جو بیت گیا ہے وہ
تحریر: انجینئر ممتاز احمد خان

یہ ضخیم نسخہ جو ایک ہزار صفحات پر محیط ہے بقول مصنف 1968ء میں ابتدائے سروس سے لے کر 2009ء میں پنجاب پبلک سروس کمیشن سے ان کی ریٹائرمنٹ بلکہ اس کے کچھ سالوں بعد تک کا احوال ہے جس میں فاضل مصنف نے اس ستاون سالہ دور میں اپنے تجربات، مشاہدات اور زندگی کے نشیب و فراز کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ چونکہ یہ سوانح ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی تخلیق ہے اور میں خود بھی1974ء سے لے کر 2010ء تک اِرِیگیشن ڈِپارٹمنٹ کے بیوروکریٹک کلچر (beaurucratic culture) کا حصہ رہا ہوں لہٰذا اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں اس پر تبصرہ کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
میرے نزدیک کسی بھی ادبی تخلیق پر تبصرہ کرنے سے قبل تبصرہ نگار کو یہ ادراک ہونا چاہئے کہ مصنف کا اپنی اس تخلیقی کاوش کا مقصود کیا ہے۔ اس حوالے سے خود فاضل مصنف نے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’ممکن ہے نقّاد اس کتاب کو سوانح عمری کے کڑے معیار پر پورا اترتا ہوا نہ پائیں لہٰذا میں نقادوں کے علاوہ قارئین کو بھی یہ اختیار دیتا ہوں کہ وہ چاہیں تو اس کتاب کو سوانح عمری سمجھ لیں یا ذاتی یادداشتوں کا مجموعہ ، وہ اسے میرے دوستوں کا ایک دلپذیر تذکرہ بھی شمار کرسکتے ہیں، اسے میری کامیابیوں اور ناکامیوں کی ایک داستان سمجھ سکتے ہیں اور چاہیں تو اسے محکمہ انکم ٹیکس کی ایک نامکمل سی تاریخ بھی شمار کرسکتے ہیں۔‘‘(ص ۱۵)
اس آپ بیتی کے مطالعہ کے بعد میرا تاثر یہ ہے کہ یہ سوانح وہ تو سب کچھ ہے ہی جس کا مصنف نے دیباچہ میں ذکر کیا ہے لیکن میری دانست میں اس سے کہیں بڑھ کر یہ تصنیف جہاں ایک طرف معلومات کا ایک خزینہ ہے دوسری طرف یہ کتاب زندگی کے بہت سے اہم موضوعات پر فکر کرنے کی تحریک اور دعوت بھی دیتی ہے۔
جہاں تک جناب داؤد طاہر کے جملہ ادبی محاسن مثلاً سلاست، تسلسل، جاذبیت، روانی، شائستگی، ہمہ گیری وغیرہ کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ان کی دیگر تصانیف کے حوالے سے جمیل الدین عالی، جمیل جالبی، مشفق خواجہ، عبدالقادر حسن، مستنصرحسین تارڑ، عطاء الحق قاسمی، اشفاق احمد، امجد اسلام امجد، افتخارعارف، ڈاکٹر اسلم فرخی و دیگر یکتائے ادب نے اپنے اپنے انداز میں انہیں جس شاندار پیرایہ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے اس کے بعد اس تصنیف کے ادبی مقام پر اس ناچیز کی رائے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگی تاہم میں اتنا یہ ضرور کہوں گا کہ اس طویل آپ بیتی کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے کسی ایک مقام پر بھی بیزاری یا کوفت کا احساس نہیں ہوا جب کہ یہ تصنیف نہ تو کسی جادونگری کی کہانی ہے اور نہ ہی پرستان کا سفرنامہ چنانچہ میں نے اس سوانح کے ادبی مقام سے زیادہ اس کا جائزہ اس نکتہ نظر سے لیا ہے کہ یہ سوانح اپنے قاری اور معاشرہ کے غوروفکر اور اس کی فلاح کے حوالے سے اپنے دامن میں کیا کچھ رکھتی ہے۔ تاہم اس زاویہ نگاہ سے اس آپ بیتی کے مقام کا تعیّن کرنے سے پہلے یہ نہایت ضروری ہے کہ اس کے مندرجات کی صداقت (authenticity) کا تیقن کر لیا جائے۔
اس حوالے سے میرے پاس دو پیمانے تھے۔ اوّل یہ کہ اس سوانح میں مندرج جن واقعات اور شخصیات کا میں خود بھی شاہد ہوں (مثلاً ہمارے بیوروکریٹک کلچر کی بُوالعجیباں،1971ء کے سانحہ سے متعلق ذوالفقارعلی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن کا تقابلی کردار، بھٹوصاحب کی لیٹرل انٹری سکیم کے تباہ کن اثرات، بطور صدر چوہدری فضل الٰہی کی قصرِصدارت میں محبوسی، ملکہ ترنّم نورجہاں کی شخصیت وغیرہ) ان کے حوالے سے میرے اور مصنف کے مشاہدات میں کس قدر تطابق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان واقعات کے حوالے سے میرے اور مصنف کے مشاہدات میں سوفیصد تطابق ہے۔ اس سوانح کی صداقت کے تعیّن کا دوسرا پیمانہ یہ ہوسکتا تھا کہ مصنف کے بیانیہ میں کسی کے خلاف ان کے ذاتی تعصّب کی جھلک تو نظر نہیں آتی۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے بیانیہ میں کسی کے خلاف تعصّب تو درکنار، خود ان کی اپنی ذات کا تعصّب بھی ناپید ہے اور مختلف واقعات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے اس قدر صاف گوئی اور بے باکی سے کام لیا ہے کہ خود ان کی اپنی ذات سے متعلق قاری کے ذہن میں پیدا ہونے والے کسی منفی تاثر کے امکان کی بھی پروا نہیں کی۔ لہٰذا ان کے بیانیہ کی صداقت ثابت ہے۔
مصنف کے بیانیہ کی صداقت کا تیقّن کرلینے کے بعد اب ہم اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ سوانح ایک قاری کی ذات اور اس سے زیادہ معاشرہ کی فکری تعمیر اور عمومی فلاح کے حوالے سے کس مقام اور اہمیت کی حامل ہے۔ میری دانست میں اس حوالے سے اس تصنیف کی اہمیت اور افادیت اظہر من الشمس ہے کیونکہ اس کے مطالعہ کے بعد ایک عام قاری بھی ہمارے بیوروکریٹک کلچر کے چال چلن اور طرزِکار سے پوری طرح آگاہ ہوجاتا ہے۔ مصنف نے جس تفصیل اور شرح صدر کے ساتھ اس کلچر کی تصویرکشی کی ہے اور انہوں نے اس کلچر کے مثبت اور منفی پہلوئوں کے باوصف جس طرح اپنے دورِملازمت کو کامیابی سے نبھایا ہے وہ لائقِ تحسین ہے۔ میری دانست میں پروبیشنربیوروکریٹس کے لیے ٹریننگ کے دوران اور دورانِ سروس اس سوانح کا مطالعہ انہیں عملی زندگی میں بہتر طرزِعمل اور بہتر کارکردگی کے نکتہ نظر سے بہت مددگار ہوسکتا ہے۔ اگر اس آپ بیتی کی صرف اسی افادیت ہی کو مدنظر رکھا جائے تو مصنف کی کاوش ہمارے خراجِ تحسین کی مستحق ٹھہرتی ہے۔
بیوروکریٹک کلچر کے حوالے سے فاضل مصنف نے ذکر کیا ہے کہ جب پاکستان کے پہلے وزیرِخارجہ اور عالمی عدالتِ انصاف کے صدر ،چوہدری محمد ظفراللہ خان نے فنانس سروسز اکیڈمی میں بطور گیسٹ سپیکر زیرِ تربیت افسران کو یہ نصیحت کی کہ دورانِ سروس ’’اگر کسی وقت حکومت کی طرف سے آپ کو کوئی ایسا کام کرنے کو کہا جائے جسے کرنے کو آپ کا ضمیر اجازت نہ دے رہا ہو تو آپ یہ حکم بجالانے سے انکار کردیں۔ بعد میں سوال و جواب کے دوران ایک پروبیشنر نے کھڑے ہوکر کہا کہ اگر اس حکم کو ماننے سے کوئی مفر نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے۔ اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ اگر ایسی صورتِ حال پیدا ہوجائے تو آپ نوکری کو لات مار کر گھر چلے جائیں، خدا آپ کے لیے خود کوئی بہتر سامان پیدا کردے گا۔ چوہدری صاحب تو یہ مشورہ دے کر چلے گئے لیکن پروبیشنرز اپنی نوعمری و ناتجربہ کاری اور حقائقِ زندگی کے بارہ میں کم علمی کی وجہ سے بہت دنوں تک چوہدری صاحب کے اس مشورہ کا مذاق اڑاتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اتنی جہاندیدہ شخصیت سے اس قسم کے ناقابلِ عمل مشورہ کی توقع نہ کرسکتے تھے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ وہ ملازمت جو انہوں نے بڑی محنت اور کوشش کے بعد حاصل کی ہے کیا وہ اسے اس معمولی وجہ سے چھوڑ دیں؟ اکثر پروبیشنرز کا اتفاق تھا کہ ان حالات میں سمجھوتہ ہی سب سے قابلِ عمل راستہ ہے۔‘‘ (ص 51)

چوہدری ظفراللہ خان نے زیرِتربیت بیوروکریٹس کو جو نصیحت کی تھی یہ بالکل وہی نصیحت تھی جو بابائے قوم قائداعظمؒ جیسی عظیم ہستی نے 1948ء میں بیوروکریسی کو کی تھی۔ فاضل مصنف نے اگرچہ یہ واقعہ برسبیلِ تذکرہ بیان کیا ہے لیکن میری دانست میں یہ واقعہ ہمارے بیوروکریٹک کلچر کی تباہی اور اس کے نتیجہ میں گورننس کے قعرِمذلّت میں گرنے کی بنیادی وجہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس المناک حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ پروبیشنربیوروکریٹس کی تربیت کے ذمہ دار اداروں کے تربیتی کورس اور پروگرام میں ان کی تربیت کا یہ اوّلین اور اہم ترین پیغام سرے موجود ہی نہیں۔ اگر یہ پیغام کہیں موجود ہوتا تو زیرتربیت بیوروکریٹس نہ تو اس پیغام کا تمسخر اڑاتے اور نہ ہی اسے مسترد کرتے۔ یہ قطعاً قرینِ قیاس نہیں ہے کہ ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج اور فنانس سروسز اکیڈمی جیسے تربیتی اداروں کے ٹریننگ پروگرام میں پروبیشنر بیوروکریٹس کی تربیت کا اولین اور اہم ترین سبق (کہ اگر حکومت یا بالاتر اتھارٹی آپ کو ایسا حکم بجالانے پر مجبور کرے جو قانون اور آپ کے ضمیر کے خلاف ہو تو اسے نتائج کی پرواہ کئے بغیر انکارکردیں) کہیں سہواً نظرانداز ہوگیا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ 1974ء میں جب پنجاب پبلک سروس کمیشن نے مجھے اِرِیگیشن ڈپارٹمنٹ میں بطور اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر تعینات کیا اور میں پہلے روز اپنے دفتر میں بیٹھا تو دفتر کی سامنے والی دیوار پر ایک پوسٹر آویزاں تھا جس پر لکھا تھا:
رُول نمبر۱: آپ کا باس (boss)کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔
رُول نمبر۲: جب بھی آپ یہ سمجھنے لگیں کہ باس غلط ہے تو رُول نمبر۱ دیکھیں۔
چونکہ ہمارے تربیتی کورس میں بھی افسرانِ بالا کے کسی غیرقانونی حکم کی بجا آوری کے حوالے سے کسی نے کبھی کوئی ہدایت نہ دی تھی اس لیے ہم نے بھی دورانِ سروس مذکورہ بالا رُولز کو فالو کرنا ہی قواعد کا تقاضا سمجھا تاوقتیکہ شعور کی بالیدگی نے رفتہ رفتہ ان رُولز کے تباہ کن اور مجرمانہ ہونے کا احساس دلایا۔ چنانچہ میں اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بِنا پر کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے بیوروکریٹک کلچر میں قائداعظمؒ اورچوہدری محمد ظفراللہ خان کے انتہائی صائب اور ناگزیر پیغام کو یکسر نظرانداز کردینا سہواً یا غفلت سے نہیں ہوا بلکہ عمداً اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہوا ہے تاکہ ایک مطیع اور تابعِ فرمان بیوروکریسی حکّامِ بالا کے مذموم اور غیرآئینی احکام کی بجاآوری میں بسروچشم معاون و مددگار ہو۔ حکومت اور حکّامِ بالا کے ہر حکم کی بلاچوں و چرا بجا آوری نے ملک کی اعلیٰ ترین بیوروکریسی کو رِذالت اور مردہ ضمیری کے جس مقام پر پہنچا دیا ہے اس کا انتہائی المناک اور شرمناک مظاہرہ ہم نے 8؍فروری 2024ء کے انتخابات میں دیکھا جب حکّامِ بالا کے حکم پر اس مردہ ضمیر بیوروکریسی کے ذریعہ قوم کے مینڈیٹ (mandate)پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈال کر فارم 47 کے ذریعہ جعلی حکمرانوں کو ملک اور قوم پر مسلط کردیا گیا۔ اس انتہائی شرمناک کارکردگی کے بعد صرف ایک بیوروکریٹ، سابق کمشنر راولپنڈی ڈویژن، لیاقت علی چٹھہ کا سویا ہوا ضمیر اچانک جاگا اور اس نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ اپنے آپ کو پھانسی کے لیے پیش کردیا جب کہ پورے ملک کےانتخابی عمل پر ڈاکہ ڈالنے والے درجنوں کمشنروں میں سے اعترافِ جرم کے حوالے سے کسی ایک اور کا ضمیر بھی نہ جاگا۔ ثابت ہوا کہ دوسرے تمام کمشنر مردہ ضمیروں کے لاشے اٹھائے پھرتے ہیں۔ بالکل یہی گھنائونا اور انتہائی شرمناک کردار الیکشن کمیشن میں بیٹھے ہوئے بیوروکریٹس نے ادا کیا۔ ہماری اعلیٰ ترین بیوروکریسی کی مردہ ضمیری اور رذالت کی اتھاہ گہرائیوں تک ڈوبنے کی بنیادی وجہ بابائے قومؒ اور چوہدری محمد ظفراللہ خان کے مذکورہ بالا فرمودات سے رُوگردانی ہے۔ تاہم داد دینی چاہئے اس سوانح کے مصنف کو کہ انہوں نے اس ناگفتہ بہ بیوروکریٹک ماحول میں بھی اپنے ذاتی کردار، خداداد بصیرت اور اخلاقی جرأت کے بَل پر حکّامِ بالا کے ناجائز احکامات کی مزاحمت سے کبھی پہلوتہی نہ کی اور اس مزاحمت کے نتیجہ میں درپیش آنے والی مشکلات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور یوں اپنے رفقائے کار کے لیے عملی نمونہ بنے۔
فاضل مصنف نے اس سوانح میں ’’ذوالفقارعلی بھٹو بمقابلہ شیخ مجیب الرحمٰن‘‘ کے عنوان سے 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے سانحہ عظیم کے حوالے سے اپنے جو مشاہدات ریکارڈ کئے ہیں میں خود بھی ان واقعات کا شاہد ہونے کی بِنا پر ان کے مبنی برحقیقت ہونے کی تائید کرتا ہوں۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات، 1970ء کے انتخابات میں بھٹو کی پیپلزپارٹی کی ۸۱ سیٹوں کے مقابلہ میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ کی ۱۶۰ سیٹوں پر فتح، لیگل فریم ورک آرڈر (جس کے تحت عام انتخابات کے بعد آئین سازی کے عمل اور انتقالِ اقتدار کا لائحہ عمل نافذ کیا گیا تھا) میں آئین ساز اسمبلی کے اجلاس سے پہلے آئیں پر اتفاق رائے کی کوئی شق نہ ہونے کے باوجود بھٹو صاحب کی یہ ضد کہ آئین سازاسمبلی سے باہر آئین پر اتفاق رائے کے بغیر پیپلزپارٹی آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہ ہوگی، اس حوالے سے بھٹوصاحب کا اقبال پارک کے جلسہ عام میں پیپلزپارٹی کے ارکان کو ڈھاکہ میں آئین سازاسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی صورت میں واپسی پر ان کی ٹانگیں توڑ دینے اور مغربی پاکستان سے دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان کی عوام کے ہاتھوں ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکیوںاور شیخ مجیب الرحمٰن کے بتکرار مغربی پاکستان کے تمام ارکانِ اسمبلی کو ڈھاکہ آنے کی دعوت اور ان کی ہر معقول تجویز کو قبول کرنے کے اعلانات وغیرہ جیسے تاریخی حقائق کا فاضل مصنف نے جو ذکر کیا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے جس کی میں سوفیصد تائید کرتا ہوں۔ ان حقائق سے سانحۂ سقوط ڈھاکہ میں بھٹو کا سراسر منفی اور مجیب الرحمٰن کا مثبت اور برحق کردار واضح ہوجاتا ہےچنانچہ جناب داؤد طاہر جیسے غیرسیاسی اور غیرجانبدار وقائع نگار کے قلم سے یہ تاریخی ریکارڈ ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور ہیرو کو وِلن (villain)اور وِلن کو ہیرو ثابت کرنے کا عمل شدّومد سے جاری ہو وہاں تاریخی حقائق کو ریکارڈ پر لاکر محفوظ کرنا نہایت لائق تحسین عمل ہے۔

جناب داؤد طاہر نے اس آپ بیتی میں جس طور اپنے اکثر رفقائے کار اور دوسرے احباب کی مختلف حوالوں سے مدح سرائی اور تحسین کی ہے وہ ان کی ذات کی کشادہ دلی، اعلی ظرفی اور بڑے پَن پر شہادت ہے۔ ایسا دور جس میں خودنمائی اور خودستائشی لوگوں کا چلن بن جائے اور تنگ نظری اور حسد راہ پاجائیں وہاں دوسروں کے اوصاف اور کردار کے مثبت پہلوئوں کو یوں فراخدلی سے بیان کرنا صرف ان لوگوں کا شیوہ ہے جو خود ان صفات سے بدرجہ اتم متّصف ہوتے ہیں۔
فاضل مصنف نے ذاتی حوالے سے دو واقعات کے ذکر سے ملک میں لا اینڈ آرڈر کی انتہائی الم ناک صورتِ حال اور پولیس کے افسوس ناک طرزِعمل کی جو تصویرکشی کی ہے وہ ازحد تشویشناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے۔ پہلا واقعہ ملتان میں مصنف کی بطور انکم ٹیکس کمشنر تعیناتی کے دوران ان کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ ضلعی انتظامیہ نے ان کے گھر پر سیکیورٹی مہیا کرکے ان کو اور ان کے اہلِ خانہ کو تحفّظ فراہم کرنے میں تو تعاون کیا لیکن واقعہ کی تفتیش نہ کی گئی اور نہ ہی مجرمان پر ہاتھ ڈالا گیا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ بااثرمجرمان ان کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ خبردار اگر ہمارے حساب کتاب پر ہاتھ ڈالا گیا تو نتائج خوفناک ہوں گے۔ اس واقعہ میں پولیس حکّام کی بے بسی اظہر من الشمس ہے۔ دوسرا واقعہ وہ ہے جب لاہور کی لبرٹی مارکیٹ میں ڈاکو سرِعام مصنف پر ریوالور تان کر ان سے اور ان کی اہلیہ سے کچھ نقدی اور زیور لوٹ کر فرار ہوگئے۔ اس واردات کا اس سے بھی بڑھ کر المناک پہلو یہ ہے کہ جب مصنف نے اس دہشت گردی کا اپنے دوست دو اعلیٰ ترین ریٹائرڈ پولیس آفیسرز سے ذکر کیا تو انہوں نے اس واقعہ کی ایف آئی آر تک درج کرانے کے خلاف اس بِنا پر رائے دی کہ مجرمان تو گرفتار نہ ہوں گے البتہ پولیس کے ہاتھوں کیس کی تفتیش ایک الگ عذاب اور بدنامی کا باعث بن جائے گی۔ ملک کے انتہائی کرپٹ اور کھلی لاقانونیت پر مبنی سیاسی نظام نے قومی زندگی کے ہر شعبہ اور ادارہ کو تباہ و برباد کردیا ہے۔
فاضل مصنف نے سٹاف کالج میں اعلیٰ بیوروکریٹس کے اعزاز میں ایک الوداعی دعوت کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ملک کی ابھرتی ہوئی مغنیہ، حمیراارشد نے بلامعاوضہ شرکائے فنکشن کو اپنی مدھر گائیکی سے محظوظ کیا تھا۔ اس فنکشن کا انتہائی المناک اور اخلاقیات سے گرا ہوا پہلو یہ ہے کہ فنکشن کے بعد حمیراارشد اور اس کی ماں کو فرش پر بٹھا کر کھانا کھلایا گیا۔ یہ واقعہ پڑھ کر مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ 1989ء میں جب میں اِرِیگیشن ڈپارٹمنٹ میں بطور ایگزیکٹو انجینئر تعینات تھا حکومت نے مجھے حکومت برطانیہ کے سکالرشپ پر سائوتھیمپٹن یونیورسٹی (Southampton University)میں ایم ایس سی انجینئرنگ کے لیے برطانیہ بھیجا۔ یاد رہے یہ وہی سائوتھیمپٹن ہے جس کے شِپ یارڈ میں مشہور زمانہ ٹائی ٹینِک لگژری شِپ تعمیر ہوا اور 1912ء میں یہ بحری جہاز سائوتھیمپٹن پورٹ ہی سے اپنے بدقسمت سفر پر روانہ ہوا تھا۔ سائوتھیمپٹن یونیورسٹی میں اپنے کورس کے دوران آرٹ ایشیا نامی ایک ادارہ نے مجھے بطور میوزک لیکچرر تعینات کرلیا جہاں مجھے ان کے طلبہ کو ستار، بانسری اور ہارمونیم بجانے کی تربیت دینا ہوتی تھی۔ ایک روز کلاس کے بعد آرٹ ایشیا کے ڈائریکٹر مسٹر ونود ڈیسائی (Vinod Desai) سے گپ شپ کے دوران گریگ (Greig) نامی ایک عمررسیدہ انگریز آوارد ہوا۔ وہ ونودڈیسائی کا دوست تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی شادی کی چالیسویں سالگرہ کا فنکشن ترتیب دے رہا ہے اور اس موقع پر اِنڈین میوزک کنسرٹ کرانا چاہتا ہے۔ ونود ڈیسائی نے مجھ سے دریافت کیا تو میں نے یہ فرمائشی پروگرام کرنے کی حامی بھرلی۔ مسٹر گریگ کا تعارف یہ ہے کہ یہ شخص برٹش انڈیا میں پیدا ہوا تھا اور کافی عرصہ انڈیا میں رہنے کی وجہ سے انڈین آرٹ، موسیقی اور ڈانس کا دلدادہ تھا۔ انڈیا میں برطانوی حکومت کے خاتمہ پر یہ شخص برطانیہ واپس آگیا اور اب اس کا ڈیری کا وسیع کاروبار تھا۔ فنکشن کے روز یہ شخص خود آیا اور ہمیں اپنے ساتھ سائوتھیمپٹن سے کوئی پندرہ میل دور اپنے وسیع و عریض ڈیری فارم پر لے گیا جہاں اس کا مینشن(mansion) تھا۔ پروگرام سے پہلے وہ مجھے اور میرے قریبی دو سازندوں کو ڈنر کے لیے ڈائننگ ہال میں لے گیا جہاں کینڈل لائٹ کے سحرانگیز اور انتہائی رومانٹک ماحول میں ایک لمبی ڈائننگ ٹیبل پر ساٹھ ستّر کے قریب مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک طرف لیڈیز ایک جیسے ڈائننگ ڈریس میں اور دوسری طرف مرد ایک ہی جیسے ڈائننگ سوٹوں میں کرسیوں پر براجمان تھے۔ ٹیبل مختلف ڈِشز سے سجی ہوئی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر پہنچ کر گریگ اپنے مہمانوں سے یوں مخاطب ہوا:
Ladies and gentleme! May I introduce Mr. Khan to you. By profession he is an engineer in Pakistan but these days he is doing MSc Engineering here in Southampton University
یہاں تک سب لوگ خاموشی سے گریگ کو سنتے رہے لیکن جب اس نے کہا:
.But at the same time Mr. Khan is a wonderful sitarist and flutist
تو سب مرد و زن اپنی نشستوں پر اٹھ کھڑے ہوئے اور دیرتک تالیاں بجانے کے بعد بیٹھے۔ تب مسٹرگریگ نے مجھے ٹیبل کے سرے پر اپنے اور اپنی اہلیہ کے درمیان بٹھایا۔ میں نے ابلے ہوئے چاولوں کے ساتھ شِکم پروری کی۔ کھانے کے دوران جب کہ دوسرے تمام مہمان شیمپین (champaign)سے اپنے گلاس خود بھررہے تھے، گریگ خود اپنے ہاتھوں میرا پسندیدہ گلاس بھر رہا تھا۔ اس کے بقول اس نے یہ اعلیٰ شیمپین اور دیگر مشروبات اس فنکشن کے لیے خصوصی طور پر فرانس سے منگوائے تھے۔ کھانے کے بعد میں نے خوبصورتی سے سجے سٹیج پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ستار اور بانسری پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا جس کے اختتام پر سب نے خوب کلیپنگ (clapping)کے بعد مجھ پر بوسوں کی بوچھاڑ کردی۔ میں نے جب سٹاف کالج کے الوداعی فنکشن میں منتظمین کے ہاتھوں حمیراارشد اور اس کی ماں کے ساتھ انتظامیہ کا انتہائی توہین آمیز اور حد سے گرا ہوا یہ واقعہ
پڑھا تو مجھے اپنا مذکورہ واقعہ یاد آگیا۔ ایک ہی طرح کے دوفنکشنز میں ایک طرف اخلاقیات کی کیا بلندی ہے اور دوسری طرف کیسی پستی ہے۔
فاضل مصنف نے زیرتبصرہ سوانح میں کچھ لوگوں کی مافوق الفطرت ’’کرامات‘‘ پر مبنی واقعات مذکور کئے ہیں۔ خود مجھے بھی ایسی ہی ’’کرامات‘‘ سے واسطہ پڑا ہے۔ ایسی ’’کرامات‘‘ سے متعلق میرا نکتہ نظر یہ ہے کہ قدرت نے انسانوں میں ایسی خفیہ صلاحیتیں رکھی ہیں جنہیں خاص قسم کی ایکسرسائزز سے کرامات کا روپ دے کر کچھ لوگ روحانیت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ دنیا میں ہر مذہب کے لوگ ایسی کرامات کے حامل ہوتے ہیں۔ اہلِ مغرب نے تو اس عمل کو باقاعدہ سائنس کا درجہ دے کر اسے مسمریزم، ہپناٹائزم اور ٹیلی پیتھی کا نام دیا ہے جب کہ ہمارے یہاں جہالت کی وجہ سے اسے روحانیت کا کوئی اعلیٰ درجہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کا روحانیت سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض شعبدہ بازی ہے جس کا دینِ اسلام کبھی مبلغ نہیں رہا۔ میں نے ایسی ’’کرامات‘‘ کے حامل بزرگی کا لبادہ اوڑھے لوگوں کو فراڈ اور دیگر غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پایا ہے۔
اس کتاب میں فاضل مصنف نے ایک واقعہ بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ جب وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ممبر تھے انٹرویو بورڈ نے ایک امیدوار کو انٹرویو سے قبل ہی محض اس بنا پر فیل کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ اس امیدوار نے دو ممبروں کو قبل از وقت اپروچ کرلیا تھا۔ ایک آئیڈیل سسٹم میں کہ جہاں قانون اور میرٹ سے رُوگردانی اور سفارش کا تصور تک نہ ہو اس قسم کی سفارش واقعی لائقِ تعزیر ہے لیکن جس سسٹم اور معاشرہ میں سفارش اور رشوت نے میرٹ اور انصاف کی جگہ لے لی ہو وہاں ایک امیدوار کو محض سفارش کرانے پر انٹرویو سے قیل ہی فیل کرنے کا فیصلہ کرنا میری دانست میں سراسرناانصافی ہے۔
اگرچہ ’’جو بیت گیا ہے وہ‘‘ میں جناب داؤد طاہر نے کچھ اور بھی ایسے واقعات بیان کئے ہیں جو قاری سے غوروفکر کا تقاضا کرتے ہیں لیکن میں نے طوالت کے پیش نظر اپنے تجزیہ میں خود کو صرف ان ہی واقعات اور مشاہدات تک محدود رکھا ہے جو میری دانست میں نسبتاً زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ اس حوالہ سے اپنی معروضات کو ختم شد کہنے سے پہلے میں اس تشنگی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو اس سوانح کے مطالعہ کے دوران میں نے شدّت سے محسوس کی۔ فاضل مصنف نے واقعات اور مشاہدات کی اہمیت، توجیہ اور ان کے پیغام پر اپنی رائے یا مؤقف بیان کرنے سے عموماً گریز کیا ہے اور یہ ذمہ داری قاری پر چھوڑی ہے کہ وہ اپنی افتادِطبع اور بصیرت کے مطابق جو نتیجہ اخذ کرنا چاہے کرلے مگر میری دانست میں چونکہ وہ خود ہر واقعہ اور مشاہدہ کے عینی اور واقعاتی شاہد ہیں اور ہر واقعہ کے پس منظر اور پیش منظر سے بخوبی آگاہ ہیں اور پیکرِ علم و دانش بھی ہیں لہٰذا اگر وہ خود ان واقعات اور مشاہدات کی اہمیت، توجیہ اور پیغام پر اپنا مؤقف بھی بیان کردیتے تو اس کی صداقت مسلّمہ ہوتی اور قاری کی فکری بالیدگی میں مددگار ثا بت ہوتی۔ تاہم اس تشنگی کے علی الرّغم میں فاضل مصنف کو اس شاندار کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سوانح کے مطالعہ سے نہ صرف میری معلومات میں قابلِ قدر اضافہ ہوا بلکہ غوروفکر کے کئی در بھی وا ہوئے۔ میں ان کی درازیٔ عمر، صحت اور امن و سلامتی کے لیے دعا گو ہوں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

