5 جولائی مارشل لا اور پاکستان

شعبہ پاکستان

تحریر: حسن مجتبٰی

پاکستان کے کسی بھی آرمی چیف کے سر پر پورے کی پوری ’تاج کمپنی‘ رکھ کر پوچھا جائے کہ کیا وہ ملک پر کبھی مارشل لا نہیں نافذ نہیں کرے گا، کبھی منتخب حکومت کا تختہ نہیں الٹے گا اور اگر اس کا جواب اثبات میں بھی ہو تو یہی فرض کیا جانا چاہیے کہ وہ سچ نہیں جھوٹ بول رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے آخری دنوں میں جب ان کے خلاف قومی اتحاد کی پر تشدد تحریک زورں پر تھی توپاکستانی مسلح افواج کے سربراہوں نے ضیاالحق سمیت حلفیہ بیان دیا تھا کہ فوج منتخب حکومت اور اپنے سپریم کمانڈر اور وزیراعظم کے ساتھ وفادار رہے گي اور ہر حالت میں آئین کی حفاظت کرے گی لیکن اس کے الٹ ہوا۔یعنی: عزیز ہم وطنو! اسلام علیکم۔اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو پاکستان میں پانچ جولائي کبھی ختم نہیں ہوا۔ حکومتیں فوجی ہوں، نیم فوجی ہوں کہ سویلین، کون کہتا ہے کہ مارشل لا کبھی پاکستان سے ختم ہوا ہے؟ ضیا اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے؟ فیقا کے کارٹون اب بھی اس ڈکٹیٹر سےلڑ رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ پانچ جولائی ایک دھڑکے کے ساتھ دل سےچپک کر رہ گئی ہے۔ کان ہیں کہ شاہراہ دستور اور ٹرپل ون برگیڈ کے درمیان بھاری بھر کم بوٹوں کی دھمک پر لگے ہوتے ہیں۔ شاہراہ دستور پر ٹرپل ون برگیڈ کو آتے کتنی دیر لگتی ہے! لیکن ملک خدا حافظ سے اللہ حافظ میں بدلتےایسا لگتا ہے کہ صدیوں پیچھے چلاگیا ہے۔ پانچ جولائي کی شب یہی ہوا تھا۔جنرل ضیا نے ایک بار ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے ملٹری سکریٹری کے دفتر میں اچانک آتے دیکھ کر اپنی سلگتی سگریٹ کوٹ کی جیب میں ڈال لی تھی اور جب بھٹو ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے چلنے لگے اور ان کے کوٹ سے دھواں اٹھنے لگا تھا تووہ بوکھلا گئے۔ بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ملازم سے کہا تھاکہ ’ایسا بزدل جنرل محاذ پر کیا کرے گا؟‘ لیکن اسی جنرل نے پورے ملک کو ایک محاذ اور میدان جنگ میں بدل دیا جو اس کے بعد آج تک کھنڈر بنا ہوا ہے۔ وہ ملک کے لوگوں کو پھرسے پاکستانی اور مسلمان بنانے آ گیا تھا‘۔گلی محلوں میں صلوٰۃ کمیٹیاں اور اسلامی نظریاتی کونسل سے رویت ہلال کمیٹی تک ملک کو نئي فسطائیت کے جال میں جکڑ لیا گیا۔

مصنف و محقق احمد سلیم نے کہیں لکھا ہے ضیاالحق جب دیال سنگھ کالج کے دورے پر آئے تو لائبریری میں ہندی اور گورمکھی کی کتابیں دیکھ کر انہوں نے ان تمام کتابوں کو کفر سمجھ کر تلف کرنے کا حکم دیا اور پھر ضیاالحق ہی کے حکم پر ہندی اور گرمکھی کی سینکڑوں کتابیں دیال سنگھ کالج کے قریبی گندے نالے میں پھینک دی گئی تھیں۔ ضیا نےواقعی ملک پاکستان میں، بقول فیض’گھٹا ٹوپ بے انت راتوں کے سائے‘ بانٹ دیےجن کا فیض اب بھی جاری ہے۔ضیاالحق کا دور اگر پاکستان میں ایک بلیک اینڈ وائٹ ہارر فلم تھا تو پرویز مشرف رنگین شرطیہ نئي کاپی۔ ان کی لڑائي جمالیات سے لے کر فن تک اور سیاسیات سے لے کر سائنس تک ہر چیز سے تھی۔وہ صحیح معنوں میں سماج دشمن عنصر تھا۔ اس نے پاکستان کا جس قدر بے انت حلیہ بگاڑا اور جس نوع کا جبر مسلط کیا اس کی تاریخ محمد حنیف نے بڑی جادوئی حقیقت نگاری سے فکشن کی صورت اپنے ناول

’اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘ میں بیان کی ہے۔بھٹو کو پھانسی دینے والے جج ضرور پنجابی تھے لیکن اس کے دور میں اندھی لڑکی کو کوڑوں کی سزا دینے والاجج سندھی تھا۔ یا وہ اے ایس آئي پولیس جو زبردست چرسی کے طور پر معروف اور اپنے کام کااتنا ماہر تھا کہ ملٹری کورٹ کے کرنل کو اس کی منہ مانگي رشوت نہ دینے پر،حیدرآباد میں آٹے کے تاجر کالے خان پر بلیک مارکیٹنگ کا کیس بنانے کے لیےبلایا گیا تھا اور پھر اسی کالے خان کو ہزاروں ’تماشائيوں‘ سے بھرے نیازاسٹیڈیم میں کوڑے مارے گئے اور اس دوران لاؤڈ اسپیکر کا مائیکروفون ان کے منہ کے قریب رکھا گیا تھا اور ہر کوڑےپر ذبح ہوتے جانور جیسی چیخ پر ’تماشائی‘ ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگاتے۔ یہ الگ بات کہ بعد میں شہر کے چرسیوں نے چرس کا خفیہ نام ’کالے خان‘ رکھ دیا تھا۔یہی ضیا الحق جو بینظیر بھٹو کے ساتھ مجوزہ منگنی کی اجازت کے لیے لکھا گیا ایک سی ایس ایس افسر کا خط کابینہ کے اجلاس میں لے گیا تھا۔ ان دنوں میں بینظیر کے ساتھ شادی واقعی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھی۔ مجھے شک ہے کہ بینظیر کی شادی واقعی ضیا اور اس کی ایجینسوں کی مرضی کے بغیر ہوئي ہوگی! لوگوں نے بنیظیر سے منگنی کے بعد آصف علی زرداری کو دیکھ کر کہا تھاکہ ان کی مونچھیں ضیا الحق کی مونچھوں سے مماثلتت رکھتی ہیں‘۔ان کی موت پر بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ’ہم میں سے نہ جانے کتنوں کے سروں پر سےموت ٹل گئی‘۔ لیکن بینظیر غلط تھی۔ وہ دیگ جو ضیا الجق نے چڑھائي تھی اس کا ڈھکنا مشرف نے آ کر کھولا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *