کورونا وائرس: سماجی فاصلوں کا دورانیہ بڑھا تو زندگی کیسے تبدیل ہو گی؟

شعبہ انٹرنیشنل

اگر آپ کورونا وائرس کی وجہ سے باہر کی دنیا سے الگ تھلک ہو کر رہ رہے ہیں تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اِس وقت دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ لاک ڈاؤن میں رہ رہا ہے۔

تحریر : زکریاورک کینیڈاzakria

دنیا بھر میں کروڑوں افراد اُن حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

لیکن اگر زندگی گزارنے کے ہمارے طریقوں میں یہ تبدیلیاں کافی عرصے تک رہیں تو کیا ہو گا؟

اِس مضمون میں جائزہ لیا گیا ہے کہ ہماری زندگی کے کچھ شعبے کس طرح تبدیل ہو سکتے ہیں۔

 گھر سے کام

کاشتکاروں اور تعمیراتی کام کرنے والوں کے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ انھیں باہر جانا پڑتا ہے لیکن وہ لوگ جو ڈیسک پر کام کرتے ہیں اُن کا نیا دفتر اب گھر ہے۔

دنیا بھر میں کاروباری اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین سے کہیں کہ وہ گھر سے کام کریں۔ ان میں ایپل اور مائیکرو سافٹ جیسی کمپنیاں بھی شام ہیں۔

ویسے تو گھر سے کام کرنے کا رجحان کورونا وائرس سے پہلے سے موجود ہے لیکن اب یہ معمول کی بات ہو سکتی ہے۔

آسٹریلیا کی بانڈ یونیورسٹی میں اداروں کے کام کے انداز کے ماہر لبی سینڈر کے مطابق آفس سے دور بیٹھ کر کام کرنے کو معمول بنانے میں کورونا وائرس ایک نقطۂ آغاز ہو سکتا ہے۔

سنہ 2019 میں لندن میں قائم کنسلٹینسی فرم ‘انٹرنیشنل ورک گروپ کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا بھر میں 60 فیصد سے بھی زیادہ اداروں کی پالیسی لچکدار ہے۔ لیکن اس تناسب میں مختلف ممالک کے درمیان بہت فرق ہے۔ جرمنی میں یہ 80 فیصد ہے تو جاپان میں صرف 32 فیصد ہے۔ انٹرنیشنل ورک گروپ کو توقع ہے کہ اداروں میں کام کے لچکدار انتظامات اور مضبوط ہوں گے اور جاری رہیں گے۔

گھر کے اندر رہنے والا طرزِ زندگی

اپنے آپ کو تنہا کرنے اور قرنطینہ میں رہنے کے تجربے سے ہماری تفریح کے طریقوں میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ مثلاً سنیما جانا۔ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والی کمپنی اسٹیٹسٹا کے مطابق گزشتہ برس 56 کروڑ افراد سنیما گئے تھے جو گزشتہ دو برسوں میں 18 فیصد اضافہ ہے۔

لیکن دنیا بھر میں سٹریمنگ پلیٹ فارم بھی بہت مقبول ہو رہے ہیں اور اسی عرصے میں صرف نیٹ فلکس کے صارفین کی تعداد 47 فیصد اضافہ کے ساتھ 16 کروڑ دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اب جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے سنیما بند ہو رہے ہیں تو امکان ہے کہ مزید لوگ نیٹ فلکس اور دوسری سٹریمنگ سروسز کی طرف جائیں گے۔

رجحانات کے ماہر بلیک مورگن نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹلی اور اسپین میں نیٹ فلیکس کا موبائل ایپ پہلی مرتبہ ڈاؤن لوڈ کرنے میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ اٹلی میں 57 فیصد جبکہ اسپین میں 34 فیصد اضافہ۔

اِس وقت لوگوں میں تفریح اور مسائل سے فرار ہونے کی خواہش میں ایسا اضافہ ہوا ہے جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

لیکن کیا گھر میں رہنے کے یہ رجحانات قائم رہیں گے؟

امریکی کنلسٹینٹ اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت کے ماہر رچرڈ گرین فیلڈ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ افراد سٹریمنگ کی طرف جائیں گے اور امریکہ جیسے ممالک میں تھیٹر کے مالکان کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔

اخبار نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے رچرڈ گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ رجحان تو پہلے ہی تبدیل ہو رہا تھا لیکن اب یہ بہت تیز ہو گا۔

میرے خیال میں اِس برس کے اختتام تک عالمی سطح پر انٹرٹینمنٹ کی نمائش کا کاروبار دیوالیہ ہو جائے گا۔

دوسری جانب گیمنگ کی صنعت کو بڑے منافع کی توقع ہے۔ چین میں گھروں میں قید رہنے کی وجہ سے گیمنگ کے صارفین میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ کئی شہروں میں ہونے والے لاک ڈاؤ ن کے بعد چین میں ایپل کے ایپ سٹور سے بڑی تعداد میں ویڈیو گیمز ڈاؤن لوڈ ہوئے ہیں۔

سفر اور سیاحت میں نئے رجحانات

کووڈ 19 نے سیاحت کی صنعت کو مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے اور اِس کی وجہ سے سفر کے بارے میں ہمارے بنیادی تصورات بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق اِس وباء کی وجہ سے دنیا بھر میں سیاحت سے منسلک پانچ کروڑ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق اس سال عالمی سطح پر ہوا بازی کی صنعت کو ایک 113 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ تخمینہ امریکہ کی جانب سے سخت قسم کی سفری پابندیاں لگائے جانے سے پہلے کا ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مارچ میں دنیا بھر میں 11 لاکھ فلائٹس کینسل کی گئیں اور بکنگ میں 50 فیصد کمی آئی جبکہ اپریل کی بکنگ میں 40 فیصد اور مئی کے لیے فلائٹ بکنگ میں 25 فیصد کمی ہوئی ہے۔

مقامی سطح پر کیے جانے والے اقدامات نے بھی سیاحت کی صنعت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ اِن اقدامات میں رضاکارانہ طور پر خود کو سب سے دور کر لینا اور عوامی اجتماعات پر پابندی بھی شامل ہے۔ سیاحت پر انحصار کرنے والے خطے مزید برے وقت کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کر رہے ہیں۔

لیکن کیا اِس بحران میں بہتری کا پہلو بھی ہے؟

ساؤ تھ آسٹریلیا یونیورسٹی میں ٹورازم مینیجمنٹ کی پروفیسر فرییا ہگنز کہتی ہیں کہ اِس وباء نے ہمیں ایک غیر متوقع اور قیمتی موقع فراہم کیا ہے۔

دنیا میں کئی ایسے علاقے ہیں جو ضرورت سے زیادہ سیاحت کا شکار ہیں اور جہاں مقامی افراد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے خوش نہیں ہیں۔

پروفیسر فرییا ہگنز سمجھتی ہیں کہ موجودہ بحران اس دلیل کے وزن میں اضافہ کرتا ہے کہ سیاحت کو معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے پر دوبارہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔

سائنسدان اِس جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ انسانوں کی جانب سے ماحول، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے اکثر وبائیں جنم لیتی ہیں۔

اگر ہم انسانی معیشتوں میں توازن اور حدود متعین نہیں کریں گے تو ایک کے بعد ایک بحران آتا رہے گا۔

آن لائن خریداری

دنیا بھر میں آن لائن شاپنگ اتنی عام نہیں ہے جتنی شاید آپ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ ان علاقوں میں بھی بہت زیادہ نہیں ہے جہاں ہر طرف انٹرنیٹ موجود ہے۔

مثال کے طور پر سنہ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں سے 30 فیصد لوگوں نے آن لائن خریداری نہیں کی۔ لیکن 55 سے 74 برس کے لوگوں میں اب یہ شرح بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔

گھروں سے باہر نہ نکلنے کی وجہ سے صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

یورو مانیٹر نامی تحقیقی ادارے کے مطابق آن لائن شاپنگ کے بارے میں عام لوگوں کا رویہ تبدیل ہو رہا ہے اور اس کا رجحان اس عمر کے لوگوں میں بھی بڑھ رہا ہے جو نئے تجربوں سے خائف رہتے ہیں۔

چین میں دس روز میں، جو جنوری کے اواخر اور فروری کے ابتدائی دن تھے، آن لائن کمپنی جے ڈی ڈاٹ کام پر خریداری میں 215 فیصد اضافہ ہوا۔

دنیا بھر میں جہاں بھی لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے وہاں امکان ہے کہ آن لائن خریداری کے اعداد و شمار ایسے ہی ہو جائیں گے۔

صاف ستھرا ماحول

سیٹیلائٹ سے بنائے جانے والے تازہ تصاویر سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں ہوا میں آلودگی میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔ اِس کی وجہ کئی شہروں میں کیا جانے والا لاک ڈاؤن ہے جس کی بنا پر سڑکوں پر ٹریفک ہے نہ فیکٹریوں سے آلودہ دھواں نکل رہا ہے۔

صنعتی اور ٹریفک کی آلودگی میں کمی کا مطلب ہے کہ ملک میں گرین ہاؤ س گیسوں کا اخراج واضح طور پر کم ہوا ہے۔

لیکن جیسے ہی دنیا معمول پر واپس آئے گی آلودگی کی پرانی سطح بھی واپس آ جانے کا خدشہ پوری طرح موجود ہے۔

لیکن آب و ہوا میں تبدیلی اور عالمی حدت میں اضافے کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کو موجودہ صورتحال میں بہتری کا موقع دکھائی دے رہا ہے۔

سٹینفرڈ یونیورسٹی کے تحقیق کار مارشل برک نے اپنے تازہ بلاگ میں لکھا ہے کہ انسانی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر خلل پڑنے اور اس سے باقاعدہ طور پر بڑے اور جزوی فائدے ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے معمول کے کاموں کے طریقوں میں بھی ایسے ہی خلل کی ضرورت ہے۔

مارشل برک نے یہ حساب لگایا کہ چین میں ہوا کے معیار میں اس وقتی یا عارضی بہتری نے پانچ سال سے کم عمر چار ہزار بچوں کی زندگی بچائی ہے اور 73 ہزار ایسے لوگوں کو بچایا ہے جن کی عمر 70 برس سے زیادہ ہے۔ یہ تعداد چین میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ چین میں کورونا وائرس سے تین ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اگر ہم کووڈ 19 سے بچ جاتے ہیں تو یہ وائرس ایسے طریقوں کو ڈھونڈنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے کہ ہم کم سے کم آلودگی پیدا کر کے اپنے کام کس طرح کریں۔

آپ کو ای ڈاکٹر دیکھے گا

روایتی طریقۂ کار سے مختلف طور پر صحت کی سہولیات پہچانے کے لیے ٹیلی مواصلات اور ورجوئل ٹیکنالوجی کا استعمال ٹیلی ہیلتھ کہلاتا ہے۔

کوورنا وائرس کے وباء کے تناظر میں مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے ٹیلی ہیلتھ کا استعمال مزید اہم ہو گیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے بھی اِس رجحان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس طریقے سے اخراجات میں کمی ہو گی اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ کی ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی میں صحت عامہ کی پالیسی کے ماہر اسٹیو ڈیوس کے مطابق ٹیلی ہیلتھ خود ساختہ قرنطینہ میں مدد گار بن کر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ اِس کے ذریعے بیماریوں کو علاج بھی جاری رہ سکتا ہے۔

یہ طریقہ کورونا وائرس کو روکنے کی امریکی حکومت کی کوششوں کا حصہ بن چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے 17 مارچ کو نیشنل ہیلتھ انشورنس کے نظام میں جن تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا ان کے تحت ٹیلی ہیلتھ کو بزرگوں اور زیادہ خطرے کے شکار لوگوں کے لیے میسر کر دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *