اوریا مقبول جان نے آخرسچ اُگل دیا

شعبہ پاکستان

تحریر: طارق احمد مرزا،آسٹریلیا

نیو ٹی وی نیٹ ورک پر 18 مئی 2020 کو نشرہونے والے پروگرام “حرفِ راز” میں جماعت احمدیہ کے دیرینہ مخالف اوریا مقبول جان صاحب نے اپنی زبان سے آخروہ واحد سچ اگل ہی دیا جسے وہ روز اول سے اپنے پیٹ میں چھپائےپھرتے تھے۔سچ اکثر کڑوا ہوتا ہے اورہر آدمی کو ہضم نہیں ہوتا۔اوریا مقبول جان صاحب بھی سچ کو ہضم نہ کرپائے۔پروگرام ،جس کی ریکارڈنگ یو ٹیوب پر دستیاب ہے، کے لگ بھگ 56 تا 59 منٹ میں انہوں نے فرمایا:”چھوڑیں اسلام، اُس کو، پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ قادیانی کافر ہیں”۔

اوریا مقبول جان صاحب کے اس ایک جملے نے بہت سی باتوں سے پردہ اٹھا دیا۔اول طورپر یہ جملہ اوریا صاحب کی اپنی شکست کی اواز ہے۔وہ جانتے ہیں کہ اسلامی اصول یعنی کہ شریعت کی رو سے وہ کسی ایسے شخص کوغیرمسلم یا کافر قرار نہیں دے سکتے جو شریعت کی بیان کی ہوئی مسلمان کی تعریف پرپورا اترتاہو۔ دوسرا یہ کہ اوریا صاحب کا مبلغ اسلامی علم اتنا ہے کہ وہ قرآن و سنت کی بنیاد پر کسی بھی احمدی کے ساتھ براہ راست ڈائلاگ یا مناظرہ کرنے کی ہمت،طاقت یا جراء ت نہیں رکھتے اور اسی لئے خود بھی اسلام کو چھوڑکر قرآن وسنت سے رجوع کرنے کی بجائے محض آئین پاکستان کا حوالہ دینے میں عافیت سمجھی ہے اور اب دوسروں کو بھی یہی پیغام دے رہے ہیں کہ احمدیوں پر بات کرنی ہو تو اسلام کو چھوڑکر محض آئین پاکستان کا حوالہ دیا کرو۔یعنی اسلام کو نہیں چھوڑو گے تو لازماً احمدیوں کو مسلمان مانناپڑے گا۔ورنہ بتایئے آپ کے اس جملے کا مطلب کیا تھا؟۔اوریا مقبول جان صاحب کیا بتا سکتے ہیں کہ معاذاللہ کیا آئین پاکستان آئینِ اسلام اور دستورِمحمدی ﷺ سے بالا کوئی چیز ہے؟۔

اگر نہیں تو آپ کے اس بیان سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ احمدیوں سے متعلق آئینی ترمیم اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اوریا صاحب احمدیت دشمنی میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں اس قسم کے کفریہ کلمات بولنے میں کوئی باق محسوس نہیں ہوتا کہ احمدیوں کو کافر،غیرمسلم،مرتد،غیرملکی،باغی وغیرہ قرار دینے کے لئے اسلام کو بھی چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دو اورصرف آئین پاکستان کی بات کرو۔لیکن اوریا صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے آئین پاکستان کو بھی پوری طرح سے نہیں پڑھا ہوا۔کیونکہ خود اسی آئین پاکستان کی ایک اور شق احمدیوں سے متعلق مذکورہ ترمیم کاردّ کرتی ہے۔

وہ شق ہر پاکستانی کا مکمل مذہبی آزادی کا حق تسلیم کرتی ہے۔ ایسی آزادی جس میں ہر پاکستانی کواپنے عقائد کے مطابق مذہبی شعائراپنانے اور ان پرعمل کرنے کا حق حاصل ہے۔پروگرام میں اوریا مقبول جان صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص آئین پاکستان کونہیں مانتا وہ پاکستان کا شہری نہیں ہے۔ یہ بالکل درست بات ہے لیکن اس بات کا زیربحث موضوع سے کوئی بھی تعلق نہیں بنتا۔انہوں نے محض سامعین کو مغالطہ دینے کی ایک غیرمنطقی اور بھونڈی کوشش کی ہے۔کیونکہ آئین کو نہ ماننے اور آئین کی کسی ایک ترمیم کو نہ ماننے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ جیسا کہ اوریا صاحب بھی جانتے ہیں ہر نئی حکومت کسی نہ کسی ترمیم کو ختم یا تبدیل کرنے کی بات ضرور کرتی ہے یا کم از کم از الیکشن سے قبل اس کا وعدہ یا سلوگن عوام کے سامنےرکھتی ہے۔ تو کیا آپ اسے بھی آئین شکنی قرار دے کرپوری حکومت یا پوری سیاسی جماعت کو پاکستان کا شہری تسلیم کرنے سے انکارکردیتے ہیں؟۔موجودہ حکومت کے دورمیں بھی کبھی آئین کے آرٹیکل 6 تو کبھی ترمیم نمبر18 کو ختم یا تبدیل کرنے کی بحثیں چلی ہیں، بلکہ چل رہی ہیں۔تو پھر آپکا نزلہ احمدی پاکستانیوں پر ہی کیوں گرتا ہے؟ وہ بھی تومحض ایک عدد ترمیم کے حوالہ سے بات کرتے ہیں،نہ کہ پورے آئین کی۔

(احمدی تو آئین پاکستان میں شامل حب الوطنی ،اور امانت دیانت صداقت کی شقوں پر سب سے نمایاں اور مثالی طورپرعمل کرنے والے ہیں)۔کیا آئین پاکستان میں آئین پاکستان کی کسی ترمیم پر بات کرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے؟۔ یہ تو محض ترمیم کی بات ہے جو آپ سے ہضم نہیں ہوتی ،جب حبیب جالبؔ لہک لہک کرپورے کے پورے آئین کو نہ ماننے کا اعلان کیا کرتے تھے تو آپ کیا، پوری قوم اس پہ سردھنا کرتی۔اور جب محترم شہباز شریف صاحب بھرے جلسے میں حبیب جالب کی یہی نظم (ایسے دستورکو،صبح بے نور کو،میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا) اپنی مترنم آواز میں جالبّ کےاندازمیں پڑھتے تو ان کے جیالوں سمیت نواز شریف صاحب بھی مظلوم شکل بنا کر سرہلا ہلاکرداد دیتے۔اس وقت کیوں آپ نے رگیں پھلا پھلا کراورچیخ چیخ کر انہیں آئین پاکستان کا باغی اور غیر ملکی قرار نہیں دیا۔ قارئین کرام مذکورہ پروگرام میں اوریامقبول جان صاحب نے احمدی پاکستانیوں سے متعلق اور بھی بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جو سراسرخلاف واقعہ ہیں۔لیکن ان سب کے جوابات بارہا دیئے بھی جاچکے ہیں اوربچے بچے کو بھی معلوم ہیں،اس لئے ان پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ مثلاً یہ کہا کہ ربوہ میں احمدی آرام سے رہ رہے ہیں،پاکستان میں احمدی آزادی سے اپنا کاروبار کر رہے ہیں وغیرہ ۔حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ربوہ (موجودہ چناب نگر) دنیا کا وہ واحد شہر سے جس کی پوری آبادی،جی ہاں بچوں ،بوڑھوں ،مردوں عورتوں سمیت پوری آبادی پرایف آئی آر کٹ چکی ہے۔صرف اس لئے کہ وہ ایک دن ،جی ہاں صرف ایک دن سب مل کر خوشیاں منانا چاہتے تھے !۔

کاروبار کا جہاں تک تعلق ہےتو پاکستان کا کون سا وہ شہر ہے جس میں احمدی پاکستانی شہریوں کی دکانیں نہیں لوٹی گئیں؟۔کون سا ایسا بازار ہے جہاں “قادیانیوں سے لین دین منع ہے ” اور “شیطان،قادیان،شیزان سے دوررہیں” وغیرہ کے پوسٹر،سٹکر نہیں لگے ہوئے۔آپ کس منہہ سے رمضان کے آخری عشرہ میں دن دہاڑے یہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ پاکستان میں احمدی آزاد ہیں؟۔ان کی تو قبریں تک مسمار کی جاتی ہیں۔میّتوں کوقبروں سے نکال کر سڑک پر پھینک دیاجاتا ہے۔جس آئین کی آپ بات کر رہے ہیں کیا یہ سب حرکات اس نے جائز قراردی ہوئی ہیں؟۔اوریا مقبول جان صاحب اپنے آن ریکارڈ بیان کے مطابق “چھوڑ دو اسلام کو” کی تلقین کرچکے،لہٰذہ ان سے اس قسم کی بحث تو کی نہیں جا سکتی کہ اسلام میں مسلمان کی کیا تعریف ہے ،کافر کون ہے وغیرہ، احمدی کسے مسلمان سمجھتے ہیں وغیرہ۔ یہ ساری بحثیں منیر انکوائری رپورٹ اور پھر 74 کی اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹ کی صورت میں نیزسینکڑوں کالموں،وڈیوزوغیرہ میں پہلے سے موجود ہیں۔اس لئے مناسب ہوگا کہ حبیب جالبؔ کی روح اور ان کے چاہنے والوں سے معذرت کے ساتھ ان کے کلام کو تھوڑی سی “ترمیم” کے ساتھ پیش کرکے تحریر کا اختتام کیا جائے۔ :

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسی “ترمیم” کو، “صبحِ دونیم” کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو

جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو

چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو

اِس کھلے جھوٹ کو، “دین میں” لُوٹ کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

☼☼☼

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *