راجہ داہر کی دو بیٹیاں اور محمد بن قاسم کی موت

شعبہ پاکستان

تحریر: ابو نائل

بنو امیہ کے دور میں محمد بن قاسم کی قیادت میں عرب افواج نے سندھ پر حملہ کیا۔ آخر کار راجہ داہر کی افواج کو شکست ہوئی اور سندھ عرب سلطنت کا حصہ بن گیا۔ آج تک ان تاریخی واقعات کے متعلق بہت سی دلچسپ بحثیں جاری ہیں۔ ان میں سے ایک اہم واقعہ محمد بن قاسم کی موت کا ڈرامائی واقعہ ہے۔ اس کے متعلق جو کہانی بیان کی جاتی ہے وہ ”چچ نامہ“ سے لی گئی ہے اور اس کتاب کو ”فتح نامہ سندھ“ بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی تبصرہ کرنے سے قبل اس کتاب میں محمد بن قاسم کی موت کے بارے میں جو واقعات لکھے ہیں ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

اس کتاب میں لکھا ہے کہ جب راجہ داہر جنگ میں مارے گئے تو محمد بن قاسم نے ان کی دو کنواری بیٹیوں کو حبشہ کے غلاموں کی قیادت میں بغداد بھجوا دیا تا کہ انہیں بنو امیہ کے بادشاہ ولید بن عبد المالک کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ بادشاہ نے ہدایت دی کہ انہیں چند دن آرام کرا کے ان کی خوابگاہ میں بھجوا دیا جائے۔ کچھ دن کے بعد بادشاہ نے لڑکیوں کو یاد فرمایا اور ہدایت دی کہ دونوں بہنوں کو بادشاہ کی خوابگاہ میں بھجوایا جائے۔ [یہ بھی خوب ہے کہ دونوں کو اکٹھا ہی بلا لیا]

بادشاہ نے خوابگاہ میں ایک ترجمان کا انتظام پہلے ہی کر رکھا تھا۔ اس نے ترجمان سے پتہ کروا کے کہ بڑی بہن کون سی ہے؟ چھوٹی بہن کو اس وقت تک باہر رکنے کا کہا جب تک بڑی بہن کی باری ختم نہ ہو جائے [معذرت کتاب میں اسی طرح لکھا ہے ] بڑی ہمشیرہ پردے کے اہتمام کے ساتھ بادشاہ کی خوابگاہ میں آئی تھی۔ جب بادشاہ نے پردہ اتارا تو اس کی بے مثال خوبصورت شکل دیکھتے ہی فریفتہ ہو گیا۔چنانچہ بادشاہ نے شہزادی سے بے تکلف ہونا شروع کیا۔ بادشاہ نے اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی تو شہزادی اچھل کر کھڑی ہو گئی اور کہا کہ بادشاہ سلامت ہمیشہ زندہ رہیں۔ محمد بن قاسم نے ہمیں آپ کی خدمت میں بھجوانے سے پہلے اپنی خوابگاہ میں تین روز تک رکھا تھا۔ آپ کی قوم کے بادشاہوں میں ایسی لڑکیوں سے تعلق پیدا کرنے کا رواج نہیں ہے۔ یہ آپ پر ایک بد نما داغ ہوگا۔ [یہ بھی غلط ہے ]

بادشاہ غصے سے بھر گئے اور اسی وقت کاغذ اور قلم منگوا کر خط لکھوایا کہ محمد بن قاسم کو جانور کی کھال میں بند کر کے ان کی خدمت میں بھجوایا جائے۔ اور دلچسپ بات یہ کہ یہ خط محمد بن قاسم کو ہی بھجوایا گیا اور وہ بھی اس جلدی میں کہ ان کی جگہ سندھ کا کوئی اور حکمران بھی مقرر نہیں کیا۔ جب یہ خط محمد بن قاسم کو ملا تو انہوں نے حکم دیا کہ مجھے جانور کی کھال میں گھسا کر ایک صندوق میں بند کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جلد ہی محمد بن قاسم انتقال کر گئے۔جب ان کی لاش بادشاہ کی خدمت میں پیش کی گئی تو انہوں نے فخر سے محمد بن قاسم کی لاش راجہ داہر کی بیٹیوں کو دکھائی۔ ایک شہزادی نے ایک بار پھر اپنے چہرے سے نقاب اتارا اور سجدے میں گر کر ایک لمبی تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہم نے تو جھوٹ بولا تھا۔ محمد بن قاسم تو ہمارے بھائی یا بیٹے کی طرح تھا۔ یہ جھوٹ ہم نے اپنے خاندان کی بربادی کا بدلہ لینے کے لئے بولا تھا۔ یہ سن کر بادشاہ کا جلال ایک مرتبہ پھر بھڑک اٹھا اور انہوں نے حکم دیا کہ کہ ان دونوں کو ایک دیوار میں چن دیا جائے۔ اور برطانوی حکومت کے ایک گزٹ کے مطابق یہ حکم دیا کہ ان دونوں کے کپڑے اتار کر انہیں گھوڑوں کی دم سے باندھ کر گھوڑے دوڑا دیے جائیں۔ اس طرح گھوڑے ان دونوں کی برہنہ لاشیں لے کر سڑکوں پر دوڑتے رہے۔ [ملاحظہ کیجئے انگریزی ترجمہ چچ نامہ از مرزا قلیچ بیگ فریدوں کے آخری صفحات]

یہ روایت کسی غیر معیاری فلم کی کہانی تو بن سکتی ہے لیکن اسی تاریخی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا ثبوت کیا ہے؟

1۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ راجہ داہر کی بیٹیوں کو بغداد بھجوایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ولید بن عبد المالک کے عہد میں اس سلطنت کا دارالحکومت دمشق تھا۔ ”تاریخ طبری“ میں ولید کے سفروں کا بھی احوال لکھا ہے۔ طبری کے مطابق ولید بادشاہ ہوتے ہوئے کبھی بغداد نہیں گئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قصہ اس وقت بنایا گیا جب بنو عباس کے عہد میں بغداد دارالحکومت بن گیا تھا۔

2۔ اس کتاب میں کئی خواتین کے قصے شامل کیے گئے ہیں جو کہ تاریخی طور پر غلط ہیں۔ مثال کے طور پر اس کتاب میں لکھا ہے کہ جب راجہ داہر کا سر بنو امیہ کے بادشاہ عبد المالک بن مروان کو بھجوایا گیا تو شہزادوں اور رانوں کے بیٹیوں کو گرفتار کر کے اس سر کے ساتھ بھجوایا گیا۔ اور عبد المالک بن مروان نے ان لڑکیوں کو دیکھنے کے بعد کہا ان میں سے راجہ داہر کی بھتیجی کون سی ہے؟ جب راجہ داہر کی بھتیجی کو سامنے لایا گیا تو بادشاہ اس کا حسن دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کہانی گھڑنے والے کو بنیادی تاریخی حقائق کا علم بھی نہیں تھا۔ کیونکہ سندھ پر حملہ 90 سے 92 ہجری میں بیان کیا جاتا ہے اور اس سے چھ سال قبل شوال 86 ہجری میں عبدالمالک بن مروان کا انتقال ہو چکا تھا۔ [ تاریخ طبری اردو ترجمہ جلد چہارم]

3۔ اس کتاب میں وہ معین گفتگو بھی درج ہے جو کہ اس وقت ہوئی جب بادشاہ سلامت خلوت میں اس شہزادی سے بے تکلف ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سمجھ نہیں آتی کہ کیا سندھ کی شہزادی نے تین چار دن میں عربی بولنا سیکھ لی تھی۔ یا شاید بادشاہ سلامت سندھی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ یا تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ترجمان صاحب کو فارغ نہیں کیا تھا اور وہ اس حالت میں بھی کمرے میں کھڑے ہو کر ترجمانی کے فرائض ادا کرتے رہے۔ یہ تاریخی واقعہ ہے یا کوئی لطیفہ۔

4۔ تاریخ طبری میں اس طریق پر محمد بن قاسم کی برطرفی اور موت کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اور یہ کتاب چچ نامہ سے بہت زیادہ معتبر ہے۔

5۔ انگریزوں نے سندھ کے بارے میں تحقیق کر کے مختلف گزٹ شائع کیے اور ان میں اس کہانی کو لغو اور بے بنیاد قرار دیا۔ [ملاحظہ فرمائیں Gazetter of The province of Sind 1876، 1907 ]

6۔ جو لڑکیاں بادشاہ کی خواب گاہ میں داخل ہوئیں، چچ نامہ میں ان کے نام درج ہیں۔ لیکن جس شہزادی نے محمد بن قاسم کی لاش دیکھ کر تقریر کی اس کا نام مختلف ہے۔

گزشتہ سالوں میں پاکستان اور ہندوستان میں مختلف مصنفین نے اس قصے کو بنیاد بنا کر نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک پاکستانی اخبار میں ایک مضمون نگار نے لکھا کہ اس سے محمد بن قاسم کی کم عقلی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کو چاہیے تھا کہ سواری پر بیٹھ کر سفر کرتا اور چند کوس پہلے کسی کھال میں گھس کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا۔ بھارت کے بہت سے جرائد میں بھی ایسے مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں اس کہانی کو درج کر کے یہ تبصرے کیے گئے ہیں کہ دیکھا ہماری شہزادی نے کیسا انتقام لیا۔ دیکھا ظالم فاتح کا کیا عبرت ناک انجام ہوا۔ میری عاجزانہ رائے میں تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے اگر ”پاسبان عقل“ ساتھ رہے تو بہتر ہے۔ اور کسی واقعہ سے نتیجہ اخذ کرنے سے قبل یہ جائزہ لے لینا چاہیے کہ وہ واقعہ درست بھی ہے کہ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *