کشمیر یہ لہو چھپائے نہ چھپے گا، یہ بغاوت دبائے نہ دبے گی

شعبہ پاکستان

(قسط اوّل) تحریر: یاسر ارشاد

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ خطے کی بعد از تقسیم تاریخ کا سب سے بڑا اور دھماکہ خیز اقدام ہے۔ آنے والے عرصے میں اپنے اثرات کے حوالے سے یہ ممکنہ طور پر تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ کہلائے گا۔ مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو اس نے یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور ایک حوالے سے اس تنازعہ کی اب تک کی کیفیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ 5اگست 2019ءسے پہلے گزشتہ 72 سالوں کے دوران کشمیر تنازعہ کی ایک خاص حیثیت تھی جس کو پاک بھارت ساڑھے تین جنگوں ،دوطرفہ مذاکرات اور عالمی سفارتکاری سمیت کشمیر میں جاری تحریک کے مجموعی اثرات بھی تبدیل نہیں کر سکے، اس حیثیت کو بھارتی حکومت کے اس فیصلے نے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن تبدیلی ہے جو اس پورے خطے کی سیاست، معیشت اور سفارتکاری سمیت سماج کے ہر پہلو پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہ ایک بالکل نئے مرحلے کا آغاز ہے لیکن اس کی نوعیت اور سمت بالکل غیر متوقع ہے جس نے زیادہ تر سیاسی حلقوں کو کنفیوز کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ اقدام زیادہ تر لوگوں کے لئے حیران کن ہے کیوں کہ مسئلہ کشمیر میں کسی پیش رفت کی توقع رکھنے والے بھی اس قسم کی تبدیلی کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ سوشل میڈیا سمیت ابلاغ کے سبھی ذرائع اس اقدام پر تند و تیز مباحثوں کے ذریعے اس کی تفہیم کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن کہیں بھی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں کر پا رہا۔سب سے زیادہ بانجھ پن پر مبنی مؤ قف نام نہاد بائیں بازو کا ہے جو اس کو مودی کے ہندوتوا کے نظریات یا ہندو فاشزم کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ درحقیقت یہ اقدامات عالمی سطح پر سرمایہ داری نظام کے زوال اور شکست و ریخت کے عمل کی پیداوار ہیںجن کو اس عمومی تبدیلی کے عمل کے تسلسل میں ہی درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے نامیاتی زوال کے اس تبدیل شدہ عہد کا انقلابی تحریکوں کے ابھار ، رد انقلابی خانہ جنگیوں سمیت وحشیانہ ریاستی جبر کی نئی اور پہلے سے زیادہ درندگی پر مبنی شکلوں کے ذریعے اظہار ہو رہا ہے۔دنیا کے ہر خطے میں طویل عرصے سے قائم سیاسی و سماجی توازن دھماکا خیز انداز میں ہر قسم کے واقعات کے ذریعے ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔

چند ماہ پہلے ہونے والے ہندوستان کے عام انتخابات میں مودی کی بھاری اکثریت سے فتح بھی اسی قسم کا ایک واقعہ تھا جس میں ہندوستانی سماج میں جاری تبدیلی کے عمل نے سب سے پہلے ہندوستانی سماج کی عرصے سے ایک ہی ڈگر پر چلی آنے والی سیاست کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ قنوطیت(مایوسی) پسندوں کے لئے مودی کی انتخابی فتح سماج پر فاشزم کے تسلط کا اعلان تھا جس طرح امریکہ میں ٹرمپ کی انتخابی فتح کو اس بدبودار مخلوق نے امریکی فاشزم کی مضبوطی قرار دیا تھا لیکن در حقیقت یہ دونوں فتوحات بائیں بازوکی اصلاح پسندی کی ناکامی کے باعث دائیں بازو کی سٹیٹس کو مخالف پارٹیوں کے ذریعے موجودہ صورتحال سے نجات پانے کی عوام کی ایک مایوس کن کوشش تھی۔

گزشتہ چند ماہ سے جاری سوڈان کی انقلابی تحریک اور ہانگ کانگ میں ہونے والے طوفانی انقلابی واقعات اسی سٹیٹس کو کو ایک انقلابی بغاوت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش ہیں۔ یہ دونوں قسم کے واقعات عالمی سطح پر جاری تبدیلی کے ایک ہی عمل کا دو یکسر مختلف بلکہ الٹ طریقوں سے اظہار ہیں۔ اسی طرح یمن پر سعودی جارحیت، فلسطین پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بربریت، چین میں مسلمان آبادی پر چینی ریاست کی وحشیانہ ریاستی جارحیت، پاکستان میں بنیادی جمہوری آزادیوں کو وحشیانہ ریاستی جبر کے ذریعے ختم کئے جانے کے اقدامات اور بھارتی ریاست کی جانب سے کشمیر کی نیم خودمختار ریاستی حیثیت کو فوجی جبرکے ذریعے ختم کرنے کے اقدامات بھی سماج کی بنیادوں میں جاری تبدیلی کے عمل میں معیاری جست کی عکاسی ہے۔ یہ دنیا ایک دیو ہیکل تبدیلی کے عمل سے گزر کر معیاری طور پر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پرانی دنیا کے ظاہری خدوخال اگر کہیں باقی بھی ہیں تو وہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں اسی طرح اچانک تبدیل ہو جائیں گے۔ سطح پر نمودار ہونے والے یہ واقعات کتنے ہی اچانک اور غیر متوقع کیوں نہ ہوںدر حقیقت ان واقعات کو جنم دینے والے عناصر و اسباب سماج کی ظاہری سطح کے نیچے اس مقدار و معیار کو حاصل کر چکے ہیں جہاں وہ ہر قسم کے واقعات کو ایک دھماکے کے ذریعے سماج کی سطح پر نمودار کرنے کے لئے مکمل طور پر پختہ ہو چکے ہیں۔یہی وہ بنیاد ہے جس کے تسلسل میں ہی موجودہ اقدامات کی درست وضاحت ممکن ہے ۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

5 اگست 2019ءکو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک صدارتی حکم نامہ بھارت کی راجیہ سبھا یا ایوان بالا میں پیش کیا جس میں ہندستانی آئین کی شق نمبر 370 کے خاتمے کا اعلان کیا گیاتھا۔ راجیہ سبھا میں اس پر مختصر بحث و مباحثے کے بعد 61 کے مقابلے میں 125 ووٹوں سے جبکہ لوک سبھا میں 67 کے مقابلے میں 367 ووٹوں سے اس کو منظور کر لیا گیا ہے ۔ ہندوستانی آئین کی شق نمبر 370 مہاراجہ کشمیر کے الحاق ہندوستان کی دستاویز کا ہی تسلسل تھا جس کے ذریعے کشمیر کو ہندوستانی وفاق میں ایک مخصوص حیثیت کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس شق کے مطابق کشمیر کی ریاست کے امور خارجہ، مواصلات اور دفاع کا انتظام و اختیار مرکزی یا وفاقی حکومت کے پاس ہو گا جبکہ باقی تمام امور کا اختیار ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے پاس ہو گا۔ اس کے ساتھ کشمیر کی ریاست کو اپنا آئین بنانے اور اپنا الگ جھنڈا رکھنے کے اختیار کے ساتھ یہ استثنا بھی حاصل تھا کہ ہندوستان کے مکمل آئین کا اطلاق کشمیر میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کا بنایا ہوا ایک اور قانون جس کو باشندہ ریاست کا قانون بھی کہا جاتا ہے ،جس کے مطابق کوئی بھی غیر کشمیری کشمیر میں زمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمت جیسی کوئی بھی مراعات حاصل نہیں کر سکتا،کو بھی شق نمبر 35A کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا گیا اور ان آئینی شقوں میں ریاست یا مرکز دونوں ایک دوسرے کی مکمل رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کر سکنے کے پابند قرار دیے گئے۔لیکن اب ان شقوں کے خاتمے کے ذریعے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی ایک نیم خودمختار ریاست کی حیثیت کے ساتھ ہر قسم کی داخلی خود مختاری کو ختم کرتے ہوئے کشمیر کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر کے ”Union Territory“ کا درجہ دیتے ہوئے براہ راست مرکز کے کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔ لداخ کو الگ مرکز کے تابع انتظامی اکائی بنایا گیا ہے جس کی کوئی اسمبلی نہیں ہو گی جبکہ جموں اور کشمیر کے علاقوں کو الگ انتظامی اکائی بنایا گیا ہے جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی لیکن دونوں علاقوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک لیفٹیننٹ گورنر ہی سب سے با اختیار حاکم ہو گا۔ یوں اس پورے خطے اور عالمی سطح پر گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیر کی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو ختم کرتے ہوئے کشمیر کے بھارتی قبضے میں موجود حصے کو بھارت کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کا ایک پہلو کشمیر کے حکمران طبقات کی مراعات اور اختیارات کا ہے جبکہ دوسرا پہلو کشمیر کی عوام، محنت کش طبقے اور نوجوانوں کی ہندوستان کے وحشیانہ جبر سے آزادی کے حصول سے منسلک ہے۔ کشمیر کے حکمران طبقات کی سبھی سیاسی پارٹیاں اور گروہ اس خصوصی حیثیت کے باعث کشمیر کے داخلی معاملات اور لوٹ مار کے حوالے سے دیگر ریاستوں کے حکمرانوں کے مقابلے تقریباً مکمل آزاد اور با اختیار تھے۔ یہ حکمران بھارتی ریاست کی مکمل دلالی کرتے رہے اور انہوں نے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کے خلاف کبھی کوئی سنجیدہ احتجاج تک نہیں کیا ۔

وہ بھارتی ریاست جس نے کشمیر کو گزشتہ تین دہائیوں سے وہاں کے باسیوں کے لئے ایک عقوبت خانہ بنا رکھا ہے یہ حکمران اسی بھارتی ریاست کے تنخواہ دار ملازم ہیں اور اپنی حاکمیت میں وہاں بھارتی ریاست وحشت اور بربریت کا خونی کھلواڑ کر رہی ہے۔ ان حکمرانوں کے لئے موجودہ اقدامات کا مطلب محض یہ ہے کہ ان کی اپنی مراعات اور اختیارات میں کمی ہو رہی ہے ۔ لیکن دوسری جانب خصوصی حیثیت کا حامل کشمیر بھی کشمیری عوام ،محنت کشوں اور نوجوانوں کے لئے عملاً ایک خصوصی اذیت گاہ، جیل اور مقتل ہی تھا جہاں ہندوستانی فوج کو کشمیریوں کے خون کے دریا بہانے، خواتین کی عصمت دری کرنے، ماورائے عدالت قتل کرنے اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروںسے ان کو بینائی سے محروم کرنے کے خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ کشمیری عوام کی اکثریت تو اس خصوصی حیثیت کے حامل کشمیر میں بھی اپنے لہو کا خراج دے کر زندہ تھی ۔ کشمیر کی حیثیت میں موجودہ تبدیلی کا درحقیقت سب سے المناک پہلو یہی ہے جس کی وضاحت کے بغیر تمام تر شور شرابہ بے معنی اور بکواس پر مبنی ہے۔ بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تحفظ فراہم کرنے والی تمام شقوں کی موجودگی کے باوجود اگر کشمیری عوام کی زندگی ایک خونریز جہنم کے مانند تھی اور اس سے نجات کی جدوجہد ایک کے بعد دوسری بغاوت کی صورت میں اپنا اظہار کرتی آئی ہے تو اس نئے ریاستی حملے سے اس صورتحال کو تو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ یہ درست ہے کہ ان شقوں کی موجودگی بھی کشمیری عوام کے لئے کسی تحفظ کا باعث نہیں تھی لیکن ان کی موجودگی کوکشمیر پر بھارتی قبضے کی عارضی نوعیت اور کشمیریوں کی ہندوستان سے الگ اپنی شناخت و پہچان کا ضامن سمجھا جاتا تھا۔ اسی لئے ان شقوںکا خاتمہ کشمیر کی الگ شناخت کو مکمل مٹانے کا جبری فیصلہ ہے جو پہلے سے موجود سامراجی جبر کی درندگی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کا ایک تیسرا پہلو یہ تھا کہ کشمیر پر قابض دونوں سامراجی ممالک اس کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتے تھے اگرچہ دونوں سامراجی ممالک کے حکمران طبقات اپنے زیر مقبوضہ علاقے پر اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے مختلف قانونی و اخلاقی جوازات کو استعمال کرتے آ ئے ہیں۔ کشمیر کی یہ تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت ہند و پاک دشمنی کی بنیاد تھی جس پر اس خطے کی ان سامراجی ریاستوں کے مخصوص تعلقات استوار تھے جس کو بھارتی حکومت کے موجودہ فیصلے نے ایک دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک زبردست بھونچال کی مانند ہے جس نے سات دہائیوں سے قائم ایک نازک توازن کے پر خچے اڑا دیے ہیں اور پورے خطے کو ایک بالکل نئی اور انجانی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔ پاک بھارت جنگ و امن کے ناٹک کا سارا کھیل کشمیر کی اسی متنازعہ حیثیت پر کھیلا جاتا تھا جس کا اب خاتمہ ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس سارے کھیل کو ماضی کی طرح جاری رکھنے کی بنیادیں مسمار ہو چکی ہیں۔ سات دہائیوں سے قائم اس توازن کے خاتمے سے پورے خطے میں ایک نئے اور دھماکہ خیز عہد کا آغاز ہو چکا ہے جس میں پرانے توازن کو دوبارہ بحال کرنا تو ممکن ہی نہیں رہا لیکن کسی نئے توازن کے قائم ہو جانے کے امکانات بھی مخدوش ہیں۔

کیا یہ فیصلہ پاک بھارت اتفاق رائے سے ہوا ہے؟

بھارتی ریاست کی جانب سے اچانک اس فیصلے کو مسلط کرنے سے جو غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس نے مختلف قسم کی قیاس آرائیوں اور افواہوں کی گردش کے لئے ایک سازگارماحول فراہم کیا ہے۔ان افواہوں کے پھیلنے کے پیچھے جو چیز قوت محرکہ بن رہی ہے وہ کشمیر پر قابض دونوں سامراجی ریاستوں کے باہمی تعلقات کا ماضی ہے جس کے دوران یہ تاثر پختہ یقین میں تبدیل ہو چکا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ ان دونوں ممالک کے حکمران طبقات کے درمیان کسی اتفاق رائے کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ کشمیری عوام تو اپنی تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود ان سامراجی حکمرانوں سے خود کو اس مسئلے کا سب سے بنیادی فریق ہونا ہی نہیں تسلیم کر اسکے تھے۔ اس بنیاد پر بھارتی حکمرانوں کے موجودہ فیصلے میں پس پردہ پاکستانی حکمرانوں کی رضامندی کے شامل ہونے کو خارج از امکان قرار دینے کو زیادہ تر سیاسی و سماجی حلقے تسلیم نہیں کرتے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے کچھ واقعات کی کڑیوں کو جوڑ کر پاکستانی حکمران طبقات کی رضامندی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں کا ایک پورا سلسلہ گردش میں ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد جب ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرنے کا اعلان کیا تو پاکستانی حکمران طبقات او رذرائع ابلاغ نے اس کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی بنا کر پیش کیا۔ جبکہ ہندوستان کے حکومتی ذرائع نے اس پیش کش کو اس قدر درشتی (تیزی)سے رد کیا کہ ٹرمپ کو بھی اپنی پیشکش کو ہندوستان کی رضامندی سے مشروط قرار دینا جیسی وضاحت کرنی پڑی۔ اگر پاکستانی حکمرانوں کی سفارتی کامیابی کے اعلان اور ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے موجودہ فیصلے کو دیکھا جائے تو بظاہر یوں لگتا ہے کہ ہندوستان نے تمام عالمی سفارتکاری ، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ہر قسم کے ضابطوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کر لیا ہے اور عالمی سامراجی طاقتوں سمیت پاکستان کے حکمرانوں کو اس کی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔ اگرچہ گزشتہ چند روز کے دوران بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوج کی تعیناتی اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے وادی نیلم کے علاقوں میں کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ جیسے واقعات کسی غیر معمولی واقعے کے رونما ہونے کی جانب اشارہ ضرور کر رہے تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس سال کے انتخابات کی مہم کے دوران بھی یہ ایک اہم نعرہ تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کریں گے جبکہ اسی دوران پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ایک بیان میں یہ کہا تھا کہ اگر مودی انتخابات جیت جاتا ہے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ دی پرنٹ نامی ویب سائیٹ پر 5 اگست کو شائع ہونے والے نایانیما باسو کے ایک مضمون کا عنوان ہی اس امر کی وضاحت کے لئے کافی ہے کہ ہندوستان نے اس فیصلے سے قبل تمام ضروری سفارتکاری کا عمل مکمل کر لیا تھا۔ ”مودی نے گزشتہ ہفتے کے دوران اور فروری میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اپنے منصوبے کے بارے میں امریکہ کو بتا دیا تھا“ کے عنوان سے شائع ہونے والے اس مضمون میں باسو لکھتا ہے” مختلف ذرائع نے پرنٹ کو بتایا کہ امور خارجہ کے وزیر جے شنکر نے اپنے امریکی ہم منصب سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیوکو مودی حکومت کے آرٹیکل 370 اور35Aکے خاتمے کے منصوبے کے بارے میںآگاہ کیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق، یہ پہلا موقع نہیں تھا جب امریکہ کو اس کے بارے میں مطلع کیا گیا بلکہ فروری میں پلوامہ حملے کے دو روز بعد مشیر برائے قومی دفاع اجیت دوول نے اپنے امریکی ہم منصب جان بولٹن کو ٹیلی فون پر اسی منصوبے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔“ اسی مضمون میں باسو مزید لکھتا ہے ”ذرائع کے مطابق مودی حکومت امریکہ کو ناراض کرنے کی بالکل بھی متحمل نہیں ہو سکتی اور اسی لئے ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت برقرار رکھنے کے تمام ضروری و حفاظتی اقدامات کئے جا چکے تھے۔“

اس مضمون کے مطابق سوموار کو وزارت خارجہ نے امریکہ، روس، چین،فرانس اوربرطانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان کے نمائندوں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ یہ تفصیلات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ جتنا بظاہر یہ فیصلہ اچانک اور یکطرفہ نظر آتا ہے اصل صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے اور خاص کر ہندوستانی حکمران طبقات نے اہم عالمی سامراجی طاقتوںکو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاکستانی حکمرانوں کی سفارتی کامیابیوں کی بڑھک بازی اس فیصلے کی روشنی میں انتہائی مضحکہ خیز ہو کر رہ گئی ہے اور پاکستان کی عالمی سفارتکاری میں حیثیت اور مقام بھی واضح ہو ر ہا ہے۔ اگر اس فیصلے سے امریکی حکمرانوں کے پہلے سے باخبر ہونے کو درست مان لیا جائے تو پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے امریکی دورے اور ٹرمپ کے ثالثی کی پیشکش کرنے والے بیان سے یہ شکوک جنم لیتے ہیں کہ یا تو امریکی حکمرانوں نے پاکستانی حکمرانوں کو دھوکہ دیا ہے یا پاکستانی حکمران پس پردہ کشمیر کا سودا کر آئے ہیں۔ لیکن پاکستانی حکمران طبقات کی پس پردہ اس منصونے میں شامل ہونے یا نہ ہونے کی بحث سے زیادہ اہمیت کا حامل سوال یہ ہے کہ اس فیصلے سے جنم لینے والی نئی صورتحال اور تبدیلی کے عمل کی وضاحت کرنے کی کوشش کی جائے۔

(باقی آئیندہ قسط میں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *