مجھ پر ہو التفات تمہارا کبھی نہیں
انصر رضا
مجھ پر ہو التفات تمہارا کبھی نہیں
یوں تو وفا میں ہوتا گزارا کبھی نہیں
دوزخ کا خوف ہے مجھے جنّت کی آرزو
بیکار اپنے سر کو جھکاتا کبھی نہیں
جنّت سے گو زمیں پہ اتارا گیا ہوں میں
جنّت کو میں نے دل سے اتارا کبھی نہیں
در پہ ترے پڑا ہوں مری جان مستقل
ورنہ تھا اک ٹھکانا گوارا کبھی نہیں
کردیجئے خطائیں میری معاف ایک بار
پھر سے کروں گناہ دوبارہ کبھی نہیں
سب حوصلہ شکن تھے مرے دوست کسی نے
سچ بولنے پہ مجھ کو ابھارا کبھی نہیں
وابستگی سے تیری ہی معروف ہے رضاؔ
دنیا نے اپنا کہہ کے پکارا کبھی نہیں
