17مئی ۔ناروے کا قومی دن(یومِ آئین)

شعبہ انٹرنینشل

تحریر : (زرتشت منیر ۔ناروے)

ناروے کا ملک برّاعظم یورپ اور سیکنڈے نیوین ممالک کے شمال مغرب میں واقع ہے اس ملک کے شمالی حصّہ سے قطب منجمد شمالی کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ ناروے کے شمالی علاقے میں سورج چھ ماہ کے عرصہ میں غروب نہیں ہوتا۔ اس لئے اسے چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے ۔شمالی ناروے کے مقام “نارتھ کیپ ’’ میں نصف شب کے سورج کا نظارہ کیا جا سکتا ہے ۔یہاں سردیاں بہت سخت ہوتی ہیں ۔موسم سرما کی تاریکی میں یہاں ناردرن لائٹس بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو بہت دلکش منظر پیش کرتی ہیں ۔اس ملک کی آبادی ساڑھے پانچ ملین ہے۔ مہاجرین میں سویڈن ،پولینڈ،فن لینڈ،عراق ، کردستان ،ایران اور پاکستان کے لوگ شامل ہیں ۔ملک کا کل رقبہ 385،207 مربع کلو میٹر ہے۔فن لینڈ اور سویڈن کے ساتھ سرحد ملتی ہے جبکہ سویڈن کے ساتھ سرحد بہت لمبی ہے ۔ناروے کا ساحلِ سمندر گرم خلیجی لہروں کی وجہ سے سال بھر کھلا رہتا ہے۔جبکہ اسی عرض بلد پر واقع دوسرے علاقوں کا سمندر منجمد رہتا ہے۔یہاں مقتدرِ اعلٰی تو بادشاہ ہے لیکن امورِ سلطنت وزیر اعظم،ان کی کابینہ اور پارلیمنٹ (ستورتنگ) چلاتی ہے۔ سرکاری مذہب عیسائیت ہے۔بادشاہ کا نام “ہیرالڈ پنجم ’’جبکہ وزیر اعظم محترمہ “آرنے سولبرگ” ہیں ۔یہاں ایک مشہور قوم بھی بستی ہے جن کی اپنی علیحدہ زبان اور الگ کلچر ہے ان کی اپنی پارلیمنٹ اور حکومت ہے۔یہ قوم سویڈن اور فن لینڈ کے علاقے میں بھی پائی جاتی ہے یہ لوگ “سامی” کہلاتے ہیں۔ناروے کا ملک اپنے خوبصورت قدرتی مناظر ،گہرے پانی،بلند سر سبز پہاڑ،چشمے ،آبشاروں اور گلیشئیرز کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے ۔

قومی دن

ہر سال 17 مئی کو ناروے کا قومی دن منایا جاتا ہے۔اسکولوں،دفاتر،اور تمام تجارتی اداروں میں اس دن سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ یہاں قومی دن کی تقریبات پوری دنیا سے نرالی اور انوکھی ہوتی ہیں۔ اس دن فوجی پریڈ، سلامی اور توپوں کی گھن گرج سنائی نہیں دیتی۔بلکہ اس روز ہنستے مسکراتے بچے نئے نویلے اور خوبصورت کپڑے پہنے، ہنستے گاتے اپنے اسکولوں کے ہمراہ قومی دن کے جلوس میں شریک ہوتے ہیں، پھر دن بھر وہ بچے اپنے دوستوں اور ہمجولیوں کے ہمراہ اس دن کی خوشیاں مناتے ہیں۔خوشی اور گرم جوشی کا یہ اظہار محض بچوں کی حد تک نہیں ہے اس روز چھوٹے، بڑے، جوان اور بوڑھے یکساں مسرت اور جوش وخروش سے اس دن کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ جو بچے جلوس میں شامل نہیں ہوتے ، ان کے والدین خاص طور پر انہیں تیار کرکے شہر لے جاتے ہیں۔ طرح طرح کے باجے کھلونے اور کھانے پینے کی اشیاء انہیں خرید کر دیتے ہیں۔سرکاری عمارات کے علاوہ گھروں پر بھی نارویجن جھنڈے اور جھنڈیاں لہرائی جاتی ہیں ۔رات کو کم و بیش ہر گھر پر خوبصورت چراغاں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ناروے میں قومی دن کو اس تنوع اور جوش سے منانے کی وجہ سے ہی باہر سے آنے والوں کے لئے اس کا تجربہ مسحور کن ہوتا ہے۔ متعدد ملکوں سے سیاح خاص طور سے اس دن کا مشاہدہ کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ اس ملک میں موجود غیر ملکی سفیر، تجارتی نمائندے اور دیگر لوگ بھی 17 مئی کی تقریبات کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ ناروے دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قومی دن کے موقع پر نغمے بکھیرے جاتے ہیں اور بچے اس دن کو منانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اس دن جلوسوں کی رپورٹنگ کے لئے سارا دن ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر پروگرام نشر ہوتے ہیں اور ان کے شرکاء تاریخی اور سماجی وثقافتی حوالوں سے اس دن کی اہمیت اور قدر وقیمت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ دن اس ملک میں آباد سب لوگوں کے لئےبہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسکولوں کے بچے 17 مئی کے جلوس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔ تارکین وطن بچے بھی اس جلوس کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور دیگر بچوں کی طرح ہی جوش وخروش سے اس موقع پر شریک ہوتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

17 مئی کا قومی دن 1814ءکے “یوم آئین ’’کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ اس تاریخی دن اوسلو سے 50 کلومیٹر دور آئید سووول (Eidsvàl) کے مقام پر ملک ناروے کے نمائندوں نے کئی ہفتے کی بحث وتمحیص اور غورو فکر کے بعد ناروے کا آئین منظور کیا تھا۔ یہ دستاویز ایک خودمختار ناروے کے حصول کے لئے تیار کی گئی تھی۔ناروے اس وقت ڈنمارک کے ماتحت تھا۔اسی سال جنوری میں ڈنمارک نے ناروے کو سویڈن کے حوالے کردیا تھا اور اس طرح ناروے سویڈن کے ساتھ یونین کا حصہ بن گیا۔17 مئی 1814ء کا آئین اس یونین کو مسترد کرنے کے لئے تیار کیاگیا تھا جسے ملک کے ہر طبقے کی بلاتفریق حمایت حاصل تھی۔ اس مطالبہ کے پیشِ نظر اسی سال ناروے اور سویڈن کے درمیان جنگ بھی ہوئی۔4 نومبر 1814ءکو ناروے کو سویڈن کی یونین کا باقاعدہ حصہ بنادیاگیا۔ البتہ سویڈن کا بادشاہ اس بات پر راضی ہوگیا کہ ناروے اپنے معاملات میں خود مختار ہوگا اور سویڈن کے ساتھ اس کا الحاق محض رسمی ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں دونوں ملک سویڈن کے بادشاہ کارل یوہان کے ماتحت ایک متحدہ مملکت قرار پائے۔ امور خارجہ بہرحال سویڈن کے اختیار میں رہے۔ناروے کے لوگوں کو یہ انتظام قبول نہیں تھا اور انہوں نے اس یونین کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ اور کسی نہ کسی طور سے ہر سال 17 مئی کے دن خودمختاری کے حوالے سے مظاہروں کا اہتمام عمل میں آنے لگا۔

سویڈن کے بادشاہ کارل یوہان نے 1828ءمیں 17 مئی کا دن منانے پر پابندی لگادی۔ لیکن 1829ءمیں ایک ایسا واقعہ ہؤا کہ ناروے کے لوگوں نے اس پابندی کو مسترد کر دیا اور مکمل خودمختاری کی آواز کو بلند کرنا شروع کردیا۔ہوا یوں کہ 17 مئی 1829ء کو Constitution نامی ایک جہاز اوسلو( جو ان دنوں کرسٹیانیا کہلاتا تھا)کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ ساحل پر موجود لوگوں نے اپنے” یوم آئین” پر اس نام کے جہاز کو ناروے میں داخل ہوتے دیکھا تو انہوں نے بے اختیار آزادی کے حق میں نعرے لگانے شروع کردئے۔تھوڑی ہی دیر بعد سینکڑوں لوگوں کا مجمع ستورتنگ (پارلیمنٹ) کے باہر جمع ہوگیا۔ حکومت کی طرف سے انہیں منتشر کرنے کے لئے طاقت استعمال کی گئی اور فوجی دستوں کی مدد سے رات گئے تک لوگوں کو منتشر کیاگیا۔کچھ لوگ گرفتار ہو اور بیشتر زخمی ہوئے۔ناروے کامشہور ادیب‘‘ ہینرک ورگے لاند” اس وقت طالب علم تھا اور وہ اس عوامی احتجاج کا عینی شاہد تھا۔ اس نے اس واقعہ کے بعد نوجوان طالب علموں کو جمع کرکے خودمختاری کے لئے باقاعدہ ایک مہم کا آغاز کیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں یہ قیادت ناروے کےایک ممتاز شاعر کے ہاتھ میں آگئی۔ اسکول کے بچوں کا پہلا باقاعدہ جلوس اوسلو میں 1870ء میں نکالاگیا اور اس میں صرف لڑکے شامل تھے۔ پہلے جلوس میں صرف 1200 لڑکے شریک ہوئے تھے۔

1889ءسے آزادی کے اس جلوس میں لڑکیا ں بھی شامل ہونا شروع ہوئیں۔ اس پرامن اور مسلسل مطالبات اور جدوجہد کے نتیجے میں 7 جون 1905 کو ناروے سویڈن سے علیحدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس طرح ناروے ایک خودمختار ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔1906ءسے ناروے کا شاہی خاندان مسلسل ہر سال 17 مئی کو اوسلو میں اپنے محل کی بالکونی سے بچوں کے جلوس کا استقبال کرتا ہے۔بچے جو رنگ برنگے خوبصورت لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ وہ بادشاہ کو سلامی دیتے ہوئے گزرتے ہیں۔قدیم زمانے میں ناروے ایک آزاد مملکت کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن 1319ءمیں اسے سویڈن کے ساتھ شامل کرلیاگیا۔ 1380ء میں اسے ڈنمارک کا حصہ بنا دیا گیا۔ ساڑھے چار سو سال بعد 1814ء میں ڈنمارک نے ناروے کو پھر واپس سویڈن کے حوالے کردیا اور بالآخر 1905ء میں ناروے نے سویڈن سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی آزادی اور خود مختاری کا باقاعدہ اعلان کیا۔جدید ناروے میں 17 مئی کے دن کو اب کثیر الثقافتی معاشرے کی علامت کی حیثیت بھی حاصل ہوگئی ہے۔اس دن تمام قومیتوں کے لوگ بڑے جوش وخروش کے ساتھ اس دن کی تقریبات میں حصہ لیتے ہیں۔نارویجن خواتین اور مرد اپنے روایتی خوبصورت قومی اور علاقائی لباس زیب تن کرتے ہیں ۔ہر طرف ایک عید کا سا سماں ہوتا ہے۔امسال کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی وجہ سے جلوس اوربڑی بڑی تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایسا ناروے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے ۔اس سے قبل دو دفعہ جلوس کا پروگرام بعض ناگزیر حالات کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا۔ناروے میں سرکاری مذہب عیسائیت ہونے کے باوجود دیگر مذاہب کو تبلیغ اور عبادت کی مکمل آزادی ہے۔

چنانچہ بدھ مت اور ہندو مت والوں نے اپنے اپنے ٹمپل تعمیر کر رکھے ہیں جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کرتے ہیں۔مسلمانوں نے بھی مساجد تعمیر کی ہیں جہاں پاکستان سے آئے ہوئے ملّاں نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں ۔صرف ایک فرقہ ایسا ہے جو وطن سے محبت کے تقاضے پورا کرتے ہوئے ہر آنے والی آزمائش میں اولو الامر حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرتا ہے۔اور امن کی ترویج و تبلیغ میں کوشاں ہے۔یہ فرقہ جماعت احمدیہ ہے ۔جماعت نے یہاں ایک خوبصورت مسجد‘‘بیت النصر” تعمیر کی ہے جس کا افتتاح ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالٰی نے 2011 میں فرمایا تھا۔دعا ہے اللہ تعالٰی اس ملک کے عوام کو اپنے خالق اورخاتم النبیین حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے امام مہدی علیہ السلام کو پہچاننے کی توفیق عطا کرے۔آمین۔ (بشکریہ الفضل انٹرنیشنل)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *