1857 کی ’جنگِ آزادی‘: جب دلی نے موت کو رقصاں دیکھا

شعبہ انٹرنیشنل

تحریر: ریحان فضل

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے، میں وہ ایک مشت غبار ہوں

آج کے دور میں ایک عام آدمی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ ان اشعار کے خالق آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے1857 میں انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی آزادی کی پہلی جنگ میں ہندوستانیوں کی قیادت کی ہو گی۔

11 مئی 1857 کو پیر تھا اور رمضان کی 16 تاریخ۔صبح سات بجے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ندی کنارے لال قلعے کے تصویر خانے میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔اسی وقت انھیں جمنا پار ٹول ہاؤس سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔

انھوں نے اس کی وجہ جاننے کے لیے فوراً اپنا ہرکارہ وہاں بھیجا اور وزیراعظم حکیم احسان اللہ خان اور قلعے کی حفاظت کے ذمہ دار کیپٹن ڈگلس کو بھی طلب کر لیا۔ہرکارے نے آ کر بتایا کہ انگریزی فوج کی وردی میں ملبوس کچھ ہندوستانی سواروں نے برہنہ تلواروں کے ساتھ دریائے جمنا کا پل عبور کیا تھا اور انھوں نے دریا کے مشرقی کنارے پر واقع ٹول ہاؤس کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی تھی۔یہ سن کر بادشاہ نے شہر اور قلعے کے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دے دیا۔شام چار بجے ان باغیوں کے رہنما نے بادشاہ کو پیغام بھجوایا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ باغی دیوان خاص کے احاطے میں جمع ہو گئے اور اپنی بندوقوں اور پستولوں سے ہوائی فائرنگ کرنے لگے۔

’باغی بادشاہ کی آشیرباد کے خواہشمند تھے‘

دلی میں اس زمانے کے بڑے رئیس عبدالطیف نے 11 مئی کے اپنے روزنامچے میں لکھا: ’بادشاہ کی مثال وہی تھی جو شطرنج کی بساط پر شہ دیے جانے کے بعد بادشاہ کی ہوتی ہے۔‘بہت دیر چپ رہنے کے بعد بہادر شاہ ظفر نے کہا کہ ’میرے جیسے بزرگ آدمی کی اتنی بےعزتی کیوں کی جا رہی ہے، اس شور کی وجہ کیا ہے؟ ہماری زندگی کا سورج پہلے ہی اپنی شام تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ہماری زندگی کے آخری دن ہیں۔ اس وقت ہم صرف تنہائی چاہتے ہیں۔‘بعد میں چارلس میٹکاف نے اپنی کتاب ’ٹو نیشنز نیریٹو‘ میں لکھا: ’حکیم احسان اللہ خان نے سپاہیوں سے کہا آپ انگریزوں کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور مقررہ تنخواہ کے عادی ہیں۔ بادشاہ کے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے۔ وہ کہاں سے آپ کو تنخواہ دیں گے؟‘

’سپاہیوں نے جواب دیا کہ ہم سارے ملک کا پیسہ آپ کے خزانے میں لے آئیں گے۔ بہادر شاہ ظفر نے کہا کہ میرے پاس نہ تو فوجی ہے، نہ ہتھیار اور نہ ہی پیسہ، تو انھوں نے کہا ہمیں صرف آپ کی حمایت چاہیے۔ ہم آپ کے لیے سب کچھ لے آئیں گے۔‘چارلس لکھتے ہیں ’بہادر شاہ ظفر تھوڑی دیر تک خاموش رہے۔ فوری فیصلہ نہ کر پانا ان کی شخصیت کا سب سے بڑا نقص تھا لیکن اس دن بہادر شاہ ظفر نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی اور ہاں کر دی۔’وہ ایک کرسی پر بیٹھے اور سبھی سپاہیوں نے باری باری ان کے سامنے آ کر سر جھکایا اور انھوں نے ان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا۔ سپاہیوں نے قلعے کے کمروں پر قبضہ کر لیا اور کچھ نے تو دیوان عام میں اپنے بستر لگا دیے۔‘

چاندی کا تخت اور نئے سکے

بادشاہ نہ تو اتنے بڑے لشکر کو قابو میں رکھ سکتے تھے اور نہ ہی ان کا انتظام کر سکتے تھے لہٰذا وہ خود لشکر کے قابو میں آ گئے۔اگلے دن بادشاہ نے اپنا شاہی لباس زیبِ تان کیا۔ چاندی کے تخت پر رونق افروز ہوئے۔بادشاہ کے نام پر سکے جاری کیے گئے پھر پھر ایک بڑی توپ داغے جانے کی آواز سنائی دی۔

انگریزوں کے خلاف بغاوت کیسے اور کیوں شروع ہوئی

اس سب کی شروعات 10 مئی 1857 کو میرٹھ میں اس وقت ہوئی تھی جب بنگال لانسر کے سپاہیوں نے بغاوت کر کے دلی کی جانب کوچ کیا تھا۔ 1857 کے واقعات پر انتہائی اہم تحقیق کرنے والی معروف تاریخ دان رعنا صفوی بتاتی ہیں: ’ایسی بندوقیں آئی تھیں جس کے کارتوسوں کو منہ سے کاٹ کر بندوق میں بھرنا پڑتا تھا۔ اس زمانے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اس کے اندر گائے کی اور خنزیر کی چربی ہے لہٰذا جو مسلمان تھے وہ بھی ان کو چھونے سے کترا رہے تھے اور ہندو بھی ان کو چھونے سے کترا رہے تھے۔‘رعنا صفوی کے مطابق ’اس کے علاوہ بھی اسباب تھے کہ انھیں سمندر پار لڑائی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ تو برہمنوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پانی یعنی سمندر پار کر لیا تو ان کی ذات ختم ہو جاتی ہے۔ ان کی ترقی بھی صرف ایک حد تک ہوتی تھی۔ ہندوستانی سپاہی صوبے دار سے آگے نہیں جا سکتے تھے۔ اس طرح کی ان کی بہت ساری شکایتیں تھیں۔‘کچھ لوگوں نے اسے غدر کہا تو کچھ نے جنگ آزادی کا نام دیا۔

دلی والوں نے باغیوں کا خیرمقدم نہیں کیا

ابتدا میں دلی والوں نے ہاتھ پھیلا کر ان باغیوں کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ کچھ حلقوں یہاں تک کہ بہادر شاہ کے قریبی لوگوں نے بھی ان کی مخالفت کی تھی۔کہا گیا کہ ان باغیوں نے بھی شہنشاہ کا احترام نہیں کیا اور اس معاملے میں دربار کے قوانین کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا۔ درباریوں کو اعتراض تھا کہ وہ دربار میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے نہیں اتارتے اور شہنشاہ کے سامنے ہتھیار لے کر جاتے تھے۔مشہور تاریخ دان اور کتاب ’بسیج 1857: وائسز آف دہلی‘ کے مصنف محبوب فاروقی بتاتے ہیں کہ ’دلی والے ناراض تھے لیکن اس سے ہم ایسا کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ دلی والے انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑنا نہیں چاہتے تھے۔’بات یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی ہر آدمی اپنے حساب سے لڑنا چاہے گا۔ کوئی یہ نہیں چاہے گا کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی میں آپ کے گھر کے اوپر 40 سپاہی آ کر بیٹھ جائیں۔‘’جب ہم آزادی کی لڑائی مہاتما گاندھی یا کانگریس پارٹی کے ساتھ لڑ رہے تھے، بھگت سنگھ کے ساتھ لڑ رہے تھے تو بھی ہندوستان میں ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے گھر پر کوئی آنچ آئے یا پولیس ان کے گھر پر آ جائے۔ یہی بات 1857 پر بھی صادق آتی ہے۔‘

انتشار کے باوجود انتظام برقرار تھا

کہا جاتا ہے کہ ان واقعات نے دلی والوں کی زندگی میں بہت ہی اتھل پتھل مچا دی لیکن محبوب فاروقی کا خیال ہے کہ تمام تر انتشار کے باوجود نظام پہلے ہی کی طرح قائم تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ’1857 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت افرا تفری تھی، بہت بدنظمی تھی، کوئی تنظیم نہیں تھی، کوئی کنٹرول نہیں تھا، کوئی ڈھانچہ نہیں تھا لیکن میں اپنی کتاب میں یہ بات کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔’ظاہر سی بات ہے کہ ڈیڑھ لاکھ شہریوں کے درمیان اگر 70 یا 80 ہزار فوجی آ جائيں گے تو کچھ نہ کچھ افرا تفری تو پھیلے گی۔ اگر آج دلی کی جتنی آبادی ہے اس میں 30 لاکھ فوجی آ کر بیٹھ جائیں تو شہر کا کیا حال ہو گا۔‘ ان کے مطابق ’اس کے باوجود جو بہت ہی حیرت انگیز اور عجیب و غریب چیز ہے کہ اگر کمانڈر ان چیف کوتوال سے کہہ رہا ہے کہ چار سپاہی جو ڈیوٹی پر نہیں گئے تھے ان کو پکڑ لاؤ اور چار سپاہی پکڑ لیے جاتے ہیں اور وہ آ جاتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ یہ اچھا نظم و ضبط ہے۔ ‘ ’آپ کو محاذ پر چار سو چارپائیاں چاہییں اور وہ آپ کو مل رہی ہیں تو یہ فراہمی کا ایک طریقہ ہے۔ یہ آسمان سے تو نہیں اتر رہیں، کسی نے کہا، کوئی گیا، کوئی لے کر آیا اور فورا ہی اس کا پیسہ دیا گیا۔ یہ تو ایک مثال ہے کہ لڑائی صرف سپاہی نہیں لڑتے ہیں۔ لڑائی جب آپ لڑتے ہیں تو آج کے زمانے میں بھی اگر آپ کو ٹاٹ کی بوریاں چاہییں، آپ کو پانی چاہیے، قلی چاہیے، مزدور چاہیے تو وہ سب ایک سپاہی کے ساتھ چار مزدور ہوتے ہیں تو وہ سب کہاں سے آ رہے تھے؟

56 برطانوی مارے گئے

12 مئی کی صبح دلی انگریزوں سے پوری طرح خالی ہو چکی تھی لیکن چند انگریز خواتین نے قلعے کے باورچی خانے کے پاس کچھ کمروں میں پناہ لے رکھی تھی۔ باغیوں نے بادشاہ کی مخالفت کے باوجود ان سب کو قتل کر دیا۔رعنا صفوی کہتی ہیں ’11 اور 12 کو جب انھوں نے حملہ کیا اور انگریزوں پر وار کیا تو اس وقت کافی انگریز تو شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور کافیوں کو انھوں نے مارا بھی۔ کچھ عورتوں نے قلعے میں آ کر پناہ لی۔ وہیں پر انھوں نے دشمنی میں 56 لوگوں کو مار ڈالا۔ ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے جبکہ ان میں ایک دو مرد بھی تھے۔‘ ان کے مطابق ’بہادر شاہ ظفر کے خلاف جب مقدمہ چلا تو ان کے خلاف سب سے بڑا الزام یہی تھا کہ انھیں آپ نے مروایا۔ حالانکہ ظہیر دہلوی کی کتاب اگر پڑھیے تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت 1857 کے غدر کے وقت قلعے میں موجود عینی شاہدین تھے وہ بتاتے ہیں کہ بادشاہ نے بہت کہا تھا کہ یہ کسی بھی مذہب میں نہیں لکھا ہے کہ تم معصوموں کو مارو۔‘

انگریزوں کی واپسی اور سزائیں

کچھ دنوں کے بعد ہی بغاوت کرنے والوں کے قدم اکھڑنے لگے اور دلی سے بھاگ نکلنے والے انگریزوں نے واپسی کی۔ انبالہ سے آنے والے فوجیوں نے بازی پلٹ دی اور انگریز ایک بار پھر دلی میں داخل ہو گئے۔اور پھر شروع ہوا سزاؤں کا سلسلہ۔ اس وقت کے ایک برطانوی سپاہی، 19 سالہ ایڈورڈ وائبرڈ نے اپنے چچا گورڈن کو ایک خط میں لکھا تھا ’میں نے اس سے پہلے بھیانک مناظر دیکھے ہیں ، لیکن کل میں نے جو کچھ دیکھا ہے، میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میں پھر کبھی ایسا منظر نہیں دیکھوں۔‘ ’خواتین کو چھوڑ دیا گیا، لیکن اپنے شوہروں اور بیٹوں کی موت کے بعد ، ان کی چیخیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ مجھے ان پر ترس نہیں آیا لیکن جب میری آنکھوں کے سامنے معمر افراد کو جمع کر کے مار دیا گیا تو یہ میں مجھ پر اثرانداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔‘

محبوب فاروقی کہتے ہیں 1857 میں بہر حال افراتفری تھی اور کیوں نہ ہو کہ آپ اس بڑے پیمانے پر ایک ورلڈ پاور اور سپر پاور کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں تو ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ شہر میں جو کچھ جیسا تھا چلتا رہے گا۔ ظاہر سی بات ہے شہر میں شدید دہشت کا ماحول تھا، شک کا ماحول تھا، لڑائی چل رہی تھی تو اس قسم کا ماحول تو ہو گا۔ تاہم ان کے مطابق1857 کی بغاوت کے بعد جس طرح سے شہر اور شہریوں کو جبر کا نشانہ بنایا گیا اور جو انگریزوں نے کیا اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔ دلی کے تمام شہریوں کو چھ مہینے تک شہر کے باہر رکھا گیا اور دلی والوں نے چھ مہینے تک سردی اور برسات میں کھلے آسمان تلے گزارے جبکہ محلوں کے محلے لوٹ لیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرزا غالب بھی اسی دلی میں تھے۔ دیکھیں کہ وہ اس سب سے کتنے دہشت زدہ ہوئے کہ انھوں نے 1857 کے بعد سے اپنی زندگی کے باقی 12 برسوں میں کل 11 غزلیں کہی ہیں۔ یعنی ایک سال کی ایک غزل بھی نہیں بنتی ہے۔ تو شاعر مرزا غالب اور فنکار مرزا غالب یا جو وہ پوری کھیپ تھی 1857 کے بعد ختم ہو گئی۔ 1857 کے بعد سے ہندوستانی کبھی اس اعتماد کے ساتھ نہ انگریزوں سے مل پائے نہ بات کر پائے جو اس سے قبل ان میں موجود تھی۔ 1857 کی لڑائی ہندوستانی کی آخری لڑائی تھی جو وہ اپنی شرائط پر لڑ رہے تھے۔ اس کا مطلب اپنے ہتھیاروں پر نہیں بلکہ اپنی ذہنی شرائط پر اپنی نفسیاتی شرائط پر۔

بادشاہ نے ہتھیار ڈال دیے

انگریز دلی میں داخل ہوئے تو بہادر شاہ ظفر لال قلعے کے عقب سے اپنی پالکی میں بیٹھ کر پہلے حضرت نظام الدین کے مزار پر گئے اور پھر وہاں سے ہمایوں کے مقبرے پر جہاں پر 18 ستمبر 1857 کو کیپٹن ولیم ہاجسن نے انھیں گرفتار کیا۔بعد میں سی پی ساؤنڈرس کو تحریر کردہ خط میں انھوں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ’بادشاہ، مرزا الٰہی بخش اور مولوی کے ساتھ ایک پالکی پر باہر آئے۔ ان کے پیچھے بیگم اپنے بیٹے مرزا جوان بخت اور والد مرزا قلی خان کے ساتھ باہر نکلیں۔ پھر پالکیاں رک گئیں اور بادشاہ نے پیغام بھجوایا کہ وہ میرے منہ سے سننا چاہتے ہیں کہ ان کی جان بخش دی جائے گی۔میں اپنے گھوڑے سے اترا اور میں نے بادشاہ اور ان کی بیگم کو یقین دلایا کہ ہم آپ کی زندگی کی ضمانت دیتے ہیں بشرطیکہ کہ آپ کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ان کی بےعزتی نہیں کی جائے گی اور ان کے وقار کو برقرار رکھا جائے گا۔ بہادر شاہ ظفر کی جان تو بخش دی گئی لیکن ان کے تین بیٹوں خضر سلطان، مرزا مغل اور ابوبکر کو ہتھیار ڈالنے کے باوجود گولی مار دی گئی۔ولیم ہڈسن نے اپنی بہن کو ایک خط میں لکھامیں فطرتاً بےرحم نہیں ہوں لیکن مجھے ان تین بدبختوں سے چھٹکارا پا کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔‘

جب بادشاہ قیدی بنا

بادشاہ کو لال قلعے کی ایک کوٹھڑی میں ایک معمولی قیدی کی طرح رکھا گیا۔سر جارج کیمبل اپنی کتاب ’’میموائرز آف مائی انڈین کریئر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ بادشاہ کو ایسے رکھا گیا جیسے کسی جانور کو پنجرے میں رکھتے ہیں۔ بہادر شاہ ظفر کی نگرانی کے لیے تعینات لیفٹننٹ چارلس گریفتھ نے اپنی کتاب ’’ سیج آف دہلی‘‘ میں لکھا: ایک عام سی چار پائی پر مغل بادشاہ کا آخری نمائندہ بیٹھا ہوا تھا۔ ان کی لمبی سفید داڑھی تھی جو ان کے پیٹ تک آ رہی تھی۔ انھوں نے سفید رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اسی رنگ کا صافہ باندھ رکھا تھا۔ ان کے پیچھے دو اردلی کھڑے ہوئے تھے جو مور کے پنکھ سے بنے پنکھے سے ان پر پنکھا جھل رہے تھے۔ ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا ان کی آنکھیں زمین پر ہی گڑی ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق بادشاہ سے تین فٹ دور ایک دوسری چارپائی پر ایک برطانوی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے دونوں طرف سنگینیں لیے انگریز سنتری کھڑے تھے جنھیں حکم تھا کہ اگر بادشاہ کو بچانے کی کوشش کی جائے تو وہ فوراً اسے مار ڈالیں۔

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی اس حد تک بےعزتی کی گئی کہ انگریزوں کے گروہ کے گروہ انھیں دیکھنے آتے تھے کہ مغل بادشاہ دیکھنے میں کیسے لگتے ہیں۔ محمود فاروقی کہتے ہیں: بہادر شاہ ظفر کو قید کرنے کے بعد سے لال قلعے کی ایک کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا جہاں انگریز سیاح آ کر جس طرح آپ لال قلعے کو آج دیکھنے جاتے ہیں اسی طرح وہ ان کی کوٹھری میں جا کر انھیں دیکھتے تھے کہ یہ ہیں بہادر شاہ ظفر۔ جس آدمی کا جس بادشاہ ہندوستان کا دلی میں ہی یہ حال تھا تو ظاہر سی بات ہے کہ انھوں نے اپنی موت کی حسرت میں ہی باقی سال گزارے۔ یہاں سے انھیں رنگون بھیجا گیا اور اسی کے آس پاس رنگون کے بادشاہ کو مہاراشٹر لایا گیا۔

یہ انگریزوں کی دنیا بھر میں حکومت تھی کہ بادشاہوں کی تجارت ادھر سے اُدھر ہو رہی تھی۔ بہادر شاہ کے آخری آیام افسوس ناک اور دردناک ہیں۔ یہی وہ صورتحال تھی جس میں انھوں نے کہا:

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

ان پر جو کچھ گزرنا تھی میرا خیال ہے کہ 57 کے دوران اور اس کے بعد ان پر گزر چکی تھی۔ اس سے بُرا کیا ہو گا کہ تیموریہ جانشین اور بادشاہ ہندوستان کو آپ نے ایک کوٹھڑی میں رکھا ہوا ہے اور انگریز عورتیں اور بچے آ رہے ہیں ان کو دیکھنے کے لیے کہ اچھا یہ تھا بہادر شاہ!

بادشاہ کی موت

سات نومبر 1862 کو رنگون کے ایک جیل نما گھر میں کچھ برطانوی فوجی ایک 87 سالہ شخص کی لاش کو احاطے میں کھودی گئی قبر میں دفنانے کے لیے لے کر چلے۔ جنازے میں مرنے والے کے دو بیٹے اور ایک مولوی شامل تھے۔ کسی خاتون کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہ تھی۔بازار میں کچھ لوگوں کو اس کی بھنک پڑی تو انھوں نے جنازے میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن مسلح سپاہیوں نے انھیں قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔دفنانے سے قبل فوجیوں نے قبر میں چونا ڈال دیا تاکہ لاش جلد از جلد گل کر مٹی میں مل جائے۔ایک ہفتے بعد برطانوی کمشنر ایچ این ڈیویز نے لندن بھیجی گئی رپورٹ میں لکھا اس کے بعد میں بقیہ شاہی قیدیوں کی خبر لینے ان کی رہائش گاہ پر گیا۔ سب ٹھیک ٹھاک ہیں اور کسی پر اس بوڑھے کی موت کا اثر دکھائی نہیں دیا۔ ان کی موت گلے میں فالج کی وجہ سے ہوئی۔تدفین کی صبح پانچ بجے ان کا انتقال ہوا۔ ان کی قبر کے چاروں طرف بانس کی باڑ لگائی جا چکی ہے۔ جب تک یہ باڑ ختم ہو گی تب تک وہاں گھاس اس زمین کو ڈھانپ چکی ہو گی اور کسی کو علم نہیں ہو گا کہ مغلوں کا آخری بادشاہ یہاں دفن ہے۔(بشکریہ بی بی سی اُردو)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *