Latestتعلیم و صحتشعبہ انٹرنیشنلکرکٹکھیل

ناروے کرکٹ فیڈریشن کی سالانہ ایوارڈز تقریب

Share your Love

رپورٹ: مبارک شاہ بیورو چیف ہفت روزہ لاہور انٹرنیشنل

نارویجن کرکٹ فیڈریشن کی جانب سے 29 نومبر بروز ہفتہ 2025 کی سالانہ تقسیمِ انعامات کی تقریب نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے کھلاڑیوں، عہدیداران اور کرکٹ سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض اویس احمد نے انجام دیے۔

سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق ایلیٹ سپر لیگ کا ٹائٹل ساندنس نے اپنے نام کیا، جبکہ بیورویکا نے ٹی20 سپر لیگ اور نارویجن چیمپیئن شپ دونوں مقابلوں میں کامیابی حاصل کر کے دوہرا اعزاز جیتا۔

نارویجن نیشنل کرکٹ ٹیم کو بھی سال بھر کی شاندار کارکردگی پر خصوصی ایوارڈز پیش کیے گئے، جبکہ خواتین کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔
تقریب سے نارویجن کرکٹ فیڈریشن کے صدر اور یورپین کرکٹ فیڈریشن کے نائب صدر سید یوسف گیلانی نے خطاب کیا۔ فیڈریشن کے نائب صدر نے بھی اظہارِ خیال کیا اور کھلاڑیوں میں ایوارڈز تقسیم کیے۔

ایوارڈز کی تقسیم کے عمل میں پوجا، ظہیر بابر، موسیٰ، امتیاز وڑیچ اور مبارک شاہ نے بھی حصہ لیا۔
ایلیٹ سپر لیگ کے بہترین بالر کا ایوارڈ ایک بار پھر منصور شاہ کے حصے میں آیا، جبکہ قومی ٹیم کے کپتان خضر احمد کو نمایاں کارکردگی پر خصوصی شیلڈ سے نوازا گیا۔

تقریب کے اختتام پر شرکا کی پرتکلف عشائیے سے تواضع کی گئی۔

کرکٹ دنیا کے کئی ممالک میں ایک مقبول کھیل ہے، لیکن ناروے جیسے سرد شمالی ملک میں اس کی موجودگی خاصی دلچسپ کہانی رکھتی ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جو ناروے میں کبھی تقریباً ختم ہو گیا تھا، مگر آج یہ ملک نہ صرف اپنی قومی ٹیموں کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر حصہ لے رہا ہے بلکہ یورپ میں ابھرتی ہوئی کرکٹ قوموں میں شامل بھی ہو چکا ہے۔

ناروے میں کرکٹ کی تاریخ کا آغاز سن 1866ء سے ہوتا ہے جب ملک میں پہلی بار ایک کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ اُس وقت یہ کھیل مقامی سطح پر چند شوقین افراد تک ہی محدود تھا، اور آنے والے سالوں میں اس کا باقاعدہ نظام قائم نہ ہو سکا۔ 20ویں صدی کے آغاز تک کرکٹ ناروے کی سرزمین سے تقریباً غائب ہو چکا تھا۔

اس کھیل کو دوبارہ زندگی 1970ء کی دہائی میں ملی جب جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان، بھارت اور سری لنکا سے آنے والے تارکینِ وطن نے کرکٹ کو اپنے ساتھ یہاں متعارف کرایا۔ ان ہی شوقین افراد کی کوششوں سے 1974ء میں ناروے کا پہلا کرکٹ کلب قائم ہوا۔

1994ء میں کرکٹ کو ایک باقاعدہ تنظیمی شکل ملی جب Norwegian Cricket Federation (NCF) قائم کیا گیا۔ اس تنظیم نے ملک بھر میں کرکٹ کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ناروے کو 2000ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی “Affiliate Member” حیثیت ملی اور پھر 2017ء میں اسے “Associate Member” کا درجہ دے دیا گیا، جو کہ ایک بڑی پیش رفت تھی۔

2007ء میں کرکٹ کو ناروے کی “اولمپک اور پیرالمپک کمیٹی” کی باقاعدہ رکنیت بھی مل گئی۔ اس سے کھیل کو سرکاری سطح پر مضبوط شناخت حاصل ہوئی۔

وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں کرکٹ کلبوں اور کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ موجودہ دور میں ناروے میں 67 سے زائد کلب اور 5,000 کے قریب فعال کرکٹرز موجود ہیں۔ کرکٹ اب پورے ملک میں لیگ سسٹم کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں مختلف ڈویژن، جونیئر پروگرامز اور خواتین کی لیگ شامل ہے۔

ناروے کی مردوں کی قومی کرکٹ ٹیم نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ 2000ء میں کھیلا۔ ابتدا میں زیادہ تر کھلاڑی جنوبی ایشیائی پس منظر رکھتے تھے، لیکن اب ناروے میں پیدا ہونے والے نوجوان بھی ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں، جو کھیل کی مقامی سطح پر ترقی کا مثبت اشارہ ہے۔

2014ء اور 2006ء میں ناروے نے یورپی ڈویژن ٹورنامنٹس جیتے، جنہوں نے ٹیم کی کارکردگی کو پہچان دلائی۔ آج تک مردوں کی ٹیم درجنوں T20I میچز کھیل چکی ہے اور یورپ میں اپنی مضبوط شناخت بنا رہی ہے۔

خواتین ٹیم کی بنیاد 2014ء میں رکھی گئی اور 2019ء میں اسے پہلی مرتبہ بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ حالیہ سالوں میں خواتین کرکٹ نے خاصی ترقی کی ہے۔ اسکولوں میں “Elite Cricket” پروگرام نے بھی کئی نوجوان لڑکیوں کو کرکٹ کی طرف راغب کیا ہے۔ آج ناروے کی خواتین ٹیم یورپی مسابقتی ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔

سال 2025ء ناروے کی کرکٹ کے لیے تاریخی ثابت ہوا۔ پہلی بار ملک میں بین الاقوامی T20I اور T10 ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوا، جن میں ہنگری، سویڈن اور ناروے نے شرکت کی۔ یہ نہ صرف کرکٹ کے فروغ کے لیے اہم قدم تھا بلکہ ناروے کی صلاحیت اور میزبانی کی اہلیت کا بھی ثبوت تھا۔

کرکٹ اب ناروے میں محض تارکینِ وطن کا کھیل نہیں رہا بلکہ مقامی لوگوں میں بھی اس کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگرامز اور نئے کرکٹ گراؤنڈز کی تعمیر نے اس کھیل کو ملک کے مستقبل میں جگہ بنانے میں مدد دی ہے۔

اگرچہ کرکٹ ناروے میں ترقی کر رہی ہے، لیکن کچھ چیلنجز موجود ہیں۔ موسم سرد ہونے کی وجہ سے گراؤنڈز کا انتظام مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اب بھی کھیل میں زیادہ تر حصہ تارکینِ وطن کا ہے، مگر مقامی آبادی کی شمولیت بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے صورتحال حوصلہ افزا ہے۔ بین الاقوامی ٹورنامنٹس، نوجوان ٹیلنٹ کی شمولیت، اور خواتین کرکٹ کی ترقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناروے آنے والے برسوں میں یورپ کی مضبوط کرکٹ قوموں میں شامل ہو سکتا ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *