آئیں عزم کریں

شعبہ پاکساتن

تحریر :عامر اختر یوسفزئی

بدقسمتی سے ہمارے ملک کے چالیس فیصد سے زائد افراد ایسے ہیں جو کہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے افراد جو کہ عام حالات میں بھی بہت تکلیف اور پریشانی سے زندگی بسر کرتے ہیں، لاک ڈاؤن کی اس کھٹن صورتحال میں ان کے گھر کے چُھولے مکمل طور پر بجھے ہوئے ہیں، ہمارا دین اسلام بھی ہمیں غریبوں، بے کسوں، ناداروں اور ضرورت مندوں کی مدد، معاونت، حاجت روائی اور دلجوئی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرنے،ان کے ساتھ تعاون کرنے، ان کے لیے روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے کو دین اسلام نے ربّ کو راضی کرنے کابہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔خالق کائنات اللہ تعالی ربّ العزت نے امیروں کو اپنے مال میں سے غریبوں کو دینے کا حکم دیا ہے، لاک ڈاون کی اس کٹھن صورتحال میں صاحب استطاعت لوگوں پر واجب ہے کہ وہ غریب، نادار اور مستحقین کی مدد کرے۔جو لوگ اپنے مال سے محبت کرنے کے باوجود اسکو غریبوں، مختاجوں اور مستحق افراد کی مدد کرنے پر خرچ کرتے ہیں قرآن مجید فرقان حمید میں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے *”نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں،یتیموں محتاجوں مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے،یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں،یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگارہیں‘‘ (سورۃالبقرۃآیت177)۔

*لا ک ڈاؤن کی اس کٹھن صورتحال میں آج ہم سب کو مثالی ایثار و یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تمام مخیر حضرات کو چاہئے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے اپنے دائروں،احاطوں اور حدود کے اندر مستحقین کی مدد کو یقینی بناکر اپنے پڑوس، گلی محلے اور شہر بھر میں ایسا اہتمام کرنا چاہیے کہ کوئی بھی فرد کسی بھی گھر میں بھوکا نہ رہ جائے۔اسلام کے فلسفہ سماجی بہبود کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ہم معاشرے کے محتاجوں، بے کسوں، معذوروں، بیماروں، بیواؤ ں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال کرے اور ان کی مدد کرے۔یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوروی کا خاتمہ کرکے معاشرے میں دولت وضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔اورجو لوگ معاشرے سے غربت وافلاس اور ضرورت کو دور کرنے کے لئے اپنا مال ودولت خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمے قرض حسنہ قرار دیتے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی ضمانت دیتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کئے گئے مال کو کئی گنا بڑھاکردیاجائے گا۔دوسروں کی مدد کرنا ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے، دوسروں کی خیر خواہی اور مدد کرنے سے نہ صرف حقیقی خوشی اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے بلکہ رضائے الٰہی کا سبب بھی بنتی ہے۔

محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہمیشہ غریبوں،یتیموں،مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد فرماتے تھے حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ *مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا*دنیا میں اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیں، مگر دوسروں کے لئے جینا ہی اصل زندگی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کیوں نہ ہم دوسروں کے لئے جیا جائے، دوسروں کی مشکلات ومسائل کو محسوس کرتے ہوئے ان کا ہاتھ بٹایا جائے۔ ہماری مدد و معاونت سے اگر کسی کی دلجوئی ہو سکتی ہے، ان کی پریشانی اور مشکلات آسان ہوسکتی ہے تو کیوں نہ انکی مدد کی جائے ، کسی مجبور کے حصول رزق میں معاونت ہوسکتی ہے تو یہ ہمارے لئے باعث مسرت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *