کشمیر یہ لہو چھپائے نہ چھپے گا، یہ بغاوت دبائے نہ دبے گی
شعبہ پاکستان
(آخری قسط) تحریر: یاسر ارشاد
یہ کس قسم کی تبدیلی ہے؟
بھارتی حکمران طبقات کے اس فیصلے نے اس خطے کے اسٹیٹس کو کو دھماکے سے توڑ دیا ہے اور خود اس حکمران طبقے کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان کے اس اقدام سے آنے والے دنوں میں مزید کیا کچھ تبدیل ہو کر رہ جائے گا ۔اپنی بنیاد میں یہ ایک وحشت ناک سامراجی اقدام ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن یہ صورتحال ماضی کے روائتی مذمتی بیانات سے آگے نکل چکی ہے۔اس اعلان کے ساتھ ہی ہند و پاک کے ریاستی ایوانوں سمیت تمام تر سیاسی حلقوں میں بحث و مباحثے کے ایک نئے سلسلے کے آغاز کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقات گزشتہ 48گھنٹوں سے اس فیصلے کے حوالے سے کسی واضح موقف کو سامنے نہیں لا سکے۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر تک نہیں کیا گیا جس پر حزب مخالف کی جماعتوں نے علامتی احتجاج بھی کیا لیکن حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد درحقیقت ان حکمران طبقات کی کمزوری ،بے بسی اور قابل رحم حالت کی عکاسی کر رہی ہے۔ درحقیقت بھارتی حکومت کے اس فیصلے نے پاکستانی حکمران طبقات کو انتہائی اور شائد سب سے زیادہ مشکل صورتحال سے دو چار کر دیا ہے چونکہ پاکستان کے کشمیر پر روائتی موقف کا خاتمہ ہو چکا ہے اور نئی صورتحال کے خدوخال کی تفہیم کرنے اور اس کے ساتھ مطابقت رکھنے والا موقف اپنانا کوئی آسان کام نہیں رہا۔محض مذمت کرنے سے اس فیصلے کے نتائج سے پیدا ہونے والی صورتحال کو دوبارہ پرانی کیفیت میں بحال نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اس فیصلے کے خلاف جنم لینے والے متوقع رد عمل کو منظر عام پر آنے سے روکنے کے لیے وہاں ننگی فوجی آمریت مسلط کر دی گئی ہے۔ دفعہ 144کے نفاذ کے ساتھ موبائل فون اور انٹر نٹ سروس کو بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث کشمیر کی صورتحال کا اندازہ لگانا ابھی تک مشکل ہے۔ہندوستان میں بائیں بازو کے مختلف گروہوں سمیت سول سوسائٹی کی جانب سے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیے جا رہے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ بھارتی کمیونسٹ پارٹیوں کے تمام تر دھڑے بھی اس اقدام کے خلاف جدو جہد کا کوئی واضح پروگرام دینے میں یکسر ناکام نظر آرہے ہیں۔اس اقدام کی مخالفت اس بنیاد پر کی جارہی ہے کہ اس تبدیلی سے بھارت کے نام نہاد مقدس آئین اور سیکو لرزم کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اوراگر آج کشمیر میں اس قسم کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تو کل مودی حکومت ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بسنے والوں کو بھی سرمایہ دارانہ جمہوریت کے ذریعے حاصل آزادیوں پر قدغن لگا سکتی ہے۔اس موقف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت پر مارے جانے والے شب خون کی مذمت کم اور اپنے تحفظ کو لاحق خطرات کا خوف زیادہ جھلکتا ہے۔ ان نام نہاد کمیونسٹوں کی سرمایہ داری کی غلاظتوں سے وابستگی کا یہ عالم ہے کہ جس آئین میں ترامیم کے ذریعے کشمیر پر پہلے سے زیادہ وحشیانہ درندگی اور جبر مسلط کیا جا رہا ہے یہ اسی آئین کے تحفظ کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور پاکستان کے کچھ لبرلز ان احتجاجوں کی تشہیر سے اس کو بھارتی حکومت کے خلاف کوئی حقیقی جدوجہد بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہی کمیونسٹ ہیں جنہوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کبھی بھی کشمیریوں پر ڈھائے والے مظالم کی مخالفت نہیںکی اور نہ ہی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی کبھی حمایت کی ہے۔مودی حکومت کا موجودہ اقدام در حقیقت اسی ہندوستانی قوم پرستی کی زوال پذیری کا شاخسانہ ہے جس کے تحفظ کے لیے ان نام نہاد کمیونسٹوں نے سات دہائیوں تک ہندوستانی بورژوازی کے کسی ایک یا تو دوسرے دھڑے کی دلالی کی ہے۔
اسی طرح اس فیصلے کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی نیم سرکاری قسم کے احتجاج کیے جا رہے ہیں لیکن اسی فرسودہ موقف اور نعروں کے ساتھ محض ہندوستانی قبضے کی مذمت کی جا رہی ہے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی مقبوضہ کشمیر کی سابقہ متنازعہ حیثیت کو ختم ہونے سے روکا جا سکتا ہے یا نہیں اور اگر روکا جا سکتا ہے تو کیسے؟بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام پہلے بھی بھارتی قبضے کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور آنے والے عرصے میں بھی اُن کی یہ جدوجہد جاری رہے گی لیکن فوری طور پر اُن کی جدوجہد اس فیصلے پر عمل درآمد کو شائد نہیں روک پائے گی۔ دوسری جانب پاکستان کے حکمران طبقات کے پاس اس فیصلے کو رکوانے کی کوشش کے دو ہی طریقے ہیں پہلا یہ کہ اس فیصلہ کو روکنے کے لیے ہندوستان سے ایک جنگ کا آغاز کیا جائے اور دوسرا یہ کہ عالمی سامراجی ممالک اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبر دار عالمی اداروں سے ہندوستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔کشمیر کو ہندوستان میں ضم ہونے سے روکنے کے لیے کسی سنجیدہ اور فیصلہ کن جنگ کے امکانا ت نہ ہونے کے برابر ہیں جس کا اظہار پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم کے خطاب کے دوران ان الفاظ میں کیا گیا کہ” اگر جنگ ہوتی ہے اور ہم خون کے آخری قطرے تک بھی لڑیں گے توآخر میں اس جنگ کو کون جیتے گا؟ایسی جنگ کوئی بھی نہیں جیت سکتا“ یعنی سادہ الفاظ میں ہم معذرت خواہ ہیںکہ ہم جنگ نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب عالمی سفارتکاری کے عمل میں پاکستان کا مقام کتنا اہم ہے اس کی وضاحت کے لیے کسی لمبی چوڑی بحث کی بھی ضرورت نہیں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم میں بھی اگر پاکستان کے مقابلے میںہندوستان کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے تو باقی کون سا ایسا ادارہ یا سامراجی ملک ہے جوپاکستان کی خاطر ہندوستان پر اس قسم کا دباؤ ڈال سکتا ہے اور پھر اس دباؤ کی ہندوستان کے لیے اتنی اہمیت ہے کہ وہ اس کے آگے سر تسلیم خم کر لے گا۔ اس حوالے سے پاکستانی حکمرانو ں کی تمام بڑھک بازی کہ ہم کشمیریوں کی حمایت میں ہر حد تک جا سکتے ہیں،محض اپنی خفت و شرمندگی کے تاثر کو کم کرنے سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ اگرچہ چین نے ہندوستان کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جس میں لداخ کے کچھ علاقوں کاچین کا حصہ ہونے کے اپنے دعوے کو بنیادی جواز بنایا ہے جبکہ کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کو ثانوی جواز کے طور پر پیش کیا ہے لیکن چین کے اس بیان سے اس فیصلے کی واپسی ممکن نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی ریاست گزشتہ کچھ عرصے میںچین سے اپنی بڑھتی ہوئی قربت کو کم کر کے دوبارہ امریکی سامراج کی جانب جھکاؤ میں اضافہ کر چکی ہے اسی لئے چین اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے اس لئے چین کی مخالفت کے مقاصد بھی وہ نہیں ہیں جن کی پاکستانی ریاست کو ضرورت ہے اور نہ ہی چین اتنی بڑی سفارتی و مالیاتی طاقت و اختیار کا حامل ہے کہ وہ ہندوستان کو اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکے۔ اس تمام تر کیفیت کے باوجود پاکستان کے پاس سفارتی سطح پر مدد کی اپیل کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
اس حوالے سے اگر کشمیر کی 4 اگست 2019ءکی پوزیشن کو بحال کرنا ممکن نہیں رہا تو نئی صورتحال کی حقیقت کے تقاضے ماضی کی کیفیت سے یکسر مختلف ہو چکے ہیں۔ تبدیل شدہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا حصہ بن جانے والے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے معاملات پر بیان بازی جیسے عمل کو بھی پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا جائے گا۔ کنٹرول لائن بین الاقوامی سرحد میں تبدیل ہو جائے گی اور جلد یا بدیر اس حقیقت کو چار و ناچار تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ یہ ایک با لکل نئی صورتحال ہے جس کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا اور اپنے روائتی موقف کو ترک کرنے اور اس کو نئی صورتحال سے ہم آہنگ کرنے کا عمل نہ تو آسان ہو گا اور نہ ہی پر امن بلکہ یہ عمل خود پاکستان کے اندر بہت ساری نئی تبدیلیوں اور واقعات کو جنم دینے کا باعث بنے گا۔ پاکستانی ریاست کے جاری داخلی بحران میں ایک نئے عنصر کا اضافہ ہو گیا ہے اور پاکستانی ریاست کے تشخص اور نظریاتی بنیادوں میں شدید دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ پاکستان میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اور واقعات بڑے پیمانے پر پورے خطے پر اثرات مرتب کریں گے جس کے باعث عدم استحکام کا یہ عمل اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ اس سارے عمل میں عالمی سرمایہ داری کا زوال، دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات اور اس خطے میں جاری مختلف سامراجی طاقتوں لڑائی کی شدت جیسے عوامل اس کو مزید دھماکہ خیز بنائیں گے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی قوم پرست سیاست کی رہی سہی بنیادیں بھی مسمار ہو چکی ہیں اور نئی صورتحال کو سمجھنے کی اہلیت سے بھی عاری اس سیاست پر ہی اب پاکستانی ریاست کو اپنی مستقبل کی کشمیر پالیسی استوار کرنے کی کوشش کرنا پڑے گی اور اس عمل کا حصہ بننے والی سیاست کے تابوت میں یہ آخری کیل ثابت ہو گا۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں موجود قوم پرستی کی سیاست کرنے والے زیادہ تر دھڑے کبھی بھی پاکستان کے کشمیر پر موقف سے مکمل آزاد کوئی واضح اپنا موقف اپنانے میں کامیاب ہی نہیں ہو سکے۔ موجودہ کیفیت میں ہندوستان کے اس اقدام کی روائتی قوم پرستانہ موقف کی بنیاد پر مخالفت درحقیقت پاکستان کے حکمران طبقے کی شدید ضرورت ہے جس کو بنیاد بناتے ہوئے عالمی سطح پریہ واویلا کر سکیں کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی اکثریت اس کی مخالفت کرتی ہے اس لئے عالمی طاقتیں ہندوستان کو اس فیصلے پر عملدرآمد سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے اور کشمیر کے کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ جن کو فیسوں میں اضافے جیسے بے شمار اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لئے احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے ان کو آج انتظامیہ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاج میں لازمی شرکت کریں اور ان احتجاجوں میں کچھ قوم پرست دھڑوں نے بھی شرکت کی۔ یہ سلسلہ کچھ روز تک چل سکتا ہے لیکن ان کھوکھلی بنیادوں پر کوئی موثر احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب زیادہ تر قوم پرست یا بائیں بازو کے دھڑے اس اقدام کے خلاف جو موقف اپنا رہے ہیں اس میں اور پاکستانی حکمران طبقے کے موقف میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔
ہم ہندوستانی حکمران طبقات کے اس اقدام کی بھر پور مذمت کرتے ہیں لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ محض آئین کی ان دو شقوں کی بحالی کا مطالبہ کوئی درست مطالبہ ہے۔ کیا اس مطالبے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آئین کی ان شقوں کی موجودگی میں کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ جائز تھا جو ان شقوں کے خاتمے کے بعد ناجائز ہو گیا ہے اس لئے اس کو دوبارہ کسی طرح جائز بنایا جائے؟ یہ مطالبہ کرنے والے سبھی لوگ ایسے لبرلز ہیں جو سامراجی جبر کی مذمت اور مخالفت نہیں کرتے بلکہ جبر کی ہر شکل کو نام نہاد آئینی اور جمہوری لبادوں میں مخفی رکھے جانے کے حمائتی ہیں اور کہیں بھی جب یہ جبر اپنی اصل صورت میں ننگا ہو کر سامنے آتا ہے تو یہ واویلا مچا دیتے ہیں کہ اس کو قانون کے چیتھڑوں میں لپیٹا جائے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں سب سے چھوٹا اور کم ترین مطالبہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان فوری طور پر کشمیر سے اپنی فوجوں کو باہر نکالیں۔ لیکن ان حکمران طبقات اور ان کے نظام کی زوال پذیری اور غلاظت کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو ان درندوں سے کسی بھی قسم کا مطالبہ کرنا کوئی درست اقدام نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے اس خطے کے عوام ، محنت کشوں اور نوجوانوں کے سامنے اس حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے جب تک اس حکمران طبقے کو اس کے نظام سمیت اکھاڑ کر نہیں پھینکا جاتا اس وقت تک ظلم اور محکومی و محرومی کو نہیں ختم کیا جا سکتا۔ کشمیر پر جبر کی ایک نئی وحشت مسلط کی گئی جس کا خاتمہ کسی مطالبے کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے خلاف پہلے سے جاری کشمیری عوام کی جدوجہد کوصرف ایک درست انقلابی پروگرام اور حکمت عملی کے ذریعے ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ کچھ قوم پرست دھڑے پاکستان کے معاہدہ کراچی کے ذریعے گلگت بلتستان کو اپنے براہ راست کنٹرول میں لینے کے عمل اور 70ءکی دہائی میں گلگت بلتستان سے باشندہ ریاست کے قانون کی منسوخی جیسے اقدامات کو رو رہے ہیں کہ ان اقدامات نے ہی ہندوستان کو موجودہ تبدیلیوں کا جواز فراہم کیا ہے یعنی اگر پاکستان نے ایسا نہ کیا ہوتا تو ہندوستان موجودہ قدم نہیں اٹھا سکتا تھا ۔ درحقیقت یہ موقف اسی پاکستان نواز قوم پرستی پر مبنی شعور کی پیداوار ہے جس کے مطابق نام نہاد آزاد کشمیر کو حقیقی معنوں میں آزاد تصور کیا جاتا ہے یا کم از کم ایسا ضرور سمجھا جاتا ہے کہ اس خطے کے لوگوں کو پاکستانی غلامی سے نجات کی کسی فوری جدوجہد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کا اولین فریضہ ہے کہ وہ پہلے بھارتی مقبوضہ حصے کو آزاد کرائیں اسی لئے یہ قوم پرست پاکستان سے شکایت کر کے اپنے نیم مردہ سیاسی ضمیر کا بوجھ ہلکا کر رہے ہیں۔ ان قوم پرستوں سے یہ پوچھا جائے کہ جب پاکستان نے یہ اقدامات کئے تھے تب آپ نے ان کی مخالفت میں کون سی تحریک چلائی تھی یا اگر یہ مان لیا جائے کہ آپ اس وقت ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تو پھر بھی یہ سوال تو بنتا ہے کہ جب آپ سیاسی طور پر سر گرم ہوئے تھے تب سے اب تک ان اقدامات کے خاتمے کے لئے کون سی جدوجہد کی گئی ہے تو اس کا ان کے پاس کوئی جواب موجود نہیں ہے۔ موجودہ تبدیلی آنے والے عرصے میں اس قوم پرستی کے وجود کے جواز جیسے سوالات بھی پیدا کرے گی۔ کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان سے بالکل الگ ہے اور ہماری لڑائی کا ان ممالک کے محنت کشوں سے کوئی تعلق نہیں جیسے تنگ نظر قوم پرستانہ موقف کے حامل آج خالی خلاؤں کو بھی اس امید گھور رہے ہیں کہ کہیں سے کوئی حمایت مل جائے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی بھی سیاسی اور نظریاتی بنیادیں اس دیوہیکل تبدیلی کے دباؤ کے ذریعے درست سمتوں کی جانب آگے بڑھنے کے قوی امکانات پیدا ہوں گے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی پر پاکستان کے حمایت یافتہ ہونے کے بچے کھچے الزامات کے داغ دھل جائیں گے اور یہ ایک سامراجی جبرسے نجات کی حقیقی جدوجہد کے طور پر ہندوستان کے محنت کشوں اور عوام کے سامنے نمودار ہو گی اور اس کی طبقاتی بنیادویں زیادہ واضح ہوتی جائیں گی اور اس کے ساتھ اس کی طبقاتی جڑت اور حمایت میں بھی اضافہ ہو گا۔پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد پاکستان کے محنت کش طبقے کی نجات سے منسلک ہونے کی حقیقت بھی دیانتدار سیاسی کارکنان کے سامنے مزید واضح ہوتی جائے گی اور یہی عمل ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی ہو گا۔خطے میں طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن کا نتیجہ بظاہر کشمیر پر ریاستی جبر میں اضافے جیسے حالیہ اقدام کی صورت میں اپنا اظہار کر رہا ہے لیکن مستقبل میں اس کے اثرات میں بے شمار انقلا بی پیش رفتوں کے امکانات پوشیدہ ہیں۔ان انقلابی پیش رفتوں کے امکانات کو جنم دینے والا اقدام ہونے کے باوجود بھارتی حکومت کا یہ اقدام انتہائی وحشیانہ سامراجی جبر کا حامل ہے جس کی ہر صورت میں مخالفت اور مذمت کی جانی چاہیے ۔ لیکن ایک درندگی پر مبنی اقدام کی مذمت کرنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے اثرات کے مختلف پہلووں کا جائزہ نہ لیا جائے۔ آغاز سے انجام تک جبر و وحشت میں لتھڑا ہوا ہونے کے باوجود یہ اس خطے کی تاریخ میں شعور کو جھنجوڑنے والا ایک واقعہ ہے جو اب تک پائیدار اور مسلمہ سمجھی جانے والی بے شمار سیاسی، سماجی اور نظریاتی حقیقتوں کے وجود کو مشکوک کرنا شروع کر چکا ہے۔ دوسری جانب اس فیصلے سے ہندوستانی حکمران طبقات کشمیر کی جس جدوجہد کو مکمل طور پر مٹا دینا چاہتے ہیںان کی تمناؤں کے برعکس یہ تحریک کشمیر کی وادیوں اور پہاڑوں سے نکل کر پورے ہندوستان کی ایک تحریک بننے کی جانب جائے گی ۔ پاکستان کی حمایت یافتہ نہ رہنے کے بعد بھی جب یہ تحریک پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہندوستانی سامراجی قبضے کے خلاف ابھرے گی تو اس کی للکار کو بحر ہند کے ساحلوں تک پہنچنے سے روکا نہیں جا سکے گا۔ اس اقدام کے خلاف ہندوستان کے اندر بھی نئے سوالات اور سیاسی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے جو بتدریج نظریاتی اور سیاسی سرگرمی کے نئے معیارات کو لازمی طور پر حاصل کرے گا۔ سب سے بنیادی سوال جو پورے برصغیر کے دیانتدار انقلابی کارکنان کے سامنے سر اٹھا چکا ہے وہ یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام کے اندر رہتے ہوئے کہیں بھی کسی بہتری کا امکان تو درکنار موجودہ صورتحال کو اسی حالت میں بر قرار رکھنا بھی ممکن نہیں رہا۔ ہندوستان کی موجودہ دائیں بازو کی انتہا پسندی کوئی آسمان سے نازل نہیں ہوئی بلکہ اسی سیکولر اور جمہوری بھارت کی سرمایہ داری کے زوال کی پیداوار ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد کئے بغیر ہم محض ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری ماضی کے کسی نسبتاً بہتر عہد جیسی صورتحال کو واپس لا سکتے ہیں تو اس سے بڑی سیاسی جہالت اور حماقت کوئی نہیں ہو سکتی۔ ہندوستان کے سبھی بائیں بازو کے دھڑے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اسی حماقت پر مبنی جدوجہد میں اپنی توانائیاں برباد کر رہے ہیں۔ جمہوریت اور سیکولرزم کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ مودی کی انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے ہندوستان میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کی جائے۔ اسی طرح کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی لڑائی کو ایک انقلابی پروگرام کی بنیاد پر استوار کرتے ہوئے سرمایہ داری نظام کے خاتمے کی جدوجہد میں تبدیل کیا جائے۔ کشمیر کے اکثریتی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی اہمیت ان کی لئے ایک علامتی نوعیت کی تھی عملاً کشمیر کے عوام بھارتی ریاست کے جس وحشیانہ جبر و تشدد کے سائے تلے زندگی گزار رہے تھے آئین کی یہ دفعات اس جبر کی شدت میں معمولی سی کمی کرنے میں بھی کوئی کردار نہیں ادا کر سکتیں۔
ہر سر مایہ دارانہ ریاست کا آئین بنیادی طور پر حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں کے مابین اس ریاست میں حکمرانی کرنے کے چند متفقہ قواعد و ضوابط کی شقوں کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس پر معمول کے حالات میں عملدرآمد کیا جاتا ہے اور جب بھی حکمرانوں کے نظام اور مفادات کو ان چند شقوں کے ذریعے تحفظ دینا ممکن نہیں رہتا تو ان کو یا تو تبدیل کر دیا جاتا ہے یا ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ریاستی طاقت کے ننگے جبر کو عوام پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے نہ تو ہندوستان کا اور نہ ہی دنیا کے کسی اور ملک کا آئین کوئی ایسی مقدس چیز ہے جس کی تمام وقتوں میں پوجا کرنا لازمی ہوتا ہے اگرچہ یہ درست ہے کہ ہر ریاست کے عوام نے اپنی جدوجہدوں کے ذریعے اسی آئین کے تحت اپنے لئے کچھ بنیادی جمہوری حقوق حاصل کئے ہوتے ہیں جن کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس خطے میں سرمایہ داری نظام جس حد تک گل سڑ چکا ہے اس کے اندر رہتے ہوئے محنت کش طبقے اور محکوم اقوام کو حاصل نیم جمہوری حقوق کا تحفظ بھی اب بتدریج نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے وہ تمام سیاسی کارکنان جو کشمیر پر ہونے والے اس ظلم کے خلاف حقیقی جدوجہد کرنے کی خواہش اور جذبہ رکھتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہندوستان سے اس وحشیانہ سرمایہ دارانہ نظام کو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد کو اپنا اولین فریضہ بنائیں۔ اسی طرح پاکستان کے محنت کش عوام اور نوجوانوں کو جو حصے کشمیر کی غلامی کے خلاف ہیں وہ پاکستان کے حکمران طبقات اور سرمایہ داری نظام کے طبقاتی بنیادوں پر سوشلسٹ انقلاب کی لڑائی کو تیز تر کرنے کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔ ہر جگہ اس لڑائی کے لئے بنیادی پروگرام کو پاک وہند سمیت کشمیر کے مختلف حصوں کے غلیظ حکمران طبقات اور سرمایہ داری نظام کے تمام گلے سڑے ڈھانچوں کے خلاف قومی کی بجائے محنت کشوں کی بین الاقوامیت پر مبنی طبقاتی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کی غلامی اور تقسیم اپنی بنیاد میں برصغیر کی مفلوج سرمایہ داری کی پیدا کردہ ہے اور جب تک پاک و ہند میں یہ غلیظ سرمائے کی لوٹ مار کا نظام باقی ہے کشمیر کے عوام سمیت برصغیر کے ڈیڑھ ارب غریب عوام کی محکومی اور مسائل کا کوئی حقیقی حل ممکن نہیں ہے۔ ہندوستانی حکومت کے موجودہ اقدامات اس بات کی جانب واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ اس نظام کے زوال میں اضافے کے ساتھ اس کی وحشتوں میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان وحشتوں اور ہر قسم کی قومی محرومی اورسامراجی جبر سے نجات کے وسیع تر امکانات بھی جنم لیں گے جن کو حقیقت کا روپ دینا آج کی نوجوان نسل کا تاریخی فریضہ ہے۔

