ستارہ خدمت کا اعزاز اللہ دیکھ رہا ہے
تحریر: جاوید ایاز خان
گزشتہ روز پمز ہسپتال اسلام آباد کی اس نرس رضیہ کو ایوارڈ اور کیش انعام دینے کا فیصلہ ہوا ہے جس نے جلتی آگ سے ایک معصوم نوزائیدہ بچے کو اس المناک حادثے میں جلتی آگ سے جان پر کھیل کر بچایا تھا۔ اس نے یہ نیک عمل کسی انعام یا تعریف یا کسی کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ اپنا فرض نبھایا تھا لیکن اللہ کو اس کی خلوص نیت سے کی گئی کوشش اور ادا پسند آ گئی جہاں پمز ہسپتال کا بے شمار اسٹاف معطل ہوا ہے اور لوگ ان کے کردار کی مذمت کر رہے ہیں وہیں اس نرس نے لوگوں اور حکومت کے دل جیت لیے ہیں۔ جہاں قصور وار لوگوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہیں اس نرس پر پھول برسائے جا رہے ہیں اور اسے ستارہ خدمت ایوارڈ کے ساتھ ایک کروڑ انعام کا بھی اعلان ہوا ہے۔ لیکن جزا و سزا کا یہ تقاضا ہے کہ سی سی ٹی وی کے مطابق جو لوگ اس وقت وہاں سے بھاگ کر جان بچا رہے تھے ان کا احتساب ضروری ہے اور کم ازکم ان کو ایسے ہسپتالوں کے حساس وارڈز میں آئندہ تعینات نہ کیا جائے بلکہ ان کو دوردراز ٹرانسفر کر کے ان کی غفلت کا احساس دلایا جائے۔ اچھے عمل کی شاباش کے ساتھ ساتھ اس بزدلانہ حرکت پر سرزنش بھی بہت ضروری ہے۔ یہ تمغہ اور انعام یقیناً دوسروں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔ پمز ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی المناک آگ کے بعد ہوشربا انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ مجھے وہ واقعہ یاد آ گیا جو کچھ دن قبل ایک کہانی کی صورت میں نظر سے گزرا ہے۔ بے شک ہم جو کچھ کرتے ہیں اور جس نیت سے کرتے ہیں سب اللہ دیکھ رہا ہے۔
کہتے ہیں کہ امریکہ میں ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ ہوتا تھا جہاں پچھلے سات سال سے ”مس میلینا“ ایک ویٹرس ہوا کرتی تھی وہ صبح سے رات تک مسلسل کام کرتی تھی۔ اور اس ریسٹورنٹ میں ایک 89 سال کا گاہک آتا تھا۔ جو کہ ورلڈ وار ٹو کا ریٹائرڈ بوڑھا افسر تھا۔ سفید بال، سیدھی کمر، اور زبان کا بہت تیز۔ والٹر ہر روز آتے ہی ایک مخصوص ٹیبل پر بیٹھتے، کھانے میں نقص نکالتے، اپنی آواز اونچی کرتے اور جاتے وقت کبھی ٹپ نہیں چھوڑتے تھے۔ باقی سب ویٹرسز نے ہار مان لی تھی۔ وہ اسے بھی کہتیں کہ ”اس بوڑھے کو سروس مت دو“ ۔ لیکن ”میلینا“ مسکرا کر کہتی ”میں سروس ضرور دوں گی“ کیونکہ وہ ایک بوڑھا اور بزرگ آدمی ہے اس لیے وہ ہر روز اس بات کا خیال رکھتی کہ والٹر کا کھانا سب سے پہلے گرم ہو جائے والٹر اگر چائے ٹھنڈی ہونے کی شکایت کرتے تو وہ فوراً لے آتی اور پھر بھی شور کرتے تو وہ سرجھکا لیتی اور یونہی سات سال گزر گئے۔ اسے نہ کبھی ٹپ ملی اور نہ شکریہ کے دو لفظ، صرف صبر اور صبر۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ والٹر کا انتقال ہو گیا اور کچھ عرصے بعد سب بھول گئے کہ کوئی والٹر نامی گاہک بھی ہوا کرتا تھا مگر ایک مہینے بعد ”میلینا“ کے گھر ایک خط آیا۔ یہ والٹر کے وکیل کا خط تھا جس میں والٹر کی وصیت بھی موجود تھی اور پھر والٹر کی وصیت پڑھی گئی جس میں لکھا تھا کہ میں اپنی ساری جمع پونجی پچاس ہزار پونڈ اور اپنی کار میلینا کے نام کرتا ہوں میلینا کی آنکھیں بھر آئیں اس کی سات سالہ خاموش خدمت ایک دن بول پڑی تھی۔ لوگ پوچھتے آخر والٹر نے یہ کیوں کیا؟ والٹر نے شاید یہ دیکھا تھا کہ جب دنیا منہ موڑ لیتی ہے تب بھی کوئی ہے جو انسانیت نہیں چھوڑتا۔ کبھی کبھی دنیا ٹپ نہیں دیتی لیکن اوپر والا ضرور حساب برابر کر دیتا ہے۔ میلینا کی سات سالہ محنت کیسے اور کب رنگ لائی یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اچھا برتاؤ اس لیے نہ کرو کہ بدلے میں بھی کچھ اچھا ملے بلکہ اس لیے کرو کہ یہی تمہارے کردار کی پہچان ہے۔ یقیناً پمز ہسپتال کی نرس رضیہ کو بھی یہ ایسی ہی خاموش خدمت کا انعام ملا ہے۔
مجھے ایک مرتبہ ملازمت کے دوران ایک ایسی چیلنج برانچ لیاقت پور میں پوسٹ کیا گیا جہاں کام کرنا اس لیے بہت دشوار تھا کہ یہ برانچ شہر سے دور اور ریلوے اسٹیشن کے دوسری جانب ہوا کرتی تھی اور شہر جانے کے لیے ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے ریلوے پھاٹک سے گزرنا ہوتا تھا جو ہمیشہ بند ہی رہتا تھا۔ لوگ شہر کو پکی منڈی اور ہماری برانچ کی جگہ کو کچی منڈی کہتے تھے۔ آج کل تو اوور ہیڈ برج بن گیا ہے ورنہ انسان کی آدھی زندگی اسی ریلوے پھاٹک پر گزر جاتی تھی۔ میرے پاس نہ تو سواری تھی اور نہ وسائل بہرحال پہلے چھ ماہ بہت مشکل گزرے کوئی بھی پکی منڈی سے کچی منڈی آنے کو تیار نہ ہوتا۔ میں روزانہ پیدل ریلوے پل کراس کر کے غلہ منڈی جاتا اور لوگوں کو اپنا کاروبار برانچ میں لانے کی درخواست کرتا مگر کوئی بھی کیش لانے یا لے جانے کا رسک نہ لیتا۔ ایک دن مجھے غلہ منڈی کے صدر رانا احمد خان مرحوم نے کہا کہ جاوید صاحب وہیں کچی منڈی کے اردگرد کے لوگوں سے ملا کریں ہمارے لیے وہاں جانا مشکل ہے۔ چھ ماہ بعد میری برانچ کا وزٹ کرنے کے لیے جنرل منیجر نعیم خان صاحب تشریف لائے اور مجھ سے اس قدر کم کارکردگی پر وجہ پوچھی تو میں نے ہتھیار ڈال دیے اور ساری صورتحال ان کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے مجھے حسب عادت عینک کے اوپر سے دیکھا اور کہنے لگے کہ کیا دیانت داری سے محنت کر رہے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں! اتنی محنت میں نے کبھی اور کہیں نہیں کی تو وہ مسکرائے محنت جاری رکھو اگر تم محنت کر رہے ہو تو اس کا رزلٹ ضرور ملے گا۔ اللہ آپ کی محنت اور نیت دیکھتا ہے اور محنت کا نتیجہ بھی وہی دیتا ہے۔ مایوس نہ ہونا وہ ذات ایسے وسیلے پیدا کر دیتی ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ شہر اور پکی منڈی کو چھوڑ دو اپنے اردگرد سڑک کے ساتھ ساتھ ہر ہر آدمی سے ملو اور بینک آنے کی دعوت دیتے رہو۔
میں نے ایسا ہی کیا مگر کچی منڈی میں جس کے پاس جاتا وہ کہتا کہ پیسے ہوں تو بینک آئیں؟ پھر ایک دن اللہ نے میری سن لی اور برسوں سے ادائیگی کے لیے رکا ہوا سڑک کے ساتھ ساتھ بنائے گئے طویل سیم نالہ کی اراضی کا معاوضہ حکومت کی جانب سے کچی منڈی کے رہائشی لوگوں کو ملنے لگا جو ایک واؤچر کی صورت میں ہوتا اور بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگی ہوتی تھی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کے پاس میں بار بار جاتا رہا تھا۔ آج میری محنت رنگ لائی کیونکہ میری برانچ قریب ترین تھی ایک ہجوم میری برانچ میں اکاؤنٹ کھولنا چاہتا تھا۔ رش کی وجہ سے مجھے اضافی اسٹاف منگوانا پڑا اور میری برانچ کے ڈیپازٹس اور اکاؤنٹس بے تحاشا بڑھنے لگے۔ پھر قدرت کی مہربانی یہ ہوئی کہ ایم سی بی کے روپی ٹریول چیک کا اجرا ہو گیا جو لینے اور دینے میں آسانی کا باعث تھے۔ یہ چیک ہر کاروباری کی ضرورت تھے اس لیے پوری پکی منڈی کے کاروباری حضرات کا رخ میری جانب ہو گیا اور پھر وہی برانچ اسٹار برانچ بنی اور پورے زون کی بہترین برانچ بن گئی۔ یہی وہ برانچ تھی جو بینک انڈسٹری میں میری پہچان بن گئی۔ میری زندگی کی سب سے بڑی دولت اور سرمایہ آج بھی یہاں کے لوگوں کا خلوص اور محبت ہے۔
انسان کی خلوص نیت سے کی گئی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ممکن ہے آپ کی کوششوں کو دنیا نہ دیکھے، آپ کے اخلاص کو کوئی نہ سمجھے، آپ کی جدوجہد کا اعتراف کوئی نہ کرے، مگر ایک نگاہ ایسی ہے جو آپ کی ہر کوشش، ہر قدم اور ہر آنسو سے واقف ہے۔ اللہ کی نگاہ۔ جو ہر لمحہ ہماری محنت اور کوشش کو نہ صرف دیکھتی ہے اور اس کا پورا پورا حساب بھی رکھتی ہے۔ بے شک انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ آپ کی محنت کا صلہ کب، کہاں اور کیسے ملتا ہے؟
ہم اکثر انسانوں سے اپنی محنت کا صلہ چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ کوئی ہماری قربانی کو سراہے، ہماری کوشش کا اعتراف کر لے، ہماری خاموش جدوجہد کو دیکھ لے۔ روزگار کے لیے محنت بھی عبادت ہوتی ہے لیکن زندگی ہمیں آہستہ آہستہ یہ سبق سکھاتی ہے کہ انسان کا دیکھا اور نہ دیکھا جانا اصل حقیقت نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

