اردوقومی

لیاری گینگ وار کی کہانی کیا ہے؟

شعبہ پاکستان  (پہلی قسط)

’قتل کرنے کے پیسے ملتے ہیں ہر قتل پر بالکل ویسے ہی جیسے آپ کو قتل لکھنے کے پیسے ملتے ہیں۔*ہم کسی اور کی وجہ سے پیسے کماتے ہیں اور آپ ہم جیسوں کی وجہ سے، بس اتنا سا فرق ہے‘۔وہ سپاٹ لہجے میں بغیر کسی جھجک اور خوف کے ایک صحافی سے بات کر رہا تھا۔اس کی گود میں رکھی ہوئی مہنگی اور جدید ترین بندوق چمک رہی تھی مگرآنکھیں بےنور تھیں۔چمکتی بندوق اور بےنور آنکھوں جیسا یہ تضاد آپ کو اس کہانی کی ہر ہر سطر میں ملے گا۔اُس کے چاروں جانب کھڑے اس کے مسلح ساتھی خاموش تھے اور وہ بولے جا رہا تھا۔ ’پانی پیئیں گے؟‘ اس کے اچانک سوال سے صحافی کو اندازہ ہوا کہ شاید اسے اس کے چہرے کے تاثرات سے کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔’نہیں‘ اسے جواب دیتے ہوئے صحافی کا لہجہ بھی جذبات سے عاری تھا۔’اب تو روزانہ ہی، ایک نہیں بلکہ قتل کی کئی کئی وارداتیں لکھ لکھ کر اور تم جیسے لوگوں سے روز ملتے رہنے سے میں بھی شاید اس قتل و غارت اور مارا ماری کا عادی ہو گیا ہوں‘۔(صحافی نے کہا) اس نے اپنے تاثرات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے مطمئن کرنا چاہا۔صحافی اپنی کہانی میں بتاتا ہے کہ: مجھے نہیں پتا کہ اس نے میری بات کا یقین کیا بھی تھا یا نہیں مگر مجھے اس کی کہی ہوئی ہر بات پر یقین تھا۔وہ جو کہہ رہا تھا سب سچ تھا۔

لیاری

وہ اور اس جیسے نوجوان پیشہ ور قاتل ان دنوں لیاری کی ہر گلی میں بہت آسانی سے ڈھونڈ لینا ہم کرائم رپورٹرز کے لیے بہت آسانی سے ممکن تھا مگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ہر ادارے کے لیے نہ جانے کیوں انھیں ڈھونڈ لینا بہت مشکل بلکہ ’ناممکن‘ تھا۔عجیب بات یہ تھی کہ اس سے رابطے کے لیے مدد بھی ایک پولیس اہلکار نے کی تھی۔ہو سکتا ہے کہ یہ کہانی اور اس کی ہر بات آپ کو بھی بالکل کسی ’ایکشن تھرلر‘ فلم کی طرح عجیب لگے جیسے کہ لیاری کا محل وقوع۔کروڑں ڈالرز کی تجارت کرنے والی کراچی کی بندرگاہ۔اس بندرگاہ کی ایک جانب محض ایک سڑک (مولوی تمیز الدین خان روڈ) عبور کر لی جائے تو شہر کی امیر ترین آبادی کے مہنگے تفریحی مقامات۔بوٹ بیسن، بیچ لگژری ہوٹل، نیا امریکی سفارتخانہ یہاں تک کے سابق وزیراعظم بے نظیر بھّٹو، ان کے شریک حیات اور سابق صدر آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھّٹو کی رہائش گاہ ’بلاول ہاؤس‘ کی عمارات دکھائی دینے لگتی ہیں۔اوراسی بندرگاہ کے ’جناح برج‘ کی دوسری طرف، غربت کے نطفے سے بیروزگاری کی کوکھ میں جنم لینے والے ’جرائم‘ کا گڑھ لیاری ہے۔وہ لیاری جہاں کراچی کی سب سے قدیم مگر انتہائی غریب درجنوں آبادیوں کا طویل سلسلہ ہے اور جسے جرائم کی سلطنت بھی کہا جاتا رہا ہے۔یہ علاقہ فٹبال، باکسنگ اور مارشل آرٹس جیسے کھیلوں کے لیے مشہور ہے۔

تو! وہیں منشیات، اسلحہ، غیر قانونی تجارت یا سمگلنگ کا شہر میں سب سے بڑا اور بدنام مرکز بھی ہے۔کراچی کی سیاست میں بھی متحرک اور فعال نظر آنے والا یہ علاقہ جہاں گذشتہ انتخابات میں تحریک لبیک کو شہر میں سب سے زیادہ ووٹ دینے والا علاقہ تھا۔تو! ماضی میں ملک کی سب سے روشن خیال سمجھی جانے والی وزیراعظم بے نظیر بھّٹو کا حلقۂ انتخاب بھی رہ چکا ہے۔اسی لیاری کے علاقوں کلاکوٹ اور چاکیواڑہ کے درمیان سے گزرتی نیو کمہارواڑہ روڈ سے جڑی ایسی ہی کسی تنگ سی گلی میں (جسے بھارتی شاعر گلزار پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں قرار دیتے ہیں) وہ نوجوان پیشہ ور قاتل درمیانی رابطے (یعنی پولیس افسر) کے ذریعے مجھ سے ملاقات اور گفتگو پر راضی ہوا تھا۔ان دنوں جس صحافی کو بھی سنسنی خیز کہانیوں کی تلاش ہوتی تھی اسے لیاری ضرور جانا پڑتا تھا۔ملاقات میں اس نے اپنا نام اعظم بتایا تھا۔مجھے بھی آپ کی طرح یقین ہے کہ یہ ایک فرضی نام تھا۔مگر!جو تفصیلات اس شخص نے بتائیں وہ قطعاً فرضی نہیں تھیں۔وہ ان دنوں کے لیاری کی گلی گلی کی کہانی تھی۔یہ رحمان بلوچ کا لیاری تھا۔چاہے آپ سردار عبدالرحمان بلوچ کہیں۔ یا رحمان ڈکیت۔

پولیس افسران، قانونی و سرکاری دستاویزات، اہل علاقہ اور شہر کے سیاسی رہنماؤں کی بات مانیں تو اس رحمان بلوچ کا لیاری جس نے خود اپنی ماں کو قتل کیا! اور اس کے باپ کو مار ڈالا مخالف بابو ڈکیت گروہ کے ان لوگوں نے جو منشیات، بھتّے، اغوا برائے تاوان اور اس جیسے ہر جرم کے دھندے میں کوئی مخالفت برداشت نہیں کرتے۔وہ رحمان بلوچ جس نے پاکستان کی مقتول وزیراعظم بے نظیر بھّٹو پر کراچی میں 18 اکتوبر 2007 کو ہونے والے حملے کے بعد اُنھیں اُن کی ذاتی رہائش گاہ بلاول ہاؤس تک بحفاظت پہنچانے کی ’ذمہ داری‘ نبھائی۔آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا ایک ایسا شخص جسے کچھ لوگ مسیحا اور سماجی رہنما کہتے اور سمجھتے ہوں۔اورکچھ حلقے غریب علاقے کا جرائم پیشہ منشیات فروش مانتے ہوں اس قدر طاقتور تھاکہ سابق وزیراعظم کو اپنی حفاظت کے لئے اس کی مدد درکار تھی؟پاکستان، خصوصاً کراچی کے مخصوص حالات میں اس کا جواب ہے، جی ہاں۔مگر! ہماری کہانی لیاری کی کہانی ہے۔رحمان بلوچ کے ’گینگ‘ کی کہانی بلکہ لیاری گینگ وار کی کہانی۔ایک نہیں بلکہ کئی نسلوں کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے بےرحم کشمکش کی کہانی۔علاقہ گیری کی اُس ہوس کا قصّہ جس میں جگری دوستوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خاندان قتل ہوئے، بھائی جیسے ساتھیوں نے ایک دوسرے کے سر کاٹ ڈالے، ساتھ کھانا کھاتے دوستوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور بچپن کے پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی لاشیں تک انتقام کی آگ میں جلا ڈالیں۔نسلوں سے نسلوں کو منتقل ہونے والے جرم کے اس دھندے کے تاریخی پس منظر کو کھنگالاجائے تو کئی کتابیں لکھنی پڑیں گی۔مگر! لیاری گینگ وار کی اِس کہانی کو آپ تک پہنچانے کےلئے اُس تاریخ سے گریز کرنا پڑے گا۔اوربات کہانی کے ڈرامائی موڑ سے شروع کی جا سکتی ہے۔تو یہ ڈرامائی موڑ آیا کب؟

یہ بتایا پیشہ ورانہ زندگی کا بیشتر حصّہ لیاری میں گزارنے والے پولیس افسر اور 2008 میں لیاری میں سپرٹنڈنٹ پولیس تعینات رہنے والے فیاض خان نے۔’یہ موڑ تب آیا جب لیاری کے علاقے کلاکوٹ کی افشانی گلی کے دو بھائیوں شیر محمد (شیرو) اور داد محمد (دادل، رحمان بلوچ کے والد) نے منشیات کے کاروبار کو پھیلانے اور طاقت حاصل کرنے کے لیے اپنا گروہ منظّم کرنا شروع کیا۔’دوسری جانب منشیات ہی کے کاروبار سے منسلک اقبال عرف بابو ڈکیت کا گروہ بھی اسی لیاری کے علاقے کلری اور آس پاس کے محلّوں میں فعال تھا۔پھر لیاری جیسی بڑی آبادی کا کون سا علاقہ کس کے پاس ہو گا اور کس محلّے میں چرس اور افیون جیسی منشیات کا کاروبار کس کے قبضے میں ہو گا، یہ رسّہ کشی دشمنی کا رنگ اختیار کرتی چلی گئ۔فیاض خان کے مطابق اسی زمانے میں حاجی لالو اپنے چھ سات بیٹوں کے ساتھ جن میں ارشد پپّو اور یاسر عرفات بھی شامل تھے ایک مضبوط گروہ چلا رہا تھا۔’حاجی لالو جہان آباد میں شیر شاہ قبرستان کے علاقے میں اپنا پتھاریداری، منشیات اور بھتّے کا وہ کاروبار چلاتا تھا جو آگے چل کر اغوا برائے تاوان کے منافع بخش دھندے سے جُڑ گیا‘۔اندھے منافع کی اس جنگ میں شامل تمام فریقوں کے دشمن تو بےحساب شمار تھے مگر دوست صرف ایک تھا اور وہ تھا پیسہ۔فیاض خان کا کہنا تھا کہ ’اسی پیسے اور طاقت کے حصول کی رسّہ کشی جلد ہی مسلح تصادم میں ڈھلی اور رحمان بلوچ کا باپ دادل، بابو ڈکیت کے ہاتھوں مارا گیا اور دادل کی موت کے بعد رحمان بلوچ کو حاجی لالو نے اپنی سرپرستی میں لے لیا‘۔یہیں سے طاقتور، دلیر اور خطروں کا کھلاڑی رحمان بلوچ بےرحمی اور قتل و غارت کے راستے کا ایسا مسافر بنا جس نے پہلے تو اپنی ماں کو ناجائز تعلقات کے شبہے میں خود گولی مار کر قتل کیا اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔قتل و غارت اور غنڈہ گردی کا بازار گرم کر دینے والے رحمان نے ایک روز بابو ڈکیت کو بھی مار کر اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب رحمان بلوچ کا شمار لیاری میں جرم و سزا اور قتل و غارت گری کے ناخداؤں میں ہونے لگا تھا۔حاجی لالو کے گروہ میں رحمان بلوچ اور حاجی لالو کے بیٹے ارشد پپّو اور یاسر عرفات نے مل کر جرم کی سلطنت کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔رحمان اور حاجی لالو کا تعلق اس قدر گہرا تھا کہ حاجی لالو کے بیٹے یاسر عرفات اور رحمان دونوں کی شادی گولیمار کے سیٹھ یوسف کی بیٹیوں سے ہوئی۔مگر! جلد ہی کاروباری حسد اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کھینچا تانی میں ایک روز رحمان کی کھٹ پٹ حاجی لالو اور اس کے بیٹوں سے ہی ہو گئی۔رحمان کو اندازہ ہوگیا کہ حاجی لالو کے زیر اثر رہتے ہوئے جرم کی اس دنیا میں وہ اپنا الگ مقام نہیں بنا سکتا۔اپنے ہی گروہ میں محاذ آرائی کے اس ماحول میں رحمان ایک روز کھلے عام لالو کی مخالفت پر اتر آیا اور اسی گرما گرمی نے لالو اور رحمان کی راہیں الگ کر دیں۔فیاض خان کے مطابق محاذ آرائی کے اس رویّے نے دشمنی کی شکل اختیار کی تو لالو کے بیٹے ارشد پپّو نے کلاکوٹ میں رحمان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔قسمت کا دھنی رحمان بچ تو نکلا۔مگر!ارشد پپّو کے غیض کا رخ اس کے رشتہ داروں کی جانب ہوا اور ارشد پپّو کے ہاتھوں رحمان کے رشتہ دار مارے جانے لگے۔ادھر رحمان نے بچی کھچی طاقت مجتمع کرکے جواباً ارشد پپّو کے رشتہ داروں پر حملوں کا آغاز کیا جن میں بلوچ اتحاد کے رہنما اور لیاری کی معروف شخصیت انور بھائی جان جیسے ممتاز لوگ بھی مارے گئے۔اسی ’جنگ‘ میں ارشد پپّو نے ایک دن بہت ہی فلمی انداز میں حب چوکی کے پاس رحمان کے چاچا کو قتل کیا۔فیاض خان کے مطابق ’پپّو نے قتل سے پہلے فون پر رحمان کو بتایا کہ سُن، میں اس کو مار رہا ہوں، سُن اور پھر اس نے رحمان کے چاچا کو قتل کر دیا۔‘اسی دوران ارشد پپّو اور اس کے باپ حاجی لالو کے گروہ نے چن چن کر رحمان کے کاروباری مفادات کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔فیاض خان کا کہنا تھا ’رحمان کو لیاری چھوڑ کر بلوچستان جانا پڑا اور تب تک واپس نہیں آ سکا جب تک ارشد پپّو میرے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل نہیں چلا گیا۔پھر رحمٰن لیاری واپس آیا۔کراچی میں تعینات رہنے والے ایک اعلیٰ مگر (اب) سابق پولیس افسر نے نام خفیہ رکھنے کی درخواست پر کہانی آگے سناتے ہوئے کہا ’اب لیاری گینگ وار نے ایک ایسی انگڑائی لی جس نے اس علاقے کو عالمی توجہ خاص کر ذرائع ابلاغ کا چٹپٹا موضوع بنا دیا۔ارشد پپو کو لیاری کی گلیوں میں ایک مشتعل ہجوم نے مار مار کر ہلاک کیا تھاان کے مطابق فیض محمد (فیضو) نامی ایک ٹرانسپورٹر جو دراصل چاکیواڑہ کے علاقے سنگو لین کی جھٹ پٹ مارکیٹ کے قریب بلوچستان جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک بس اڈے کا ٹائم کیپر تھا، رحمان اور پولیس دونوں کا ہی ’بِیٹر‘ تھا یعنی بس مالکان سے بھتّہ وصول کر کے رقم رحمان اور پولیس کے مقامی لوگوں تک پہنچاتا تھا۔’وہ رحمان کا قریبی اور خاص آدمی تھا اور عرصے سے اس کے لیے بھّتہ وصول کرتا تھا۔ارشد پپّو نے فیضو سے کہا کہ اب بھتہ رحمان کو نہیں ہمیں دینا ہو گا۔انکار اور مخالفت پر اس کا بھی وہی انجام ہوا جو لیاری جیسے علاقے میں ارشد پپّو یا رحمان کے مخالفین کا ہوتا رہا تھا۔ارشد پپّو نے فیضو کو اغوا کر کے قتل کردیا اور یہ فیضو عزیر بلوچ کا باپ تھا۔اسی “عزیر بلوچ” کا جو شاید لیاری کی تاریخ کا اس وقت سب سے مشہور نام ہے۔لیاری میں جرم و سزا کی دنیا کا عالمی شہرت یافتہ کردار “عزیر بلوچ” جسے حال ہی میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق فوجی عدالت نے جاسوسی کے جرم میں 12 برس قید کی سزا بھی سنائی ہے۔پولیس افسر کا کہنا تھا ’عزیر اپنی زندگی کے آغاز پر جرم و سزا کی اس دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہا۔وہ لیاری جنرل ہاسپٹل میں وارڈ بوائے کی ملازمت کرتا تھا اور عزیر کا باپ تو اسے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں فٹبالر کی حیثیت سے ملازمت دلوانا چاہتا تھا۔‘سابق ایس پی لیاری فیاض خان کا بھی یہی کہنا ہے کہ عزیر بہت سمجھدار تھا۔’عزیر تو میرے پاس بھی آتا تھا اور باقی سب سے بھی دوستی رکھتا تھا۔کسی کو پولیس تنگ کررہی ہو یا کسی کو بدمعاش و جرائم پیشہ عناصر، عزیر سب کی مدد کرتا تھا اور سب کے کام آتا تھا۔وہ سب سے بنا کر رکھتا تھا۔

مشترکہ دشمن ارشد پپّو کے ہاتھوں عزیر کے باپ کے قتل کے بعد رحمان نے عزیر کو بالکل ویسے ہی اپنی سرپرستی میں لے لیا جیسے کبھی حاجی لالو نے خود رحمان کی سرپرستی کی تھی۔لیاری کے ایک دیرینہ مکین اور بزرگ سماجی شخصیت نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 18 اکتوبر 2007 کو جب کراچی کے علاقے کارساز کے قریب بےنظیر بھٹّو کے قافلے پر بم حملہ ہوا اور 140 سے زیادہ لوگ مارے گئے تو یہ رحمان بلوچ ہی تھا جو اس وقت بےنظیر بھٹّو کو بحفاظت کلفٹن میں واقع ان کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس پہنچا سکتا تھا اور پہنچایا بھی اسی نے۔‘مگر پھر وہ وقت بھی آیا کہ رحمان بلوچ اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں دراڑیں پڑ گئیں۔کراچی پولیس کے ایک سابق افسر کے مطابق لیاری پر رحمان کی گرفت اس قدر مضبوط ہوئی کہ اس نے بالآخر لیاری کی سیاسی وارث سمجھی جانے والی جماعت اور ملک کی حکمران رہنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی دھکیلنا شروع کردیا۔کون کونسلر بنے گا اور کون ضلعی ناظم یہ فیصلے بھی رحمان بلوچ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔لیکن لیاری کی اردو آرٹس یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے سابق سربراہ اور پھر کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغ عامہ میں برسوں تک سینکڑوں صحافیوں کو تعلیم دینے والے پروفیسر (ریٹائرڈ) توصیف احمد کا کہنا تھا کہ لیاری گینگ وار کے پس پردہ حقائق کچھ اور تھے۔*’جو مارا ماری آپ نے لیاری میں دیکھی اس کے آغاز کا سرا آپ کو یہاں نہیں ملے گا، سرا ڈھونڈنے کے لیے آپ کو بلوچستان جانا پڑے گا۔‘پروفیسر توصیف احمد کا موقف ہے کہ لیاری سے کوسوں دور بلوچستان کی قوم پرستانہ تحریک کو لیاری سے علیحدہ رکھنے کے لیے ملک کی ہمیشہ اور اصلی حاکم ریاست اور اس کے اداروں نے لیاری میں سیاست سے جرم کی بیخ کنی کر دینے کی بجائے ہمیشہ یہ موقع دیا کہ جرم سیاست پر غالب رہے۔’1973 میں بلوچستان میں جب فوجی کارروائی کا آغاز ہوا تو ڈر تھا کہ لیاری کہیں بلوچ مزاحمتی تحریک کا مرکز نہ بن جائے تو لیاری کو علیحدہ رکھنے کے لیے ریاست کے کرتا دھرتاؤں نے اسے جرم کی بھٹّی میں دھکیل دیا۔*’فوج نے لیاری کو گینگ وار کے حوالے کیا اور پیپلز پارٹی اس میں شریک ہو گئی۔(پیپلزپارٹی سیاسی وارث تھی لیاری کی)انھوں نے جدوجہد کا راستہ اختیار نہیں کیا آسان راستہ اختیار کیا۔انھوں نے مختلف ادوار میں ان گینگسٹرز کی سرپرستی کی۔نتیجے میں خود پیپلز پارٹی کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا یہاں تک کہ سیاست بھی جرائم پیشہ عناصر کی محتاج دکھائی دی۔ مگر! لیاری سے پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وزیر مملکت پورٹس اینڈ شپنگ اور مختلف ادوارمیں لیاری اور عزیز آباد سے رکن صوبائی اور قومی اسمبلی رہنے والے معروف سیاستدان نبیل گبول کا موقف بالکل مختلف تھا۔’ہماری ایجنسیز (خفیہ اداروں) کی جانب سے کوئی مدد مجھے کبھی نظر نہیں آئی۔(گینگ وار لارڈز کو) جو سپورٹ ملی، وہ سندھ حکومت اور ہوم ڈپارٹمنٹ (صوبائی محکمۂ داخلہ) کی جانب سے ملتی تھی۔لیاری کے لوگ پاکستان پرست ہیں وہاں قوم پرست بہت کم تعداد میں ہیں۔لیاری کے بزرگ مکین نے بھی پروفیسر توصیف کی بات کی توثیق کی۔’ایک وقت یہ آیا کہ پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیے، بلدیاتی الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کئے مگر پیپلز پارٹی ہار گئی تھی اور رحمان کے حمایت یافتہ وہ تمام امیدوار جیت گئے جن کی وابستگی تو کسی زمانے میں پیپلز پارٹی سے رہی تھی مگر وہ الیکشن رحمان کی مدد اور حمایت سے جیتے۔‘پیپلز امن کمیٹی کے نامور رہنما اور عزیر بلوچ گینگ کا سیاسی چہرہ سمجھے جانے والے حبیب جان بلوچ بھی پروفیسر توصیف کی اس رائے سے قطعاً متفق نہیں۔’ایسا نہیں تھا۔بلوچستان کے لوگوں نے کبھی لیاری کے لوگوں پر انحصار نہیں کیا بلکہ انھوں نے تو اپنے لوگوں پر بھی انحصار نہیں کیا۔لیاری کو تو سب نے نظرانداز کیا۔

لیاری پولیس

’بینک اور مالیاتی ادارے تو لیاری کا پتہ دیکھ کر لوگوں کے اکاؤنٹ کھولنے میں ہچکچاتے تھے۔بےنظیر بھٹّو کے دور میں جب فرسٹ ویمن بینک قائم ہوا تو حد یہ ہوئی کہ اس کی لیاری شاخ کا دفتر لیاری سے میلوں دور بہادرآباد میں قائم کیا گیا۔کبھی کسی بینک نے لیاری کے لوگوں کو کریڈٹ کارڈ تک جاری نہیں کیا تو پھر جب آپ مسلسل لیاری کے لوگوں کو نظر انداز کرتے رہے تو لیاری کے لوگوں نے اپنی بقا کا فیصلہ خود کیا۔‘حبیب جان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا *’مال بردار گاڑیوں کا اغوا اور دیگر طریقوں سے بھتّہ لینے کا دھندہ تو کچھّی رابطہ کمیٹی چلا رہی تھی، ایم کیو ایم کی سرپرستی میں اور نام آ رہا تھا لیاری گینگ وار کا۔*’لیاری گینگ وار کو گینگ وار کا نام بھی الطاف حسین نے دیا تھا اور یہی گینگ وار ان کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوئی۔‘متحدہ قومی موومنٹ (جو اس وقت تک الطاف حسین کی قیادت میں متحد تھی اور اب ایم کیو ایم لندن کہلاتی ہے) کے سیکریٹری اطلاعات مصطفیٰ عزیز آبادی حبیب جان بلوچ کے الزامات اور لیاری کے واقعات سے ایم کیو ایم کے کسی بھی طرح کے تعلق سے مکمل طورپر انکار کرتے ہیں۔’یہ تو پاکستان بننے سے پہلے سے ہی منشیات فروشوں کا نسل در نسل چلنے والا دشمنی کا سلسلہ تھا، ہمارا تو کبھی کوئی سلسلہ تھا ہی نہیں کبھی اس سب سے۔‘ لیاری سے جن سیاسی لوگوں کو بے دخل ہونا پڑا ان میں پیپلز پارٹی کے نبیل گبول بھی شامل تھے۔لیاری کے بزرگ مکین نے بتایا ’رحمان نے نبیل گبول کو علاقہ بدر کر رکھا تھا۔‘ادھر نبیل گبول کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے صورتحال بگڑتے دیکھی تو میں نے انھیں (گینگ وار لارڈز) کو تنبیہ کی کہ 14 روز میں خود کو حکام کے حوالے کریں اور وہ تیار ہو بھی گئے تھے۔میں ان کے نمائندوں کو لے کر صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے پاس گیا اور ذوالفقار مرزا بھی تیار ہو گئے مگر بعد میں دو دن کے اندر اندر پوری لیاری میں خود میرے ہی خلاف وال چاکنگ ہوگئی تو میں سمجھ گیا کہ ذوالفقار مرزا نے معاملات میں ردّو بدل کر دیا۔ذوالفقار مرزانے عزیر سے کہا کہ تم لوگ نبیل کی باتوں میں نہیں آنا بلکہ میرے لیے کام کرو۔‘نبیل گبول کا دعویٰ اپنی جگہ مگر اُدھر لیاری میں جرم اور سیاست دونوں ہی پر رحمان اور عزیر بلوچ کا دائرۂ اثر بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔

لیاری آپریشن

اس موضوع پر گفتگو کرنے والے کئی اہلیانِ لیاری نے کڑیاں جوڑتے ہوئے بتایا کہ ’یہ وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کو بھی اندازہ ہوا کہ رحمان کی موجودگی میں لیاری ان کے سیاسی قلعے کے طور پر برقرار نہیں رہ سکتا تو پیپلز پارٹی میں بھی رحمان کے ’بوجھ‘ سے جان چھڑانے کی سوچ نے گھر کرنا شروع کیا۔’پیپلز پارٹی اور رحمان میں یہی بڑھتے ہوئے فاصلے جواز بنے کہ ریاستی اداروں کو رحمان اور گینگ وار کے دیگر کرداروں کے خلاف کارروائی کا موقع ملے۔‘سابق ایس پی لیاری فیاض خان بتاتے ہیں ’ارشد پپّو کو تو میں نے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا اور وہ جیل پہنچ چکا تھا مگر پورے ’سسٹم‘ نے طاقت کی اس جنگ میں ایک بار پھر فیصلہ کیا کہ اپنی عملداری کا اظہار کیا جائے۔’پولیس اور نیم فوجی ادارے رینجرز کے حکام، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی مدد سے سرگرم ہوئے اور رحمان بلوچ پولیس مقابلے میں چوہدری اسلم کے ہاتھوں مارا گیا‘۔اس ’متنازع‘ مقابلے میں ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے طور پر مشہور چوہدری اسلم کے ہاتھوں رحمان کے مارے جانے کے بارے میں سرکاری طور پر پولیس کا موقف وہی تھا جو ایس پی فیاض نے بیان کیا مگر کہنے والوں نے اور بہت کچھ کہا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ ’رحمان تھا تو بلوچستان کے علاقے وندر میں مگر پولیس مقابلے کا مقام بنا کراچی کا علاقہ گلستان جوہر۔‘پولیس مقابلے کے حقائق کچھ بھی ہوں مگر رحمان کی ہلاکت کے بعد اس کے گینگ نے عزیر بلوچ کو سردار بنانے کا فیصلہ کیا۔لیاری کے بزرگ رہائشی نے بتایا کہ اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ عزیر رحمان کی برادری اور قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور اس وقت تک ’رحمان اور عزیر جرم و سزا اور سیاست دونوں کے لیے مختلف علاقوں میں مختلف ’وار لارڈز‘ یا علاقائی سردار مقرر کر چکے تھے اور گروہ خوب پھل پھول چکا تھا۔’عزیر نے گروہ کی سربراہی سنبھالی تو مارا ماری کا کام بابا لاڈلا کی سربراہی میں دیگر نمائندوں سرداروں کے سپرد ہوا۔کچھ علاقے اور اختیارات استاد تاجو کے سپرد ہوئے اور رحمان کے گروہ کے تمام سرداروں نے ایک طرح سے عزیر کی بیعت کر لی۔‘ایس پی فیاض خان نے بتایا کہ عزیر کو اندازہ ہوگیا کہ طاقت اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہو۔’یہ بات صحیح ہے‘۔ بزرگ مکین نے بھی تائید کی۔ ’عزیر کو پتا تھا کہ صرف سیاست سے طاقت اس کے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔بےنظیر کے بعد بلاول بھٹّو اور آصف زرداری سے بڑا تو کوئی سیاستدان نہیں تھا لیاری میں۔جب بندوق کے سامنے ان کی کوئی نہیں سنتا تھا تو صرف سیاست کرتے ہوئے تو عزیر کی بھی کوئی نہیں سنے گا‘۔یہی وجہ رہی کہ عزیر نے گروہ کے تمام جنگجو سرداروں کو ایک ایک کر کے بدلنا شروع کیا۔جب پیپلز پارٹی سے رحمان اور عزیر کی دوریاں بڑھی تھیں تو عزیر کے حمایتی اور رحمان کے قریبی ساتھیوں نے “پیپلز امن کمیٹی” کی بنیاد بھی رکھ دی تھی۔پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور لیاری کی ممتاز شخصیت حبیب جان بلوچ “پیپلز امن کمیٹی” کی پہچان بھی بنے اور عزیر بلوچ کا سیاسی چہرہ بھی سمجھے جاتے رہے۔’لیاری میں طاقت جمع کرتے ہوئے عزیر بلوچ نے اپنے لوگوں کو آگے بڑھانے کے لیے نئے مقامی سرداروں کی تعیناتی شروع کی۔نیا آباد کے علاقے میں اپنے وفادار وسیع لاکھو کو کمانڈر بنایا، بادشاہ خان کے بیٹے وسیم اور شکیل کو دریا آباد میں مقرر کیا۔استاد تاجو کو آگے بڑھایا، فیصل پٹھان کو بہار کالونی میں لگایا۔‘ایس پی (ر) فیاض خان کے مطابق ’بابا لاڈلا کو محسوس ہوا کہ عزیر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے تو اس نے اپنے ہی سردار یعنی عزیر بلوچ اور اس کے مقرر کردہ سرداروں کی مخالفت کا راستہ چنا۔‘اہلیان لیاری بتاتے ہیں کہ عزیز بلوچ کے مقامی کمانڈر بھی بابا لاڈلا سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ ظالم بھی بہت تھا۔یہی وقت تھا جب شہر کی بڑی سیاسی قوت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عسکری حلقے اور عزیر کے درمیان علاقہ گیری کی جنگ میں تیزی آ رہی تھی۔عزیر کا گروہ پاؤں پھیلا کر ان علاقوں سے بھتّہ خوری شروع کر چکا تھا جہاں ایم کیو ایم کو سیاسی برتری یا اکثریت حاصل تھی۔لیاری کی سرحدوں سے جڑے علاقوں پلازہ، تبت سینٹر، صدر، آرام باغ، گارڈن، پاک کالونی، نشتر روڈ اور دیگر کئی علاقوں میں لیاری گینگ وار کے کارندے کھلے بندوں بھتّے کی پرچیاں بازاروں میں بانٹ رہے تھے۔پھر ان علاقوں میں بلوچوں کے خلاف تشدد میں تیزی آئی اور رنچھوڑ لائن سمیت کئی علاقوں میں بلوچوں کی لاشیں ملنے لگیں۔دوسری جانب نشتر روڈ اور دھوبی گھاٹ جیسے علاقوں میں مسافر بس سے لوگوں کو زبان کی بنیاد پر شناخت کر کے اتارے جانے اور اغوا اور بدترین تشدد کر کے قتل کر دینے کی وارداتیں شروع ہوئیں۔

(حوالہ رپورٹ ہیلپ لائن 786 نیوز)

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *