غزل ۔ ۔ ۔ حسرت موہانی
شاعر: حسرت موہانی
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
با ہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق
تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے
بار بار اُٹھنا اُسی جانب نگاہِ شوق کا
اور تِرا غرفےسے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے
تجھ سے کچھ مِلتے ہی وہ بے باک ہو جانا مِرا
اور تِرا دانتوں میں وہ اُنگلی دبانا یاد ہے
کھینچ لینا وہ مِرا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے تِرا وہ منھ چھپانا یاد ہے
جان کر سوتا تجھے وہ قصْدِ پا بوسی مِرا
اور تِرا ٹھکرا کے سر، وہ مُسکرانا یاد ہے
تجھ کو تنہا جب کبھِی پانا تو از راہِ لحاظ
حالِ دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے
جب سَوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا
سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارِخانہ یاد ہے
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ تِرا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
آگیا گر وصْل کی شب بھی کہیں ذکرِ فراق
وہ تِرا رو رو کے مجھ کو بھی رُلانا یاد ہے
دوپہر کی دُھوپ میں، میرے بُلانے کے لئے
وہ تِرا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
آج تک نظروں میں ہے وہ صُحْبَت و راز و نیاز
اپنا جانا یاد ہے، تیرا بُلانا یاد ہے
مِیٹھی مِیٹھی چھیڑ کی باتیں نرالی پیار کی
ذکردشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے
جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
چوری چوری ہم سے تم آ کر مِلے تھے جس جگہ
مُدّتیں گُزریں، پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے
شوق میں مہندی کے وہ بے دست وپا ہونا ترا
اور مِرا وہ چھیڑنا ، وہ گُدگُدانا یاد ہے
باوجودِ اِدّعائے اِتّقا حسرت مجھے
آج تک عہدِ ہَوَس کا وہ فسانہ یاد ہے

