اردوشاعری

جب سے منزل نظر میں رکھا ہے 

Share your Love

 ڈاکٹر فیاض احمد (علیگ) اعظم گڈھ

جب سے منزل نظر میں رکھا ہے

  خود کو ہر دم سفر میں رکھا ہے۔
جھوٹے اخبار، جاہل صحافی

 پھر بھلا کیا خبر میں رکھا ہے۔
کوئی بھاتا ہے دل کو کہاں اب

 جب سے اس کو نظر میں رکھا ہے
بے ہنر کو میسر کہاں ہے

     مرتبہ جو ہنر میں رکھا ہے۔
حوصلہ دل کو بخشا ہے پہلے

     پھر سفینہ، بھنور میں رکھا ہے۔
کوئی چہرہ بھی اصلی نہیں ہے

    اصل چہر ہ تو گھر میں رکھا ہے۔
شوق پالے ہیں دل میں اگر تو

حوصلہ بھی جگر میں رکھا ہے۔
رند، واعظ ،سبھی اس میں ڈوبے

جانے کیا چشم تر میں رکھا ہے۔

جوکسی کی نظر میں نہیں ہے

ہم نے اس کو نظر میں رکھا ہے۔
عزم دل میں جواں ہے اگر تو

آسماں بال و پر میں رکھا ہے۔
چین حاصل ہو فیاضؔ کیسے

ایک سوداء جو سر میں رکھا ہے۔
دل میں رکھا جگر میں رکھا ہے

درد محفوظ گھر میں رکھا ہے۔
ہم کو دنیا نظر میں رکھتی ہے

تم نے دنیا نظر میں رکھا ہے۔
تیری یادوں سے گھر منور ہے

ورنہ کیا بام و در میں رکھا ہے ۔
سستی شہرت کے واسطے اس نے

خود کو جھوٹی خبر میں رکھا ہے۔
دل میں رکھا ہے دوستوں کو مگر

دشمنوں کو نظر میں رکھا ہے۔
صاف انکار کیوں نہیں کرتے

یہ کیا ؟گر، مگر میں رکھا ہے
خود کو آئینہ کر لیا ہم نے

یعنی خود کو نظر میں رکھا ہے۔
زندگی نے تو ہر کسی کو یہاں

صرف زیر و زبر میں رکھا ہے۔
راہ الفت میں روشنی کے لئے

ہم نے دل رہگذر میں رکھا ہے
حوصلہ دل میں رکھو تو پہلے

‘‘آسماں بال و پر میں رکھا ہے’’
تم نے رکھا ہے خواب آنکھوں میں

ہم نے فیاض ؔ سر میں رکھا ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *