منورؔاحمد کنڈے کی منظومات پر مشتمل تصنیف ’’ حرفِ منور ‘‘ کا پیش لفظ

شعبہ گوشہ ادب

تحریر :ڈاکٹر نذیر فتح پوری ‘ پونہ

میں نے برطانیہ کے ادبی فلک کے درخشاں ستارے ڈاکٹر منوؔر احمد کنڈے کو پہلی بار ان کی غزلوں کے تناظر میں دیکھا۔ وہ مجھے غزل کے ایک ذمہ دار شاعر محسوس ہوئے۔ ان کے مجموعۂ چہارم ’’طاقِ دل‘‘ میں ان کی غزل کی جو دنیا آباد ہے، اس کا کھلی آنکھوں سے میں نے مشاہدہ کیا ہے جس کے ہر ایک بام ودر میں خوبصورت اشعار کے ہیرے جواہرات جگ مگ کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اب ’’حرفِ منور‘‘ کی نظمیں میرے مطالعہ میں آئیں تو ان کا پھیلاؤ اور فکری وسعت دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ فی زمانہ تخلیقی ہنرمندیاں چار چھ اشعار کی غزل اور آٹھ دس سطور کی نثری نظموں تک سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ وہاں ردیف وقافیہ اور بحر ووزن سے مزین یہ نظمیں جناب منور احمد کنڈے کی وسیع ذہانت اور کشادہ دلی کا بین ثبوت فراہم کر رہی ہیں۔

یہ بے مقصد اور محض تصورات کی ڈور سے باندھ کر تخیلات کے آسمان کی سیر کرانے والی نظمیں نہیں ہیں، بلکہ یہ نظمیں اپنے عہد اور زمانے کی تاریخ کا ایک ایسا البم ہے جس میں حالات وحقائق کی تصویریں الفاظ کی دروبست کے ساتھ مصوّر کر دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کا یہ کمال ہے کہ وہ کمال کی حد تک لفظوں سے تصویر بنانا جانتے ہیں۔ ان تصویروں میں کیسے کیسے عکس سمو دیے گئے۔ یہ حیرت کی بات ہے۔ منور احمد کنڈے غالب اور نظیر اکبرآبادی کی طرح حقیقت پسند شاعر ہیں۔ وہ رشتوں ناطوں پر یقین رکھتے ہیں۔ جنگ اور دہشت گردی سے انھیں شدید نفرت ہے۔ وہ حمدِ باری تعالیٰ اور حضرت محمدﷺ کی نعت کے ساتھ ہی حضرتِ رومیؒ کی حکایات سناتے ہیں، اور رام، کرشن اور گورونانک جی کی مدح سرائی بھی کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک انسانیت نواز شاعر کے طور پر ہمارے سامنے آ تے ہیں۔ وہ دنیا میں سکون وشانتی کے طلبگار ہیں۔ عراق، افغانستان اور فلسطین کی تباہی پر ان کا دل روتا ہے۔ ممبئی پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ حقائق کے اظہار سے خوف نہیں کھاتے۔ خود کش حملہ آوروں کو وہ رحمٰن کا نہیں شیطان کا سایہ تصور کرتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے کہ اسلام ہو یا کوئی اور مذہب وہ انسانوں کے ذہنوں اور دلوں پر استبداد سے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان نے خواتین پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں اپنی نظموں کے ذریعہ منور احمد کنڈے نے ان پر شدید احتجاج کیا ہے۔ انھیں افسوس ہے کہ وادیِ سوات طالبان کی زد میں ہے۔ وہ پاکستان پرامریکی ڈرون حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

جب وہ پورے طور پر ایک فطرت پسند شاعر بن جاتے ہیں۔ تو دن، رات، قلم، کتاب، دل، دوستی، مٹی، پھول، درخت، پانی، اخلاق، محبت جیسی نظموں کی تخلیق کرتے ہیں۔ جب وہ قلم کاغذ لے کر اپنے خاندانی تخت پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ تو میاں بیوی کی ہم رشتگی، شریکِ حیات، ماں، مدرز ڈے، فادرزڈے، بیٹیاں، بابل، بیٹی کی رخصتی، سہرا، سمدھی جیسی خالص گھریلو رشتوں کی خوشبو میں بسی نظمیں صفحۂ قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں۔

منور احمد کنڈے کی نظموں کا فطری بہاؤ دیکھ کر اور ان کی نظموں کی حزیات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اگر شاعر نہ ہوتے تو ایک اچھے افسانہ نگار ہوتے ۔ چونکہ افسانے میں بیانیہ ریڈھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ منورؔ احمد نے اپنی نظموں میں بیانیہ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ہر نظم ایک افسانہ، ایک کہانی، ایک حکایت معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے استعاروں اور تمثیلوں سے کام نہ لے کر سارا ماجرا صاف صاف بیان کرنے کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظمیں مطالعہ کے دوران دل پر اثر انداز ہوتی چلی جاتی ہیں۔

ان کی نظموں میں عقیدت اور عقیدے کا نور جھلملاتا محسوس ہوتا ہے۔ وہ بھٹکے ہوئے اذہان کی رہنمائی کے لیے حضرت محمدﷺ کی تعلیمات کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ترقی کے نام پر بے راہ روی کو وہ قوم کے لیے مہلک تصور کرتے ہیں۔

ان نظموں کا تجزیاتی مطالعہ ایک طویل مضمون کا متقاضی ہے۔ راقم نے اختصار سے کام لیتے ہوئے اپنی دو صفحات کی رائے پیش کی ہے۔ یہ ان نظموں کے ساتھ انصاف تو نہیں ہے۔ ویسے بھی کسی تخلیق کار کے ساتھ کوئی مبصر پورا پورا انصاف کر بھی نہیں سکتا۔ کسی بھی تخلیق کے لیے سب سے اہم انصاف کی بات یہی ہے کہ جس مقصد کے لیے تخلیق کار نے اسے زندگی عطا کی ہے۔ وہ اس مقصد کی حصول میں معاون ثابت ہو۔ امید ہے منور احمد کنڈے کی نظموں کو ان کے قارئین کی جانب سے پورا پورا انصاف ملے گا۔

الطاف حسین حالی کی نظم نگاری اورڈاکٹر منور احمدکنڈے

کوئی نہ کوئی کامیاب قلمکار اپنے کسی نہ کسی پیش رو سے ضرور متاثر نظر آتا ہے۔ اس کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔ کوئی فکری طور پر کسی اہم شاعر سے متاثر ہو جاتا ہے ، کوئی فنی طور پر کسی کو اپنا استاد مان لیتا ہے ، کوئی اخلاقی طور پر کسی بڑے شاعر سے متاثر ہوکر اسی کے نقش قدم پر رواں دواں ہو جاتا ہے۔ نظم نگاری کے میدان میں منور احمد مولانا حالی سے متاثر ہی نظر نہیں آتے بلکہ انہوں نے جسار ت کے ساتھ اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ راقم کے نام ایک خط میں منور احمد نے لکھا تھا۔

’’میری بہت بڑی کمزوری یہ ہے کہ میں آزاد نظم نہیں پڑھتا، کیونکہ اس ضمن میں مجھے یوں لگتا ہے جیسے نثر کو ظلم کی چکّی میں پیس کر منظوم نہیں بلکہ مظلوم کر دیا ہے جس کانام ہم نے آزاد نظم رکھ دیا ہے۔ یہ میرا اپنا احساس ہے۔‘‘

منور احمد نہ آزاد نظمیں کہتے ہیں نہ آزاد نظم پڑھتے ہیںاس کی کیا وجہ ہے اس حقیقت کے پیچھے کیا راز ہے۔ راقم کے ایک سوال کے جواب میں منور احمد نے لکھا تھا کہ۔

’’شاعری کے میدان میں میرا کوئی استاد نہیں لیکن خواجہ الطاف حسین حالی میرے کتابی استاد ہمیشہ رہے ہیں‘‘۔

آخر منور احمد نے حالی کو ہی استاد بنایا غالب کو کیوں نہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ حالی ایک اصول پسند شاعر تھے وہ شاعری میں نظم و ضبط کے پابند تھے انھوں نے غزل کے بعد نظم کو اپنی تخلیق کا ذریعہ بنایا پھر باقاعدہ نظم نگاری کی تحریک چلائی۔ آزادؔ، سرور ؔنے حالی کا ساتھ دیا۔ بقول رام بابو سکینہ ؔ۔

’’ان تینوں نے نئے مضامین اور نیا طرز انشا زبان میں داخل کیا۔ تینوں نے مل کر قومی نظمیں لکھیں۔ خیالی نظموں کا جادو جگایا اور بیانیہ نظمیں بھی کثرت سے لکھیں۔ ان کی منصوبہ بند کوششوں سے پرانی قیود اور جکڑ بندیاں ٹوٹیں۔ نظم کا دائرہ وسیع ہوا۔ میدانِ شاعری کو وسعت دی گئی۔ سادگی، بے تکلفی اثر اور جذبات اس رنگ کی نظموں کے خاص جوہر ہیں۔‘‘

(تاریخ اردو ادب۔ صفحہ نمبر ۲۴)

یہ تھے وہ تخلیقی جوہر جن سے متاثر ہوکر منور احمد نے آزاد، سرور اور حالی کے مثلث سے حالی کا نام منتخب کیا اور ان کو اپنا کتابی استاد مان لیا۔

یہ کتابی استاد کیا ہوتا ہے۔ معنوی استاد کسے کہتے ہیں۔ کچھ لوگ احترام کے طور پر بھی کسی پیش رو کو اپنا استاد مان لیتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے سعادت مندی کی بات ہے۔ منور احمد حالی کو کتابی استاد مان کر ان کے تبتع میں پابند نظمیںلکھنے لگے۔ تمام نظمیں، باعنوان، بامقصد، منظم، مسلسل اور مربوط۔

یہ زمانہ ایک طرح سے ادبی بے راہ روی کا زمانہ ان معنوں میں ہے کہ ادب میں بے تحاشہ تجربات کے دروازے کھُل چکے ہیں۔ دو سطروں اور تین سطروں میںنظمیں لکھی جا رہی ہیں۔ اسی طرح بہت سے اہلِ قلم سہل پسندی کا شکار ہو چکے ہیں، لیکن حالی کے نقش قدم پر چل کر منور احمد نے تخلیقی ادب کی ساری اخلاقی پابندیاں خود پر لگا رکھی ہیں۔ حالی نے پابند نظموں کی کشت کو سرسبز وشاداب رکھنے کے لیے اپنا خون بہایا اسی کی عملی جھلک ہمیں منور احمد کی نظموں میں نظر آتی ہے۔(منورؔ احمد کنڈے کی۵۰۰ اشعار کی ایک مثنوی ’’دُرِ ّ منور‘‘ کے زیرِ عنوان بھی تخلیق کے مراحل میں ہے !)

حالی ؔکے یہاں اسلامی تصور کی حامل نظمیں ملتی ہیں حالانکہ منور احمد نے تا حال مسدس حالی جیسی کوئی نظم نہیں لکھی لیکن ان کی بہت سی نظمیں اپنے آپ میں اسلامی تصور کی حامل قرار دی جا سکتی ہیں۔ حالی ؔنے نیچر کی پیروی کی۔ منور احمد نے بھی حالی کے نقش قدم سے ذرا فاصلے پر اپنے نقش قدم ثبت کرنے کی شعوری کوشش کی اور کتابی شاگرد ہونے کا حق ادا کیا۔ حالی نے مبالغہ سے ہمیشہ اپنا دامن بچایا۔ اپنے دور اور زمانے کے حساب سے منور احمدکنڈے نے بھی مبالغہ آمیز گفتگو سے پرہیز کیا۔

حالی کی طرح ان کی عبارت بھی صاف اور سادہ ہے۔ جہاں جو لفظ استعمال کیا ہے وہاں اس کا تخلیقی حق ادا کیا ہے۔ بے اعتدالی اور بے راہ روی جس طرح ہمیں حالیؔ کے یہاں نظر نہیں آتی منور احمد بھی ان عیوب سے خاصے دور نظر آتے ہیں، بقول رام بابو سکینہ :

’’نیچرل شاعری میں بھی ان کا کلام لاجواب ہے اور ان کا (حالی کا) یہ احسان کبھی نہ بھولے گا کہ انھوں نے اردو شاعری کو بڑی حد تک ان مضر اخلاق چیزوں سے پاک وصاف کر دیا جو اس میں سرائیت کیے ہوئے تھیں۔ (تاریخ اردو ادب۔ صفحہ نمبر ۲۵۴)

ایسی ہی خوبیوں کا پرتَو ہمیں ڈاکٹر منور احمدکنڈے کی نظموں میں بھی نظر آتا ہے۔ منور احمد کے یہاں موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ انھوں نے مثبت اور منفی دونوں موضوعات پر نظمیں لکھی ہیں۔ وہ جہاں اجالوں کا نغمہ الاپتے ہیں وہاں اندھیروں کا ماتم بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر ان کی نظر گہری ہے۔ ان کے مشاہدے کی بھی نظر تیز ہے۔ وہ منظر کے ساتھ پس منظر کے عکس بھی قید کر لیتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ کہیں ذہنی طور پر تھکن بھی محسوس نہیں کرتے۔

آئندہ صفحات ہم منور احمد کی نظموں پر سیر حاصل گفتگو بھی کریں گے۔ تب تک کے لیے اجازت لینے سے قبل میں ایک حقیقت قارئین کے گوشِ گزار کرنا چاہتا ہوں کہ منورؔاحمد کنڈے نے حالیہ برسوں میں بیسیوں توشیحات لکھ کر اپنے ہمعصر شعراء اور اادباء کے دل جیت لئے ہیں جو ہر سخنور کے بس کی بات نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *