جے پور کے راجہ مادھو سنگھ راجہ داہر کیسے بن گئے؟

شعبہ انٹرنیشنل

تحریر :ریاض سہیل

پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران دو بار سندھ کے راجہ داہر سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے ہیں۔پہلا موقع وہ تھا جب پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لگانے کی بات ہوئی اور دوسرا وہ جب سندھ کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر راجہ داہر کو قومی ہیرو قرار دینے کی مہم چلائی تھی۔راجہ داہر کو قومی ہیرو قرار دینے کی مہم دس رمضان کو چلی اور تاریخی حوالوں کے مطابق سندھ کے حکمران راجہ داہر کو محمد بن قاسم نے اسی روز شکست دی تھی۔دونوں مرتبہ سوشل میڈیا پر راجہ داہر کی ایک خیالی تصویر بھی شیئر کی گئی جس میں وہ تلوار ہاتھ میں لیے مخملی چوغے میں ملبوس نظر آتے ہیں، لیکن کیا یہ تصویر واقعی راجہ داہر کی تھی؟

پاکستان کے نامور آرٹسٹ، کارٹونسٹ اور فوٹو گرافر خدا بخش ابڑو نے فیس بک پر اپنی ایک تحریر میں انکشاف کیا کہ یہ تصویر دراصل جے پور کے مہاراجہ سوائے مادھو سنگھ دوئم کی ہے۔فیس بک پر انھوں نے تحریر کیا کہ سوشل میڈیا پر راجہ داہر کی تصاویر کا سیلاب آیا ہوا تھا جس میں راجہ داہر کو ہیرو قرار دیا جا رہا تھا لیکن یہ تصاویر ان کے لیے جانی پہچانی تھیں کیونکہ انھوں نے ان تصاویر کو پہلے بھی دیکھا تھا اور ان کی کتابوں کی ذاتی کلیکشن میں جئے پور کی ایک کتاب میں بھی موجود ہے۔یہ مہاراجہ سوائے مادھو سنگھ کی تصویر تھی کسی صاحب نے راجہ داہر پر کتاب شائع کی اور اس پر یہ تصویر لگا دی۔ سوشل میڈیا کی نوجوان نسل نے کمپیوٹر اور فون کے سامنے بیٹھ کر بغیر کسی معلومات اور تحقیق کے اس تصویر کو شیئر کر دیا۔

اس تصویر کو راجہ داہر کی تصویر بنا کر پیش کیا جاتا ہے درحقیقت یہ جے پور کے راجہ مادھو سنگھ ہیں

خدا بخش ابڑو کی آرٹسٹ دوست وشیترا منی کام نے بھی اس پوسٹ کی تصدیق کی کہ یہ مادھو سنگھ ہیں۔ جنوری میں انھوں نے ایک میوزیم میں یہ تصویر دیکھی تھی۔ خدا بخش ابڑو نے انھیں جواب دیا کہ وہ بھی تین مرتبہ اس میوزیم میں جا چکے ہیں۔ نامور شاعر اور اکیڈمی ادبیات کے چیئرمین افتخار عارف نے بھی تصدیق کی اور لکھا کہ بہت درست تحقیق۔خدا بخش ابڑو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کا سندھ کے صحرائے تھر سے لگاؤ ہے اس لیے راجستھان ان کے باعث کشش رہا ہے اسی لیے وہ جے پور کئی بار جا چکے ہیں۔

مہاراجہ سوائے مادھو سنگھ کون تھے؟

مہاراجہ سوائے مادھو سنگھ جے پور کے راجہ تھے جو 1880 سے لے کر 1922 تک تخت نشین رہے۔ انھیں راجہ رام سنگھ دوئم نے گود لیا تھا کیونکہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔تاریخی حوالوں کے مطابق مہاراجہ سوائے مادھو سنگھ نے جے پور ریاست میں ترقی کا دور شروع کیا اور اس کو جدت بخشی۔انھوں نے سنگل گیج ریلوے لائن کا آغاز کیا جس سے جے پور کا کئی دیگر ریاستوں سے رابطہ ہوا۔ انھوں نے ہسپتال، یونیورسٹیاں اور رہائشی کالونیاں قائم کیں اور انھیں نے جے پور کو ’پنک سٹی‘ میں تبدیل کیا تھا۔سوائے مادھو سنگھ تاج برطانیہ کے وفادار تھے۔ انھیں 13 راجپوتانہ رجمنٹ کا اعزازی کرنل مقرر کیا گیا تھا۔ انھوں نے چترال اور جنوبی افریقہ سمیت کئی جنگی محاذوں پر برطانوی فوجیوں کی اسلحے اور افرادی قوت میں مدد کی تھی۔سوائے مادھو لال جے پور کے پہلے حکمران تھے جنھوں نے سمندر عبور کیا اور انگلستان گئے۔ ریاست کی ترقی اور فلاح کے ساتھ وہ مذہبی رجحان رکھتے تھے۔ ملکہ وکٹوریا کے انتقال کے بعد ایڈورڈ ہفتم کی تاج پوشی کے لیے انھیں مہاراجہ گوالیار اور بیکانیر کے ساتھ مدعو کیا گیا تو وہ کافی پریشان ہوئے جس کے بعد مشیران کا اجلاس طلب کیا گیا اور اس کا حل نکالا گیا۔

مہاراجہ نے ایک بحری جہاز کرائے پر حاصل کیا، جس میں کئی ہزار لیٹر گنگا جل بھرا گیا اور گنگا کا پانی رکھنے کے لیے چاندی کے بڑے برتن بنوائے گئے۔ اس کے ساتھ جہاز میں عبادت کے لیے ایک کمرہ تیار کیا گیا اور ملازمین پر پابندی لگائی گئی کہ کوئی بھی گوشت یعنی مچھلی استعمال نہیں کرے گا۔

راجہ داہر کون تھے؟

راجہ داہر آٹھویں صدی عیسوی میں سندھ کے حکمران تھے۔ وہ راجہ چچ کے سب سے چھوٹے بیٹے اور برہمن خاندان کے آخری حکمران تھے۔سندھیانہ انسائیکلو پیڈیا کے مطابق مہابھارت سے قبل کئی کشمیری برہمن خاندان سندھ آ کر آباد ہوئے یہ پڑھا لکھا طبقہ تھا، سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کے بعد انھوں نے رائے گھرانے کی 184 سالہ حکومت کا خاتمہ کیا اور چچ پہلا برہمن بادشاہ بنا۔آٹھویں صدی میں بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کے حکم پر ان کے بھتیجے اور نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کر کے راجہ داہر کو شکست دی اور یہاں اپنی حکومت قائم کی۔سندھ میں عرب تاریخ کی پہلی کتاب چچ نامہ یا فتح نامہ کے مترجم علی کوفی لکھتے ہیں کہ سری لنکا کے راجہ نے بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کے لیے کچھ تحائف بھیجے تھے جو دیبل بندرگاہ کے قریب لوٹ لیے گئے۔ان بحری جہازوں میں خواتین بھی موجود تھیں۔ کچھ لوگ فرار ہو کر حجاج کے پاس پہنچ گئے اور انھیں بتایا کہ خواتین آپ کو مدد کے لیے پکار رہی ہیں۔مؤرخ کے مطابق حجاج بن یوسف نے راجہ داہر کو خط لکھا اور حکم جاری کیا کہ خواتین اور لوٹے گئے مال و اسباب کو واپس کیا جائے تاہم راجہ داہر نے انکار کیا اور کہا کہ یہ لوٹ مار ان کے علاقے میں نہیں ہوئی۔سندھ کے بزرگ قوم پرست رہنما جی ایم سید حملے کے اس جواز کو مسترد کرتے تھے۔انھوں نے سندھ کے سورما نامی کتاب میں لکھا کہ ہو سکتا ہے کہ بحری قزاقوں نے لوٹ مار کی ہو ورنہ راجہ داہر کو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟یہ الزام تراشی ہے ورنہ اس سے قبل عربوں نے جو سندھ پر 14 بار حملے کیے اس کا کیا جواز تھا۔

قدیم زمانے کی تصوراتی تصاویر

پاکستان اور انڈیا کے میوزیم میں مغل دربار شہزادہ اور شہزادیوں کی کئی تصاویر موجود ہیں جبکہ قیام پاکستان سے قبل موجود ریاستوں کے حکمرانوں کی بھی 18ویں اور 19ویں صدی کی تصاویر موجود ہیں۔آرٹسٹ خدا بخش ابڑو کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے کی تصوراتی تصویریں پینٹ کی جاتی ہیں جیسے سندھ میں صوفی شعرا شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمت کی تصاویر بنائی گئیں۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ راجہ داہر کا کوئی تصوارتی خاکہ فی الحال موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جو راجہ داہر پر تحقیق کر رہے ہیں اور انھیں ہیرو مانتے ہیں ان سے ان کو کوئی اختلاف نہیں لیکن کسی آرٹسٹ سے ان (راجہ داہر) کی تصویر بنوا لیں بجائے دوسروں کی تصاویر کو ان کی تصویر قرار دینے کے۔(بشکریہ بی بی سی اُردو)

شعبہ انٹرنیشنل

آئن سٹائن کی سب سے بڑی غلطی؟

ڈارک انرجی کا نام تو سب نے سن رکھا ہے لیکن میں فی الوقت کونیاتی مستقل یا پھر صرف لیمبڈا ہی کہوں گا۔ کہتے ہیں آئن سٹائن نے اسے اپنے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کہا تھا۔کچھ دن قبل مجھے ایک سوال ملا جو ڈارک انرجی یا کونیاتی مستقل کے متعلق تھا۔ یہ سوال بہت دلچسپ تھا جو مجھے ایک کہانی کی طرف لے جاتا ہے جس کے ساتھ آئن سٹائن کا محبت و نفرت کا تعلق رہا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جب آئن سٹائن نے اپنا عمومی نظریہ اضافیت دیا تو اس نے اس کو اس نے ایک حقیقی کائنات پر لاگو کرنا چاہا۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت ہے جب پس منظری شعاعوں یا دوسری کہکشاؤں کے بارے میں اتنا نہیں معلوم تھا اور ظاہر ہے آئن سٹائن بھی اس سے بے خبر تھا۔آئن سٹائن نے ایک ایسی کائنات کا تصور کیا جو مادہ اور شعاعوں (matter and radiations) سے بنی ہوئی ہے۔ یہ بالکل صحیح ہے۔ ہماری کائنات میں مادہ بھی موجود ہے اور شعاعیں بھی۔ اصل میں ان شعاعوں کو آپ ضیائیے یا فوٹان کہہ سکتے ہیں۔ اور جن کو آپ ہر لمحے اپنے جسم میں جذب کر رہے ہیں۔ جب ہم آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کی مساواتوں کو حل کرتے ہیں تو جو ہمارے پاس جو مساوات آتی ہے اس میں مادہ کے لیے کمیت اور شعاعوں کے لیے پریشر یا دباؤ کے رکن موجود ہیں۔ لیکن آئن سٹائن نے یہ سوچا کہ کائنات میں شعاعوں کی نسبت مادہ کی مقدار بہت زیادہ ہے اور اس طرح اس نے شعاعوں کے دباؤ والے رکن کو مساوات حل کرتے وقت نظر انداز کر دیا۔ ڈارک انرجی کا نام تو سب نے سن رکھا ہے لیکن میں فی الوقت کونیاتی مستقل یا پھر صرف لیمبڈا ہی کہوں گا۔ کہتے ہیں آئن سٹائن نے اسے اپنے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *