آئن سٹائن کی سب سے بڑی غلطی؟

تحریر :قصی ملک

کچھ دن قبل مجھے ایک سوال ملا جو ڈارک انرجی یا کونیاتی مستقل کے متعلق تھا۔ یہ سوال بہت دلچسپ تھا جو مجھے ایک کہانی کی طرف لے جاتا ہے جس کے ساتھ آئن سٹائن کا محبت و نفرت کا تعلق رہا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جب آئن سٹائن نے اپنا عمومی نظریہ اضافیت دیا تو اس نے اس کو اس نے ایک حقیقی کائنات پر لاگو کرنا چاہا۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت ہے جب پس منظری شعاعوں یا دوسری کہکشاؤں کے بارے میں اتنا نہیں معلوم تھا اور ظاہر ہے آئن سٹائن بھی اس سے بے خبر تھا۔آئن سٹائن نے ایک ایسی کائنات کا تصور کیا جو مادہ اور شعاعوں (matter and radiations) سے بنی ہوئی ہے۔

یہ بالکل صحیح ہے۔ ہماری کائنات میں مادہ بھی موجود ہے اور شعاعیں بھی۔ اصل میں ان شعاعوں کو آپ ضیائیے یا فوٹان کہہ سکتے ہیں۔ اور جن کو آپ ہر لمحے اپنے جسم میں جذب کر رہے ہیں۔ جب ہم آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کی مساواتوں کو حل کرتے ہیں تو جو ہمارے پاس جو مساوات آتی ہے اس میں مادہ کے لیے کمیت اور شعاعوں کے لیے پریشر یا دباؤ کے رکن موجود ہیں۔ لیکن آئن سٹائن نے یہ سوچا کہ کائنات میں شعاعوں کی نسبت مادہ کی مقدار بہت زیادہ ہے اور اس طرح اس نے شعاعوں کے دباؤ والے رکن کو مساوات حل کرتے وقت نظر انداز کر دیا۔اس وقت کے موجود علم کے مطابق آئن سٹائن نے یہ سوچا کہ یہ کائنات ساکن حالت میں ہے۔ ایسا اس نے اس لیے سوچا کیوں کہ اس وقت ملکی وے کہکشاں (یہ وہ کہکشاں ہے جس میں ہمارا نظام شمسی موجود ہے ) کے علاوہ کسی اور کا علم نہیں تھا۔ چنانچہ آئن سٹائن نے خود سے سوال کیا کہ کیا ایک ایسی کائنات، جس میں صرف مادہ موجود ہو، ساکن ہو سکتی ہے؟ جواب واضح تھا۔ آئن سٹائن کی اپنی مساوات یہ بتا رہی تھی کہ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت میں ایک ایسی کائنات جس میں صرف مادہ موجود ہو، وہ پھیل سکتی ہے یا سکڑ سکتی ہے، لیکن ساکن نہیں ہو سکتی۔

یہ بات آسانی سے ریاضی سے ثابت کی جا سکتی ہے لیکن فی الوقت آپ میری بات پر یقین رکھیں۔ ایک ساکت کائنات صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے اور وہ ہ یہ ہے کہ اس میں سرے سے کچھ موجود ہی نہ ہو۔ ایک خالی کائنات۔ ایک ایسی کائنات جو ساکت ہو اور اس میں صرف مادہ موجود ہو وہ وقت کے ساتھ سکڑنے لگے گی کیوں کہ مادہ دوسرے مادہ کو کشش کرے گا۔ یا پھر ایک ایسی کائنات جس میں صرف مادہ ہو اور وہ پھیل رہی ہو تو وہ یا تو پھیلتی جائے گی یا ایک خاص وقت پر سکڑنا شروع کر دے گی لیکن ساکن ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

یہاں آئن سٹائن نے اس پھیلتی کائنات کو ساکن بنانے کے لیے اپنی عمومی اضافیت کی مساوات میں ایک نیا رکن شامل کیا جو اب لیمبڈا یا کونیاتی مستقل یا ڈارک انرجی (اس پر بات آگے چل کر ہو گی) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مستقل کی وجہ سے ان مساواتوں میں، جو ہمیں کائنات کے ارتقاء کے بارے میں بتاتی ہیں ( ان کو فرائیڈ مین کی مساواتیں کہا جاتا ہے ) ، وہ ایک ساکن کائنات کو ظاہر کرنے لگ جاتی ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ یہ کائناتی مستقل آئن سٹائن کی مساوات میں ایک ایسے عنصر کو شامل کر دیتا ہے جو قوت دفع (repulsive force) کا موجب ہے۔ یہ قوت دفع کائنات میں موجود مادہ سے پیدا ہونے والی قوت کشش کو منسوخ کر دیتی ہے اور نتیجتاً ایک ساکن کائنات وجود میں آتی ہے۔آئن سٹائن نے اس ساکن کائنات کی جزئیات 1917 میں شائع کر دیں تھی لیکن وہ اس سے خوش نہیں تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ ایسا کرنے سے اس کی اصل مساوات کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے۔برہان جمال کے علاوہ ایک ساکن کائنات میں اور بھی بہت سے مسائل ہیں، مثال کے طور پر ایک ساکن کائنات انتہائی غیر قیام پذیر ہوگی۔ وجہ مندرجہ ذیل ہے۔ چونکہ کائناتی مستقل ایک مستقل ہے، یعنی اس کی قیمت وقت کے ساتھ بدلتی نہیں ہے۔ اب اگر ہم ایسی کائنات کو تھوڑا سا پھیلائیں تو مادے کی کثافت میں کمی آئے گی اور اس سے قوت کشش میں بھی کمی آ جائے گی۔ اس کمی کی وجہ سے قوت دفع میں اضافہ ہو جائے گا اور کائنات پھیلنے لگے گی۔اس پھیلاؤ سے مادے کی کثافت میں مزید کمی آئے گی اور کائنات اور تیزی سے پھیلے گی۔ نتیجہ ایک ایسی کائنات کی صورت میں نکلے گا جو پھیلتی ہی جائے گی۔ یہی صورت مخالف سمت میں ہو گی اگر ہم مادے کی مقدار کو تھوڑا سا بڑھا دیں۔ تو کائنات سکڑے گی اور یہ عمل جاری رہے گا۔ یعنی ایک ایسی کائنات جو وقت کے ساتھ سکڑتی جائے گی۔ دونوں صورتوں میں کائنات ساکن نہیں ہوگی۔آئن سٹائن اس کائناتی مستقل سے جان چھڑانے کے موقع کی تلاش میں تھا۔ یہ موقع اسے 1929 میں ملا جب ایڈون ہبل نے ایک مقالہ شائع کیا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ جب آئن سٹائن نے اس مستقل سے جان چھڑانی چاہی تو باقی سائنسدانوں نے اسے اپنانا شروع کر دیا۔ دراصل مسئلہ یہ ہوا کہ ہبل نے کہکشاؤں کے پھیلاؤ کی رفتار بھی ماپی۔ یہ ایک انتہائی غلط پیمائش تھی لیکن اس پیمائش کی بنا پر جب اس نے کائنات کی عمر کا تخمینہ لگایا تو وہ دو ارب سال آیا۔

اسی دوران ماہر عرضیات آرتھر ہولمز نے زمین کی عمر کا تخمینہ تین ارب سال لگایا۔ اس کا مطلب تھا کہ ہبل کی پیمائش میں کوئی خرابی ہے کیوں کہ ہولمز کی پیمائش اس وقت کافی مستند تھی۔ چنانچہ اسی مستقل کو جس سے آئن سٹائن کے لیے اب جان چھڑانے کا وقت آیا تھا باقی سائنسدانوں نے نے اسے گلے لگا لیا کیوں کہ اس منتقل کی مدد سے وہ کائنات کی عمر کو وہ کم از کم تین ارب سال سے بڑھا سکتے تھے۔ خیر ایسا کرنے کی بھی نوبت نہیں آئی کیوں کہ ہبل نے کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کی پیمائش میں غلطی کی تھی۔ جب اس کو صحیح ماپا گیا تو کائنات کی موجودہ عمر کی صورت میں نتیجہ نکلا جو کہ تقریباً چودہ ارب سال ہے۔اب ایک سوال باقی رہتا ہے کہ ڈارک توانائی کیا چیز ہے؟ چلیں اس سوال کے جواب کی کھوج لگاتے ہیں۔ لیکن پہلے یہ سمجھ لیں کہ کائنات میں بہت ساری قوتیں عمل فرما ہیں۔ مثال کے طور پر کشش کی قوت جو کہ مادے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب مادے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد وہ مادہ جو الیکٹران اور پروٹان سے مل کر بنا ہے۔ اس کو Baryonic matter کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کائنات میں ضیائیے یا فوٹان بھی موجود ہیں جن کو ہم نے پہلے ہی Radiations کہہ دیا ہے، اس کے علاوہ نیوٹرینو بھی موجود ہیں اور اور بھی بہت کچھ۔ یہ کائئانت ایک عالم حیرت ہے۔ ہم ان سارے ارکان کو اجزا کہہ لیتے ہیں۔ ڈارک توانائی بھی ان میں سے ایک ہے۔ فرائیڈ مین کی مساواتیں، جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اور جو کائنات کے ارتقاء کو بیان کرتی ہیں، ان کو آپ اپنی مرضی کے اجزا کے لیے کسی بھی شکل میں ڈھال کر ایک ماڈل کائنات بنا سکتے ہیں۔ڈارک توانائی کے لیے ہمیں کائنات کا کوئی ایسا جز یا رکن چاہیے جس کی مقدار کائنات کے سکڑنے یا پھیلنے کے ساتھ تبدیل نہ ہوتی ہو۔ اسی کا ایک امید وار خلا کی توانائی یا vacuum energy ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کلاسیکی طبیعیات میں خلا ایک ایسی شے ہے جس میں کچھ موجود نہیں ہے اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا جیسا کہ کنگ لیئر (King Kear) نے کہا تھا کہ ”nothing can come from nothing“ ۔ لیکن جب کوانٹم میکانیات کی رو سے دیکھا جائے تو خلا ایک انتہائی متحرک شے ہے جس میں ہر لحظے کچھ نہ کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔ہائزنبرگ کا اصول عدم تیقن ہمیں بتاتا ہے کہ خلا میں بہت کم دورانیے کے لیے ذرات (مادہ کے ذرات ) پیدا اور فنا ہوتے رہتے ہیں۔ بالکل جیسے حقیقی ذرات کے ساتھ توانائی منسوب کی جاتی ہے ویسے ہی ان خلا میں پیدا ہونے والے ذرات کے ساتھ بھی ایک توانائی منسلک ہوتی ہے اور اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کائنات کیا کر رہی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس توانائی کو ابھی تک ماپا نہیں جا سکا اس لیے ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ نظریاتی طور پر جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں اور کائنات کی موجودہ کریٹکل کثافت میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اس لیے یہ وقت ہی بتائے گا کہ ڈارک توانائی کیا چیز ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *