کیا ہوتا ہے؟
ج۔زندگی میں بہت ساری تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اچھی اور اصلاحی تنقید کو پلے باندھا ہے باقی فضول سمجھ کر کنارہ کشی کی اور رد عمل نہیں دیتا البتہ اپنے حصے کا کام کرنے کا عادی ہوں۔
س۔ حوصلہ افزائی کتنی ضروری ہے کسی بھی ادیب کے لئے؟
ج۔شاعر کو مشاعرے میں داد مل جائے، فنکار کے لئے تالیاں بج جائیں، کتاب لکھنے والوں پر تبصرہ ہو جائے تو یقیناً یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں آگے کام کرتے چلے جائیں گے حوصلہ افزائی ایک ایندھن ہوتا ہے یہ بہت ضروری۔
س۔ نئے لکھنے والوں کی کس حد تک رہنمائی کرتے ہیں؟
ج۔ اپنے اوپر فرض سمجھ کر رہنمائی کرتا ہوں اور جتنا مجھے پتہ ہے وہ سب بتاتا ہوں اور مجھے بہت خوشی ہوتی ہے اس طرح کوئی بھی فن اور علم آگے بڑھتا ہے۔
س۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر کبھی غرور آیا؟
ج۔ جی بالکل نہیں ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کیا ہے ابھی تو طفل مکتب ہوں شہرت کون سی حاصل کی ہے اپنے چاہنے والوں کی محبتیں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیشہ عاجزی میں رکھے۔
س۔ آپ بیٹیوں کے باپ ہیں بچیوں کی تربیت کس انداز میں ہوتی ہے؟
ج۔ جی بہت اچھا سوال ہے عیشا صائمہ جی ہم جس نبی  ﷺ کی امت ہیں ان سے بڑھ کر ہمارے سامنے کوئی عملی نمونہ نہیں ہے آپ  ﷺ کی سیرت کو اپنا لیا جائے تو ہم سب کی تربیت ہو جائے گی اللہ کا فضل ہے کوشش کر رہا ہوں بیٹیوں کو تعلیم کے میدان میں اعلیٰ تعلیم دلاؤں اس سوچ کے ساتھ وہ اپنے ملک اور معاشرے کے لئے اصلاحی کام کر سکیں ایک اچھا انسان محب وطن اور سماج کے لئے کام کرنا ہی بہترین تربیت ہو گی۔
س۔ زندگی میں ایک اچھا ہمسفر بہت ضروری ہوتا ہے کیا خوبیاں ہونی چاہئیں ایک ہمسفر میں؟
ج۔ اچھا ہمسفر دنیا میں جنت کے مترادف ہے وگرنہ دوزخ ہے میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اچھے ہمسفر کے لئے دعا کرنی چاہیے۔
س۔ کسی سے ملتے وقت شخصیت کے کون کون سے پہلو کو دیکھتے ہیں؟
ج۔ میں صرف اس کے رویے اور خلوص کو دیکھتا ہوں۔
س۔ پاکستان میں ایک ادیب کا مستقبل کیا ہے؟
ج۔ ہم سب کو پاکستا ن سے پیار کرنا چاہیے اور ہر شعبے کے لوگوں کو اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تب پاکستان مضبوط ہو گا تو ادیب کا مستقبل بھی اچھا ہو گا مایوسی والی کوئی بات نہیں۔
س۔ کیا ادیب تب ادیب کہلاتا ہے جب وہ طویل کہانیاں لکھے یا چھوٹی کہانیوں میں بھی با مقصد پیغام پہنچایا جا سکتا ہے؟
ج۔ بڑی کہانیوں سے یا چھوٹی کہانیوں سے ادیب نہیں بنتا ادیب کا کام معاشرے کو سنوارنے کا ہے ادب تخلیق کرنا ہے اس کا لکھا ہوا جملہ یا تحریر قاری کو اچھا لگے تو یہ اس کی کامیابی ہے۔
س۔ کوئی اہم پیغام جو دینا چاہیں۔
ج۔ میرا پیغام محبت ہے میرا پیغام کام، کام بس کام ہے ہم سب کو وطن عزیز اور اس میں رہنے والے پاکستانیوں اور کائنات کے ہر انسان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہے سوچنا ہے اور آگے بڑھنا ہے اپنے استاد محترم پروفیسر شریف کنجاہی کا ایک شعر سب کی نذر 
                                      
 تو  اذان  بہار  دیتا  جا
                                  
شاخ پہ کوئی گل کھلے نہ کھلے
اسی کے ساتھ ہم نے احسان فیصل کنجاہی سے اجازت چاہی اس دعا کے ساتھ کہ وہ یونہی ادب کی خدمت کرتے رہیں اور ان کی کامیابیوں اور عزتوں میں اضافہ ہوتا رہے آمین.

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *