پاکستان کا “مسئلہ قادیانیت ” کیاہے اور اس کا حل

شعبہ پاکستان

پاکستان میں وقتا ًفوقتا ً”مسئلہ قادیانیت “کی گونج سنائی دیتی رہتی ہے ۔قادیانی لابی ،قادیانی نواز ،قادیانیت غرض مختلف پیرائے سےیہ صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں ۔ پاکستان کی نئی نسل کو صحیح رنگ میں اس مسئلہ کا علم نہیں ہوگا ۔ یہ ایک مذہبی مسئلہ تھا لیکن جب سے ایوانوں نے اس “مسئلہ” کوحل کیا ہے اس کو کہیں کا کہیں پہنچا دیا ہے ۔اورہر کوئی اس کو اپنے طریق سے استعمال کرنے اور اس سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی رو میں بہہ نکلا ہے ۔اب تو اس کی بازگزشت مسجدوں ،ایوانوں سے نکل کر سڑکوں گلی محلوں میں سنائی دیتی ہے ۔بڑی مشکل اور تگ ودو کے بعد عوام کو “تیار” کر لیا گیا ہے جب بھی “قادیانی “نام سنو تو کوئی دلیل اور بحث نہیں کرنی بس نفرت ہی نفرت کرنی ہے ۔اور یہ اسی نفرت کا ثمرہ ہے کہ برداشت کا فقدان ہوگیا ہے ۔بعض اوقات تو اتنی نفرت دیکھنے کو ملتی ہے کہ انسانیت بھی شرمندہ ہوجاتی ہے۔آخر کس طرف جا رہے ہیں اور کیا چاہتے ہٰیں؟مذہب کی محبت میں نفرت کا” کاروبار” مذہبی تاریخ میں کبھی بھی فائدہ مند نہیں ہوا ۔اس سے ہمیشہ نقصان ہی ہوتا ہے بلکہ محبت اور الفت ہی دلوں کو جوڑنے اور ملانے کا باعث بنتی ہے ۔نرمی تو ایک رحمت ہے تند خوئی اور سخت دلی تو وحدت کا شیرازہ بکھیر دیتی ہے ۔رسول کریم ﷺ کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے کہ

تحریر: ابن قدسی

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ (آل عمران: 160)

یعنی پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تُو ان کے لئے نرم ہوگیا اور اگر تُو تندخو (اور) سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تیرے گِرد سے دُور بھاگ جاتے پس ان سے دَرگزر کر

اگر رحمۃ للعالمین نے اپنی نرمی سے وحدت کو قائم کیا تو پھر نفرت اور درشتگی کیسے سود مند ہے ۔افسوس اس وقت ہوتا ہے جب منافرت کا رویہ مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ سیاسی عمائدین کی طرف سے بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔مذہبی عقائد میں اختلاف کی بنیاد پر بحثیں ہوسکتی ہیں ۔سیاسی نظریات میں اختلاف بھی تو معاشرہ کا حصہ ہے لیکن اس پر بندوقیں اور لاٹھیاں نکل آئیں تو پھر تہذیب اپنا بوریا بستر باندھ کر ایسی رخصت ہوتی ہے پلٹ کر واپس نہیں آتی جب تک رویہ میں تبدیلی نہ ہو ۔مذہبی عقائد پر دلائل کا تبادلہ مذہبی تاریخ کا حصہ ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بحثوں کا آغاز ہوا ۔انسانیت کی تخلیق پر فرشتوں کی طرف سے سوال کہ کیوں آدم کی پیدائش کی گئی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جواب دیا ۔صرف اکیلا جواب ہی نہیں دیا بلکہ باقاعدہ ثبوت بھی مہیا کیےحضرت آدم علیہ السلام کو اسماء سکھا کر بتایا کہ ان اسماء کا علم حضرت آدم علیہ السلام کوہوگا۔حکم ملنے پر ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ اپنی بڑائی بیان کی۔اپنے تکبر کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا پھربھی اسے قیامت تک مہلت ملی کہ جو کرنا ہے کر ۔آخر کار انجام برا ہی ہوگا ۔

پھر حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے ہابیل اور قابیل کی بحث بھی قرآن کریم میں مذکور ہے ۔وہ بھی ایک مذہبی بحث ہی تھی ۔ہابیل کی قربانی قبول کر لی گئی جبکہ قابیل کی قربانی قبول نہ کی گئی تو قابیل نے تھوڑی سی بحث کے بعد کہ اس کی قربانی کیوں قبول نہیں کی گئی ،اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا ۔ قتل کے بعد اللہ تعالیٰ نے کوّے کی ذریعہ اس کو تہذیب سکھائی کہ کیسے اپنے بھائی کو دفن کرنا ہے ۔اس پر قابیل کو افسوس ہوا کہ میرے اندر اتنی بھی عقل نہیں جتنی اس کوّے میں ہے ۔گویا انسانیت کے ختم ہونے کے بعد پر تشدد رویہ کا اظہار ہوتا ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً تمام انبیاء کے مخالفین کی طرف سے پرتشدد رویہ دیکھنے میں آتا ہے ۔بحثوں کا ذکر بھی ہے ۔مناظرے بھی ہوئے ۔دلائل کا تبادلہ بھی ہوتا ہے لیکن پرتشدد رویہ کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مخالفین انبیاء کے پاس دلائل نہیں ہوتے ہیں ،علم ختم ہوجاتا ہے تو علمی گفتگو سے نالاں ہوکر انسانیت بھول جاتے ہیں ۔پھر وہ انبیاء کے بالمقابل پرتشدد رویہ اپناتے ہیں اور ہر طرح کی اذیت اورتکلیف پہنچاتے ہیں ۔یہ صرف انبیاء کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ انبیاء کے متبعین کو بھی ہر طرح کا نقصان پہنچاتے ہیں ۔جب ان کا یہ پر تشدد رویہ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہےتو پھر اللہ تعالیٰ خود ان مخالفین کو سز ا دیتا ہے ۔سزا کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے لیکن نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے ۔کبھی پانی کے طوفان سے تو کبھی زلزلہ سے ،کبھی سمندر میں ڈبو کر تو کبھی مختلف قسم کی وبائیں بھیج کر ۔کبھی آسمانی آفات سے تو کبھی مومنوں کو کامیابیاں دے کر ۔ غرض مخالفین انبیاء اپنی مرضی سے پر تشدد رویہ اپناتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی مرضی سے عذاب نازل کرتا ہے ۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن کریم نے تمام انبیاء کے حالات ،ان کی مخالفت اور مخالفین کے انجام کے واقعات صرف ماضی کے قصہ کے طور پر بیان کیے ہیں اور ان کو پڑھ کر آگے گزر جانا ہے یا ان کا ہماری دنیوی زندگی سے کوئی تعلق بھی ہے ۔ کیا ہماری زندگیوں میں کبھی ایسے حالات آئیں گے کہ ان واقعات کو پڑھ کرہم کوئی نصیحت حاصل کریں ،کوئی لائحہ عمل بنا سکیں ۔کبھی ہماری زندگی میں کوئی ایسا موقع آئے گا جب نبی کی پیروی اور نبی کی مخالفت ان دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے اوران تمام مواقع پر ایک لمحہ کے لیے رک کر سوچیں کہ ہمارا شمار کس گروہ میں ہو رہا ہے ۔ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ کامیاب نبی اور نبی کے متبعین ہی ہوتے ہیں اور مخالفین ہمیشہ ناکام ونامراد ہوتے ہیں تو اس لیے ہمیں ہمیشہ نبی کے متبعین میں ہی شامل ہونا چاہیے ۔اگر اس نصیحت کا حصول مقصود نہیں تو پھر قرآن کریم میں انبیاء کے حالات اور ان کے مخالفین کی مخالفت وانجام کے تذکرہ کی وجہ کیا ہے ۔

اب آتے ہیں “مسئلہ قادیانیت “پر ۔یہ ہے کیا اور پاکستان میںقادیانیت مسئلہ پیدا کب ہوا؟پاکستان بننے کے دو تین سال بعد ہی احمدیوں کے خلاف پرتشدد رویہ کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ 1953ء کے فسادات ہوتے ہیں ۔لاہور میں پہلا مارشل لاء لگتا ہے ۔بعد میں ان تمام احوال کی حقیقت جاننے کے لیے حکومت پاکستان ایک کمیشن بناتی ہے ۔اس کی رپورٹ “منیر انکوائری رپورٹ “کے نام سے شائع شدہ ہے ۔اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تمام فسادات مرکزی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے بنائے گئے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہوئے تھے ۔ آج بھی وہ رپورٹ الماریوں کا حصہ ہے ۔ان ذمہ داران کے خلاف کوئی کارووائی نہیں کی گئی ۔ اس کے بعد سے آج تک احمدیوں کے خلاف رویہ پر تشدد ہی رہا ہے ۔پاکستان میں جب پہلی دفعہ 1953ء میں” قادیانیت” کے نام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تواس وقت سے لے کر اب تک ہو رہا ہے ۔تاریخ ہمیں سبق سکھانے کے لیے ہوتی ہے اگر نہیں سیکھیں گے تو تاریخ اپنی جگہ قائم ہے لیکن اصلیت سامنے نہ آنے سے حالات بہتری کی طرف نہیں جائیں گے ۔

1974ء میں اس “مسئلہ “کا سیاسی اور آئینی حل کیا گیا لیکن ایک مذہبی “مسئلہ “کا سیاسی اور آئینی حل تواصل حل نہیں ۔یہ تو ایسے ہی ہے کسی کو سر درد ہولیکن علاج بخار کا کیا جائے ۔سردرد کا علاج سردرد کی دوائی سے اور بخار کا علاج بخار کی دوائی سے ہوتا ہے ۔اس “مسئلہ “کا حل تو مذہب تعلیمات کی روشنی میں کرنا چاہیے تھے۔لیکن فیصلہ کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا گیا ۔ ایک ملک کی جمہوریت نے اکثریت کے زعم میں ایک گروہ کو اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ اکثریت کی بات کو مانیں اور اپنے لیے اکثریت کی مرضی کا مذہب اختیار کریں۔پھر اس کے لیے پرتشدد رویہ کی راہ ہموار کی گئی ۔یہ زور زبردستی تو مخالفین انبیاء کرتے ہیں ۔انبیاء کے ماننے والے تو جبر اور تشدد برداشت کرتے ہیں ۔مذہبی تاریخ میں سچ کی پہچان کے لیے اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ قرآن کریم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ انبیاء کے متبعین تو اقلیت میں ہوتے ہیں اور مخالفین انبیاء اکثریت میں اور اسی اکثریت کے زعم میں بھر پور مخالفت کرتے ہیں ۔لیکن کامیابی ان کے مقدر میں نہیں ہوتی ۔جماعت احمدیہ ایک مذہبی جماعت ہے ۔انہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو سیاسی جماعت نہیں کہا ۔ مذہب سے تعلق کی بنا پر تمام تر عقائد ونظریات کی بنیاد مذہبی تعلیمات پر ہے ۔اپنا عقیدہ یا نظریہ منوانے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔جس کی دلیل مضبوط ہو دل اسی کی طرف مائل ہوتا ہے ۔اس لیے جماعت احمدیہ کے مخالفین نے بجائے دلائل دینے کے اکثریت کے زعم میں تشدد کا راستہ اپنایا توصاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ مخالفین احمدیت کے پاس دلائل نہیں ہیں اسی لیے اس طرح کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔

جماعت احمدیہ کا کہنا یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق جس فردنے اس امت میں آنا تھا وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔پیشگوئی میں مذکور ہے کہ آنے والا نبی بھی ہوگا اور امام بھی ہوگا۔دیگر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جس نے نبی کے طور پر آنا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو زندہ جسم سمیت آسمان پر بیٹھے ہیں ۔اور امام مہدی نے اسی امت میں ہونا ہے ۔جماعت احمدیہ قرآن وحدیث کے دلائل سے ثابت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو فو ت ہوچکے ہیں ۔وہ وفات کے بعدوہ کیسے دوبارہ دنیا میں آئیں گے ۔وفات کے بعد دوبارہ دنیا میں آنا صریح اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور نہ کبھی کوئی آیا ہے ۔پھر سوال یہ ہے کہ امت میں آنے والے جس فرد کی نبی کے طور پر پیشگوئی موجود ہے وہ کون ہوگا ؟حضرت مرزا غلام احمدقادیانی علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ وہ امتی نبی ہیں ۔ جب نبی ہو تو وہی امام ہوتا ہے ۔اب یہاں بحث طلب بات یہ ہے کہ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں یا وہ زندہ ہیں ۔اگر وہ زندہ ہیں تو جماعت احمدیہ کی بنیاد ہی ختم ہوجاتی ہے۔یہ ثابت کرنا ان علماء کا کام تھا ۔وہ دلائل سے ثابت کردیتے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو مسئلہ ہی ختم تھا لیکن علماء اس بنیادی مسئلہ کو چھوڑ کر حضرت مرزا صاحب کی ذات پر حملہ کرتے ہیں یا ختم نبوت کا نعرہ لگا کر پرتشدد رویہ اپناتے ہیں۔اب اگر ایک نبی کے آنے کی خبر رسول کریم ﷺ نے خود دی ہوئی ہے تو پھر ختم نبوت پر ڈاکہ کس طرح اور کون ڈال سکتا ہے ۔ بحث تو اصل یہ ہے کہ پرانا نبی آئے گا یا نیا ۔خاتم النبین کے بعد نبی آنے کی پیشگوئی تو ہے ۔جماعت احمدیہ بدل وجان رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین مانتی ہے اور خاتم کے ہر معانی کو تسلیم کرتی ہے ۔خاتم کے حقیقی معانی مہر وانگوٹھی کے ہیں۔ان معانی پر سر تسلیم خم بلکہ جو تشریح ان معانی کی روشنی میں بیان کی جاتی ہے وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ زبان سے بے اختیار دورد شریف نکلتا ہے ۔نبیوں کی مہر یعنی جس طرح مہر اپنا عکس پیدا کرتی ہے اس طرح جس پر رسول کریم ﷺ کی مہر لگے گی اس میں نبیوں کے نقش پیدا ہوں گے ۔مہر تصدیق کے لیے ہوتی ہے تو اب نبیوں کی تصدیق رسول کریم ﷺ کے ذریعہ ہوگی ۔انگوٹھی خوبصورتی اور زینت کے لیے ہوتی ہے تو نبیوں کی خوبصورتی اور زینت رسول کریم ﷺ ہیں ۔غرض لمبی تشریح ہے ۔ہاں خاتم کے ایک مجازی معنی ختم کرنے کے بھی ہیں تو جہاں حقیقی معانی اتنے عظیم الشان ہوں وہاں مجازی معانی اس کے خلاف کیسے تسلیم کر لیے جائیں اور کیوں حقیقی معانی کو چھوڑا جائے ۔ویسے بھی ختم کرنے والے معانی بھی قابل قبول ہیں۔نبیوں کے تمام کمالات کو ختم کرنے والے ۔ان سے زیادہ کسی نبی کو کمالات نہیں ملے ۔لیں ختم کرنے والے معانی بھی تسلیم کر لیے ۔ویسے ایک اور مفہوم بھی ہے شرعی نبیوں کو ختم کرنے والے ۔کیونکہ قرآن کریم نے اعلان کیا ہے کہ وہ آخری شریعت ہے تو یہ مجازی معانی بھی قرینہ کے ساتھ قابل قبول ہیں کہ شرعی نبی اب رسول کریم ﷺ کے بعد نہیں آئے گا ۔

اب مسئلہ “قادیانیت “کو حل کرنے کا صاف سیدھا اور آسان راستہ یہی ہے کہ ان دلائل کو توڑا جائے ۔اگر صرف حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ جسم سمیت ثابت کر دیا جائے تو مسئلہ بآسانی حل ہوجاتا ہے ۔لیکن یہ مسئلہ اتنا آسان لگتا نہیں کیونکہ علماء اس حوالے سے دلائل دینے کی بجائے پرتشدد رویہ اختیار کرتے ہیں تو یہی گمان ہوتا ہے کہ ان کے پاس دلائل نہیں ورنہ یہ رویہ اختیار نہ کریں ۔یہ رویہ تو مخالفین انبیاء کا ہے وہ دلائل سے عاجز آکر اپنی طاقت اور اپنی اکثریت کو استعمال کرتے ہیں جو ان کی علمی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور الہٰی جماعت کی سچائی کا عملی ثبوت ۔اس صورت حال میں کیسے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ایک ملک میں اکثریت اپنے ملک کی اقلیت کو تشدد کے ذریعہ ختم کر سکتی ہے۔دلائل کا توڑ تو دلائل سے ہوتا ہے ۔احمدیت مذہبی تعلیمات لیے ہوئے ہے اور اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھتے ہیں تو ان کا علاج سیاسی طریق سے کیسے ہوسکتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اکثریت نے سیاسی اور آئینی طریقہ سے جب احمدیت کو اقلیت قرار دیا تو اس کے بعد پوری دنیا میں پھیل گئے اور وہاں کی اکثریت کو ان کے مذہبی پہلو سے کوئی سروکار نہیں بلکہ بیرونی دنیا کی سیاست اور آئین نے تحفظ دیا جس کی وجہ سے ان ممالک میں سیاسی اور آئینی طور پر زیادہ مضبوط ہوئے ۔پاکستان میں انہیں سیاسی اور آئینی طور پر کمزور سے کمزور تر کرنے کی کوشش میں دیا جانے والا ہر بیان ان کو بیرونی دنیا میں مضبوط سے مضبوط تر کرتا ہے ۔ پاکستان میں ان کو دباکر اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ بڑی کامیابی حاصل ہو رہی ہے لیکن یہ کوشش قادیانیت کے لیے مزید مضبوطی کا باعث بن رہی ہے ۔

اس لیے مسئلہ قادیانیت کا سیاسی اور آئینی طریق سے حل کرنے کی بجائے مذہبی طریق سے حل کرنا چاہیے ۔لیکن پاکستان میں تو ان کو مذہبی طور پر اظہار خیال کی آزادی ہی نہیں ۔یک طرفہ باتیں ہی سننے کو ملتی ہیں ۔سوشل میڈیا کی وجہ سے ان کے خیالات بھی سننے کو ملتے ہیں لیکن ان کے خیالا ت اور دلائل اس سے مختلف ہوتے ہیں جو پاکستان میں مذہبی حلقے بیان کرتے ہیں ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہبی حلقے دلائل کے میدان میں ان کا مقابلہ نہیں کر پاتے اسی لیے تو سیاسی اور آئینی طریق سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس لیے سیاسی حلقوں کو سوچنا چاہیے اور سب سے پہلے اس مسئلہ کے حوالے سے سیاست کرنے پر مکمل پابندی لگانی چاہیے ۔اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مذہبی حلقے توکیا بعض سیاسی حلقے بھی جب اپنی کسی کمزوری کو چھپانا یا سیاسی طور پر کمزور ہوں تو فوری طور پر اس “مسئلہ” کا سہارا لے کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں جو در پردہ “قادیانیت”کی مضبوطی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں ۔گویا اپنے فائدے کے حصول میں وہ “قادیانیت “کو فائدہ پہنچا رہے ہوتے ہیں ۔اس کا مسئلہ کا حل آئینی بھی نہیں ہے کیونکہ آئین تو پاکستان کا ہے لیکن یہ” مسئلہ” تو اب عالمی بن چکا ہے ۔پاکستان میں جتنا مرضی آئینی حل آئینی حل کر لیں رتی برابر فرق پڑنے والا نہیں بلکہ اس سے جماعت احمدیہ کو فائدہ ہوتا ہے ۔اس لیے مذہبی حلقوں پر بھی اس “مسئلہ” کے حوالے سے سیاسی اور آئینی پہلو استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے ۔اب رہ جاتا ہے مذہبی پہلو تو یہ کام مذہبی حلقوںکا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں ۔نرمی کو اختیار کریں ۔نرمی اور دلیل کے ساتھ بات یقیناً دلوں پر اثر کرتی ہے ۔پھر یہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے کہ احمدیوں کو بالمقابل دلائل دینے کی آزادی ہی نہیں بلکہ ان کے اظہار خیال پر پابندی ہے ۔خیر موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے کافی حد تک اس بات کو حل کر دیا ہے ۔ علماء اپنے دلائل بیان کر یں بالمقابل دلائل بھی آجائیں گے ۔لوگ خود فیصلہ کر لیں گے کس کے دلائل مضبوط ہیں ۔لڑائی کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔حکومت وقت سے درخواست ہے کہ فوری طور پر” مسئلہ قادیانیت” کے حوالے سے سیاست کرنے پر مکمل پابندی عائد کریں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *