مرزا چپاتی- اردو کے مشہور خاکے

شعبہ گوشہ ادب

تحریر : اشرف صبوحی

خُدا بخشے مرزا چپاتی کو، نام لیتے ہی صورت آنکھوں کے سامنے آگئی۔ گورا رنگ، بڑی ہوئی ابلی ہوئی آنکھیں، لمبا قد شانوں پر سے ذرا جھکا ہوا۔ چوڑا شفّاف ماتھا۔ تیموری ڈاڑھی، چنگیزی ناک، مغلئی ہاڑ۔ لڑکپن تو قلعے کی درودیوار نے دیکھا ہوگا۔ جوانی دیکھنے والے بھی ٹھنڈا سانس لینے کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ڈھلتا وقت اور بڑھاپا ہمارے سامنے گزرا ہے۔ لٹے ہوئے عیش کی ایک تصویر تھے۔ رنگ روغن اترا ہوا محمد شاہی کھلونا تھا جس کی کوئی قیمت نہ رہی تھی۔کہتے ہیں کہ دلّی کے آخری تاج دارظفر کے بھانجے تھے۔ ضرور ہوں گے۔ پوتڑوں کی شاہ زادگی ٹھیکروں میں دم توڑ رہی تھی، لیکن مزاج میں رنگیلا پن وہی تھا۔ جلی ہوئی رسّی کے سارے بل گن لو۔ جب تک جیے پرانی وضع کو لیے ہوئے جیے۔ مرتے مرتے نہ کبوتر بازی چھوٹی، نہ پتنگ بازی۔ مرغے لڑائیں یا بلبل، تیراکی کا شغل رہا یا شعبدے بازی کا۔ شطرنج کے بڑے ماہر تھے۔ غائب کھیلتے تھے خدا جانے غدر میں یہ کیوں کر بچ گئے اور جیل کے سامنے والے خونی دروازے نے ان کے سر کی بھینٹ کیوں نہ قبول کی؟ انگریزی عمل داری ہوئی۔ بدامنی کاکوئی اندیشہ نہ رہا تو مراحمِ خسروانہ کی لہر اٹھی۔ خاندانِ شاہی کی پرورش کاخیال آیا، پینشنیں مقرر ہوئیں۔ مگر برائے نام۔ ساڑھے تیرہ روپے مرزا چپاتی کے حصے میں آئے۔ اللہ اللہ کیا زمانے کا انقلاب ہے۔ ایک ذرا سے چکر میں تقدیر ہزار قدم پیچھے ہٹ گئی۔

لیکن صاحب عالم مرزا فخرالدین عرف مرزا فخرو الملّقب بہ مرزا چپاتی نے مردانہ وار زندگی گزاری۔ گھر بار جب کبھی ہوگا، ہوگا۔ ہماری جب سے یاد اللہ ہوئی دم نقد ہی دیکھا۔ قلعے کی گودمیں بازیوں کے سوا اور سیکھا ہی کیا تھاجو بگڑے وقت میں اَبرد بتاتا۔ اپنے والد رحیم الدین حیاسے ایک فقط شاعری ورثے میں ملی تھی۔ پڑھنا لکھنا آتا نہ تھا۔ پھر زبان توتلی۔ مگر حافظہ اس بلا کا تھا کہ سو سو بند کے مسدّس ازبر تھے۔ کیا مجال کہ کہیں سے کوئی مصرع بھول جائیں۔ گویا گراموفون تھے کوک دیا اور چلے۔

حاضر دماغ ایسے کہ ایک مرتبہ دہلی کی مشہور ڈیرہ دار طوائف دونّی جان جو ادھیڑ عمر کی عورت ہوچکی تھیں کہیں سامنے سے آتی نظر آئیں۔ انھیں دیکھ کر مرزا کے کسی دوست نے کہا کہ استاد اس وقت دونّی جان پر کوئی پھبتی ہوجائے تو مزہ آجائے۔ بھلا مرزا صاحب کہاں چوکنے والے تھے۔ فوراً بولے

گھستے گھستے ہوگئی اتنی ملٹ

چار پیسے کی دونّی رہ گئی

اس طرح ایک دن کسی شخص نے مرزا صاحب کے سامنے یہ مصرع پڑھا، سرعدو کا ہو نہیں سکتا میرے سر کاجواب۔ اور اس پر مصرع لگانے کی فرمائش کی۔ مرزا صاحب نے اسی وقت بہترین مصرع لگاکر اس طرح ایک اعلیٰ پایہ کا شعر بنادیا:

شہ نے عابد سے کہا بدلہ نہ لینا شمر سے

سرعدو کا ہو نہیں سکتا میرے سرکا جواب

قلعہ مرحوم کے حالات اور موجودہ تہذیب پر ان کی نوکا جھونکی جتنی مزہ دیتی تھی، وہ میرا دل ہی جانتا ہے۔ کبھی کبھی وہ مجھے پتنگ بازی کے دنگلوں میں لے جاتے تھے۔ مرغ اور بلبلوں کی پالیاں بھی دکھائیں۔ تیراکی کے میلوں میں بھی لے گئے۔ کبوتر بھی مجھے دکھا دکھا کر اڑائے۔ سب کچھ کیا، میں جہاں تھا وہیں رہا۔ ہرجگہ ان کا دماغ کھایا۔ انھیں بھی میری خاطر ایسی منظور تھی کہ بادلِ خواستہ یا ناخواستہ وہ سب کچھ مجھے بتاتے۔

ایک دن دوپہر کے کوئی دو بجے ہوں گے۔ برسات کا موسم تھا۔ کئی گھنٹے کی موسلادھار بارش کے بعد ذرا بادل چھٹے تھے کہ حضرت معمول کے خلاف میرے پاس تشریف لائے۔ منہ بنا ہوا۔ آنکھیں ابلی ہوئی۔ چہرے سے غصّہ ٹپک رہا تھا۔ میں نے کہا خدا خیر کرے آج تو صاحب عالم کے تیور کچھ اور ہیں۔ کئی منٹ تک خاموش بیٹھے رہے اور میں ان کا منہ تکتا رہا۔ ذرا سانس درست ہوا تو بولے ”سید! اس پٹھانچے کا ٹِٹر (یعنی اُلٹے دماغ کا)مغزا پن بھی دیکھا۔ بڑا افلاطون بنا پھرتا ہے۔ باوا تو جھک جھک کر محبرا کرتے کرتے مرگیا، یہ بابو بن کر یا بو کی طرح دُلتیاں جھاڑتا ہے۔ ہے شرط کہ چار جامہ کس دوں، ساری ٹرفش نکل جائے گی۔ “

میں : میں بالکل نہیں سمجھا۔ ہوا کیا؟ کون پٹھانچہ؟

مرزا: ایسے ننھے سمجھے ہی نہیں۔ میاں وہی کالے خاں کا لڑکا جو کچہری میں نوکر ہے۔میں : منیر۔ کیا اس نے کچھ گستاخی کی؟

مرزا: گستاخی! نہ ہوا ہمارا زمانہ خاندان بھر کو کولہو میں پسوادیتا۔

میں : بڑا نالائق ہے کیا بات ہوئی؟

مرزا: ہوا یہ کہ میں کبوتروں کا دانہ لینے نکلا۔ گلی کے نکڑ پر بینے کی دکان ہے۔ نالیوں میں دھائیں دھائیں پانی بہہ رہا تھا۔ ساری گلی میں کیچڑ ہی کیچڑ تھی۔ محلے والوں نے جا بجا پتھر رکھ دیے تھے کہ آنے جانے والے اِن پر پاؤں رکھ کر گزر جائیں۔ دیکھتا کیا ہوں وہ اکڑے خاں بیچ گلی میں کھڑے ہوئے ایک خوانچے والے سے جھک جھک کر رہے ہیں۔ گلی تنگ، کیچڑ اور پانی۔ پتھروں پر ان کا قبضہ۔ کوئی بھلا اس پر گزرے تو کہاں سے؟

میں نے کہا کہ میاں راستہ چھوڑ کر کھڑے ہو۔ یہ کون سی انسانیت ہے کہ سارا راستہ روک رکھا ہے۔ ٹرّاکر جواب دیا کہ چلے جاؤ۔ مجھے تاؤ آگیا۔ بولا کہ تمھارے سر پر سے جاؤں۔ بس پھر کیا تھا جامے سے باہر نکل پڑا۔ وہ تو پاس پڑوس کے دو چار آدمی نکل آئے اور بیچ بچاؤ کروا دیا ورنہ آج یا وہ نہیں تھا یا میں۔ خیر جاتا کہاں ہے۔ آج کے تھپے آج ہی نہیں جلاکرتے۔

میں : صاحب عالم۔ آپ اپنی طرف دیکھیے۔ جو ظرف میں ہوتاہے وہی چھلکتا ہے۔ آنے دیجیے وہ ڈانٹ بتاؤں کہ ہاتھ جوڑتے بنے۔ سنا ہے کہ قلعے کے آخری دور ہی میں شہر کی حالت بدل گئی تھی۔ نہ چھوٹوں کا رکھ رکھاؤ رہا تھا نہ بڑوں کا ادب۔

مرزا: توبہ توبہ تم نے تو دلّی کو دم توڑتے بھی نہیں دیکھا۔ اس کا مردہ دیکھا ہے۔ مردہ۔ وہ بھی لاوارث! میاں شہر آبادی کی باتیں قلعے والوں کے صدقے میں تھیں۔ جیسے جیسے وہ اٹھتے گئے دلّی میں اصلیت کا اندھیرا ہوتا گیا۔ اب تو نئی روشنی ہے نئی باتیں۔ اور تو خدا بخشے دلّی کی صفتیں تم کیا جانو۔ پڑھے لکھے ہو۔ شاعری کا بھی شوق ہے۔ بھلا بتاؤ تو سہی اردو کی کتنی قسمیں ہیں؟ میں نے حیران ہوکر پوچھا ”صاحب عالم اردو کی قسمیں کیسی؟

یہ بھی ایک کہی۔ مجھ پر بھی داؤں کرنے لگے۔ “ ”واہ بھئی معلوم ہوا کہ تم دلّی والے نہیں۔ کہیں باہر سے آکر بس گئے ہو۔ “ میں شرمندہ تھا کہ کیا جواب دوں۔ میرے نزدیک تو صرف ایک ہی قسم کی اردو تھی۔ زیادہ سے زیادہ عوام و خواص کا فرق سمجھ لو۔ مگر یہ قسمیں کیا معنی؟ مجھے چپ دیکھ کر مرزا مسکرائے اور کہنے لگے ”سید پریشان نہ ہو۔ مجھ سے سن اور یاد رکھ۔ بھولیو نہیں پھر پوچھے گا تو نہیں بتاؤں گا۔ “ میں بڑے شوق سے متوجہ ہوا اور انھوں نے انگر کھے کے دامن سے منہ پونچھ کر کہنا شروع کیا۔

دیکھ اوّل نمبر پر تو اردوئے معلّٰی ہے جس کو ماموں حضرت اور ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے والے بولتے تھے۔ وہاں سے شہر میں آئی اور قدیم شرفا کے گھروں میں آچھپی۔ دوسرا نمبر قل آعوذی اردو کا ہے جو مولویوں، واعظوں اور عالموں کا گلا گھونٹتی رہتی ہے۔ تیسرے خود رنگی اردو۔ یہ ماں ٹینی باپ کلنگ والوں نے رنگ برنگ کے بچے نکالے ہیں۔ اخبار اور رسالوں میں اِسی قسم کی اردو، ادب کا اچھوتا نمونہ کہلاتا ہے۔ چوتھے ہڑونگی اردو، مسخروں اور آج کل کے قومی بلّم ٹیروں کی منہ پھٹ زبان ہے۔

پانچویں لفنگی اردو ہے جسے آکا بھائیوں کی لٹھ مار، کڑاکے دار بولی کہو یا پہلوانوں، کرخن داروں، ضلع جگت کے ماہروں، پھبتی بازوں اور گلیروں کا روز مرّہ۔ چھٹے نمبر پر فرنگی اردو ہے جو تازہ ولایت انگریز، ہندوستانیوں عیسائی ٹوپ لگائے ہوئے کرانی، دفتر کے بابو، چھاؤ نیوں کے سوداگر وغیرہ بولتے ہیں۔ پھر ایک سربھنگی اردو ہے یعنی چرسیوں، بھنگڑوں بینواؤں اور تکیے داروں کی زبان۔ ”میں نے کہا آج تو بہرہ کھلا ہوا ہے۔

بھئی خوب تقسیم ہے۔ کیوں نہ ہو آخر شاہ جہانی دیگ کی کھرچن ہے۔ میری طرف دیکھ کر ایک گہرا ٹھنڈا سانس بھرا۔ آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے“ سید! ابھی تم نے کیا دیکھا ہے اور کیا سنا ہے۔ قلعہ آباد ہوتا، دربار دیکھے ہوتے تو اصلی زبان کا بناؤ سنگھار نظر آتا۔ اب تو ہماری زبان بیسنی ہوگئی ہے۔ وہ لچیلی چونچلے کی باتیں، شریفوں کے انداز، امیروں کی آن، سپاہیوں کی اکڑفوں، وہ خادمانہ اور خوردانہ آداب و انکسار، شاعروں کے لچھے دار فقرے، شہروالوں کا میل جول، پرانے گھرانوں کے رسم و رواج، وہ مروّت وہ آنکھ کا لحاظ کہاں؟

مجلسوں محفلوں کا رنگ بدل گیا، میلے ٹھیلے، پرانے کرتب، اگلے ہنر سب مٹتے جاتے ہیں۔ اشراف گردی نے بھلے مانسوں کو گھر بٹھا دیا، فیل نشین، پالکیوں میں بیٹھنے والے کھپریلوں میں پڑے ہوئے ہیں، مفلسی، ناداری نے رذالوں کے آگے سرجھکوادیے۔ موری کی اینٹ چوبارے چڑھ گئی۔ کم ظرفوں، ٹینیوں کے گھر میں دولت پھٹ پڑی۔ زمانہ جب کمینوں کی پشتی پر ہو تو خاندانیوں کی کون قدر کرتا؟ پیٹ کی مار نے صورتیں بگاڑدیں، چال چلن میں فرق آگیا۔ ہمت کے ساتھ حمیت بھی جاتی رہی۔

مرزا نے یہ تقریر کچھ ایسے عبرت خیز لفظوں میں کی کہ میرا دل بھر آیا اور میں نے گفتگو کا پہلو بدلنےکی کوشش کی۔

میں : کیوں حضّت، غدر سے پہلے دلّی والوں کا لباس کیا تھا؟ دو چار پرانی وضع کے لوگ دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کی برزخ تو کچھ عجیب ہی سی معلوم ہوتی تھی۔

مرزا: جھوٹے ہو تم نے کہا ں دیکھا ہوگا۔ کوئی بہرو پیایا نقّال نظر آگیا ہوگا۔ میاں ان وقتوں میں ادنا اعلا میں یک رنگی نہ تھی۔ درباری اور بازاری لوگ لباس سے پہچانے جاتے تھے۔ عام طور پر اپنی شکل و شباہت، تن و نوش، جسامت اور پیشے کے مطابق کپڑا پہنا جاتا تھا تاکہ دور سے دیکھ کر پہچان لیں کہ کس خاندان کا اور کیسا آدمی ہے؟ اگر نوجوان ہے تو ایک ایک ٹانکے پر جوانی برستی ہے۔ بوڑھا ہے تو پیری اور سادگی ٹپکتی ہے۔

بانکوں کا بانک پن، چھیلاؤں، ملّاؤں کی ملاّئی، پہلوانوں کی پہلوانی، رذالوں کی رذالت اور شریفوں کی شرافت لباس سے صاف بھانپ لی جاتی تھی۔ چھوٹے آدمی جس پوشاک کو اختیار کرلیتے تھے، بھلے مانس چھوڑ دیتے۔ دو پلڑی ٹوپیوں کا عام رواج تھا مگر چوگوشی، پچ گوشی، گول، مغلیٰ، تاج دار ٹوپیاں، مغل بچے اور شریف زادے پہنتے تھے۔ قلعے کے آنے جانے والوں میں مندیلیں، بنارسی دوپٹے، گولے دار پگڑیاں۔ مسلمانوں کا حصہ تھا۔

درباری جامہ بھی پہنا کرتے تھے۔ امرا جیغہ سرپچ اور شہزادوں میں کلغیاں بھی مروّج تھیں۔ ہندوؤں میں پہلے جامے کا زیادہ دستور تھا، پھر نیم جامہ اور الٹی چولی کے انگر کھے پہننے لگے۔ علاوہ ازیں الخالق، اچکن، قبا، عبا، جُبّہ، چغہ، مرزیٰ وغیرہ بھی استعمال ہوتے تھے۔ پائجامے یا تو تنگ موری کے یا اِک برے یا غرارے دار ہوتے تھے۔ ڈاڑھی مونچو ں کی وضع بھی ہر خاندان اور ہر پیشہ ور کی علاحدہ تھی۔ آج کی طرح نہیں کہ کوٹ پتلون نے تمیز ہی اڑادی۔

دوسروں کی پوشاک پہننے میں کوئی شرماتا ہی نہیں۔ علی گڑھ والوں کو شیروانی اور دو تکیوں کے غلاف والا پائجامہ پہنتے دیکھا، اس کی نقل کرلی۔ پنجابی آئے تو ان کی شلواریں اڑالیں۔ مونچھوں کی جگہ بچھو پال لیے۔ ڈاڑھی کبھی چونچ دار ہے تو کبھی صاف چٹ اور تھوڑے دن سے تو ”ڈاڑھی کو منڈا ڈال تو مونچھوں کا بکھیڑا“ سنتے آئے تھے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ہندو مسلمان کی پہچان تو ایک طرف، مردوں پر عورتوں کا دھوکا ہونے لگا ہے۔ اور کہاں تک سُناؤں۔ بس یہ سمجھ لو کہ دلّی کا نقشہ ہی بدل گیا۔

میں : مگر یہاں والوں کو فضول کھیلوں، دولت کو لٹانے والی بازیوں اور بے کار مشغلوں کے سوا کام ہی نہ تھا۔

مرزا: تم کیا جانو کہ وہ بازیاں اور ان کے مشغلے کیسے کمال کے تھے۔ ویسے ہنر آج کوئی نہیں پیدا کرلیتا۔ زہرہ پھٹ جائے زہرہ۔ بات یہ ہے کہ ساری چیزیں وقت سے ہوتی ہیں۔ نامردوں کا زمانہ ہے تو نامردوں کی سی باتیں بھی ہیں۔ شریفوں کا شغل ڈنٹر، مگدر، بالک، بنّوٹ، پھکیتی۔ اکنگ، تیراندازی نیزہ بازی، پنجہ کشی تھا۔ کہہ دو بے کار تھا۔ تیراکی، کشتی، شکرے اور بازکا شکار، پتنگ لڑانا، کبوتر بازی وغیرہ سے دل چسپی تھی۔ کہہ دو یہ بھی فضولیات ہیں۔

میں : فضولیات نہیں تو اور کیا ہیں۔

مرزا: جی ہاں فضولیات ہیں۔ خدا کے بندے ان ہی باتوں سے تو دلّی دلّی تھی۔ ورنہ شاہجہاں کی بسائی ہوئی محمد شاہی دلّی اور خورجہ بلندشہر میں کیا فرق۔ پھکیت اور بنویٹے ایسے ہوتے تھے کہ موقع پڑتا تو رومال میں صرف پیسا یا ٹھیکری باندھ کر حریف کے سامنے آجاتے اور دو جھکائیوں میں ہتھیار چھین لیتے۔ تیراکی کا یہ حال تھا کہ پالتی مارے ہوئے پانی پر بیٹھے ہیں جیسے مسند پر۔ ایک زانو پر پیچوان لگاہوا ہے، دوسرے پر رنڈی بیٹھی ہے۔

دھواں اڑاتے اور ملہار سنتے چلے جاتے ہیں۔ قلعے کی حمام والی نہر تو دیکھی ہوگی۔ گز سوا گز کا پلاٹ ہے اور بالشت بھر سے زیادہ گہرائی نہیں۔ اس میں آج کوئی مائی کا لال تیر کر دکھائے تو میں جانوں۔ میر مچھلی تو خیر استاد تھے، ان کا سا کمال تو کسے میسر ہے۔ دوچار گز تو اتنے پانی میں تیرکر میں بھی دکھا سکتا ہوں۔

میں : اجی جناب آپ ریت پر تیریے۔ حبابوں پر کھڑی لگائیے نتیجہ؟ کھیل ہی تو تھے۔ پھر یہ کبوتر بازی، پتنگ بازی، مرغ بازی، مینڈھے بازی کیا بلا تھی؟ بچارے بے زبانوں کو لہو لہان کرنا اور اپنا دل بہلانا کیا اچھے ہنر تھے۔

مرزا: ارے میاں ایرانی تورانی منچلے دہم ہوکر کیا چوڑیاں پہن لیتے۔ جنگ وجدال کا خیال انسانی قربانیوں، ملک ستانیوں کے چاؤ۔ خون کی پچکاریوں سے ہولی کا وقت تو لد گیا تھا۔ نہ ان پر کوئی چڑھ کر آتا تھا نہ یہ کہیں چڑھائی کرتے تھے۔ انگریزی عمل داری کی برکت سے نکسیریں بھی نہیں پھوٹتی تھیں۔ وہ جانوروں کو ہی لڑاکر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے تھے۔ میں کچھ اور کہنے والا تھا کہ مرزا نے ایک جھرجھری لی اور یہ کہتے ہوئے کہ بھئی غضب ہوگیا شام ہونے آئی۔ کبوتر بھوکے میری جان کو رو رہے ہوں گے اور چوک کا وقت بھی آلگا ہے۔ لال بند کا جوڑا لگانا ہے، یہ جا وہ جا۔

ان باتوں کو کوئی ایک مہینہ گزرا ہوگا کہ صبح ہی صبح مرزا صاحب چلے آتے ہیں۔ آتے ہی فرمانے لگے ”پرانی عیدگاہ چلنا ہوگا۔ “ میں نے کہا ”خیریت؟ “ بولے ”لکھنؤوں سے پیچ ہیں۔ جانوں ڈھیری یا مالوں ڈھیری۔ پانچ روپے پنچ ٹھہرا ہے، بڑا معرکہ ہوگا۔ “ میں نے عرض کیا ”صاحب عالم مجھے نہ تو پتنگ بازی سے کوئی دل چسپی ہے نہ میرے پاس اتنا فضول وقت ہے کہ آپ کے ساتھ واہی تباہی پھروں۔ “ تاؤ کھاکر آنکھیں نکال لیں اور حاکمانہ انداز سے کہنے لگے ”تمھاری اور تمھارے وقت کی ایسی تیسی۔

بس کہہ دیا کہ چلنا ہوگا۔ دوپہر کو آؤں گا تیار رہنا۔ “ میں بہت پریشان ہوا مگر کرتا کیا، دوستی تھی یا مذاق۔ قہر درویش بجانِ درویش۔ اپنی ساری ضرورتوں کو طاق پر رکھا اور حضرت مرزا چپاتی کا منتظر تھا کہ ٹھیک بارہ بجے آواز پڑی ”سید آؤ“۔ آگے آگے مرزا صاحب اور پیچھے پیچھے میں۔ اجمیری دروازے سے نکل قبرستان لانگتے پھلانگتے پرانی عیدگاہ پہنچے۔ وہاں دیکھا تو خاصا میلا لگا ہوا ہے۔ کبابی، کچالو والے، دہی بڑوں کی چاٹ، پان بیڑی، پانی پلانے والے سقّے پوری خرافات موجود ہے۔

جابجا پتنگ بازوں کی ٹکڑیاں بیٹھی ہیں۔ مرزا صاحب کو دیکھتے ہیں ”صاحب عالم ادھر“، ”مرزا صاحب ادھر“، ”استاد پہلے میری سن لیجیے“، میاں ادھر آنے دو۔ بات سمجھتے ہیں۔ نہ بات کی دُم اڑنے سے کام۔ حضّت آپ یہاں آئیے۔ میر کنکیّا آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ چاروں طرف سے آوازیں پڑنے لگیں۔ مرزا چوکنّے ایک ایک کو جواب دیتے شامیانے کے نیچے جہاں میر کنکیّا تشریف فرما تھے، پہنچے۔

میر کنکیّا لکھنؤ کے واجد علی شاہی پتنگ باز تھے۔ کاکزیزی رنگ، گول چہرہ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، بڑی ناک، دانتوں میں کھڑکیاں، سر پر کڑبڑے پٹھے۔ خشخاشی ڈاڑھی، چھاتی کھلا سنجاف دار ڈھیلا ڈھالا انگرکھا، سر پر دو انگلی کی کلابتو کے حاشیے کی ٹوپی، پاؤں میں مخملی گر گابی، کلے ّ میں گلوری، اٹھ کر مرزا چپاتی سے بغل گیر ہوئے۔ پھر جو پتنگ بازی کا ذکر شروع ہوا تو تین بج گئے۔ میں بے وقوفوں کی طرح بیٹھا ہوا ایک ایک کا منہ تک رہا تھا۔

پتنگ بازی کی ہوتی تو ان کی اصطلاحیں سمجھ میں آتیں۔ آخر خدا خدا کرکے لوگ اپنی اپنی ٹکڑیوں میں گئے۔ آسمان پر چیل کوّے منڈلانے شروع ہوئے۔ میں مرزا صاحب کے ساتھ تھا۔ عید گاہ کی دیوار کے نیچے سے انھوں نے بھی اپنا اختر بختر کھول کرایک انگارا ادّھا اڑایا۔ ہچکا ایک لڑکے کے ہاتھ میں تھا۔ کوئی دس منٹ تک جھکائیاں دیتے رہے، پینچ ہوا۔ کبھی آگے بڑھتے تھے کبھی پیچھے ہٹتے تھے۔ ایک دفعہ ہی جھلاکر لڑکے کو تمانچا رسید کیا اور بولے ”ابے ہُچکا پکڑنے کی سُرت بھی نہ تھی تو یہاں آن کیوں مرا، آخر کٹوادیا نا۔ “

پھر ایک الفن بڑھائی اور اب کے ہچکا پکڑنے کی خدمت مجھے انجام دینی پڑی۔ بدقسمتی سے یہ گڈّی بھی کٹ گئی۔ بہت بگڑے کہ بس جب تم جیسے منحوس ساتھ ہوں تو ہم اڑا چکے۔ غضب ہے سانولیا ہمیں استاد کہنے والا، میرگولنداز ہمارے ہاں کے شاگرد، شیخ پیچک جیسے برابر پینچ نکالے جاتے ہیں اور مرزا فخرو اوپر نیچے دو کنکوّے کٹوائے۔ سمیٹو میاں سمیٹو مجھے اپنی استادی تھوڑی گنوانی ہے۔ ”وہ کہتے رہے، میں تو وہاں سے ہٹ کر رومال بچھاکر الگ جا بیٹھا۔

تھوڑی دیر میں وہ بھی اپنا اسبابِ جہالت لنگی میں باندھے میرے پاس آبیٹھے۔ تیوری پر بل تھے، چہرہ سرخ آنکھیں ابلی ہوئی۔ میں نے کہا مرزا صاحب ہوا کا کھیل ہے۔ اس میں کسی کی کیا پیری۔ آپ کی استادی میں کہیں فرق آتا ہے۔ سلطنت ہی جب ہتھے پر سے کٹ گئی تو ان دو کاغذ کے ٹکڑوں کا کیا غم؟ آپ، آپ ہی ہیں۔ کہنے لگے“ سچ کہتے ہو۔ میاں ہم قلعے والوں کی تقدیر ہی خراب ہے۔ ہوا بھی موافقت نہیں کرتی۔ میں نے ان کے بشرے سے ان کی دِلی کیفیت کا اندازہ کرتے ہوئے اس ذکر کو موقوف کردیا اور پوچھا ”کیوں مرزا صاحب قلعہ جب آباد تھا اس وقت بھی پتنگ بازی کے ایسے ہی دنگل ہوتے تھے؟ “مرزا: اِک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔ اس وقت کا سماں کیوں کر دکھاؤں۔ میاں ہر بات میں اک شان تھی، ایک قاعدہ تھا اور ہزاروں غریبوں کی روٹیوں کے سہارے۔ معمول تھا کہ عصر کا وقت ہوا اور سلیم گڑھ پر جمگھٹ لگا۔ بڑے بڑے پتنگ، دو تادی اور سہ تادی تکلّیں، ڈور کی چرخیاں لے کر شاہی پتنگ باز پہنچ گئے۔ خلوت کے امیر اور شوقی شہزادے مرزا بنّو، مرزا کدال، مرزا کالیٹن، مرزا چڑیا، مرزا جھرجھری بھی آموجود ہوئے۔ یہ سلاطین زادے بہت منہ چڑھے تھے۔

میں : (بات کاٹ کر) حضّت یہ نام کیسے؟ کیا اسی بولی کا نام اردوے معلّٰی ہے۔

مرزا: کچھ پڑھا لکھا بھی، یا گھاس ہی کھودتے رہے ہو۔ ارے زبان کی ٹکسالی قلعے ہی میں تو تھی، وہاں محاورات نہ ڈھلتے تو کہاں ڈھلتے۔ طبیعتیں ہر وقت حاضر رہتی تھیں۔ ہر بات میں جدّت مدِّنظر تھی۔ ہنسی مذاق میں جو منہ سے نکل گیا گویا سکّہ ڈھل گیا۔ کسی کے پھٹے پھٹے دیدے ہوئے مرزا بٹّو کہہ دیا۔ لمبا چہرہ، چگّی ڈاڑھی دیکھی، مرزا چکایا مرزا کدال کہنے لگے۔ چکلے چہرے والے پر چوپال کی اور ٹھنگنے پر گھٹنے کی پھبتی اڑادی۔ غرض کہ مرزا چیل، مرزا جھپٹ، مرزا یاہو، مرزا رنگیلے، مرزا رسیلے بیسوں اسم بامسمیٰ تھے۔ میں جمعرات کو چپاتیاں اور حلوا بانٹا کرتا تھا، میرا نام مرزا چپاتی مشہور کردیا۔

میں : لیجیے ہمیں آج تک مرزا چپاتی کی وجہ تسمیہ ہی معلوم نہ تھی۔ یہ آپ کا خیر سے ٹکسالی نام ہے۔

مرزا: اب زیادہ نہ اِتراؤ۔ قصہ سُنتے ہو یا کوئی پھبتی سُننے کو جی چاہتا ہے۔

میں : اچھا اب کان پکڑتا ہوں بیچ میں نہیں بولوں گا۔ فرمائیے۔

مرزا: سب سامان لیس ہوگیا تو بڑے حضرت کی سواری آئی۔ دُعا سلام مجرے کے بعد حکم لے کر دریا کی طرف پتنگ بڑھایا گیا۔ دوسری جانب سے معین الملک نظارت خاں بادشاہی ناظرکا، مرزا یاور بخت بہادر یا جس کے لیے پہلے سے ارشاد ہوچکا ہے، پتنگ اٹھا۔ ریتی میں سوار کھڑے ہوگئے۔ پینچ لڑے، ڈھیلیں چلیں۔ پتنگ یا تُکلّیں چھپکتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔ یا ہاتھ روک کر ڈور دی تو ڈوبتے آسمان سے جالیں۔ پیٹا چھوڑ دیا، ڈوریں زمین تک لٹک آئیں، سواروں نے دو شاخے بانسوں پر لے لیں۔

پتنگ کٹا تو دریا کے وار پار ڈور پڑگئی۔ ڈوریں لٹیں۔ پتنگ کے پیچھے پیچھے غول کے غول شاہدرہ تک نکل گئے۔ جس نے وہ نکل یا پتنگ لوٹی پانچ روپے کی مزدوری کی۔ ڈور بھی بیس بیس تیس تیس روپے سیر بک جاتی تھی۔ بادشاہ کبھی تو خالی سیر ہی دیکھتے رہتے۔ کبھی جی میں آتا تو تختِ رواں سے اتر پڑتے۔ مچھلی کے چھلکوں کے دستانے پہن لیے۔ پتنگ ہاتھ میں لیا ایک آدھ پینچ لڑایا اور ہنستے بولتے محل معلّٰی میں داخل ہوگئے۔ سید!

یہ بھی خبر ہے کہ وہ پتنگ یا تکلّیں کتنی بڑی اور کیسی محنت سے بنائی ہوئی ہوتی تھیں؟ تکلّیں تو تمھارے پیدا ہونے سے پہلے مرچکیں۔ خیر میں کبھی ان کی تصویر دکھاؤں گا۔ تو وہ قد آدم ہوتی تھی اور ایک ایک کی تیاری میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے۔ ڈوریں بھی اِک بلی، دو بلی، تبلی، چوبلی کنکوّوں اورتکلّوں کے زور کے موافق بنتی تھیں۔ مانجھوں کے نسخے بھی ہر گھرانے کے الگ تھے۔ تکلّیں تو تکلّیں آج ویسے پتنگ بھی نہ بنتے ہیں نہ کسی میں اتنا بوتا ہوتا ہے کہ ان کی جھونک سنبھال سکے۔ چھوٹی تنخیں رہ گئی ہیں یا بڑے نامی پتنگ بازوں کے ہاں ادّھے۔ وہ بھی کنکوّے نہیں گڈّیاں ہوتی ہیں۔ لنڈوری بن پنچھلّے کی۔

میں : بھئی واقعی لُطف تو بڑا آتا ہوگا۔

مرزا: جہاں اپنی حکومت، گھر کی بادشاہت اور پرائی دولت ہوتی ہے، یہی رنگ ہوا کرتے ہیں۔ عشرت گاہوں میں ہر وقت نمازیں نہیں پڑی جاتیں۔ مجاہدے اور مراقبے نہیں ہوتے۔ یہ نہ اٹھائیں تو زندگی کی راحتیں کون اٹھائے۔ دنیا میں ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے کہ اور یہی ہوتا رہے گا۔ سلطنتوں کی بھی عمریں ہوتی ہیں۔ جس طرح آدمی کوئی پیٹ میں، کوئی پیدا ہوتے ہی، کوئی بچپن میں، کوئی جوان ہوکر اور کوئی عمرِ طبعی طے کرنے کے بعد مرتا ہے، اسی طرح بادشاہتیں ہیں۔

کوئی ایک پُشت چلتی ہے، کوئی دو پشت۔ کسی کا سلسلہ سو پچاس ہی برس میں ٹوٹ جاتا ہے اور کسی کی عمارت صدیوں کی خبرلاتی ہے۔ مغلوں نے چھے سو برس تخت کو سنبھالا۔ آخر بڑھاپا تو سب ہی کو آتا ہے۔ ان کے کندھے بھی شل ہوگئے۔ دنیا کا یہی کارخانہ ہے۔ آج اس کا تو کل اس کا زمانہ ہے۔ موت اور زوال بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ ہمارے لیے عیش و عشرت ہی بہانہ ہوگئی۔

میں سمجھتا تھا کہ مرزا نرے شہزادے ہیں اور ان کی معلومات میں بازیوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آج معلوم ہوا کہ قلعے والوں کا دماغ بگڑی میں بھی کتنا بنا ہوا تھا۔ میں نے کہا ”مرزا صاحب! یہ آپ نے کس فلسفی کالکچر یاد کرلیا ہے۔ دو چار جملوں میں کیسے کیسے نکتے حل کرگئے۔ “ بولے، ”پیارے ہمارے احوال پر نہ جاؤ۔ جان کر دیوانے بنے ہوئے ہیں۔ نہیں تو کیا نہیں جانتے کیا نہیں آتا

عالم میں اب تلک بھی مذکور ہے ہمارا

افسانۂ محبت مشہور ہے ہمارا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *