رسول کریمﷺ کا بےمثال اسوہ
تحریر: ایس۔اے۔صہبائی

رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک سیرت پوری انسانیت کے لیے ہدایت، محبت، رحمت اور حسنِ کردار کا ایسا روشن چراغ ہے جس کی روشنی قیامت تک انسانوں کے دلوں اور معاشروں کو راستہ دکھاتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا: ’’وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ‘‘ یعنی بے شک آپ ﷺ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔ یہ مختصر مگر جامع قرآنی گواہی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ صرف عبادات اور مذہبی تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ کا پورا کردار انسانیت کے لیے عملی نمونہ ہے۔
سیرتُ النبی ﷺ کا سب سے نمایاں پہلو اخلاقِ حسنہ ہے۔ آپ ﷺ نے ایسے معاشرے میں انسانوں کو محبت، بھائی چارے، عدل، امانت، صداقت اور رحم کا درس دیا جہاں قبائلی تعصب، ظلم، انتقام اور کمزوروں کا استحصال عام تھا۔ آپ ﷺ نے انسان کی عزت کو اس کے نسب، دولت، قبیلے یا رنگ سے نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار سے وابستہ کیا۔
آپ ﷺ کی زندگی کا ایک عظیم وصف صداقت اور امانت تھا۔ نبوت سے پہلے بھی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو “الصادق” اور “الامین” کے القاب سے یاد کرتے تھے۔ دشمن بھی آپ ﷺ کی امانت داری پر اعتماد کرتے تھے۔ یہی کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک مسلمان کی اصل پہچان صرف اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی سچائی، دیانت اور معاملات میں شفافیت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے معافی اور درگزر کو انسانی عظمت کا حصہ بنایا۔ طائف میں شدید اذیت کے باوجود آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ہدایت کی امید رکھی۔ فتحِ مکہ کے موقع پر، جب وہ لوگ آپ ﷺ کے سامنے بے بس تھے جنہوں نے برسوں تک آپ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کو تکالیف پہنچائیں، آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے عام معافی کا عظیم مظاہرہ فرمایا۔ یہ واقعہ تاریخِ انسانیت میں رحم و عفو کی ایک بے مثل مثال ہے۔
آپ ﷺ کا اخلاق صرف دوستوں اور ماننے والوں کے لیے نہیں تھا بلکہ مخالفین، کمزوروں، غلاموں، یتیموں، مسکینوں اور معاشرے کے محروم طبقات تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق، والدین کی خدمت، بچوں سے شفقت، خواتین کے احترام اور ضرورت مندوں کی مدد پر زور دیا۔ آپ ﷺ کی مجلس میں انسان کی عزت اس کے مقام و مرتبے سے نہیں بلکہ انسانی حیثیت سے تھی۔
اسلام نے آپ ﷺ کی تعلیمات کے ذریعے یہ واضح کیا کہ عبادت اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ نماز انسان کو برائی سے روکنے، روزہ تقویٰ پیدا کرنے اور زکوٰۃ معاشرے کے کمزور طبقے کا سہارا بننے کی تربیت دیتی ہے۔ اگر انسان عبادات تو کرے لیکن زبان سے دوسروں کو تکلیف دے، معاملات میں دھوکا دے، ظلم کرے یا حقوق پامال کرے تو وہ سیرتِ نبوی ﷺ کی روح سے دور ہو جاتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی میں عدل کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ آپ ﷺ نے قانون اور انصاف کے معاملے میں کسی امیر و غریب، طاقتور و کمزور کے درمیان امتیاز کو پسند نہیں فرمایا۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ایک پُرامن اور مضبوط معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ آج اگر دنیا سیرتِ نبوی ﷺ کے اصولِ عدل کو حقیقی معنوں میں اختیار کرے تو بہت سے معاشرتی، سیاسی اور انسانی مسائل کا خاتمہ ممکن ہے۔
آپ ﷺ نے زبان کے اخلاق پر بھی خصوصی توجہ دی۔ جھوٹ، غیبت، بدگمانی، گالی، الزام تراشی اور دل آزاری سے بچنے کی تعلیم دی۔ آج کے دور میں، خصوصاً سوشل میڈیا کے زمانے میں، یہ تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ کسی انسان کی عزت، خاندان یا زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ بولنے سے پہلے سوچیں، خبر پھیلانے سے پہلے تحقیق کریں اور اختلاف کے باوجود شائستگی کا دامن نہ چھوڑیں۔
رسول اللہ ﷺ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں تھی بلکہ جانوروں اور تمام مخلوقات کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم بھی آپ ﷺ نے دی۔ آپ ﷺ نے ظلم اور بے رحمی سے منع فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اخلاق انسان کو صرف عبادت گزار نہیں بلکہ رحم دل، ذمہ دار اور باکردار انسان بناتے ہیں۔
آج ہمارا معاشرہ مختلف مسائل کا شکار ہے۔ عدم برداشت، جھوٹ، بدعنوانی، نفرت، فرقہ واریت، الزام تراشی، معاشرتی ناانصافی اور ایک دوسرے کی عزت پامال کرنے کے رویے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سیرتُ النبی ﷺ کا پیغام ہمارے لیے محض ایک تاریخی مطالعہ نہیں بلکہ عملی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے گھروں سے سیرتِ نبوی ﷺ کا آغاز کرنا ہوگا۔ والدین بچوں کے ساتھ شفقت کریں، اولاد والدین کا احترام کرے، میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، پڑوسی ایک دوسرے کا خیال رکھیں، تاجر دیانت داری سے کاروبار کریں، صحافی سچائی اور ذمہ داری کو مقدم رکھیں، حکمران انصاف کریں اور عام شہری اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں۔
سیرتِ رسول ﷺ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ انسان مختلف رائے رکھ سکتا ہے، لیکن اخلاق، احترام اور انصاف کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔ حضور ﷺ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ عظمت دوسروں کو زیر کرنے میں نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانی، رحمت اور خیر پیدا کرنے میں ہے۔
قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کو اسوۂ حسنہ قرار دیا۔ اس لیے محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں جگہ دینا بھی ہے۔ اگر ہم سچ بولیں، امانت ادا کریں، وعدہ پورا کریں، معاف کرنا سیکھیں، کمزور کا ساتھ دیں، ظلم سے بچیں، والدین کی خدمت کریں، پڑوسی کا خیال رکھیں اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں تو یہی سیرتِ طیبہ کی عملی پیروی ہے۔
آج ہمیں سیرتِ النبی ﷺ کو صرف میلاد، جلسوں اور تقاریر تک محدود کرنے کے بجائے اپنے کردار، معاملات، گھروں، اداروں اور معاشرے میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو آج بھی وہی محمدی اخلاق درکار ہیں جو نفرت کو محبت، ظلم کو عدل، انتقام کو معافی اور جہالت کو علم میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اخلاقِ حسنہ اس کا روشن ترین باب۔ جو شخص اپنے کردار میں صداقت، امانت، رحمت، عدل، صبر، شائستگی اور خدمتِ انسانیت پیدا کرتا ہے، وہ دراصل سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی کو اپنی زندگی میں جگہ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، آپ ﷺ کی سنت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، ہمارے اخلاق کو حسنِ اخلاق سے آراستہ فرمائے اور ہمارے معاشرے کو امن، عدل، محبت اور انسانیت کا گہوارہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

