منافقت سے چھٹکارا

شعبہ پاکستان

چھ جون2020ء کےروزنامہ جنگ میں ایک کا لم بعنوان ’پاکستان کا مسٔلہ نمبر ون‘ شائع ہوا ہے جس میں کالم نگار نے تحریر فرمایا ہے کہ:

تحریر: جمیل احمد بٹ

’ہم اس وقت ہر طرح کی ذلّتوں کا شکار ہو رہے ہیں‘۔ اوریہ سوال اٹھایا ہے کہ ’یہ پیاراوطن روز بروز زوال اور انحطاط کی طرف کیوں جا رہا ہے؟‘

انہوں نے اس کی وجہ منافقت فرمائی ہے۔اوراس کی تائید میں مزید لکھا ہےکہ ’پاکستان میں ہر طبقے میں خیانت کی وبا آخری حدوں تک سرایت کر چکی ہے‘۔ ’پاکستانی قوم کو بغیر کسی تامّل کے دنیا کی سب سے زیادہ جھوٹی قوم قرار دیا جاسکتا ہے‘۔ ’وعدہ خلافی تو اس قوم کا طرّہ امتیاز بن گیا ہے‘۔ ’پہلے تو عوامی سطح پر یہ وبا (گالم گلوچ) عام تھی اس وبا نے سیاست اور میڈیا کو بھی اپنئ لپیٹ میں لے لیا ہے۔‘ ’اس وقت ہم اس ملک میں ایک طرف ایسے ایسے مظالم دیکھ رہے ہیں کہ انسان تو کیا وحشیوں سے بھی اس کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن دوسری طرف ہم بزدل ترین اور خوشامدی قوم بن گئے ہیں‘۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ منافقت باطن کا ظاہر کے مطابق نہ ہونا ہے۔

کیا یہ پھیلی ہوئی منافقت آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق نہیں کہ ’وہ زمانہ آتا ہے کہ اسلام کا محض نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے محض الفاظ رہ جائیں گے۔اس زمانے کے لوگوں کی مساجد بظاہر تو آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔اور ان کے علما آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے ان سے ہی فتنہ پیدا ہوگا اور ان ہی میں لوٹ جائے گا‘۔

(ترجمہ از مشکواۃ کتاب العلم)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:

اگر نمونہ یہودخواہی کہ بینی علماء سوط کہ طالب دنیا باشد

یعنی اگر یہود کا نمونہ دیکھنا ہو تو علماء سوط کو دیکھ لو جو دنیا کے پیچھے پڑ چکے ہیں۔

(الفوز الکبیر ،صفحہ10)

کالم نگار نے نے اس مسٔلہ کا حل یہ تجویز فرمایا ہے کہ ’اس کا واحد راستہ بس یہی ہے کہ لوگوں کو سچ بولنے دیجئے‘۔

سوال یہ ہے کہ لوگوں کو سچ بولنے سے روک کون رہا ہے؟ کیا لوگ خود با رضا و رغبت جھوٹ نہیں بول رہے؟

یہ اسلام جو تم نے اختیار کر رکھا ہے ،کیا یہی اسلام ہے جو نبی ﷺ نے سکھلایا تھا۔کیا ہماری رفتار و گفتار اور کردار میں وہی دین ہے جو خدا نے نازل کیا تھا؟

پس اصل حل تو ترک ِ منافقت ہے۔ کہ دل میں اس ایمان کو جگہ دی جائے جس کا دعویٰ زبان پر ہے۔ ایسا ہونے کا آسمانی نظام حضرت نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ ’اگر ایمان ثرّیا ستارے تک بھی چلا گیا تو ان (اہل ِفارس) میں سے کچھ لوگ اسے واپس لے آئیں گے‘۔ ( ترجمہ ازبخاری کتاب التفسیر سورۃ جمعہ اور مسلم کتاب الفضائل)

یہ واقعہ سب کے سامنے ہے کہ جن لوگوں سے اس علاج سے فائدہ اٹھایا وہ پھر سے مومن ہوگئے ۔ اسی ماحول میں رہتے ہوئے وہ مختلف انسان ہو گئے۔ ان کے ظاہر باہر ایک ہو گئے۔ وہ امانت دار، سچے، وعدہ کے پابند اور زبان کے پاک ہوگئے۔ اللہ کے ساتھ بندوں کے حقوق کی ادائیگی ان کا نصب العین ٹھہرا۔ دین کی عظمت اور سربلندی کے لئے اپنے اموال، اوقات، عزت اورجانوں کی قربانی ان کا طریق ہوا۔ چار سو نا انصافیوں ، حق تلفیوں اور گالم گلوچ پرانہوں نے کمال صبر سے صرف ِ نظر کر کے اپنے رب کے سامنے عاجزانہ دعاؤں کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کی دی ہوئی تسکین سے مسکراتے چہروں کے ساتھ پانچ ۔ چھ نسلوں سے ہر ظلم کوبرادشت کرنے کی توفیق پائی۔اس کے صلہ میں اللہ نے ان پر اپنا فضل کیا اور انہیں انعامات سے نوازا۔ انہیں خود سے تعلق میں بڑھایا۔ انہیں قبولیت دعا کی نعمت دی۔ انہیں دنیا میں ان جیسے علم و قابلیت رکھنے والے بے شمار دوسروں سے ممتاز کیا۔ انہیں اعلی مناصب اور ان میں بہترین کار کردگی دکھانے کے قابل کیا۔ انہیں ملک اور قوم کے لئے سول ، فوجی اور ہر دیگر میدان میں بار بار نیک نامی کمانے اور شان بڑھانے والا بنایا۔ ان لوگوں کا نیکی کی راہ پر کامیابی سے چل سکنا اور اللہ کے ہاں اس کی قبولیت سےظاہر ہوتاہے کہ منافقت سے چھٹکارا کی اصل راہ یہی ہے۔ یہ راہ ہر شنوا کان، بینا آنکھ اور روشن دل کے لئے کھلی ہے۔

؎ آگے بڑھ کے جو اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *