حجۃالاسلام امام غزالیؒ کا تذکرہ
امام غزالی رحمہ اللہ کا نام اکثر سوانح میں محمد بن محمد بن محمد بن احمد طوسی لکھا ہے جنھیں ان کے غور و فکر، علم اور ذوقِ تحقیق نے اس کمال کو پہنچایا کہ اس وقت کی عالم فاضل شخصیات، سلاطین اور منصب دار بھی امام غزالی کے ارات مندوں میں شامل تھے۔ امام غزالی کی تصانیف آج بھی نہ صرف قابلِ مطالعہ ہیں بلکہ ان پر بحث بھی کی جاتی ہے۔
غزالی وہ عرفیت ہے جس سے برصغیر کے باشندے مانوس ہیں اور امام غزالی کو بڑی عزّت و احترام حاصل ہے۔ امام صاحب کی سوانح بتاتی ہیں کہ وہ قدیم خراسان (ایران) کے علاقہ طوس میں سنہ 450 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اون بُننا اور دھاگہ بنا کر فروخت کرنا ان کے والد کا پیشہ تھا جن دکان طوس میں ہی تھی۔ امام غور و فکر، فلسفہ کی مختلف شاخوں اور مختلف علوم کے ساتھ ان کی دینی امور میں فہم و تدبّر کا بہت ذکر ہوتا ہے اور امام غزالی کی زندگی کے مختلف ادوار پر طویل گفتگو کی جاسکتی ہے۔ آپ کی تعلیم کا سلسلہ اس دور کے رواج کے مطابق انجام پایا اور فکر و تدبر کے عادی امام غزالی نے فلسفے کو اپنا موضوع بنایا اور اس میں رسوخ حاصل کیا۔ مگر جلد اس سے بیزار ہوئے، اور خاص طور پر یونانی فلاسفہ اور ان کے بہت سے نظریات کا رد بھی لکھا۔ بعد میں علمِ کلام کے سمندر میں غوطہ زن ہوئے، اور اس کے اصول و ضوابط اور مقدمات ازبر کیے، لیکن اس میں بھی تضاد اور خامیاں ان کی نظر سے گزریں تو دامن بچا لیا۔ امام غزالی نے ایک وقت میں “متکلم” کا درجہ حاصل کرلیا اور فلاسفہ کی خوب خبر لی جس کے باعث “حجۃُ الاسلام” کے لقب سے مشہور ہوئے۔ بعد میں آپ نے تصوف کی راہ اختیار کی۔
ابو حامد غزالی کی ذہانت، فطانت، اور ان کے نادرِ زمانہ ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ ان کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا، “غزالی، بہت بڑے شیخ، بحرِ بے کنار امام، حجۃ الاسلام، اپنے زمانے کے یگانہ روزگار جن کا لقب زین الدین، کنیت ابو حامد اور نسب محمد بن محمد بن محمد بن احمد طوسی شافعی غزالی ہے، آپ کی متعدد تصانیف ہیں، آپ انتہائی زیرک فہم کے مالک تھے۔ ابتدائی طور پر اپنے علاقے میں ہی فقہی علوم حاصل کیے، اس کے بعد اپنے طالب علم ساتھیوں کے ساتھ نیشا پور منتقل ہو گئے، وہاں انھوں نے امام الحرمین کی شاگردی اختیار کی، اور فقہ میں تھوڑی سی مدت میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا، پھر علم کلام، علم جدل پر عبور حاصل کیا، یہاں تک کہ مناظرین کی آنکھوں کا مرکز بن گئے۔” (بحوالہ:”سیر اعلام النبلاء”)
ابو حامد غزالی اگرچہ علم و فضل، فقہ، تصوف، علمِ کلام، علمِ اصول کے مالک تھے، مگر اسی طرح وہ اپنے زہد، عبادت گزاری، علمی و دنیاوی معاملات میں اپنی نیک نیتی، اور خلوص کے لیے بھی مشہور تھے۔ اس کے باوجود انھیں علوم الحدیث اور دوسرے علمی امور میں قابلِ ذکر نہیں سمجھا جاتا بلکہ ان پر اعتراض کیے گئے ہیں۔ امام ابنِ تیمیہ سمیت بہت سے علماء نے امام صاحبؒ کی علمی و تصنیفی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ان کی کتب میں موجود احادیثِ مبارکہ کی اسناد پر سوال قائم کیے ہیں اور یہ علمی حلقوں میں موضوعِ بحث رہا ہے۔
امام محمّد غزالی نے اپنے علاقے ہی میں فقہ و دوسری ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، اور پھر جرجان میں امام ابو نصر کے حلقۂ درس میں شریک رہے، بعد میں نیشا پور گئے جہاں امام الحرمین، عبدالملک بن عبداللہ جوینی کے درس میں بیٹھنے لگے۔ کچھ ہی عرصے میں امام غزالی اپنے ان نام وَر استاد کے نائب بن گئے۔ اُس وقت امام غزالی کی عمر 28 برس تھی۔ یوں وہاں ان کے علم اور فکر و بصیرت کا شہرہ ہوا تو اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی امام غزالی کی طرف متوجّہ ہوگئیں۔ اسی زمانہ میں آپ نظام الملک طوسی کے دربار میں پہنچے، اور سب کو اپنی علمی بحث سے متاثر کرلیا۔ امام غزالی کو اس دور کے بڑے تعلیمی ادارے، جامعہ نظامیہ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ بقول ابو الحسن علی ندوی، یہ منصب اُس وقت کسی عالم کے لیے سب سے بڑا اعزاز اور منتہائے ترقّی تھا۔ آپ کے درس میں سیکڑوں طلبہ شریک ہوا کرتے جب کہ امراء اور رؤسا بھی ان کے علمی نکات سے استفادہ کرنے کے لیے حاضر ہوتے۔
یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کے دو سیاسی مراکز تھے۔ ایک خاندانِ سلجوق اور دوسرے آلِ عباس۔ یہ دونوں خاندان امام غزالیؒ کے علمی مقام و مرتبہ کے بڑے قدر دان تھے۔ ایک جانب تو ان کو مدرسۂ نظامیہ کی صدارت جیسا اعلیٰ منصب ملا ہوا تھا اور دوسری طرف حکم راں اور خواص ان کے سامنے مؤدب رہتے تھے۔ لیکن آپؒ نے حضرت جنید بغدادیؒ، حضرت شبلیؒ، حضرت بایزید بسطامی ؒ اور ابوطالب مکّیؒ جیسے صوفیائے کرامؒ کی کتب اور ملفوظات کا مطالعہ شروع کیا تو زہد و ریاضت اختیار کرنا مناسب سمجھا اور اپنے منصب کو جاہ پرستی اور شہرت عامّہ کی خواہش گردانا۔ تب انھوں نے بغداد چھوڑ دیا اور دمشق جا پہنچے اور جامعہ اموی میں مقیم ہوگئے، جو اُن دنوں ایک بڑا تعلیمی مرکز بھی تھی۔ وہاں زیادہ تر وقت ذکر و اذکار میں مشغول رہتے۔ وہاں درس بھی دیتے اور پھر اپنے دور کے ایک بزرگ، حضرت خواجہ ابو علی فارمدیؒ کے ہاتھ پر بیعت کر کے راہِ سلوک کا سفر شروع کیا۔
عقائد، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، فلسفے اور تصوّف پر کئی سو کتب اُن سے منسوب ہیں۔ اُن کی کتب میں’’ احیاء العلوم‘‘ سب سے نمایاں ہے۔ علّامہ شبلی نعمانی نے اپنی کتاب’’ الغزالی‘‘ میں بہت تفصیل سے امام صاحبؒ کی تصنیفی خدمات اور اُن کے اثرات کا جائزہ لیا ہے، جس میں درجنوں صفحات احیاء العلوم پر لکھے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے، جس کے بغیر تصوّف اور اخلاقیات کا علمی تجزیہ ممکن ہی نہیں۔ لگ بھگ ہزار سال گزر گئے ہیں، مگر آج بھی یہ کتاب اُردو سمیت دنیا کی مختلف زبانوں میں مسلسل شایع ہو رہی ہے۔ امام صاحب کی ایک اور مشہور کتاب ’’ المنقذ من الضلال‘‘ ہے، جو دراصل اُن کی آپ بیتی ہے، جس میں اُنھوں نے پوری تفصیل سے اپنی فکر اور رجحانات کو بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ تہافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت اور مکاشفتہ القلوب بھی برصغیر میں مشہور ہیں۔
قیاس ہے کہ امام صاحب 19 دسمبر 1111ء (505ھ) میں طوس ہی میں انتقال کرگئے تھے اور وہیں سپردِ خاک ہوئے۔
بشکریہ: ARY نیوز
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

