پاکستان میں موجود دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل کی حیرت انگیز داستان

شعبہ پاکستان

کوئٹہ سے ایک سو تیرہ کلو میٹر دور ایک پہاڑی سلسلہ ہے جسے خواجہ عمران کا پہاڑی سلسلہ کہا جاتا ہے اس پہاڑی سلسلے میں شانزلہ اور شیلا باغ کے درمیان دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل ہے جسے خوجک ٹنل کہتے ہیں، یہ وہی ٹنل ہے جس کی تصویر پانچ روپے کے متروک نوٹ پر ہوا کرتی تھی۔یہ ٹنل 14 اپریل 1888ء کو تعمیر ہونا شروع ہوئی، یہ 5 کلومیٹر لمبی ہے اور اس کی تعمیر میں لگ بھگ آٹھ سو مزدور ہلاک ہوئے اور ان میں سے اکثر وہیں آس پاس دفن ہو گئے اس ٹنل میں ایک کروڑ ستانوے لاکھ چوبیس ہزار چار سو چھبیس اینٹیں لگی ہیں مزدوروں کی اول صف کھدائی کرتی جاتی جبکہ پچھلی اینٹیں لگاتی اور ان سے پیچھلی صف پٹڑی بچھاتی جاتی، بھاری مشینری کا وجود نہ ہونے کی وجہ سے کھدائی کا سارا کام انسانی ہاتھوں سے ہوتا۔اس ٹنل کی تعمیر کے لیے 80 ٹن پانی روزانہ کی بنیاد پہ صرف ہوتا، دن رات کام کرنے کے لیے چھ ہزار پانچ سو چورانوے چراغ جلتے جو پوری ٹنل کو اندر سے روشن رکھتے، مزدوروں کی ریفریشمنٹ کے لیے آج کے انڈیا کے علاقے سے مشہور زمانہ رقاصہ شیلا منگوائی گئی جو رات کو رقص کرتی اور دن کے تھکے ماندے مزدوروں کی تفریح کا کچھ سامان پیدا کیا جاتا۔

اب آئیے اس دلچسپ و عجیب ٹنل کے سب سے مزیدار پہلو کی طرف، اس ٹنل کے انجنئیر جس نے اس کا سروے کیا تھا، اس کے مطابق اگر پہاڑ کے دونوں طرف سے اس ٹنل کی کھدائی کی جائے تو 3 سال 4 ماہ اور 21 روز بعد دونوں طرف سے کھدائی کرنے والے مزدور ایک دوسرے سے آن ملیں گے۔

5 ستمبر 1891ء کو انجنیئر کے لگائے اور بتائے گئے تخمینے کے مطابق اس ٹنل نے مکمل ہوناتھا، مقررہ تاریخ نزدیک سے نزدیک آتی جا رہی تھی اور سرا نہیں مل رہا تھا، چند لوگوں نے افواہیں اڑانا شروع کر دیں کہ مزدور راستہ بھول کر راستے سے ہٹ گئے ہیں، انجنئیر نے غلط سروے کیا، ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کروڑوں ڈوب جائیں گے، مگر انجنئیر پر امید تھا۔مقررہ تاریخ کو دونوں طرف آنے والی اور بچھائی جانے والی پٹڑی کے آخری بولٹ لگنے تھے، دن بارہ بجے تک ٹنل کے اندر سے کوئی خبر نہ آئی، ساری رات بے چینی سے ٹہلتا انجنیئر اب بھی ٹہل رہا تھا، اسے لگا کہ آج اس کا علم اسے دھوکا دے گیا، آج اس کا سب سے بڑا خواب پورا ہونے کی بجائے ریزہ ریزہ ہو رہا تھا، انجنیئر چپکے سے اٹھا اور پہاڑی کے اوپر اس مقام پر جا پہنچا جہاں پر رات کو شیلا رقص کرتی تھی،وہاں پہنچ کے رکا چند لمحے ٹنل کے دھانے پر نظر ڈالی اور پہاڑی کی چوٹی سے گہری کھائی میں چھلانگ لگا دی، اور تقریبا‘‘ عین اسی وقت دونوں طرف سے کھدائی کرتے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے مزوروں کے درمیان ریت کی آخری دیوار بھی گر گئی۔

دنیا کی سب سے بڑی خوجک ٹنل مکمل ہو گئی، دونوں طرف کے مزدوروں نے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے بعد اپنی اپنی مخالف سمت میں دوڑ لگا دی اور نعرے لگاتے چیختے چلاتے اڑھائی اڑھائی کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ٹنل سے باہر نکلے دونوں طرف جشن کا سماں برپا ہو گیا، معاً کسی کو انجنیئرکا خیال آیا اور جب تلاش کی گئی تو انجینئر غائب، کافی دیر بعد کسی نے کھائی میں کسی انسانی نعش کی نشاندہی کی اور جب دیکھا گیا تو وہ وہی انجنیئر تھا جس نے دنیا کی سب سے بڑی ٹنل کا سروے کیا اور اس کی فزیبلٹی تیار کی اور مقررہ مدت تک اپنی کمٹمنٹ پوری نہ ہونے کی صورت میں ندامت سے بچنے کےلیے پہاڑ کی چوٹی پر سے چھلانگ لگا دی۔*تاریخ میں اس جیسے کئی واقعات ملیں گے مگر تمام کے تمام “کافروں” کے ہاں، اگر آج کے پاکستانی حکمران یا ذمہ داران ہوتے تو یقیناً درمیان میں ہی چھوڑ کر کس نئی طرف سے شروع کرا دیتے اور اگر پھر بھی کامیاب نہ ہوتے تو پہاڑ سے چھلانگ لگانا تو دور کی بات آنکھیں تک نیچی نہ کرتے، اپنے ملک میں بڑی سے بڑی آفت، مصیبت یا حادثے پے ذمہ داران یوں بغلیں جھاڑ دیتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں؟ (از منقول)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *