کیا ہمیں اپنا نواں سیارہ واپس مل جائے گا؟

شعبہ انٹرنیشنل

تحریر :ابو نائل

ایک زمانہ تھا کہ ہمارے نظام شمسی کے نو سیارے ہوا کرتے تھے۔ یعنی سورج کے گرد نو سیارے گھوما کرتے تھے۔ سب سے دور افتادہ سیارہ پلوٹو تھا۔ اس بیچارے سیارے کو بڑی مشکل سے 1930 میں دریافت کیا گیا۔ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی کا ”چھوٹو“ تھا۔ اتنا مختصر کہ اس کا حجم ہمارے چاند کے حجم کے تیسرے حصے کے برابر ہوگا۔ برف اور چٹانوں کا بنا ہوا یہ مختصر سا سیارہ خاموشی سے سورج کے گرد گھوم رہا تھا۔ اور اتنا دور تھا کہ کسی کو کوئی تکلیف بھی نہیں پہنچا سکتا تھا اور اپنے مدار میں گھوم رہا ہے۔ جتنا زمین اور سورج کا فاصلہ ہے پلوٹو کبھی اس سے تیس گنا زیادہ دور ہوتا ہے اور کبھی 49 گنا زیادہ دور۔ لیکن انسان کب کسی کو چین سے رہنے دیتے ہیں۔ یہ سوال اٹھنے شروع ہو گئے کہ یہ اتنا چھوٹا سا تو ہے اسے ایک سیارے کا درجہ کیوں دیا ہوا ہے؟

ہمارے نظام شمسی کے بیرونی حصے میں یعنی سیاروں سے بھی پرے ایک حصہ کائپر بیلٹ [Kuiper Belt] کہلاتا ہے۔ اس میں سیاروں سے چھوٹی جسامت رکھنے والے بہت سے اجسام موجود ہیں۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نظام شمسی کی اس بیرونی پٹی میں لاکھوں ایسے اجسام ہوں گے جو کہ سو کلو میٹر سے بڑے سائز کے ہیں۔ اور ان سے چھوٹے اجسام اس کے علاوہ ہیں۔ سورج سے دور ہونے کی وجہ سے یہ پٹی سخت سرد حالت میں ہے۔ اتنی سرد حالت میں کہ نائٹروجن جو زمین پر ہوا کی صورت میں موجود ہے اس پٹی میں برف کی طرح جم جاتی ہے۔ 2005 میں ماہرین فلکیات نے ایرس نام کا ایک وجود اس پٹی میں دریافت کر لیا۔ اور اس کا سائز پلوٹو سے بڑا تھا۔پھر یہ بحث شروع ہو گئی کہ اگر ہم پلوٹو کو سیارہ کہتے ہیں تو ایرس کو کیوں نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ اگلے سال فلکیات کے علما نے پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے خارج کر دیا۔ اور اس قسم کے چھوٹے اجسام کو ڈوارف پلینٹ یعنی بونے سیاروں کا نام دے دیا۔ ان میں سے کئی بونے سیاروں کے ارد گرد ان کے چاند گردش کر رہے ہیں۔ جس طرح زمین کے گرد ایک چاند گردش کر رہا ہے۔اب سائنسدان اس پٹی یعنی کائپر بیلٹ میں دلچسپی لینے لگے۔ یہ پٹی آہستہ آہستہ گھستی جا رہی ہے۔ اور اس میں سے کئی شہاب ثاقب نکل کر نظام شمسی کے اندرونی حصے کا رخ کرتے رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے اجسام اتنی منتشر حالت میں گردش کر رہے ہیں تو انہوں نے مل کر بڑے سیارے کیوں نہیں بنا لئے۔ اس کی وجہ ماہرین فلکیات یہ بتاتے ہیں کہ ان کے قریب گردش کر نے والے سیارے نیپچون کی کشش ثقل نے انہیں اتنا پریشان کر رکھا ہے کہ یہ قوت ان اجسام کو پٹخنیاں دیتی رہتی ہے اور یکجا نہیں ہونے دیتی۔انسان نے جب خلائی جہاز بھیجنے شروع کیے تو 1983 میں ایک خلائی جہاز پائینر 10 آخری سیارے نیپچون کو عبور کر کے اس پٹی کی حدود میں داخل ہوا لیکن زیادہ دور جا کر اس کی تصویریں نہیں بھجوا سکا۔ لیکن انسان نے بھی ٹھان لی کہ نظام شمسی کے اس برفانی علاقے کو دیکھ کر رہے گا۔ لیکن یہ کسی بھی خلائی جہاز کے لئے ایک دو دن کا سفر نہیں تھا، چند ماہ کا سفر نہیں تھا بلکہ سالوں کا سفر کر کے ہی کوئی خلائی جہاز نظام شمسی کے اس دور افتادہ علاقے تک پہنچ سکتا تھا۔اس غرض کے لئے امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے نیو ہورائزن کے نام سے 478 کلو گرام وزنی ایک خلائی جہاز بنایا۔ اور 19 جنوری 2006 کو اس جہاز کو زمین سے الوداع کر دیا۔ اپریل 2006 یہ جہاز مریخ کے قریب سے گزرتا ہوا آگے بڑھا۔ اگلے سال فروری میں یہ جہاز نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے قریب سے گزرا۔ سائنسدانوں نے اس جہاز کی توانائی بچائی اور اس جہاز کو مشتری کے قریب سے اس طرح گزارا کہ اس سب سے بڑے سیارے کی کشش ثقل نے اس جہاز کو ایک دھکا دیا۔ یہ دھکا اتنا موثر تھا کہ اس جہاز کی رفتار اور بھی تیز ہو گئی۔

2010 تک پلوٹو تک کا سفر ابھی نصف طے ہوا تھا۔ 2015 میں اس جہاز نے پلوٹو کے قریب سے اس معزول سیارے کی تصویریں بھجوانی شروع کیں۔ اور پلوٹو کا صحیح قطر ماپنے کا کام بھی کیا۔ پلوٹو کا قطر 2370 کلومیٹر نکلا۔ اور پر موجود بڑے بڑے گلیشیئر دریافت ہوئے۔ اب یہ خلائی جہاز اس برفانی پٹی یعنی کائپر بلٹ کی سیر کر رہا ہے۔ اور وہاں سے تصویریں کھینچ کر بھجوا رہا ہے۔ حال ہی میں اس جہاز نے خلا میں تیرتے ہوئے ایک ڈمبل کے شکل کے ایک وجود کی تصویر بھجوائی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مٹیالے کروں کو جوڑ دیا گیا ہے۔ مارچ 2019 میں یہ جہاز زمین سے ساڑھے چھ ارب کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔ اس جہاز کا سفر 2021 میں ختم ہو جائے گا۔ اور اس کے بعد یہ جہاز دم توڑ کراس برفانی دنیا میں ہمیشہ کے لئے گم ہو جائے گا۔لیکن آپ پریشان نہ ہوں کہ ہمارے سورج کے سیاروں کی تعداد نو سے کم ہو کر آٹھ رہ گئی ہے۔ پلوٹو کو سیارے کے منصب سے معزول کرنے کے پیچھے سب سے زیادہ کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہر فلکیات مائک براؤن کا ہاتھ تھا۔ وہ پر امید ہیں کہ وہ اس تعداد کو دوبارہ نو تک پہنچا دیں گے۔ وہ اور ان کی ٹیم دوربین سے نظام شمسی کے افق کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا حساب کتاب یہ بتاتا ہے کہ نواں سیارہ موجود ضرور ہے۔ لیکن سورج سے بہت دور ہے۔ آخری سیارہ نیپچون سورج سے جتنا دور ہے یہ نواں سیارہ اس سے بھی دس پندرہ گنا زیادہ دور رہ کر سورج کے پھیرے لگا رہا ہے۔ ہمیں اس کے زاویے کا بھی اندازہ ہے۔ لیکن ہم ابھی اسے پہچان نہیں پا رہے۔ دیکھ نہیں پا رہے۔ گو کہ اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ ایک دن ہم اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *