اسلامتاریختعلیم و صحتمذہب

روح کیا ہے اسلامی فلاسفی میں اسکی تلاش

تحریر: ڈاکٹر سہیل زبیری

گزشتہ مضمون میں ہم نے دیکھا کہ روح کے بارے میں منظم غور و فکر قدیم یونان میں ایک اہم مرحلے تک پہنچا۔ افلاطون کے نزدیک انسان کی اصل حقیقت اس کی روح تھی، جو جسم میں آنے سے پہلے بھی موجود تھی اور موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ اس کے برعکس ارسطو نے روح اور جسم کے درمیان کہیں زیادہ گہرا تعلق قائم کیا۔ ان کے نزدیک روح جسم میں رہنے والا کوئی الگ مسافر نہیں، بلکہ زندہ جسم کی وہ خصوصیت ہے جو اسے زندگی، احساس، حرکت اور سوچنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

لیکن ارسطو کے بعد بھی ایک بنیادی سوال باقی رہا۔

جب انسان خاموشی میں اپنے آپ سے کہتا ہے کہ ”میں موجود ہوں“ تو یہ ”میں“ آخر کیا ہے؟ کیا یہ صرف ہمارا جسم ہے؟ کیا یہ دماغ کی سرگرمی کا نتیجہ ہے؟ یا ہمارے اندر کوئی ایسی حقیقت موجود ہے جو جسم سے گہرا تعلق رکھنے کے باوجود اس سے مختلف ہے؟

صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں ابھریں اور مٹ گئیں، اور علم کا مرکز یونان سے نکل کر اسلامی دنیا میں منتقل ہو گیا۔ پھر گیارہویں صدی کے آغاز پر اس داستان میں ایک ایسی غیر معمولی شخصیت داخل ہوئی جس نے روح کے پرانے سوال کو بالکل نئے انداز میں اٹھایا۔ یہ ابنِ سینا تھے۔ انہوں نے کسی تجربہ گاہ کا سہارا نہیں لیا، بلکہ صرف انسانی تخیل کی مدد سے ایک ایسا حیرت انگیز تجربہ پیش کیا جو فلسفے کی تاریخ میں آج تک زندہ ہے۔ انہوں نے ہمیں ایک ایسے انسان کا تصور کرنے کو کہا جو دنیا میں ابھی ابھی آیا ہے، مگر نہ کچھ دیکھ سکتا ہے، نہ سن سکتا ہے اور نہ اپنے جسم کو محسوس کر سکتا ہے۔ یہی ابنِ سینا کا مشہور ”اڑتا ہوا انسان“ تھا۔

لیکن اس حیرت انگیز تجربے کی تفصیل بتانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یونان سے شروع ہونے والی روح کی داستان اسلامی دنیا تک کیسے پہنچی۔

آٹھویں اور نویں صدی میں بغداد دنیا کے بڑے علمی مراکز میں تبدیل ہو گیا۔ یونانی فلسفے، طب، ریاضی اور سائنس کی بہت سی اہم کتابوں کے عربی ترجمے ہوئے۔ افلاطون، ارسطو، جالینوس اور دوسرے یونانی مفکرین کے خیالات اب ایک ایسی دنیا میں پہنچ رہے تھے جس کی اپنی مذہبی اور فکری روایت موجود تھی۔

مسلمان مفکرین کے سامنے سوال صرف یہ نہیں تھا کہ یونانی فلسفے کو کیسے سمجھا جائے۔ اس سے زیادہ اہم سوال یہ تھا کہ عقل اور وحی، فلسفے اور مذہب، اور یونانی تصورِ انسان اور اسلامی تصورِ انسان میں کیا تعلق ہے؟

روح کے معاملے میں یہ سوال خاص طور پر اہم تھا۔ قرآن انسان کی تخلیق، زندگی، موت اور آخرت کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے، لیکن روح کی نوعیت کی کوئی تفصیلی فلسفیانہ تعریف پیش نہیں کرتا۔ ایک مقام پر کہا گیا ہے : اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے، اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔ ( 17:85 )

یہاں ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے۔ قرآن کے مفسرین میں اس بات پر مکمل اتفاق نہیں کہ اس آیت میں ”روح“ سے صرف انسانی روح مراد ہے۔ اس کی دوسری تشریحات بھی کی گئی ہیں۔ البتہ آیت کا آخری حصہ انسانی علم کی محدودیت کی طرف ضرور توجہ دلاتا ہے۔

قرآن میں نفس کا لفظ بھی بار بار آتا ہے۔ بعد کے مسلمان فلسفیوں، خصوصاً ابنِ سینا، نے انسان کی زندگی، سوچ، احساس اور خود آگہی کی بحث میں زیادہ تر یہی لفظ استعمال کیا۔ اس لیے آگے جہاں ”روح“ کا ذکر آئے، عام قاری اسے تقریباً اس انسانی حقیقت کے معنوں میں سمجھ سکتا ہے جسے قرآنی الفاظ میں ہم نفس کہتے ہیں، اگرچہ فلسفیانہ طور پر دونوں الفاظ ہمیشہ بالکل ایک معنی نہیں رکھتے۔

اسلامی دنیا میں روح پر فلسفیانہ بحث ابنِ سینا سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ ان سے پہلے الکندی اور الفارابی جیسے بڑے مفکر اس مسئلے پر غور کرچکے تھے۔

الکندی پر افلاطون کے خیالات کا خاصا اثر تھا۔ ان کے نزدیک انسان کا عقلی پہلو اسے جسمانی خواہشات سے بلند ہونے اور علم کے ذریعے ایک اعلیٰ مقام تک پہنچنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ الفارابی پر ارسطو کا اثر زیادہ نمایاں تھا۔ انہوں نے زندگی کی مختلف صلاحیتوں میں فرق کیا۔ پودا غذا حاصل کرتا اور بڑھتا ہے، جانور اس کے علاوہ محسوس اور حرکت بھی کر سکتا ہے، جب کہ انسان ان سب کے ساتھ عقل اور سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ وہ علمی دنیا تھی جس میں گیارہویں صدی کے آغاز پر ابنِ سینا سامنے آئے۔

ابو علی حسین ابن عبداللہ ابنِ سینا 980 میں بخارا کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی میں انہوں نے طب، منطق، فلسفے اور دوسرے علوم میں غیر معمولی مہارت حاصل کرلی۔ ان کی القانون فی الطب کئی صدیوں تک اسلامی دنیا اور یورپ میں طب کی اہم کتاب رہی۔ ان کی ایک اور عظیم تصنیف کتاب الشفاء تھی، جس میں فلسفے اور اس زمانے کے علوم کے بہت سے بنیادی مسائل زیرِ بحث آئے۔

یہ بات خاص طور پر دلچسپ ہے کہ انسانی جسم اور بیماریوں کا اتنا گہرا مطالعہ کرنے والا طبیب ایک ایسے سوال میں بھی غیر معمولی دلچسپی رکھتا تھا جو جسم سے کہیں آگے جاتا محسوس ہوتا ہے :انسان کو یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ ”میں موجود ہوں“ ؟

اسی سوال کے جواب میں ابنِ سینا نے اپنا مشہور ”اڑتا ہوا انسان“ پیش کیا۔

ابنِ سینا کہتے ہیں کہ ذرا اپنی آنکھیں بند کیجیے اور ایک ایسے انسان کا تصور کیجیے جو ابھی ابھی پیدا ہوا ہے۔

اس نے کبھی اس دنیا کو نہیں دیکھا۔
اس نے کبھی کوئی آواز نہیں سنی۔
اس نے کبھی کسی چیز کو چھوا نہیں۔
اس نے کبھی کسی خوشبو کو محسوس نہیں کیا۔
اس نے کبھی کوئی ذائقہ نہیں چکھا۔
اب تصور کیجیے کہ اس انسان کو ایک ایسی حالت میں پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خلا میں معلق ہے۔
اس کے ہاتھ ایک دوسرے کو نہیں چھوتے۔
اس کے پاؤں کسی سطح پر نہیں ٹکتے۔
اس کے جسم کا کوئی حصہ کسی دوسری چیز سے نہیں ٹکراتا۔
اس کی آنکھیں بند ہیں۔
کان مکمل خاموشی میں ہیں۔
ناک کوئی خوشبو محسوس نہیں کر رہی۔
زبان کسی ذائقے سے واقف نہیں۔
حتیٰ کہ کششِ ثقل کا احساس بھی موجود نہیں۔
مختصر یہ کہ اس کے تمام حواس معطل ہیں۔
اب ابنِ سینا سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ انسان اپنے وجود سے آگاہ ہو گا؟

پہلی نظر میں شاید جواب ”نہیں“ معلوم ہو۔ آخر اسے اپنے جسم کا بھی احساس نہیں، دنیا کا بھی نہیں، وقت کا بھی نہیں۔

لیکن ابنِ سینا کہتے ہیں کہ اگر ہم اس صورتِ حال پر گہرائی سے غور کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ پھر بھی ایک بات ضرور جانتا ہو گا۔ وہ جانتا ہو گا کہ ”میں موجود ہوں۔“

اسے یہ معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ہاتھ ہیں یا نہیں۔
اسے معلوم نہیں ہو گا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے۔
اسے اپنے قد، وزن یا جسم کی ساخت کا کوئی علم نہیں ہو گا۔
لیکن اس سب کے باوجود اسے اپنے وجود کا شعور ہو گا۔ وہ کہہ سکے گا ”میں ہوں“ ۔
یہی ابنِ سینا کی دلیل کا نقطۂ آغاز ہے۔

اگر انسان اپنے جسم، اپنی آنکھوں، اپنے کانوں، حتیٰ کہ اپنے پورے مادی وجود سے بے خبر ہونے کے باوجود اپنے وجود سے آگاہ رہ سکتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود آگہی (self۔ awareness) صرف جسم پر منحصر نہیں۔ انسان کے اندر کوئی ایسی حقیقت ضرور ہے جو جسمانی احساسات سے ماورا ہے۔ ابنِ سینا اسی حقیقت کو نفس یا روح قرار دیتے ہیں۔

یہ دلیل محض مذہبی عقیدہ نہیں تھی بلکہ ایک خالص فلسفیانہ استدلال تھا۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ روح مذہب نے بتائی ہے، اس لیے موجود ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہم اپنے شعور کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ خود آگہی کی بنیاد صرف حواس نہیں ہو سکتے۔

یہ استدلال اتنا طاقتور تھا کہ صدیوں تک اسلامی فلسفے میں اس پر بحث ہوتی رہی۔

اس تجربے کو بعض اوقات اس طرح بیان کیا جاتا ہے جیسے ابنِ سینا نے اس ایک دلیل سے روح کے الگ وجود کو قطعی طور پر ثابت کر دیا ہو۔ لیکن ان کا مطمح نظر تھوڑا مختلف تھا۔

ابن سینا کی توجہ بنیادی طور پر اپنے وجود کے شعور پر تھی۔

انسان اپنے ہاتھ کو دیکھ یا چھو کر جان سکتا ہے۔ بیرونی دنیا کو جاننے کے لیے آنکھ، کان اور دوسرے حواس کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن کیا انسان کو یہ جاننے کے لیے بھی کسی حس کی ضرورت ہے کہ وہ خود موجود ہے؟ ابنِ سینا کے نزدیک نہیں۔

انسان پہلے اپنے جسم کو دیکھ کر یہ نتیجہ نہیں نکالتا کہ ”چونکہ یہ جسم موجود ہے، اس لیے میں موجود ہوں۔“ اپنے وجود کا احساس اس سے زیادہ بنیادی اور براہِ راست ہے۔

اس خیال کو ہماری روزمرہ زبان بھی دلچسپ بنا دیتی ہے۔ ہم کہتے ہیں ”میرا ہاتھ“ ، ”میری آنکھ“ ، ”میرا جسم“ ، حتیٰ کہ ”میرا دماغ“ ۔ تو پھر یہ ”میرا“ کہنے والا کون ہے؟ صرف زبان کی بنیاد پر روح کا وجود ثابت نہیں کیا جاسکتا، لیکن سوال بہرحال دلچسپ ہے۔

جسم بچپن سے بڑھاپے تک بہت بدل جاتا ہے۔ ہماری شکل بدلتی ہے، وزن بدلتا ہے، جسم کے خلیے بدلتے رہتے ہیں، لیکن انسان خود کو مسلسل وہی شخص سمجھتا ہے۔

ابنِ سینا کے نزدیک اس تسلسل کی بنیاد روح تھی۔

اس مقام پر ابنِ سینا ارسطو کے بہت قریب دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی کی مختلف سطحیں ہیں۔ پودا غذا حاصل کرتا ہے، بڑھتا ہے اور اپنی نسل آگے بڑھاتا ہے۔ جانور ان صلاحیتوں کے ساتھ دیکھ سکتا، سن سکتا، محسوس کر سکتا اور حرکت کر سکتا ہے۔ انسان میں یہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک اور غیر معمولی صلاحیت بھی ہے :عقل۔

انسان عمومی تصورات بنا سکتا ہے، دلیل دے سکتا ہے، ریاضی کر سکتا ہے، صحیح اور غلط کے بارے میں سوچ سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر خود اپنے وجود کو اپنے سوال کا موضوع بنا سکتا ہے۔

ابنِ سینا کے ہاں روح یا نفس کا مطلب یہ نہیں کہ جسم کے اندر کوئی چھوٹا سا غیر مرئی انسان بیٹھا اسے چلا رہا ہے۔ وہ اس لفظ کے ذریعے زندگی، احساس، یادداشت، سوچ اور خود آگہی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پھر دماغ کا کیا کام ہے؟

یہ سوال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ابنِ سینا خود ایک عظیم طبیب تھے۔ وہ جسم اور ذہنی صلاحیتوں کے گہرے تعلق سے بے خبر نہیں تھے۔ انہوں نے حواس، تخیل اور یادداشت جیسی صلاحیتوں کا تعلق جسم اور دماغ کے کام سے جوڑنے کی کوشش بھی کی۔

لیکن ان کے نزدیک انسان کی عقل اور اپنے وجود کا شعور صرف کسی جسمانی عضو کی سرگرمی سے مکمل طور پر نہیں سمجھایا جاسکتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ انسانی روح کا ایک ایسا پہلو ہے جو جسم تک محدود نہیں۔

یہی خیال ایک اور بڑے سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ
اگر جسم مر جائے تو روح کا کیا ہوتا ہے؟
کیا روح موت کے بعد باقی رہتی ہے؟

ابنِ سینا کا خیال تھا کہ انسان کی روح مادی چیز نہیں۔ اس لیے جسم کے ختم ہو جانے سے اس کا وجود لازماً ختم نہیں ہوجاتا۔ ان کے نزدیک روح جسمانی زندگی کے ساتھ انسانی شخصیت حاصل کرتی ہے، لیکن وجود میں آنے کے بعد اس کی بقا ہمیشہ جسم پر منحصر نہیں رہتی۔

یہ تصور اسلامی عقیدۂ آخرت کے بعض پہلوؤں سے قریب معلوم ہوتا ہے، لیکن دونوں کو ایک سمجھ لینا درست نہیں۔ ابنِ سینا فلسفیانہ دلیل سے روح کی بقا تک پہنچنا چاہتے تھے، جب کہ مذہب موت، قیامت اور آخرت کے بارے میں وحی کی بنیاد پر بات کرتا ہے۔

یہ فرق بعد میں اہم اختلافات کا سبب بنا۔

امام غزالی نے اپنی مشہور کتاب تہافت الفلاسفہ میں ابنِ سینا اور الفارابی کے کئی فلسفیانہ نظریات پر تنقید کی۔ انہوں نے روح کے وجود سے انکار نہیں کیا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ انسانی عقل ان معاملات کے بارے میں کس حد تک یقینی دعویٰ کر سکتی ہے جن کے بارے میں مذہب بھی واضح تعلیم دیتا ہے؟

خصوصاً قیامت کے بعد جسم کے دوبارہ اٹھائے جانے کا مسئلہ اہم تھا۔ ابنِ سینا کی توجہ غیر مادی روح کی بقا پر زیادہ تھی، جب کہ اسلامی عقیدے میں جسمانی حشر بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ غزالی کے نزدیک فلسفیانہ دلیل کو وحی کی واضح تعلیم پر ترجیح نہیں دی جا سکتی تھی۔

یوں روح کی بحث ایک بڑے سوال کا حصہ بن گئی کہ انسانی عقل ہمیں کہاں تک لے جا سکتی ہے، اور کہاں مذہبی وحی کی ضرورت پیش آتی ہے؟

صوفی روایت میں یہی مسئلہ ایک مختلف انداز میں سامنے آتا ہے۔ فلسفی پوچھتا ہے کہ روح یا نفس کیا ہے۔ صوفی کی دلچسپی اکثر اس بات میں زیادہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے اندر کیا تبدیلی پیدا کرے۔

صوفیانہ ادب میں ”نفس“ اکثر انسانی خواہشات، خود غرضی اور انا کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ ”روح“ انسان کے اس بلند پہلو کی علامت بن جاتی ہے جو خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہاں ”دل“ بھی صرف جسمانی دل نہیں بلکہ انسان کی اندرونی اور روحانی کیفیت کی علامت بن جاتا ہے۔

مولانا رومی کی بانسری کی مشہور تمثیل اس تصور کو نہایت خوب صورتی سے بیان کرتی ہے۔ مثنوی کے آغاز میں بانسری کو اس کے اصل مقام، یعنی نیستان، سے کاٹ لیا گیا ہے۔ اب اس کی آواز اپنی اصل سے جدائی کا نوحہ ہے۔ صوفیانہ تعبیر میں بانسری انسان یا انسانی روح کی علامت بن جاتی ہے، جو اپنی اصل سے دوری محسوس کرتی اور اس کی طرف لوٹنے کی آرزو رکھتی ہے۔

یہ تصور کہیں کہیں افلاطون کی روح کی یاد دلاتا ہے، لیکن دونوں کو ایک ہی نظریہ سمجھنا درست نہیں۔ افلاطون ایک فلسفیانہ نظریہ پیش کر رہے تھے، جب کہ رومی کی بانسری بنیادی طور پر ایک روحانی تمثیل ہے۔

اب ایک ہزار سال بعد ابنِ سینا کے اڑتے ہوئے انسان کی طرف دوبارہ لوٹتے ہیں۔
کیا اس تجربے سے واقعی ثابت ہوجاتا ہے کہ روح جسم سے الگ ہے؟
ضروری نہیں۔

ایک جدید سائنس دان کہہ سکتا ہے کہ ابنِ سینا کے فرضی انسان کو اپنے جسم کا شعوری احساس نہ ہو، لیکن اس کا شعور پھر بھی ایک کام کرنے والے دماغ پر منحصر ہو سکتا ہے۔

ہمیں عام حالات میں بھی اپنے دماغ کے اندر جاری بے شمار عمل کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ کون سے عصبی خلیے (neurons) اس وقت کام کر رہے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری سوچ ان سے آزاد ہے۔

یہ اعتراض ابنِ سینا کے تجربے کی اہمیت ختم نہیں کرتا۔ بلکہ شاید اس کی اصل اہمیت کسی اور جگہ ہے۔

ابنِ سینا نے ایک ایسا سوال انتہائی واضح صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیا جس کا مکمل جواب ایک ہزار سال بعد بھی آسان نہیں۔

اپنے وجود کا احساس آخر کیا ہے؟

ہم دنیا کو آنکھ، کان اور دوسرے حواس کے ذریعے جانتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام تجربات کے پیچھے ایک ”میں“ بھی موجود ہے؟

اب تاریخ میں ایک حیرت انگیز مماثلت سامنے آتی ہے۔

ابنِ سینا کے تقریباً چھ سو سال بعد فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ (Rene Descartes) نے، جنہیں مغربی فلسفے کا بانی سمجھا جاتا ہے، ایک مختلف راستے سے تقریباً یہی بنیادی سوال اٹھایا۔

سترہویں صدی تک یورپ تیزی سے بدل رہا تھا۔ نئی سائنسی دریافتیں پرانے تصورات کو چیلنج کر رہی تھیں۔ گلیلیو اور کیپلر جیسے سائنس دان دکھا رہے تھے کہ کائنات کے بارے میں صدیوں سے قبول کیے جانے والے بہت سے خیالات غلط بھی ہوسکتے ہیں۔

اس ماحول میں ڈیکارٹ نے پوچھا کہ اگر ہر چیز پر شک کیا جاسکتا ہے تو کیا کوئی ایسی حقیقت بھی ہے جس پر شک ممکن نہیں؟

وہ حواس پر شک کر سکتے تھے، کیونکہ آنکھیں دھوکا دے سکتی ہیں۔ بیرونی دنیا پر شک کیا جاسکتا تھا، کیونکہ ممکن ہے ہم خواب دیکھ رہے ہوں۔ لیکن ایک مقام پر شک رک گیا۔

اگر میں شک کر رہا ہوں تو کم از کم کوئی ایسا وجود ضرور ہے جو شک کر رہا ہے۔
اگر میں سوچ رہا ہوں تو سوچنے والے کا وجود یقینی ہے۔
یہیں سے ڈیکارٹ کا مشہور جملہ سامنے آیا: ”میں سوچتا ہوں، اس لیے میں موجود ہوں۔“

ابنِ سینا اور ڈیکارٹ بالکل ایک ہی بات نہیں کہہ رہے تھے۔ لیکن دونوں کے سوالوں میں حیرت انگیز مماثلت ضرور ہے۔ دونوں بیرونی دنیا سے ہٹ کر انسان کے اپنے وجود کے شعور میں ایک ایسی حقیقت تلاش کرتے ہیں جو باقی علم سے زیادہ فوری محسوس ہوتی ہے۔

لیکن ڈیکارٹ اس سوال کو ایک نئی سمت میں لے گئے۔ انہوں نے ذہن اور جسم کو دو مختلف حقیقتیں قرار دیا۔ جسم مادی ہے اور جگہ گھیرتا ہے، جب کہ ذہن سوچتا اور محسوس کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک نیا سوال پیدا ہو گیا کہ اگر ذہن اور جسم واقعی دو مختلف چیزیں ہیں تو وہ ایک دوسرے پر اثر کیسے ڈالتے ہیں؟

یوں افلاطون سے شروع ہونے والی روح کی طویل داستان ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔ اب سوال صرف یہ نہیں تھا کہ روح کیا ہے یا موت کے بعد اس کا کیا ہوتا ہے۔ سوال یہ بھی تھا کہ ذہن کیا ہے، شعور کہاں سے آتا ہے اور آخر وہ ”میں“ کون ہے جو سوچتا، محسوس کرتا اور اپنے وجود سے آگاہ ہے؟

اور یہی سوال ہمیں روح کی داستان کے تیسرے حصے میں لے جائے گا جہاں رینے ڈیکارٹ (Rene Descartes) ، باروخ اسپینوزا (Baruch Spinoza) ، جان لاک (John Locke) ، ڈیوڈ ہیوم (David Hume) اور ایمانوئل کانٹ (Immanuel Kant) کے درمیان سے گزرتے ہوئے ہم بیسویں صدی میں قدم رکھیں گے۔ اس سفر میں ہم دیکھیں گے کہ مغربی فلسفے میں آہستہ آہستہ ”روح“ کا سوال ”ذہن“ ، ”شعور“ اور ”میں کون ہوں؟“ کے سوال میں کیسے ڈھل گیا۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *