دنیا بھر میں کرونا وائرس کے نقصانات اور فوا ئد

اداریہ

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے نقصانات اور فوا ئد (ایک تجزیہ )

مدیر اعلیٰ محی الدین عباسی

دنیا بھر میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد 50لاکھ سے زائد اور اموات کی تعداد 3لاکھ 30ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ دنیا میں تین صدیوں سے جو مختلف اقسام کے وائرس وقوع پذیر ہوئے ہیں ان میں یہ واحد وائرس ہے جس نے تمام دنیا کو بے بس اور لاچار کر دیا ہے۔آج 4ماہ کاعرصہ ہو گیا دنیا کے بڑے بڑے ماہر طبیعات، سائنسدان اور عظیم طاقتیں اس کی روک تھام اور بچاؤسے ہمت ہار چکی ہیں۔ اور بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ یاد رہے امریکہ میں اکتوبر 1929ء میں ایک بڑے معاشی بحران نے جنم لیا تھا اس کو تاریخ میں کسادی بازاری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس بحران نے مال دار اور غریب ممالک کو یکساں طو رپر اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ صنعتیں بند ہو چکی تھیں سرمایہ کاروں کی ساری جمع شدہ پونجی ڈوب گئی اور اقتصادی ترقی و خوشحالی قصہ پارینہ بن گئی تھی۔ پوری دنیا میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو گیا تھا۔اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے عالمی تجارت کا مجموعی حجم 50فیصد سے بھی زیادہ تنزل کا شکار ہو گیا ۔ اس بحران کی شدت اتنی تھی کہ 1932ء تک امریکہ میں موجود ہر قابل ذکر بینک بند ہو چکا تھا۔

آج کرونا وائرس کی صورتحال یہ ہے کہ یہ جنوری 2020ء میں دنیامیں پھیلنا شروع ہوا۔ ابتداء میں عوام کا رویہ سطحی اور غیرسنجیدہ تھا لیکن جوں جوں وائرس پھیلنا شروع ہوا تو مختلف ملکوں نے اس کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کئے۔ ساری دنیا میں طویل لاک ڈاؤن کی بنا ہزاروں لاکھوں کمپنیاں بند ہو چکی ہیں۔ اور کروڑوں افراد اپنی ملازمتوں سے عارضی یا مستقل طور پر فارغ ہو چکے ہیں۔عالمی ادارہ (IMF)کے مطابق اس سال عالمی معیشت کو 3فیصد خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس اعتبار سے یہ تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اقتصادی مشکلات اور زبوں حالی کے اعتبار سے آنے والا وقت کساد عظیم کی بھیانک یادوں کو تازہ کر سکتا ہے۔ کرونا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا کے چھوٹے بڑے شہر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہوا بازی ، سیاحت ، تاریخی مقامات ، ریستوران ہوٹل ، کلبز سب بند پڑے ہیں ان کی صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے یورپ اور دیگر ممالک میں یہ وباء نومبر دسمبر تک ختم ہو جائے گی۔ یاد رہے ماضی میں طاعون اور اسپینش فلو بھی مئی جون میں ختم ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اس لئے بعض ماہرین یہ قیاس کرتے ہیں۔ یورپ میں طاعون اور اسپینش فلو پھیلا تو اس نے ایشیاء اور افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ لیکن کرونا وائرس نے تو ساری دنیا کے 129ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کے نقصانات کا تجزیہ کرتے ہوئے عالمی خیراتی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات عالمی غربت میں تقریباً نصف ارب تک کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی اور کنگز کالج لندن کی تحقیق کے مطابق یہ 30سال میں پہلی مرتبہ ہو گا۔ جب عالمی سطح پر غربت میں اضافہ ہو گا۔ مزید یہ کہ اگر وائرس سے پیدا ہونے والے حالات کے سبب معاشی طبی بحران سے کہیں زیادہ ہو گا ۔اور عالمی سطح پر غربت میں بڑا اضافہ ہو گا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ عالمی بینک کے مطابق اس وائرس کے اثرات کے باعث 2030ء تک غربت ختم کرنے کے ہدف کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس ضمن میں عالمی تنظیموں نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ادائیگی اس سال معاف کرنے کی اپیل کی تھی ۔

کرونا وائرس سے پاکستان میں ایک کروڑ 12لاکھ افراد بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ 2ہفتہ قبل ایشیاء ڈویپلمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق کرونا سے صوبہ پنجاب کو 23کھرب روپے کا نقصان ہو گا۔ بہرحال ان چار ماہ میں دنیا کی معیثت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور ابھی آگے کا کچھ علم نہیں کہ یہ سلسلہ رُکتا ہے یا مزید چلے گا۔ تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عذاب الٰہی اور قدرتی آفات کی ایک لمبی تاریخ ہے جو مختلف قسم کے وائرس سے انسانی جانوں کو ضیاع کر چکی ہے۔قیاس ہے کہ اس کے بعد کئی جنیاتی وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ یہ تو قدر ت کا اصول ہے کبھی خوشی کبھی غم یعنی زندگی میں اُتار چڑھاؤنفع و نقصان ہر جگہ نظر آتے ہیں اور مثبت او رمنفی پہلوساتھ ساتھ رہتے ہیں۔قدرت کے اس اصول کو وائرس کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں اس کے کئی مثبت پہلو فوائد بھی نظر آئیں گے۔ اس وائرس نے بنی نوع انسان کو ایک دوسرے سے پیار کرنا اور اپنے رب کے آگے جھکنا اور دعائیں کرنا سکھا دیا ہے۔

کئی ممالک میں تو اس کے لئے اجتماعی دعائیں بھی کروا دی گئی ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد تیل درآمد کرنے والے ملکوں کی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے وہ تیل درآمد کر کے اربوں ڈالر بچا سکتے ہیں۔

دنیا میں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر نظر رکھنے والے ادارے نے بتایا ہے کہ فضائی آلودگی سے آلودہ شہروں کا اثر کوالٹی انڈکس بہت بہتر ہوا ہے۔مختلف شعبوں سے وابستہ افراد ان دنوں گھروں میں بیٹھ کر کام کر رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس سے انہیں سیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں اور ٹیلی ورکنگ کے نت نئے طریقوں سے آشنا ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازین مختلف ممالک میں سیروتفریح کے مقامات پر عوام کا رش نہ ہونے کی وجہ سے وہاں صفائی اور گلیاں شاہرائیں بھی صاف نظر آ رہی ہیں۔دنیا میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ جس پر قابو پانے کےلئے عالمی ادارہ نے کئی پروگرام مرتب کئے اور کئی تدابیر اختیار کریں۔جس میں گاڑیوں کو مکمل طور پر بجلی یا بیٹری سے چلانے کے منصوبے ہیں ۔ علاوہ لاک ڈائون کی وجہ سے فضائی آلودگی میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ ساری دنیا میں رہنے والے لوگوں کو آسمان پرچاند تارے واضح نظر آنے لگے ہیں۔ لندن شہر میں ہم کوعید کا چاند صاف واضح دیکھنے کو ملا۔اب آسمان پر طیاروں کا شور اور دھواں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ہی فضائی اور سمندری جانوروں نے سکھ کا سانس لیا ہے چرند وپرند کی اقسام اور سمندری و دیگر مخلوقات کی خوشیاں دوبالا ہو گی ہوں گی جس طرح آسمان اب صاف دکھائی دیتا ہے اسی طرح سمندر ، دریا، جھیلیں صاف نطر آتی ہیں۔ علاوہ ازیں دنیا میں لاک ڈاؤن کے باعث اسٹریٹ کرائم ، پولیس مقدمات ، ڈکیتی ، اغوا ، ٹارگٹ کلینک ، دھینگا مشتی ، ٹریفک حادثات گھریلوں تشدد غرضیکہ کئی قسم کی برائیوں میں کمی آئی ہے اور کئی قسم کی طبی بیماریوں کے باعث اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مزید برآں جن ممالک کے آپس کے تعلقات جھگڑے اور جنگی جنون اسلحہ کا استعمال ناجائز طور پراستعمال ہو رہا ہے حکومت اور عوام نے اطمینان و سکھ کا سانس لیا ہے۔

بہرصورت ہر دو پہلومثبت اور منفی دونوں اُجاگر کر دئیے ہیں ان دونوں کے پیش نظر ہمیں بہتر مستقبل اور بہتری کے لئے اقدامات اُٹھانے چاہئے اور اپنے رب کی رضا پر راضی رہنا چاہئے۔ یہ اُسی کا کام ہے اور وہی بہتر جانتا ہے دنیا اور اس کی مخلوق کو کس طرح چلانا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ آسمانی آفت ہے اور اپنے وقت پر ہی ختم ہو گی۔ اس میں اپنی بد اعمالیاں یا گناہ تلاش نہ کریں آفتیں آتی رہتی ہیں اور اپنے وقت گزار کر چلی جاتی ہیں ہمیں ثابت قدم رہنا ہے۔ اور آئندہ کے لئے سوچنا ہے۔ بس تمام سے ایک التجاء ہے کہ آج دنیا پہ جو قہر طاری ہے ابھی بھی وقت ہے لوگو! خدا سے گڑ گڑا کر معافی اور توبہ کرو وہ جلدی مان جاتا ہے اور بہت معاف کرنے والا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے لوگو!ا پنے حقیقی وحدہ لاشریک کو راضی کر لو۔گزرا وقت واپس نہیں آتا وہ اپنے بندہ کی فریاد کو سنتا ہے اور بار بار معاف کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے احکامات اور رسول کریمﷺکی تعلیمات اور نیک بزرگوں، ولیوں اور اپنے امام کی ہدایت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *