قومی اسمبلی کی منظور کردہ حالیہ قرارداد

شعبہ پاکستان

تحریر :جمیل احمد بٹ(کراچی)

بظاہراچانک اگلے دن ایک وفاقی وزیر صاحب نے قومی اسمبلی میں دنیا اور آخرت میں سب کی بخشش کا ذریعہ بتا کر ایک قرارداد پیش کی جس میں لکھا گیا:

’حکومتِ وقت سے مطالبہ ہے کہ تمام درسی کتب اور سرکاری اسکولوں میں جہاں بھی آقا کریم ﷺ کا نام خاص اسم گرامی لکھا، پڑھا یا پکارا جائے وہ اس طرح ہو حضور اکرم خاتم النبیین محمد رسول اللہﷺ‘ اپنی نوعیت کے سبب یہ قرار داد بلا کسی بحث کے منظور کی گئی اور کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اس کا دائرہ صرف درسی کتب اور سرکاری اسکولوں تک کیوں محدود رکھا جا رہا ہے اوروہ پرائیویٹ اسکول جہاں معزز اراکین اسمبلی کے بچگان تعلیم پاتے ہیں کیوں اس سے محروم رکھے جا رہے ہیں؟

نہ یہ کہ جب یہ مطالبہ بلا استثنا ہے تو درسی کتب میں جب کلمہ طیبہ، کلمہ شہادت اور قرآن کریم کی ان آیات میں سے کوئی جن میں آنحضور ﷺ کا نام نامی آیا ہے لکھی، پڑھی اور پکاری جائیں گی تو کیا ان پر بھی اس قرار داد کا اطلاق ہوگا؟

قرار داد میں اسے پیش کئے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئ ۔ قیاساً کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔یہ کہ عوام کی توجہ کا رخ موڑا جا سکے۔ یہ کہ مذہب پسند عوام کی حکمران جماعت کی تائید میں اضافہ کیا جا سکے۔ یہ کہ مخالف پارٹی جب اپنے گزشتہ کسی خاص تاریخی کام کا پروپاگنڈا کرے تو جواباً حکمران جماعت بھی اپنے اس تاریخی کام کو پیش کر سکےجیسا کہ وزیر صاحب نے اپنی تقریر میں اس قرارداد کو کہا بھی ہے۔شائد در پردہ یہ بھی خیال ہو کہ لوگ اسے ایک اور احمدی مخالف کاروائی سمجھ کرحکومت کو اس کا صلہ دیں گے۔ تاہم اس آخری بات کی حد تک تونتیجہ بر عکس ہے۔احمدی موقف کی یک گونہ پزیرائی: احمدی ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ قرآن کریم میں آں حضرت ﷺکو اتم النبیین فرمایا گیا ہے اور آپ کے اس منصب پر ایمان شرط ِ ایمان ہے۔ جبکہ عام طور پر اس قرآنی اظہار کو چھوڑ کر بزبانِ اردو ایک خطاب’آخری نبی‘ اور ایک غیر قرآنی اصطلاح ’ختم ِ نبوت‘ پر زور دیا جاتا ہے ۔ اس ہی کے تحفظ کا دم بھرا جاتا ہے بلکہ وسیلۂ روزگار بنایا جاتاہے۔ 1974میں جب سیاسی مقاصد کی خاطر، حدود سے تجاوز کر کے احمدیوں کے خلاف قا نون سازی کی گئی تو ا س دوسری ترمیم میں بھی قرآنی اصطلاح خاتم النبیین استعمال نہیں کی گئی بلکہ یہ لکھا گیا:

A person who does not believe in the absolute and unqualified finality of The Prophethood of MUHAMMAD ،(ﷺ) the last of the Prophets or ——–ot a Muslim for the purposes of the Constitution or law.

یعنی جو شخص آخری نبی حضرت محمدﷺ کی نبوت کے آخری ہونے پر قطعی اور غیر مشروط ایمان نہیں رکھتا وہ آئین اور قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔اس تناظر میں اس قرار داد کی خلقی کمزوریوں سے قطع نظر اب حکومتی سطح پر اصل یعنی آنحضرت ﷺکے مقامِ خاتم النبیین کے طرف لوٹنے اور اس کے پرچار کی کوشش صحیح سمت میں ایک قدم لگتا ہے۔ اور خیال کیا جا سکتا ہے کہ اگر حقیقی طور پر اس پر زور دیا جائے اور دیگر غیر قرآنی اصطلاحات کا استعمال ترک کر دیا جائے تو یہ عمل انجام کار ملک اور قوم کی بہتری کا موجب ہو سکتا ہے۔ شائد اس ترمیم کا یہی افادی پہلو بعض حضرات کو نا پسند ہوا ہے۔ ایک مولوی صاحب نے تو برملا اس قرار داد کوموجودہ شکل میں احمدیوں کے لئے مفید بتا کراس میں مزید ترامیم تجویز کی ہیں۔ کسی رحمان ٹی وی پر اپنی ویڈیو میں انہوں نے کہا ہے:

’خاتم النبیین نہیں آخرالنبیین لکھوائیں۔ آپ تو مارے گئے ۔ آپ کو چکر دے گئے وہ ۔ خاتم النبیین تو پہلے ہی قرآن میں اترا ہوا ہے۔ اس کا تو قادیانی انکار کر ہی نہیں سکتے۔ وہ تو مانتے ہیں اس کو۔ آپ کے خاتم النبیین کے اضافے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا‘۔ 1974میں اسمبلی میں آئین میں دوسری ترمیم کر کے سب اس فخر میں شامل تھے کہ نوے سالہ مسئلہ حل ہو گیا۔ لیکن آج پینتالیس سال بعد قومی اسمبلی میں پھر اس قرار داد کا منظور کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ تھا تو اب بھی حل طلب ہے۔ اور اس غرض سے کئے جانے والے سارے اقدام، دوسری ترمیم، 1984 کا احمدی مخالف آرڈینینس،احمدیوں پر مقدمات اور قید و بند، ان کے خلاف عدالتی فیصلے، ان کےخلاف در پردہ حکومتی ہدایات، ان کی انتخابی عمل سے جبری علیحد گی ،ان کی جان ومال پر بار بار حملے، ان کی اجتماعی خوں ریزی، ان کے پریس پر پابندی، ان کے خلاف یک طرفہ جھوٹا پروپاگنڈا، سب اس مسئلہ کے حل کے لئے بے کار اور عبس تھے۔ حل تو ایک ہی تھا اور ہے کہ اللہ کے فرستادہ کو پہچانا اور مانا جائےاور اس راہ کو اختیار کیا جائے جو اللہ نے دین اور اہلِ دین کی سربلندی کے لئے مہیا فرمائی ہے اور جس کی نشاندہی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمائی تھی۔ وگرنہ یہی اندھیرے اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مقدر بنے رہیں گے۔ان پہلے لوگوں کی مانند جن کی مثال میں اللہ نے فرمایا ہے کہ

اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(بقرہ18:2)

ترجمہ: اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *