لاڑکانہ کی تاریخ کا ایک روشن باب
تحریر: آصف رضا موریو

اپنی مٹی میں محبت اور مہمان نوازی کی خوشبو سے گندھا ہوا لاڑکانہ جہاں اس رنگ و بو میں بسی دھرتی پر انسانی تہذیب نے سب سےپہلے آنکھہ کھولی تھی ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ پانچ سات ھزار سال وادی سندھہ کے شہر مہیں جو دڑو تک کھنچی اور تنی ہوئی ہے۔ یہ شہر مہیں جو دڑو کا سماجی تسلسل ہوتے ہوئے نہ صرف ہمارے فن و ثقافت، علم و ادب اور سیاسی و سماجی تاریخ اور تہذیبی روایتوں کا امیں رہا ہے۔ اس شہرمیں لاوارثی کا لبادہ اوڑہے بیشمار ایسی ایسی عمارت موجود ہیں کہ جن کی نفاست، عمدگی اور ہنرمندی دیکھہ کر انسان انگشت بدنداں رہہ جاتا ہے مگر ان کی تاریخی اہمیت اوربیش قیمتی سے بیخبر ہمارے موجودہ نسل ان کو توڑپھوڑ کر تباہ و برباد کر رہی ہے۔ ایس ہی ایک عمارت لاہوری محلے میں واقع بیگم عتیق الزماں منزل ہے۔
فن تعمیرات کی حامل ایسی شاندار عمارتیں نہ ہمارے اجداد سے ہوتا ہوا ہمارا تاریخی اور تہذیبی ورثہ ہیں بلکہ ماضی کی شاندار روایتون کی امانتداری ہے جنہیں ہر حوالے سے تحفظ دینا نہ صرف حکومت وقت کی ذمیداری ہے بلکہ یہ نیک کام ان پر بھی عائد ہوتا ہے جن کے سنبھالے میں ایسے لال و گوہر آتے ہیں۔ ہماری ثقافت، سماج، تاریخ و تمدن کی تہزیبی جڑیں اس قسم کی عمارتوں جی ہنرمندیوں میں پیوستہ رہی ہیں جو نہ صرف ہمارے ماضی کی آئینہ دار ہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، قومی کردار اور عمدہ رہن سہن کی بھی عکاسی کرتی رہتی ہیں۔ سندھہ کی قدیم اور خوبصورت عمارتسازی میں موسموں کے ردوبدل، دھوپ، بارش، موسموں کی سختی وغیرہ کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔
سندھہ کے شوقین باشندے اس دور میں اپنی عمارتوں کے لئے ہندستان کے مختلف شہروں جیسا کہ ادے پور، شکارپور، جےپور، اجمیر، مہاراشٹر، رنگاپور، جودھہ پور، حیدرآباددکن، لکنو وغیرہ سے اپنےفن سے متعلق ماہر عمارتساز، سنگ تراش اور دوسرے ہنرمند منگوایا کرتے تھے۔ بیشمارہنرمندوں کے مشاق ہاتھوں سے جنمی ایسی عمارتیں اپنے اندر ایک روماچک ردھم، کئی منظروں کے مناظر اور موڈ سمائے رکھتی ہیں جو زمانوں، مکینوں، وقتوں، معروضی حالتوں کے تحت اپنا مزاج بدلتی رہتی ہیں۔
لاڑکانہ شہر کے لاہوری محلے کے مرکز میں واقع عتیق الزمان لین (گلی) میں کسی چوکیدار کی طرح تنی اور پتھر کی مورتی کے جیسی ڈھلی ہوئی ایک شاندار حویلی کا نام بیگم عتیق الزمان منزل ہے جو زمانے کی گردشوں، وقت کی دھول اور حالات کی بیگانگی کے باوجود اس وقت بھی دیرپا، شاندار، خوبصورت اور دلکش لگنے دکھائی دینے والی عمارت سندھہ کے باشندوں کے شاندار ذوق و شوق کی جیتی جاگتی تصویربنی ہوئی ہیں۔ اس حویلی میں اپنے وقت کی تمام نمایاں خصوصیات نہ صرف عمارت سازی میں بلکہ دروازوں اور کھڑکیوں کے نقش و نگار سے جھانکتی ہوئی نظر آتی ہیں جہاں محرابوں سے لیکر کمروں، برآمدوں، ستونوں جالیوں میں موجود باریک بینی سے اس وقت کےماہر معماروں کی فنِ کاریگری کا عکس ہمیں اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔
اس حویلی کے ایک پڑوسی میرے دوست امتیازمنگی نے لکھا تھا کہ “بچپن کی ایک دھندلی شام میں جب میں لاہوری محلے کے اپنے آبائی گھر کی چھت پر سوتا تھا تو مشرقی سمت چاند کے نیچے ایک پراسرار حویلی ہمیشہ میری نگاہوں میں تیرتی رہتی تھی جسے دیکھہ کر ایسا لگتا جیسے “چاند خود اس کا ہمسایہ ہو جو ہر ماہ اپنے مدار سے اچھل کرنیچے جھکتے ہوئے اس حویلی کے قریب آتا ہو. یہ وہی پرانی اور اداس عمارت تھی جسے سب “عتیق جو بنگلو” کہا کرتے تھے”۔ اور یقینن ایسی ہی عمارتیں ہوتی ہیں جن میں سینکڑوں سال گزرجانے کے باوجود نہ صرف مکینوں کے دل دھڑکتے ہوئے محسوس کئےجاسکتے ہیں بلکہ ایسے مکان کو اپنے ظرف والے مکینوں یاد کرکے بجا طور پر فخر کرتے ہوں گے۔
یہ حویلی بنگال کے گورنر اورپاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر چودھری خلیق الزمان کو بٹوارے کے بعد اپنے دوست محمد ایوب کھہڑو کے توسط سے تب کلیم میں ملی تھی جب وہ قائدِ اعظم سے کسی سیاسی ناچاکی کے سبب روٹھہ کر کھہڑو کی دعوت پر لاڑکانہ آئے تھے اورکراچی کی گہما گہمی والی زندگی سے انہیں یہ شہر بہت پسند آیا تھا۔
چوہدری خلیق الزماں کی دو بیگمات تھیں جن میں سے پہلی بیوی فصیح النساء ان کی فرسٹ کزن تھیں جن کی شادی 1910ء میں لکھنؤ میں ہوئی تھی۔ ان پہلی بیگم سے چودھری صاحب کو چوہدری عتیق الزماں اوررفیع الزماں کے نام سے دو بیٹے اور بیگم انور ریاست حسین، بیگم یاسین سلطان اور بیگم تحسین قدوائی کے نام سے تین بیٹیاں تھیں۔ بیگم فصیح النسا لاڑکانہ میں رہتی تھی اور وہیں 1967ء میں ان کا انتقال ہو گیاتھا جنہیں لاڑکانہ کے شیخ زید موڑ والے قبرستان میں سپرد خاک کیاگیا تھا۔
چوہدری صاحب نے دوسری شادی 1930ء میں بیگم زاہدہ خلیق الزمان سے کی تھی جن سے انہیں جمال الزمان، ناہید بیگم، جلال الزمان اور نہال زماں نام سے چار اولادیں تھیں۔ بیگم زاہدہ خلیق الزمان لکھنؤ سے ہجرت کے بعد ہمیشہ کراچی میں مقیم رہیں۔ ان کا انتقال اسی کی دہائی کے اوائل میں کراچی میں ہوا۔ بیگم زاھدہ خلیق الزماں ایک نامور خاتون تھیں جو ایوب خان کے دور میں صوبائی وزیر بھی رہیں تھیں۔
بیگم عتیق الزماں کا والد نواب مقصود علی فاروقی مراد آباد میں رہتا تھا جو لکنو میں بڑے اثرو رسوخ تھا والے زمیندار ہوا کرتے تھےاور وہ 1950ء میں ہجرت کرنے تک کبھی لاڑکانہ نہیں آتے تھے۔ وہ رفیع الزماں کے نانا اور احمد فاروقی کے دادا تھے۔ احمد فاروقی بیگم عتیق الزمان کے بھتیجے ہیں جن کے والد مسعود علی فاروقی بیگم صاحبہ کے بڑے بھائی تھے۔ سکینہ بیگم کا جنم 1924ء میں لکھنؤ میں ہوا تھا۔ اس نے اپنی بڑی بہن سلطان جہاں کے ساتھہ ہاسٹل میں رہتے ہوئے مسلم گرلز اسکول لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا جو ان دنوں بہت نایاب بات تھی کہ اس دور میں لڑکیوں کے لئے ہاسٹل میں رہنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس نے گوکل داس کالج مرادآباد سے گریجویشن کیا تھا۔
بیگم عتیق الزماں کا سارا خاندان مسلم لیگ میں ہواکرتا تھا اس لئے تحریکِ آزادی، مسلم لیگ، کانگریس اور دوسری سیاسی پارٹیوں کے معاملات کو وہ بچپن سے قریب سے دیکھتی آئی تھیں جس سے انہیں بھی عوامی خدمت کا شوق ہوا اور آگے چل کر وہ مسلم لیگ مراد آباد کی سٹی کی جوائنٹ سیکریٹری بنیں۔
نوابی گھرانے میں پیدا ہونے اور خوشحال پریوار میں بیاہی جانے والی بیگم سکینہ عتیق الزماں بڑے ناز ونعم سے پلیں بڑہیں تھیں اسلئے بٹوارے کے بعد جب وہ لاڑکانہ آئیں جہاں انہیں اپنے دیور رفیق الزماں لینے آئے تھے۔ اس وقت ریلوی اسٹیشن پر ابھی پلیٹ فارم نہیں بنا تھا جہاں دھول اڑ رہی تھی اور راستے بھی مٹی میں اٹے ہوئے تھے جس سے ان کے لکھنو کے پہنے ہوئے غرارے کانچلا حصہ میلا ہوگیا تو وہ بہت برہم ہوئیں کہ اور گھر پہنچ کر اپنے خاوند سے ناراض ہوئیں کہ “آپ لوگوں کو رہنے کیلئے یہی شہر ملا تھا” اور”آپ کسی اور سے شادی کرلیں جو یہاں رہے میں تو واپس لکھنو ہی جائونگی” وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہاں رہنے کے بعد آگے چل لاڑکانہ ان کی جنم بھومی سے بھی بڑھہ کر ہوگیا۔
اس کے بعد انہوں نے اپنے احبابوں کو بھی لاڑکانہ آنے اور بسانے کی بیحد کوششیں کیں۔ جب بیگم صاحبہ کے والد لاڑکانہ آنے کیلئے رضامند ہوئے تو اس وقت ہندئوں کے خالی کئے ہوئے تولانی بنگلے میں لاڑکانہ کا ڈپٹی کمشنر قاضی سچیڈنو (امتیازقاضی اور اعجاز قاضی کا والد) کی رہائش ہواکرتی تھی جو بیگم عتیق الزمان کو اپنی چھوٹی بہن کی طرح مانتا تھا۔ وہ بنگلہ اس نے لکھنو سے آنے والےاپنے والد کیلئے قاضی سچیڈنو سے الاٹ کروایا تھا۔ گوکہ اس الاٹمنٹ کیلئے قانونی دستاویزات کی ضرورتیں پوری کی گئی تھیں مگر “ایک انگریزی روزنامے ڈان نے ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کے خلاف ایک اداریہ شائع کیا کہ “انہوں نےلاڑکانہ کی قیمتی جائیداد بیگم عتیق الزمان کے کہنے پر الاٹ کردی ہے”۔
یہ حویلی ایک مقامی ہندو کا گھر تھا جسے دیکھہ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ بنوانے والے نے کس محبت، لگن، اشتیاق اور اپنے پن سے وقت کے ہنرمندوں سے اس ساحرہ کو بنوایا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حویلی کو بنوانے اور تزئین و آرائش پر تین چار سال کا عرصہ لگا تھا۔ بقول ایک بزرگ دولترام جو لاہوری محلے کا رہنے والا تھا اس نے بتایا تھا کہ “پائلٹ اسکول اور عتیق الزمان منزل کا نقشہ ساز ایک ہی تھا۔ پائلٹ اسکول شکارپور باسی کے وی جوشی نے بنوایا تھا اس لئے شاید اس عمارت کا نقشہ بھی اس نےتیار کیا ہو۔ جوشی بٹوارے سےپہلے ہندستان کے بہترین انجنیئروں اور ماہرعمارت سازوں میں سے مانے جاتے تھے جن کے بنائے ہوئے نقشے شکارپور کا حسن مانے جاتے تھے۔
لاہوری محلے میں رہنے والے کچھہ بزرگ بتاتے تھے کہ “حویلی 1946ء میں بن کر مکمل ہوئی تھی”۔ گھر کے پرانے ملازموں نے نئے مالکان کو بتایا تھا کہ ہم نے بچپن میں دیکھا تھا کہ اس عمارت کی بنیاد میں مٹیریئل کے ساتھہ بڑی تعداد میں کوئلا اورشہد کے ڈرم اتارے گئے تھے تاکہ نمکین زمین کا سیم و تھور اس عمارت کی دیواروں پر اوپر نہ چڑھہ سکے”۔
چودھری خلیق الزماں زیادہ عرصہ اس گھر میں نہیں رہے البتہ اس کی بیگم فصیح النسا اپنی اولادوں کے ساتھہ یہاں رہا کرتی تھی جن کےبڑے بیٹے عتیق الزماں کے نام سے یہ حویلی منسوب ہواکرتی تھی۔ اس عمارت کے
گراؤنڈ فلور پر ایک بڑا ڈرائنگ روم دوکمرے اور ایک چمن ہوا کرتا تھا۔ گھر کے نچلے حصے میں بیگم خلیق الزمان رہا کرتی تھیں جہاں بعد ازاں رفیق الزماں کی فیملی رہتی تھی جبکہ دوسری منزل پر عتیق الزمان اپنے بچوں کے ساتھہ رہا کرتے تھے۔ عتیق الزمان بنیادی طور پر ایک پڑہے لکھے انسان اور پیشے کے لحاظ سے انجنیئر تھے جنہوں نے کبھی نوکری نہیں کی تھی مگر وہ لاڑکانہ میں ہی ٹھیکیداری کیا کرتے تھے اور ماہوٹا، رک اسٹیشن، وکیہ سانگی، نیوڈیرو کے بیشتر روڈ اس نے بنائے تھے۔ وہ زمیندار بھی تھے ہی کیوں کہ ان کی رتودیرو، نیوڈیرو اورمسوحب میں باغات اور زمینیں بھی ہواکرتھی تھیں ۔ چوہدری عتیق الزمان ستر کی دہائی کے اوائل میں کراچی منتقل ہونے کے بعد تعمیراتی کاروبار میں لگ گئے۔ انہوں نے گلشن اقبال میں گلستان ارم اور دیگر کئی اپارٹمنٹس بنوائے تھے جبکہ کراچی کی مشہور ڈسکو بیکری بھی انہی کی ملکیت ہوا کرتی تھی جسے انہوں نے تب بیچا تھا جب گلستان ارم کی تعمیر جاری تھی۔
بیگم عتیق الزماں کی بڑی بیٹی عمیمہ خلیق الزمان کی شادی فیاض لغاری ریٹائرڈ آئی جی سندھ سے ہوئی ہے جو ڈی آئی جی لاڑکانہ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی دوسری بیٹی یاسمین زماں کراچی گرامر اسکول میں پڑھاتی ہیں جبکہ تیسری بیٹی ارمینہ زماں گھر سے اپنا چھوٹا سا بوتیک چلاتی ہیں۔ ان کے سب سے چھوٹے اور اکلوتے بیٹے رفیع الزماں صدیقی کا جنم 13 جنوری 1958ء کواسی لاڑکانہ والے گھر میں ہوا تھا۔ انہوں نے پرائمری تعلیم سینٹ جوزف کونوینٹ اسکول سے حاصل کی تھی جہاں اس وقت تک فادر اورسسٹرز والا انگریزی نظام چلا کرتا تھا اس نے میٹرک گورنمنٹ پائلٹ ھائی اسکول سے اور پھر 1975ء میں پڑہائی کیلئے کراچی چلا گیا جہاں گریجویشن کراچی یونیورسٹی کرنے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان دےکر پاکستان کی فارن سروس میں شمولیت اختیار کی اور بیرون ملک اور دفتر خارجہ میں مختلف پوسٹنگ میں خدمات انجام دیں جن میں وزارت خارجہ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ اور کینیا اور بنگلہ دیش میں سفیر/ہائی کمشنر شامل ہیں۔ وہ بنگلہ دیش سے ریٹائر ہوئے اور اس وقت مشیر سندھہ محتسبِ اعلیٰ کراچی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
لاہوری محلے میں عتیق الزمان کے گھر کے سامنے ان کے ماموں زاد بھائی زبیر قدوائی کا بھی گھر ہواکرتا تھا جو سندھہ کے سابقہ سیکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ یوتھہ افیئرز اور چیف سیکریٹری سندھہ بھی رہے تھے۔ اس حویلی کے چند گھر چھوڑ کر جناب عبدالغفوربھرگڑی کا گھر ہوا کرتا تھا جبکہ اخترعلی جی قاضی اور ایوب کھہڑو بھی پہلے ان کے پڑوس میں رہا کرتے تھے۔ سندھہ کا مشہور شاعر کشنچند بیوس کا گھر بھی اس حویلی والے جنوب مشرقی راستے پر ہواکرتا تھا جہاں آئے دن شعر وادب کی محفلیں جما کرتی تھی جہاں جوش ملیح آبادی وغیرہ جیسے ادبا و شعرا بنفس و نفیس آیا کرتے تھے جن کی زیادہ تر میزبانی یہ بیگم عتیق الزماں کی شاندار حویلی کیا کرتی تھی۔
بیگم سکینہ عتیق الزماں کے میکے اور سسرال والےکافی طاقتور،پڑہےلکھے اور زمیندار خاندان ہواکرتے تھے جن کے ذاتی تعلقات پورے ہندستان کے سیاسی لیڈروں سے ہواکرتے تھے۔ وہ خود بھی روشن خیال، پڑہی لکھی اور عقلمند خاتون تھیں جنہیں لاڑکانہ میں رہتےہوئے جب اس شہر سے انہیں محبت ہوئی اور پھر اس کے خاندان سے بیشتر لوگ یہاں آگئے تو انہیں بہت اچھا لگنے لگا تھا۔ اس صورتحال میں اس نے شہر کی ادبی، سیاسی اور سماجی تنظیموں میں اپنی جگہ بنانی شروع کی جہاں اپنی محنت، محبت اور دل جمعی سے بہت جلد انہیں پزیرائی اور عزت ملی۔
بیگم عتیق الزمان لاڑکانہ میونسپل کمیٹی میں میمبر کے طور سولہ سترہ سال تک خدمات سرانجام دیتی رہیں۔ شہر کی بیشمار ادبی انجمنوں کی روح رواں رہنے کے ساتھہ وہ بزمِ ادب لاڑکانہ کی صدر ر اور آل پاکستان وومن ایسوسیئیشن کی کافی عرصے تک عہدیدار رہیں۔
بیگم عتیق الزماں کو لاڑکانہ شہر سے بیحد لگائو تھا اور وہ سختی سے اس بات پرزور دیتی رہتی تھیں کہ شہر کی گلیاں اور راستے صاف ہونے چاہییں، پارکوں کی روزانہ کی بنیاد پر انسپیکشن کیا کرتی تھیں تو شہر میں لگے درختوں کو بھی جانچ میں رکھا جاتا تھا اس لئے میونسپلٹی کا عملہ ان سے بہت ڈرتا رہتا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ “جب میونسپالٹی کے پخال اپنی اپنی پخالین پیٹھہ پر سجانےنالیوں کے دونوں طرف باقاعدگی سے پانی ڈالا کرتے تھے تو گلیوں میں بھی پانی چھڑکایا جاتا تھا تاکہ مٹی نہ اٹھے اور پھر ان گلیوں میں میونسپل عملہ دونوں طرف چونا لگایا کرتے تھے جس سے گزرنے والے فرحت محسوس کیا کرتے تھے”۔
اس دور میں سیاست اور سماجیت میں عورتیں ویسے بھی کم ہواکرتی تھیں اور پھر بیگم عتیق الزمان بہادر، ایماندار اور پڑہی لکھی خاتون تھیں جنہیں اس شہر ی بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے خاص کرکے عبدالغفور بھرگڑی، ایوب کھہڑو، قاضی فضل اللہ وغیرہ۔ بیگم نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو صاحب بھی بیگم عتیق الزماں کی بہت عزت کیا کرتا تھا حالانکہ وہ سیاسی طور پر ان کی مخالف ہوتی تھیں ایک بار بھٹو صاحب نے بیان دیا تھا کہ “ایوب کھہڑو کا ووٹ بینک بیگم عتیق الزمان کی وجہہ سے چلتا ہے”۔ اس کا سبب یہ تھا کہ لاڑکانہ میں اردو بولنے والا طبقہ بیگم عتیق الزمان کے کہنے سننے میں ہواکرتا تھا۔
اس وقت یہ گندگی، غلاظت اور انکروچمنٹ سے اٹا ہوا لاڑکانہ نہیں ہوا کرتا تھا کہ بدعنوانیوں کا کسی کے ذھن و عمل میں گمان بھی نہیں ہوتا تھا۔ سیاست ہوکہ سماجیت، تعلیم ہوکہ تربیت ہر معاملے میں عزت، ضمیر، عوامی خدمت اور سچائی کی بات چلتی تھی۔ بیگم سکینہ عتیق الزمان لاڑکانہ سے اتنا پیار کرتی تھی کہ انکا گھر بار کراچی میں بھی ہوتا تھاجہاں خاندان کے سب لوگ گھومنے اور رہنے جاتے رہتے تھے مگر وہ چھہ سات سالوں تک ایک مرتبہ بھی لاڑکانہ سے نہیں باہر نہیں گئی کیوں کہ اسے یہاں کےعلاوہ کہیں بھی مزہ نہیں آتا تھا۔
ایوب کھہڑو اور قاضی فضل اللہ بیگم عتیق الزمان کے ایک لحاظ سے قائد اور رہنما تھے جو ہر دکھہ سکھہ میں اس کا ساتھہ دیا کرتے تھے تو سیاسی طور پر وہ ان کی پیروکاری کیا کرتی تھی۔ بیگم صاحبہ نے 1952ء میں ہونے والی اوپن الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا۔ ڈاکٹر اشرف عباسی صاحبہ تو اپنی پارٹی کی طرف سے وومن سیٹ پر نامینیٹ ہوئیں تھیں مگر بیگم عتیق الزماں نے شہر کی تاریخ میں باقاعدہ چنائو لڑا تھا اور کم سے کم میری معلومات کے مطابق اس کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی عورت کینڈیڈیٹ نے بغیرپارٹی نامینیشن کے اوپن الیکشن میں حصہ لیا ہو۔
وہ لاڑکانہ کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے 1964ء میں ایوب خان کے دور میں بی ڈی (بیسک ڈیموکریسی) کا الیکش لڑا تھاجب ان کا سسر ایوب خان کے ساتھہ تھا جبکہ بہو (بیگم عتیق الزمان) فاطمہ جناح کی طرف تھیں۔ اس بی ڈی الیکشن میں بیگم عتیق الزمان نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے سسر کے خلاف کھڑی ہوئی اور ان کے اس عمل سے ان کی ساس بیگم زاہدہ خلیق الزمان ناخوش تھیں کیونکہ ان کی بہو سیاسی محاذ پر انکے شوہر کے خلاف جا رہی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیگم صاحبہ کے چھوٹے دیور رفیق الزمان نے والد کے سامنے اپنی بھابی کا ساتھہ دیا تھا۔ اس وقت چودھری خاندان کے اس سیاسی معاملے کو کافی شہرت ملی تھی جس کے متعلق معروف اردو روزنامہ جنگ نے سرخی لگائی “سسر موافقت میں اور بہو مخالف میں”۔
اس دور میں بیوروکریسی بھی ابھی کرپٹ نہیں ہوئی تھی تو جو بھی افسر آتے تھے وہ بھی اس بہادر عورت کو قدراوراحترام سے پیش آتے تھے۔ اس دور میں لاڑکانہ کا ایک ڈی سی کرنی اور ایس پی خلیل صاحب ہوا کرتے تھے جو دونوں بیگم سکینہ عتیق الزمان کا بہت احترام کرتے تھے کیوں کہ اس دور میں بیوروکریسی نے سیاستدانوں کو عوامی لوٹ مار اور زمینوں پر قبضے کے راستے نہیں دکھائے تھے یوں سماج کے دونوں طبقے ایک دوسرے کے ساتھہ ملکر عوامی خدمتیں سرانجام دیا کرتے تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء میں انتخابی مہم کے دوران نواب امیر علی لاہوری کے گھر پر ایک چھوٹے سے سیاسی اجتماع میں اعتراف کیا تھا کہ “میں بیگم عتیق الزمان صاحبہ کا دل سے احترام کرتا ہوں لیکن مخالف سیاسی کیمپوں میں ہونے کی وجہ سے وہ ان سے نظریاتی اختلاف ہے”۔ ذوالفقار علی بھٹو کے انتخابات جیتنے کے بعد پیپلزپارٹی کے کچھہ ارکان جیسا کہ احمد دہلوی وغیرہ نے بیگم صاحبہ سے ان کی پارٹی میں شامل ہونے کے لیے رابطہ کیا جسے انہوں نے شائستگی سے مسترد کردیاتھا۔ اس کے بعد بھی تقاضے ہوتے رہے مگر بیگم صاحبہ مسلم لیگ کےپلیٹ فارم کو کسی طور پر چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں۔ کچھہ سال بعد انہوں نے اپنے بڑے بھائی مسعود علی فاروقی کے مشورے پر نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ورنہ ان کے لیے لاڑکانہ کے سیاسی اور سماجی اکھاڑے میں رہنا مشکل ہو جاتا۔
یہ فیصلہ کرنے کا ایک سبب اور بھی تھا کہ انہیں لاڑکانہ شہر اور شہریوں کیلئے اپنی محنتیں، محبتیں اور ہنرمندیاں متحرک رکھنا چاہتی تھیں جو پیپلزپارٹی میں رہنے کے علاوہ ممکن نہیں رہا تھا مگر چوں کہ ان کی روح میں مسلم لیگ شامل تھی اس لئے پیپلزپارٹی والوں کا رویہ ان سے پھر بھی سوتیلا ہی رہا کرتا تھا جس سے متنفر اور دل برداشتہ ہوکر اس شاندارخاندان نے لاڑکانہ چھوڑ کر کراچی بسنے میں عافیت محسوس کی۔
عتیق الزمان فیملی1977ء میں جب کراچی ہجرت کر گئی جہاں شروع شروع میں وہ لوگ نارتھہ ناظم آباد کی کے ڈی اے اسکیم (1) محمدعلی سوسائٹی میں اپنے خاندان کے دیرینہ دوست سید ہاشم رضا کے ساتھہ رہے جو برٹش دور کا آئی سی ایس تھا اور جو 1943ء سے 1946ء تک لاڑکانہ میں ڈپٹی کمشنر بھی رہا اوربعد ازاں سیکریٹری گورنرآف سندھہ اور ایسٹ پاکستان کا گورنر بھی بنا۔ اسی گھر میں 5 جولائی 1988ء کو بیگم عتیق الزمان کی وفات ہوئی تھی اور انہیں پی ای سی ایس ایچ کے قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا تھا۔کچھہ عرصے کے بعد یہ خاندان ناظم آباد سے سے کلفٹن متقل ہوگئے جہاں سے پھر ڈفینس میں جاکر رہنے لگے۔
ہمارے دوست شبیر عباسی نے ایک جگہ بیگم عتیق الزمان کے بارے میں لکھا تھا کہ “اس نے ایک ایسے دور میں لیڈیز کلب اور بزمِ ادب کی رہبری کی جس کے ثقافتی اثرانگیزی کی کمی لاڑکانہ آج بھی محسوس کرتا ہے اور اس تناظر میں وہ بس ایک عام سیاسی عورت نہیں بلکہ انسان کی صورت میں وہ سیاسی، سماجی اور تاریخی نوعیت کا ایک ثقافتی ورثہ تھا”۔
اربابِ اختیار اور بیوروکریسی کو چاہیے کہ ہمارے شہروں کے ایسے بے لوث خدمت کرنے والے کرداروں کو آنے والی نسلوں میں متعارف کروانے اور زندہ رکھنے کیلئے شہر کی کسی نہ کسی سڑک، عمارت یا پارک کو ان
کےنام سے منسوب کریں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

