9 سو سال قدیم ’التت کا شاہی قلعہ‘

شعبہ پاکستان

تحریر:ہدایت حسین

تاریخی قلعے کے ذکر سے قدیم زمانے کی بودوباش اور رہن سہن کے مناظر نگاہوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف خطّوں میں متعدد تاریخی اہمیت کے قلعے موجود ہیں، جو ماضی کی شان دار داستانیں سناتے ہیں۔ ان ہی میں ایک وادئ ہنزہ، کریم آباد میں واقع التت کا 900سال پرانا قلعہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ 14 ویں اور 15ویں صدی کے دوران شمالی پاکستان میں کئی چھوٹی اور خودمختار ریاستیں موجود تھیں، جن میں وادئ ہنزہ اور وادئ نگر کی ریاستیں روایتی طور پر ایک دوسرے کی مخالف تھیں۔ یہ دونوں ریاستیں دریائے ہنزہ پر آمنے سامنے واقع تھیں۔

قدیم زمانے کے لداخ اور تبّتی طرزِ تعمیرکا ایک شاہ کار،برف پوش پہاڑوں اور بلند وبالا چوٹیوں کے درمیان وادئ ہنزہ میں ایک بڑی چٹان کے اوپر بنا عظیم الشّان التت کا شاہی قلعہ تاریخی اور دفاعی اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ یہ قلعہ مختلف درجوں میں تعمیر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر کے لیے بلتستان سے ماہرین بلوائے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں لداخ اور تبّت کا فنِ تعمیر نمایاں نظر آتا ہے۔ التت قلعہ پاکستان کے شمال میں گلگت بلتستان کے دارالحکومت، گلگت سے تقریباً 100کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع ہنزہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں التت میں واقع ہے،جسے ریاست ہنزہ کے بادشاہ نے شاہی محل کے طور پر تعمیر کروایا تھا، لیکن بعد میں دفاعی طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔ بلاشبہ، التت قلعہ، گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم شاہ کار ہے۔ جس کی تعمیر میں لکڑی اور پتھر کا استعمال مہارت سے کیا گیا ہے۔اس کے چھوٹے دروازے اور اندر موجود پتھر کے قدیم تبّتی، کشمیری، روسی اور چینی برتن اُس دور کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ 8.5ریکٹر اسکیل تک کے زلزلے کو برداشت کرنے والا یہ قلعہ اُس زمانے کے ماہرینِ فنِ تعمیر کی خوبیوں کا واضح عکّاس بھی ہے۔ قلعے کے داخلی دروازے کے ساتھ پُرانے طرزکے استقبالیہ کمرے میں ایک مئے خانہ بھی موجود ہے۔ کمرے ہی سے متصل ایک عمودی قبر بھی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس دور میں شاہی خاندان کے ایک باغی شہزادے کو اس کے بڑے بھائی نے بغاوت کے جرم میں قلعے کے ایک ستون میں زندہ چُنوادیا تھا۔ اور پھر 2009ء میں قلعے کے تزئین و آرایش کے دوران اس عمودی قبر کے اندر باغی شہزادے کی باقیات کی تصدیق بھی ہوگئی۔ قلعے میں ایک جیل بھی موجودہے، جہاں باغی قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ قدیم شاہی کانفرنس روم میں وقت کے حکمران اور وزراء میٹنگز کرتے تھے۔ بادشاہ اور ملکہ کے لیے الگ الگ لِونگ رومز بھی موجود ہیں۔ جنگی حالات میں شہزادوں، شہزادیوں اور خاندان کے افراد کو پناہ دینے اور سرد موسم کی سختی سے بچانے کے لیے قلعے میں ایک خصوصی حفاظتی کمرا بھی تعمیرکیا گیا تھا۔

تاریخی روایات سے پتا چلتا ہے کہ 14ویں صدی سے 1974ء تک گلگت بلتستان میں کئی ایک چھوٹی بڑی خود مختار ریاستوں نے حکومت کی، ان میں وادئ ہنزہ اور وادئ نگر کی ریاستیں خصوصی اہمیت کی حامل تھیں۔ یہ دونوں ریاستیں آمنے سامنے واقع ہیں اورقدیم دَور میں روایتی طور پرایک دوسرے کی مخالف ہوا کرتی تھیں۔ ان ریاستوں کے حکمرانوں کو تھامو یا میر کے نام سے جانا جاتا تھا، جن کے درمیان آپس میں کئی جنگیں بھی ہوئیں۔ التت کا قلعہ جس علاقے میں واقع ہے، وہاں سے قدیم شاہ راہ ریشم سے کبھی تاجروں کے قافلے گزرا کرتے تھے۔ قدیم سلک رُوٹ کاگیٹ وے کہلانے والے ہنزہ اور نگر کی دفاعی اہمیت کے پیشِ نظر مہاراجہ کشمیر، روس اور دیگر عالمی قوتوں نے اس علاقے پر قابض ہونے کی غرض سے کئی حملے کیے۔

دفاعی حکمتِ عملی کے پیشِ نظر قلعے میں ایک واچ ٹاور بھی نصب کیا گیا، جس کا مقصد ان جنگوں اور دشمن کی پیش قدمی کو روکنا اور علاقے کی نگرانی کرنا تھا۔ تاہم، اب یہ واچ ٹاور سیّاحوں کو پُرکشش پہاڑی چوٹیوں کی سرزمین وادئ نگر میں موجود راکاپوشی، دیران اور گولڈن پیک کے ساتھ ساتھ وادی کے پُرفضا مقامات کے حسین نظاروں سے لُطف اندوز کرواتاہے۔ 400سو سال قبل قلعے کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیرکی گئی، جہاں حکمران عبادت کیا کرتے تھے، جب کہ قلعے سے ملحق پھانسی گھاٹ میں باغیوں اور سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دے کر پہاڑ سے نیچے پھینک دیا جاتا تھا۔ 1891ء میں انگریزوں نے علاقے پر قبضے کے بعد قلعے کی مزید توسیع کی۔ بعدازاں، وقت کے بے رحم تھپیڑوں، حالات کے دھاروں اور سماجی و سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے قلعے کی رونق ماند پڑنے لگی، تو مقامی انتظامیہ نے 2006ء میں آغا خان فاؤنڈیشن کے تعاون سے اس قدیم قلعے کی تعمیرِنو کے کام کا آغاز کیا۔اور پھر تین سال کی مدّت میں قلعے کی تزئین و آرایش کا کام مکمل ہونے کے بعد 2009ء میں سیّاحوں اور عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔

☼☼☼

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *