درس القرآن ماہ جون ۲۰۲۰

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ط وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۔ الَّذِیْنَ اَذَا اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ لا قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ قف وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ۔ ( سورۃ البقرۃ : 156تا 158 )

ترجمہ : اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔ ان لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔ (ترجمہ از حضرت مرزا طاہر احمد)

تشریح : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ : اس کے معنے ہیں ضرور ضرور ہمیں اپنی ذات کی قَسم ہے کہ ہم تمہیں انعام دینا چاہتے ہیں مگر کچھ تھوڑا خوف دے کر ۔

الْخَوْفِ : صوفی کہتے ہیں الٰہی خوف۔ فقہاء کے نزدیک یہ معنے ہیں کہ اکل حرام سے خوف اور شافعی کہتے ہیں جہاد کی تکلیف کا خوف۔

الْجُوْعِ : اس کی بھی تین صورتیں ہیں۔ (۱) روزہ ۔(۲) مال حرام ملتا ہے تو نہ لے اور اگر اس نہ لینے سے فاقہ آتا ہو تو اس فاقہ کو مقدم کرکے اسے برداشت کرے۔ (۳) بعض وقت اپنے پیٹ کو خالی رکھ کر دینی امور میں امداد دے۔

نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ : مالوں کی کمی کی بھی کئی صورتیں ہیں ۔ (۱) اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔ (۲) رشوت ، حرامزدگی، باطل سے مال ملتا ہے اسے نہ لیا۔ غرض نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ ہوتا ہے زکوٰۃ دینے سے، حرام سے بچنے سے یا کسی الٰہی حکمت کے ماتحت کسی چیز کے قبضہ سے نکل جانے سے۔

وَالْاَنْفُسِ: جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔ الثَّمَرَات : پھلوں کی زکوٰۃ ۔ اور اسے مراد اولاد بھی ہے۔

اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ : یعنی اگر خدا باوجود اس کا مالک، اس کا بادشاہ اور اس کا خالق و رب ہونے کے کوئی چیز لے لیتا ہے تو غم کی بات نہیں کیونکہ ہم نے بھی اسی کے حضور جانا ہے اور وہاں جا کر اس کا نعم البدل پانا ہے بلکہ اسی دنیا میں بھی۔ میرے نو لڑکے لڑکیاں (عبداللہ، اسامہ ، حفیظ الرحمن، عبدالقیوم، امۃ اللہ ، رابعہ،عائشہ ، امامہ) مرچکے ہیں ہر ایک کے مرنے پر میں نے یہی خیال کیا ہے کہ آخر ایک دن ہم نے جدا ہونا تھا یا میں نے مرنا تھا یا ان میں سے کسی نے۔ بہرحال خدا کے پاس ہمیں مر کر پھر جمع ہونا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اور بہت اولاد دے دی۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ

اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ : صَلَوٰۃ کہتے ہیں کہ بدی کا اثر اور سزا جس بات پر مرتب نہ ہو۔ ان خاصہ عنایات کا نام صَلَوٰۃ ہوتا ہے۔

رَحْمَۃٌ : یعنی علاوہ ان خاص عنایتوں کے عام رحمتوں سے بھی حصہ ملتا ہے۔ (یہ تو ایک دعویٰ تھا اب اس کا ثبوت اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔ )

الثَّمَرَات : جنگ میں بیٹے بھی مرتے ہیں اور کھیتی کی نگرانی نہیں ہو سکتی۔

مصائب شدائد پر صبر کرنے والوں کو اجر ملتے ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں آیا کہ ہر مصیبت پر اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ کر یہ دعا مانگو اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلفنی خیرًا منھا۔ اور قرآن شریف میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے والوں کے واسطے تین طرح کے اجر کا وعدہ ہے۔

وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۔ الَّذِیْنَ اَذَا اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَیعنی مصائب پر صبر کرنے والوں اور اِنَّا لِلّٰہِ کہنے والوں کو تین طرح کے انعامات ملتے ہیں۔

۱۔ صلوات ہوتے ہیں ان پر اللہ کے۔ ۲۔ رحمت ہوتی ہے ان پر اللہ کی۔ ۳۔ اور آخر کار ہدایت یافتہ ہو کر ان کا خاتمہ بالخیر ہوجاتا ہے۔

اب غور کرو جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسان کو ان انعامات کا تصور آجاوے جو اس کو اللہ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت ، مصیبت رہ سکتی ہے اور غم غم رہتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ پس کیسا پاک کلمہ ہے الحمد للہ اور کیسی پاک تعلیم ہے وہ جو مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے۔ یہ نہایت ہی لطیف نکتہ معرفت ہے اور دل کو موہ لینے والی بات۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف اسی آیت سے شروع ہو ا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خطبات کا ابتدا بھی اسی سے ہوا۔

خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم خوف، جوع، نقصان مال و جان و پھل کے ذریعے تمہارے اندرونی صفات کو ظاہر کریں گے اور صابروں کو بشارت دے جن کا یہ حال ہے کہ جب انہیں مصیبت پہنچے تو وہ حال و قال سے کہتے ہیں ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

صبر کی مختصر حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر ایک نیکی اور نیک بات پر جما رہے ۔ بدی سے رکا رہے گویا صبر تمام نیکیوں کا جامع ہے۔ مشکل کے وقت بدی سے بچنا یہی تو صبر ہے ۔ شہوت میں عفت ، غضب کے قت حلم، حرص کے مقابل میں قناعت ، وقار، استقلال، ہمت ، عزم پر کار فرما رہنا۔ شرع و عقل سلیم کی مخالفت نہ کرنی ۔ یہ سب صبر ہے۔

{حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 270 تا 274}

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *