مریض کی عیادت اور ہم

شعبہ پاکستان

تحریر: عبدالوکیل شیخ کوئٹہ

اس مضمون کو لکھنے کی اصل وجہ آجکل کی صورتحال سے بنفس نفیس گزرنا بن رہی ہے۔کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو غالباً ایران کی تھی جس میں ایک شخص سڑک کنارہ پڑا کھانس رہا تھا اور ایک شخص اس کی ویڈیو تو بنارہا تھا مگر اس کو ہسپتال پہنچانے میں شاید خوف محسوس کر رہا تھا کہ کہیں وہ بھی کورونا کا شکار نہ ہوجائے اس کے کچھ عرصہ بعد ایران میں موتٰی موتی کا وہ بازار گرم ہواکہ الامان والحفیظ جب یہ ویڈیو نظر سے گزری تو نہایت افسوس یہ ہوا کہ آخر اس کو لوگ اٹھا کیوں نہیں رہے اور جذبہ ہمدردی اپنے عروج پر تھا اور خود سے ضمیر یہ عہد لے رہا تھا کہ اگر کبھی میرے سامنے ایسا ہوا تو خداتعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ ضرور ایسے شخص کی مدد کی جائے گی۔شاید اس وقت پاکستان میں کورونا نیا نیا تھا بعد میں کثرت مطالعہ ایس۔او۔پیز کے تقاضوں کا مطالعہ اور آئے دن ٹی۔وی پر کوروناکی صورتحال دیکھنے کے بعد عہد تو قائم رہا دل بھی مصمم ارادہ کرچکا تھا کہ اس عہد کو وفا کیا جائے گاپھر ایک دن ہوا کچھ یوں کہ روت ہی بدل گئی! ہمارے محلہ میں ہی ایک شخص جو ہمیشہ جب اس سے کوئی کام کہا گیا اس نے وقت دیا اور اخلاص و وفا کا پیکر بنا رہا کچھ بیمار پڑ گیا خیر اس کی تیمارداری ہوتی رہی اورکوشش کی گئی کہ اس کا جو بھی کام ہو کرنا درحقیقت سعادت عظمیٰ ہے اس تمام معاملہ کے دوران احتیاطی پہلوؤں کو جسقدر ہو سکا مدِنظر رکھا گیاپھر یوں ہوا کہ درد کی لذت بدل گئی !ایک صبح ایک ڈاکٹر نے یہ شبہ ظاہر کر دیا کہ موصوف کورونا کا مریض ہے اب تھی ضمیر کی آواز کہ اس کو نہیں چھوڑنا کسی اور ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے پھر ایک اور ڈاکٹر نے بھی یہی وعید دے دی اور کہا کہ اس کو فوراً ہسپتال میں ایڈمٹ کرادیں پھر کیا تھا چارو ناچار دل شکستہ اس بھائی کو لے کر ہسپتال پہنچے اور داخل کرادیا اللہ جانتا ہے کہ دل پر کیا بیت رہی تھی کبھی دل کرتا کہ اس کے ساتھ ایک تصویر ہی لے لی جائے پھر دل میں خیال آیا کہ اس سے اس کے دل کو ٹھیس پہنچے گی بمشکل رونے پر قابو پایا اور گھرکی طرف ہزاروں خیالوں کو لے کر روانہ ہوئے ابھی گھر پہنچے ہی نہ تھے کہ محلہ میں کچھ ایسے دوست جو گھنٹہ قبل ایس۔

او۔پیز کی دھجیاں مل کر اڑایا کرتے تھے مجھے دیکھ کر یوں بھاگنے لگے جیسا کہ بچپن میں ایک فلم لگا کرتی تھی جس میں ایک ڈرائیکولا جس کسی کو دانت لگادیتا وہ بھی ڈرائیکولا کی شکل اختیار کرلیتا تھا اس زمانے میں تو یہی سمجھ آتی تھی پھر بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ تو زومبیز بن جاتے ہیں خیر یہ اصطلاح بھی سمجھانے کا وقت نہیں خیر اب محسوس ہونے لگا کہ ہم بھی زومبیز بن چکے ہیں۔ گھر پہنچ کر سب سے پہلا کام تو یہ کیا کہ ایس۔او۔پیز کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے حفاظتی سامان شاپر میں بند کر کے ڈسٹ بن کی نظر کر دیا پھرجس لباس میں تھے اسی میں نہاتے رہے اور پھر وہ لباس خود دھویا یہ شادی کے بعد پہلی بار تھا کہ کپڑے دھونے کا موقع ملا تو دل میں بیگم کے لیے تشکر کے جذبات بھی موجزن ہوتے دکھائی دیئے۔اب مرحلہ شروع ہوا کہ جس کا تھوڑا بھی بلند سماجی قد تھا یا وہ سمجھتا تھا کہ اس کو کسی قسم کی برتری حاصل ہے اس نے اپنی توپوں کا رُخ ہماری طرف کردیا اگر کہا جائے کہ ۹۹فیصدی لوگ تو محض یہی سمجھنے لگے کہ میں کورونا کا مریض بن چکا ہوں اب بشری کمزوری کہا جائے یا پھر نفسیاتی دباؤ ہؤا کچھ یوں کہ پوری رات انہی اندیشوں میں گزارنے لگے خیر مرتا کیا نا کرتا دل شکستہ ونہ گرفتہ دعا کی طرف توجہ ہوئی اور اب دعا یہ ہورہی ہے کہ اے اللہ جس مریض کو لے کر گئے ہیں اس کی رپورٹ نیگٹو آجائے پھر ستم ظریفی یہ کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں اور رپورٹ بھی جلدی آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اللہ اللہ کر کے چار دن بعد صبح ایک دوست کا فون آیا اور اس نے کہا کہ جس مریض کو آپ لے کر گئے تھے اس کی رپورٹ نیگٹو آئی ہے اب خوشی کی انتہاء نہ رہی۔اب ۹۹ فیصدی لوگوں کے علاوہ وہ جو ایک فیصد لوگ تھے جنہوں نے دعائیں اور تسلیاں دی تھیں باری باری ان کا شکریہ ادا کرنے کا دل چاہا اور جسقدر ہوسکا ادا کیا اور سب سے بڑھ کر اس خدا کا شکر ادا کیا جس نے اس بھائی کو بھی صحت دی اور مجھے بھی اس ابتلاء سے نکال دیا۔اب قصہ مختصر یہ کہ میرے بھائیو! خدارا ایس۔او۔پیز کا خیال رکھو احتیاط بھی کرو مگر اپنے وطن عزیز کو بچانے کے لیے اور انسانیت کو بچانے کے لیے اس ہمدردی کو نہ چھوڑو جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں کیا ہے

{ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ } (سورۃ البلد آیت 18)

پھر وہ اُن میں سے ہو جائے جو ایمان لے آئے اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور رحم پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کرتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اصحاب الیمین یعنی دائیں طرف والے ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

دوسری طرف اس حدیث قدسی پر بھی نظر رکھیں

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلْ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟(مشکوٰۃ المصابیح کتاب ا لجنائز باب عیادۃ المریض وثواب المرض الفصل الاول)

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ عز وجل کہے گا اے ابن آدم ! میں بیمار ہوا تھا اور تو نے میری عیادت نہیں کی ؟ بندہ کہے گا کہ اے میرے رب میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تُو تو رب العٰلمین ہے ؟اللہ فرمائے گا کہ کیا تجھے پتہ نہیں چلا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تو نے اس کی عیادت نہ کی؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے ہاں پاتا؟۔

پھر زمانہ کے امام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا تو یہ شعر ہی اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے اگر دل میں ہو خوف کردگار

مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمت خلق است

ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسمم ہمیں راہم

گزارش یہ ہے کہ میرا مقصد ہرگز اور ہرگز یہ نہیں کہ دیوانوں کی طرح دیوار سے سر ٹکرایا جائے نہ ہی میرا یہ مقصد ہے کہ انسان احتیاطی پہلوؤ ں کو چھوڑ کر مریض کے ساتھ خود بھی مریض بن جائے مگر میرا مقصد یہی ہے کہ تمام احتیاطی تقاضے پورے کر کہ گھرکے باہر کسی کو مرتا دیکھ کر گھر کا دروازہ بند نہ کر دیا جائے اور نہ ہی یہ کیا جائے کہ اگر خود کوئی کام نہ کرسک رہے ہوں تو جو شخص یہ کام کرنے لگے اس کو معاشرہ میں اچھوت بنادیا جائے میری التجاء ہے کہ جاگنا پڑے گا نہیں تو مشکل ہوجائے گی اور کہیں ہماری بھی اس بے بس انسان کی طرح ویڈیو نہ بن رہی ہو اس لیے ہوش کرو ہوش کرو۔

ایک اوربات یہ کہ گورنمنٹ کی طرف سے ٹائیگر فورس ایک بہت اچھا قدم ہے مگر یاد رکھو کہ اس میں نام لکھوالینا اور موصول شدہ ایس۔ایم۔ایس کا چرچا کرلینا کافی نہیں بلکہ یاد رکھیں کہ ٹائیگر فورس آپ تب بنیں گے جب آپ کے اندر کا ٹائیگر بے حس اور خواب غفلت میں نہ ہوگا!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *