کیا میں اور کیا میری اوقات
خاک
کیا میں اور کیا میری اوقات
اس سے افضل نہیں کسی کی ذات
وہ زمین و آسمان کا خالق
اس سے ارفع نہیں ھے کائنات
کون ھے کیا ھے کہاں ھے وہ
کھوج کر دیکھو یہ سوالات
علم دولت طاقت اور اختیارات
تمھارا وہم گھمنڈ صرف مفروضات
دعاء دوا فضل اور ہوں صدقات
دور ہو جاتے ہیں دکھ درد اور مشکلات
سمجھا نہیں خود کو اب تک
کیسے بتاوں اس کی تجلیات
محبت اس کی یار چکھ تو لو
ایسی شیریں نہیں ھے کوئی لذات
اس کی باتیں ہیں علم کی باتیں
ملیں گے ان میں سب جوابات
اس کے جلووں کو دیکھنا ہو اگر
دیکھ لو اس کی سب مخلوقات
چاند چہرے ہیں اس کے سب چہرے
دیکھ لو اس کے سب عجائبات
موت سے کیوں ڈر گئے پیارے
بعد مرنے کے ھے اصل حیات
زندگی فضول میں ہونہی نہ گزارو پیارے
کچھ تو سوچو کچھ تو بدلو لاو تغیرات
میرے مالک کوئی شکوہ ھے نہ شکایات
بس تیراشکر ھے تیرا فضل تیری عنایات
میرے محبوب میری جان میری متاع کل
کب آو گے کب ملو گے کب ہوگی ملاقات
میں نے کی ھے حقیر سی کوشش
نہیں ھے شاعری یہ ہیں گزارشات
خاک ھے خاک اسے خاک رہنے دو
خاک میں ھے اس خاک کی نجات
