بجواب صابر شاکر صاحب

شعبہ پاکستان

تحریر: جمیل احمد بٹ

جناب صابر شاکر صاحب۔ ۱۴مئی کے اپنے پروگرام میں آپ نےیہ بُھلا کر کہ قرآن کریم نے جھوٹ کو نجاست کہا ہے احمدیوں کے بارے میں جتنی باتیں کیں وہ سب سراسر من گھڑت اور جھوٹ تھیں۔جماعت احمدیہ کے حوالے سے پاکستان چیپٹر اور لندن ہیڈ کوارٹر کی اصطلاحات گھڑ کر ان کے الگ الگ موقف ظاہر کرنا توایسا جھوٹ ہے جس کا اصل جواب صرف ایک آیت قرآنی ( آل عمران :۶۲) کا آخری حصہ ہے۔کاش آپ جانتے کہ جماعت احمدیہ اور اس کے خلیفہ کا باہم رشتہ جسم اور روح جیسا ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم لاشہ ہے اسی طرح خلیفہ کے بغیر جماعت۔خلیفہ ہر احمدی کے دل کی دھڑکن ہے اور ہم اسے دیکھ کر ہی جیتے ہیں۔اس کا وجود ہم پر ایک گھنے سایہ کی طرح ہے جس کے تلے ہم ہر تلخی کو بھول کر خوش و خرم رہ رہے ہیں۔ہمارے چہروں کی مسکراہٹ اس کےمسکراتے چہرہ کی رہیں ہے۔ ہم اپنا ہر دکھ سکھ اس سےشیٔر کرتے ہیں اور اس کی رہنمائی میں اپنی زندگیوں کے بڑے بڑے فیصلہ کرتے ہیں۔دنیا کے دو سو سے زائد ملکوں میں آباد مختلف قوموں، رنگوں اور زبانوں والےاحمدی اس کے یکساں مطیع اور فرمانبردار ہیں او ر یکساں اس کی محبت کے اسیر۔مختصر یہ کہ؎

 لطفِ مے تجھ سے کیا کہوں غالب

ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں

اور آپ کا یہ کہنا کہ پاکستان کے احمدی کسی کمیٹی کی رکنیت کے لئے خود کو غیر مسلم کہنے کو تیارہیں محض سفید جھوٹ اور خام خیالی ہے۔احمدی جو کلمہ لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ پر ایمان کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کی محبت میں سرشار ہیں۔ قرآن کو اپنی شریعت مانتے ہیں ۔اسے پڑھتے ، یاد کرتے اور اس پر عمل کرتے ہیں ہر گز آں حضور ﷺ کا دامن چھوڑ نہیں سکتے۔ ان کو یہی تعلیم ہے۔ اور یہی نمونہ ان کے لئے مثال ہے کہ حضرت بانی ٔ جماعت نے خود پر ہونے والے سارے انعامات ِ الٰہیہ کو اپنے آقا آںحضور ﷺ کا فیض قرار دیا اور یہی اعلان فرمایا کہ؎

 و ہ ہے میں چیز کیا ہوں

بس فیصلہ یہی ہے

اور آپ کا یہ کہنا کہ پاکستان کے احمدی سسٹم کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں ایک اور بڑا جھوٹ اور خوش فہمی ہے۔آپ کا یہ سسٹم ہے کیا؟ بیشتر بے علم، بد اخلاق، کرپٹ ، ایک دوسرے کو کافر کافر کہتے، مسالک۔زبانوں اور علاقہ کی بنیا پر ٹکڑے ٹکڑے اور باہم دست و گریبان افراد کی ایک بھیڑ اور ان پر ویسے ہی اکثر بد کردار اور کرپٹ افراد پر مشتمل حکومت، عدلیہ اور انتظامیہ ۔ اور ان سب پر مسلط مذہب کا کاروبار کرنے والے اور خود کو علمائے دین کہلوانے والےافراد کا وہ ٹولہ جن کو آں حضرت ﷺ نے بد ترین مخلوق اور سؤر اور بندرفرمایا اور جس کی حرکتوں سے ہر روزان پیشگویئوں کی تصدیق ہوتی ہے۔

کوئی احمدی باقائمی ہوش و حواس اپنی جنّت کو چھوڑ کر اس سسٹم کا حصہ کیوں بنے گا؟

پھر ایسا کرنے کی وجہ آپ کے بقول یہ ہے کہ انہیں پاکستان میں تمام حقوق حاصل ہیں اور مذہبی آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ دونوں سخت مضحکہ خیز جھوٹ ہیں۔مذہبی آزادی کا یہ حال ہے کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق احمدیوں کے لئے اپنے عقیدہ کا اظہار بھی جرم ہے۔ وہ اذان نہیں دے سکتے۔ مسجد کو مسجد اور نماز کو نماز نہیں کہہ سکتے۔سلام نہیں کرسکتے ۔ اللہ کے ذکر میں انشااللہ، الحمدللہ، ماشااللہ نہیں کہہ سکتے۔عید پر قربانی نہیں کرسکتے۔ ان کی تمام مذہبی کتب بحق سرکار ضبط ہیں اور یہ کتب وہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ حتیٰ کہ اپنی شریعت کی کتاب قرآن کریم اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ہیں۔اگر وہ ان میں سے کوئی ’جرم‘ کریں تو تین سال قید کے سزا وار ہوتے ہیں۔ پھرآخر وہ کون سی مذہبی آزادی ہے جو آپ کی دانست میں احمدیوں کو پاکستان میں حاصل ہے؟

رہ گئے شہری حقوق تو ان کو حال بھی سِوا ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کو ووٹ کا حق نہیں۔ سول اور فوجی ملازمتوں کے راستے ان پر بند ہیں۔ انتظامیہ اورعدالتیں ان کے خلاف جانبدار ہیں۔ان کا پریس مکمل طور پر بند ہے۔ وہ کوئی اخبار، رسالہ اور کتاب شائع نہیں کر پا رہے۔میڈیا پر ان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے یک طرفہ پروپاگنڈا عام ہے۔ آپ کی اپنی مثال سامنے ہے۔جو جس کے منہ میں آئے وہ اس اطمینان سے کہہ سکتا ہے کہ پیمرا اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیں گے۔ان کے قومیائے گئے تعلیمی ادارےکئی دہایئوں پہلے ادائیگی کے باوجود لوٹائے نہیں گئے۔ربوہ جس کی پچانوے فی صد آبادی احمدی ہے اس کا شہر کے انتظام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور شہر کی سڑکیں اور دیگر نظام مسلسل عدم توجہی کا شکار ہیں۔اپنے اس شہر میں انہیں اپنے اجتماعات اور سالانہ جلسہ کرنے کی اجازت نہیں ۔غرضیکہ احمدیوں سے پاکستان میں گزشتہ ۴۵ سال سے تیسرے درجے کے شہریوں کا ساسلوک ہو رہا ہے ۔اس پر آپ کا یہ دعویٰ کہ انہیں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے زخموں پر نمک چھڑکنا نہیں تو اور کیا ہے؟

صابر شاکر صاحب یہ بےسروپا جھوٹ بولنے سےسستی شہرت اور بہترریٹنگ کےآپ کے طلوب دنیوی فائدےتو شاید آپ کوحاصل ہو جائیں۔ لیکن یاد رہے کہ کل آپ اس سب کے لئے جواب دہ ہوں گے اور اللہ کی عدالت پاکستان کی عدالتوں جیسی نہیں ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *