غیر مسلم اور قانون توہینِ رسالت

شعبہ بین المذاہب

دوسری قسط

تحریر :ابنِ قدسیؔ

 جن آیات سے یہ سمجھا کہ ان سے شان میں گستاخی کرنے والوں کی سزا ثابت ہوتی ہے وہاں پر ہی ان تمام آیات کو چھوڑ دیا گیا ہے جہاں پر شان میں گستاخی کرنے والوں کا ذکر تو ہے مگر ان کی سزا بیان نہیں کی بلکہ اس کے برعکس صبر کا مضمون بیان کیا گیا ۔استہزاء اور ہنسی کرنے والوں کا ذکر ہے مگر إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِئِیْنَ (الحجر:۹۶)کہ یقینا ہم استہزا ء کرنے والوں کے مقابل پر تجھے بہت کافی ہیں کہہ کرصبر کرنے کا پیغام دیا ۔عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین نے ایسا گستاخانہ فقرہ کہا جسے کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔قرآن کریم میں اس کا ذکر موجود ہے یَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَل(المنافقون :۹) کہ مدینہ کا سب سے معزز شخص یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول نعوذ باللہ نعوذباللہ مدینہ کے سب سے ذلیل شخص یعنی رسول کریم ﷺکو مدینہ سے نکال دے گا ۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا مگر اس کی سزا کا کوئی ذکر نہیں ۔رسول کریم ﷺ او ر صحابہ کے علم میں بھی تھا مگر کسی نے بھی عبدا اللہ بن ابی بن سلول کو قتل نہیں کیا بلکہ رسول کریم ﷺ اس کے فوت ہونے پر اس کا جنازہ پڑھانے تشریف لے گئے ۔اور اسے اپنا کرتہ پہنایا۔

انبیاء کی تکذیب اور مخالفت کا پورے قرآن کریم میں بار بار ذکر ہے ۔اس مخالفت کے جواب میںصبر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اورمخالفین انبیاء کے استہزاء اور تمسخرکے مقابل پر خداتعالیٰ نے اپنی ذات کو بیان کیا ہے ۔

ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا کُلَّ مَا جَاء أُمَّۃً رَّسُولُہَا کَذَّبُوہُ (المومنون:45)

ترجمہ: پھر ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے جب بھی کسی امت کی طرف اس کا رسول آیا توا نہوں نے اسے جھٹلا دیا

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ وَکَفَی بِرَبِّکَ ہَادِیْاً وَنَصِیْراً (الفرقان :32)

ترجمہ اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرموں میں سے دشمن بنا دئے ہیں۔

کَذَلِکَ مَا أَتَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ (سورۃالذاریات:53)

ترجمہ: اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کی طرف بھی کبھی کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادوگر یا دیوانہ ہے

وَمَا یَأْتِیْہِم مِّن نَّبِیٍّ إِلَّا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِئُون(سورۃ الزخرف:8)

ترجمہ: اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ تمسخر کیا کرتے تھے ۔

یَا حَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ مَا یَأْتِیْہِم مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِئُون (سورۃ یٰسین:31)

ترجمہ : وائے حسرت بندوں پر ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں

وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوا مِنْہُم مَّا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِئُون (سورۃ الانبیاء:42)

ترجمہ : اور رسولوں سے تجھ سے پہلے بھی تمسخر کیا گیا پس انکو جنہوں نے ان رسولوں سے تمسخر کیا انہی باتوں نے گھیر لیا جس سے وہ تمسخر کرتے تھے

وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِکَ فَصَبَرُواْ عَلَی مَا کُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّی أَتَاہُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّہِ وَلَقدْ جَاء کَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِیْنَ(سورۃ الانعام:35)

ترجمہ: اور یقینا تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے تھے اور انہوں نے اس پر کہ وہ جھٹلائے گئے اور بہت ستائے گئے صبر کیا یہاں تک کہ ان تک ہماری مدد آن پہنچی ۔

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُولُونَO فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَO وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقِیْنO(سورۃ الحجر:98 تا 100)

ترجمہ : اور یقینا ہم جانتے ہیں کہ تیرا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میںسے ہو جا اور اپنے رب کی عبادت کرتا چلا جا یہاں تک کہ تجھے یقین آجائے ۔

وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلَا تَکُن فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُونَ (سورۃ النمل:71)

ترجمہ: اور ان پر غم نہ کر اور کسی تنگی میں مبتلا نہ ہو اس کے باعث جو وہ مکر کرتے ہیں

فَلَا یَحْزُنکَ قَوْلُہُمْ إِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ (سورۃ یٰسین:77)

ترجمہ : پس تجھے ان کی بات غم میں مبتلا نہ کرے یقینا ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ۔

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ(سورۃ الاعراف:200)

ترجمہ : عفو اختیار کر اور معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔

وَاصْبِرْ عَلَی مَا یَقُولُونَ وَاہْجُرْہُمْ ہَجْراً جَمِیْلاً(سورۃ المزمل:11)

ترجمہ اور صبر کر اس پر جو وہ کہتے ہیں اور ان سے اچھے رنگ میں جدا ہو جا ۔

یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللَّہَ وَلَا تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیْماً حَکِیْماً (سورۃ الاحزاب:2)

ترجمہ : اور ان کافروں اور منافقوں کی ایذا رسانی کو نظر انداز کردے اور اللہ پر توکل کر اور اللہ ہی کارساز کے طور پر کافی ہے۔

إِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً مُّہِیْناً (سورۃ الاحزاب:58)

ترجمہ :یقینا وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی اور اس نے ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے ۔

مندرجہ بالا آیات کا خلاصہ یہی ہے کہ انبیاء کی مخالفت ہوتی ہے ان سے استہزاء اور تمسخر تو کیا جاتا ہے مگر ان کو صبر کرنے کی تعلیم دی جارہی ہے اور معاملہ خدا کے سپرد کرنے کا کہا جارہا ہے ۔اب یہ آیات ہیں جن میں استہزاء کے جواب میں صبر کی تعلیم ہے دوسری طرف بقول علامہ صاحب قرآن کریم میں ان تمسخر کرنے والوں کو قتل کی سزا دینے کی تعلیم ہے ۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ یہ کہے کہ ہم استہزاء کرنے کے مقابل پر تیری طرف سے کافی ہیں اور دوسری طرف ان کی گردنیں کاٹنے کی تعلیم ہو ۔ایک طرف تو رسول کریم ﷺ کھلی کھلی گستاخی کرنے والے سے حسن سلوک فرمائیں اور فرماتے چلے جائیں اور دوسری طرف یہ تعلیم بھی ہو کہ گستاخی کرنے والے کے لیے کوئی رعایت نہیں اور اس کی سزا قتل ہے ۔ان متضاد تعلیمات سے کیسے ایک وقت میں عمل کیا جاسکتا ہے ۔

اس لیے وہ علماء حضرات جوتوہین رسالت کے مرتکب کو قتل کی سزا کو شرعی سزا بتا رہے ہیں ان کو اپنے اس موقف پر دوبارہ غور کرنا چاہیے ۔یہ بات تحریر کرتے ہوئے قطعاً قطعاً نعوذباللہ رسول کریم ﷺ کی توہین کرنے کو جائز قرار نہیں دیا جارہا بلکہ رسول کریم ﷺ کی حرمت کو قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ رحمۃؐ للعالمین ،محسنؐ انسانیت ،فخر رسل ؐتمام دنیا کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوئے ہیں ۔آپ کے مشن کی تکمیل اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ساری دنیا آپ کی امت میں داخل ہو ۔لوگوںکے دلوں میں تبدیلی پیدا ہو اور وہ دل وجان سے خدا اور رسول کی محبت میں فنا ہوجائیں ۔اور یہ محبت نرمی اور خوش اخلاقی سے پیدا کی جاسکتی ہے نہ کہ قتل اور سزا کا قانون بنا کر ۔خدا نخواستہ اگرکوئی توہین کرنے والاہے بھی تو اس کے سامنے رسول کریم ﷺ کی تعلیمات کا حقیقی چہرہ بیان کیا جائے تو یقینا اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا ۔اور اپنی غلطی سے توبہ کر لے گا ۔مسئلہ یہ ہے کہ غیر ہمارے ہر عمل کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اگر ہم دنیا کے سامنے یہ تعلیم رکھیں کہ اسلام ہر وقت اپنے ہاتھ میں تلوار لیے کھڑا ہے تو غیر اسلام سے ڈرنے تو لگیں گے مگر اسلام اور بانی اسلام سے محبت کبھی نہیں کریں گے ۔

جب ہم’’ توہین رسالت ‘‘کہتے ہیں اس میں ’’رسالت ‘‘سے مراد تمام انبیاء مراد ہیں نہ کہ صرف آنحضرت ﷺ ۔کیونکہ رسالت تو اس مرتبہ کا نام جو خدا کی طرف سے اپنے برگزیدہ لوگوں کو عطا ہوتا ہے اور برگزیدہ لوگ گمراہی میں ڈوبی انسانیت کو ہدایت کے راستے پر چلاتے ہیں ۔اب اگر ہم اپنے رسول ﷺکی حرمت کو قائم رکھنے کا یہ ذریعہ سمجھتے ہیں کہ کوئی قانون بنایا جائے تو دیگر انبیاء کی طرف منسوب امتوں کا حق بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ جس رسول کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ان کی حرمت کو قائم رکھنے کے لیے کوئی قانون بنا لیں اور بنا بھی اسی طرح کا لیں جس طرح کا ہم نے بنا رکھا تو خود سوچیں دنیا میں کیا ہوجائیگا ۔سب سے پہلے تو تبلیغ کا کام ختم ہوجائیگا ۔پھرکوئی کسی کو یہ کہہ کر قتل کرسکتا ہے کہ ہمارے بانی کوجس حیثیت سے ہم مانتے ہیں اس طرح تسلیم نہیں کیاگیا۔

اکثر علماء کی طرف سے یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ اگر کسی کے والد کی اس کے سامنے بے عزتی کی جائے تو وہ کبھی کسی صورت میں اسے برداشت نہیں کرتاتوہم رسول کریمﷺ کی بے عزتی کس طرح برداشت کریں ۔ایک لحاظ سے ان کی بات درست ہے کہ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے جس سے گہرا تعلق ہوتا ہے اس کی عزت پر حرف آنا کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا ۔ ایک بچے کے کھلونے کو نقصان پہنچایا جائے تو وہ بچہ بھی احتجاج کرے گا۔اسلام تمام فطرتی جذبات کو اعتدال اور کنٹرول میں لانے کا نام ہے ۔جہاںمحبت کو بھی جائز اور صحیح جگہ رکھا جائے تو وہاں غصہ و ناراضگی کو بھی کنٹرول کرنا چاہیے ۔ایسا نہیں کہ جہاں مرضی اور جب مرضی اور جیسے مرضی ان جذبات کا اظہار ہو ۔باپ اور بیٹے کا آپس میں ایک رشتہ ہوتا ہے اس رشتہ اور تعلق کی وجہ سے محبت ہوتی ہے ۔اگر کوئی باپ کی بے عزتی کرے تو اس رشتہ اور محبت کی وجہ سے بیٹے کے لیے یہ برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ہوسکتا ہے باپ بھی اس بات پر خوش ہو کہ میرا بیٹا میرے لیے غیرت رکھتا ہے لیکن وہ باپ کبھی بھی خوش نہیں ہوگا جس کے دونوں بیٹے آپس میں لڑپڑیں اور ایک دوسرے کو قتل کردے ۔ اگرایک بیٹا دوسرے بیٹے کے سامنے باپ سے بے ادبی کرے تو باپ کبھی پسند نہیں کرے گا کہ دوسرا بیٹا تلوار پکڑ کر پہلے کی گردن اڑا دے ۔بلکہ باپ اس بات پر فخر محسوس کریگا اگر دوسرا پہلے کو سمجھا کر باپ کے ادب پر قائل کرلے ۔باپ کی خاطر کسی سے لڑنا باپ کو خوش کر سکتا ہے مگر باپ کی خاطر بھائی سے لڑنا باپ کے لیے تکلیف کا باعث بنے گا ۔آنحضرت ﷺ تو ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور سارے انسانوں کی اصلاح آپ کے ذمہ تھی۔جس انسانیت کوآپ ﷺ سیدھے راستے پر ڈالنے آئے تھے اسے ختم ہوتا دیکھ کر آپ ؐ کسی صورت میں خوش نہیں ہونگے ۔آپ یہ کبھی پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ ؐ کے نام پرایک دوسرے کو قتل کیا جائے ۔آپ کی کامیابی تو یہ ہے کہ سب آپ کے عاشق بنیں۔اس لیے ہمیں اپنی محبت کااظہار کرتے ہوئے یہ سوچ لینا چاہیے کہ کہیں ہماری محبت لوگوں کے دلوں میں رسول کریم ﷺ سے دوری تو پیدا نہیں کر رہی ۔ باپ بیٹے کا تعلق ایک ذاتی معاملہ ہے مگر رسول کریم ﷺ سارے انسانوں کے رسول ہیں اس لیے بڑا سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔

باپ بیٹے کے حوالے سے ایک واقعہ کا ذکر بھی اہم ہے ۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کا ذکر ہوچکا ہے جب اس نے رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی والے کلمات کہے توخیال پیدا ہوا کہ اب اسے سزا دی جائے گی ۔ عبدا للہ کا بیٹا ایک مخلص مسلمان تھا۔وہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول اگر میرے باپ کی سزا قتل ہے تو مجھے اجازت دیجئے میں اپنے ہاتھوں سے اپنے باپ کو قتل کروں تاکہ کل کو میرے دل میں کوئی بدلہ لینے کا خیال پیدا نہ ہولیکن رسول کریم ﷺ نے اس کی اجازت نہیں دی۔اگر گستاخ رسول ؐ کی سزا قتل ہوتی تو یقینا یہ وہ موقعہ تھا جہاں یہ سزا دی جاسکتی تھی ۔ اور اس کی گستاخی کوئی معمولی نہیں تھی کیونکہ قرآن کریم نے اس کا ذکر کر دیا ہے مگر پھربھی آپؐ نے اسے قتل کی سزا نہیں دی۔بیٹے کی بات میں ہمارے لیے ایک انتہائی پیغام ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔اس نے کہا کہ میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں تاکہ کل کو میرے دل میں کسی سے بدلہ لینے کا خیال پیدا نہ ہو۔ بے شک گستاخی کی بنا پر بطور سزا ہی میرے باپ کو قتل کیا گیا پھر بھی دل میں تو باپ کی محبت ہے وہ کبھی جو ش مار سکتی ہے اور میں اپنے باپ کے قاتل (جو یقینا رسول کریم ﷺ کا کوئی صحابی اور آپ ؐ کا عاشق ہوگا)کے مقابل پر اٹھ کھڑا ہوں گا۔گویا مقتول کے وارثوں کا بدلہ لینا ایک طبعی تقاضا ہے اور اس کا کسی صورت انکا ر نہیں کیا جاسکتا ۔جہاں بدلہ لینے کا خیال ہو وہاںبغض و عناد توہوسکتا ہے محبت کسی صورت میں پیدا نہیں ہوسکتی ۔گستاخی کی وجہ سے قتل ہونے والے کا باپ،ماں،بھائی ،بہن ،بیوی ،بیٹا اور بیٹی کیسے اسلام کے سچے عاشق بن سکتے ہیں ۔قتل ہونے کی بجائے اگر گستاخی کرنے والا ان سب کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے سچا عاشق رسول ﷺ بنے تو یہ چیز تو ان سب کو اسلام کی طرف یقینا راغب کرے گی ۔قتل سے خوف رسول ﷺ تو پیدا ہوسکتا ہے محبت رسول ﷺ نہیں ۔لیکن ہماری زندگی کا مشن خوف رسول ﷺ پیدا کرنا نہیں بلکہ حب رسول ﷺ پیدا کرنا ہونا چاہیے ۔

’’توہین رسالت ‘‘کی شرعی سزاقتل بیان کی جاتی ہے ۔لیکن استدلال کرنے والے یقینا جانتے ہونگے کہ قرآن کریم اور شریعت نے جب بھی تعزیرات کو بیان کیا ہے تو پوری تفاصیل سے بیان کیا ہے ۔واضح احکامات دیے ہیں شرائط بیان کی ہیں ۔ زنا،قذف،چوری وغیرہ ان جرائم کی سزائیں بیان ہوئیں مگر اس کے ساتھ گواہوں وغیرہ کی شرائط لگائی گئی ہیں ۔اسے بھی قاضی کے پاس لے جایا جائے گا پھر فیصلہ ہوگا۔’’توہین رسالت ‘‘سزا قتل بیان تو کی جاتی ہے مگر اس جرم کو ثابت کرنے کی شرائط بیان نہیں کی جاتی ۔تحقیق ،گواہ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں۔سب سے بڑی بات یہ کہ توہین کی ہی کوئی تعریف نہیں بیان کی گئی ۔رسول کریم ﷺ کی توہین کادیگر مذاہب کے حوالے سے کیا بیان کریں مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر توہین رسول ؐ کا الزام لگائے ہیں ۔نور وبشر ،حاضر وناظر اور عالم الغیب جیسی بحثوں میں الجھ کر ایک دوسرے پر گستاخ رسول ؐ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ایسی صورت میں توہین کی کیاDefination بیان کریں ۔یہ بڑا اہم سوال ہے ۔

پھرایک اور پہلو سے ایک اہم بات یہ ہے کہ گستاخی کی سزا تو اسے ملے گی جو لوگوں کے سامنے گستاخی کرے گا اگر کوئی اکیلے میں یا تنہائی میں رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کر دے گا اسے کیا سز ا ملے گی ۔پھر جن ممالک میں توہین رسالت کا قانون نہیں بنا ہوا کیاوہاں توہین کرنے والا بچ جائے گا ۔اس لیے خدا نے فرمایا کہ إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِئِیْنَ (الحجر:۹۶)کہ استہزاء کرنے والوں کے مقابل پر تیری طرف سے ہم ہی کافی ہیں ۔

یہاں پر اب ان روایات پر بھی تبصرہ ضروری ہیں جو اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے پیش کی جاتی ہیں کہ فلاں شخص نے توہین کی رسول کریم ﷺ نے اسے قتل کروا دیا ۔اس لیے آج ہم بھی ایسا ہی کریں ۔ان تمام واقعات کا الگ الگ تفصیلی اور تاریخی اعتبار سے جائزہ لینے کی بجائے عمومی رنگ میں بغیر اس تفصیل میں گئے تبصرہ کیا جارہا ہے۔رسول کریم ﷺ کی دو حیثیتیں تھیں ایک نبی و رسول اور دوسری بطور حاکم وقت ۔حاکم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ نظام کو بہتر اور پرامن طریق پر چلانے کے لیے اقدامات کرے ۔جس وقت مدینہ میں مسلم ریاست کا قیام عمل میں آیا اور دن بدن اس کا اثر رسوخ بڑھنے لگا تو یہ بات مشرکین اور یہود کو اپنے لیے بڑے خطر ے طور پر نظر آئی۔انہوں نے اس کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنی شروع کی ۔اسلام اور بانی اسلام کے خلاف باتوں،تقاریر اور اشعار کے ذریعہ زہر اگلنا شروع کردیا ۔یہ بات ایک قائم شدہ نظام کو تباہ کرنے کے مترادف تھی۔لوگوں کے اندر اسلام اور بانی اسلام کے خلاف اشتعال پیدا ہونے کا اندیشہ تھا ۔جس کی وجہ سے خونریز جنگوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا تھا ۔اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری تھا کہ اس تمام فتنہ کے بانیوں کا قلع قمع کیا جائے تاکہ عام لوگ ان کی باتوں میں آکر تلوار نہ اٹھا لیں۔جس کی وجہ سے بہت زیادہ خون بہنا یقینی تھا ۔آنحضرت ﷺ نے ان بڑی خونریزیوں کو روکنے کے لیے بعض اقدامات اٹھائے تاکہ آنے والے بڑے فتنوں کا استحصال ہوسکے ۔ اس زمانے میں ایسی کوئی جیلیں اور عدالتیں نہیں تھی جن میں باغیوں اور فتنہ پردازوں کو رکھا جاتا اور عین ممکن ہے اگر ان کو گرفتار کیا جاتا تو ان کے خاندان اور قبیلے والے خاندانی عصبیت کی بنا پر اسلام کے خلاف تلوار اٹھا لیتے ۔اس بنا پر بانی اسلام نے قابل سزا مجرموں کو سزا دلوانے کا اس رنگ میں انتظام فرمایا کہ کم سے کم خون بہے اور فتنہ بھی فرو ہو جائے۔رسول کریم ﷺنے یہ اقدامات پوری تحقیق اور تسلی کے بعد کے گئے تھے یہ نہیں کہ سنی سنائی بات اور بغیر ثبوت کے کوئی قدم اٹھایا ۔جس طرح کوئی جج یا قاضی کسی کو سزا دینے کے لیے قانونی تقاضے پورے کرتا ہے اسی طرح اس زمانے میں رائج طریقہ کار کے مطابق پوری طرح تسلی ہونے کے بعد ان باغیوں اور فتنہ پردازوں کے بارے میںکوئی کاروائی کی گئی ۔اگر یہ کہاجائے کہ صرف اور صرف توہین کی وجہ سے ان کو قتل کروایا گیا تواس سے ثابت ہوتا ہے کہ پورے نبوی دور اور پورے عرب میں صرف اور صرف وہ گنتی کے چند لوگ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کے شان میں گستاخی کی تھی ۔باقی تمام لوگ سچے اور پکے مؤمن تھے ۔حالانکہ یہ بات حقائق وواقعات کے خلاف ہے ۔

شریعت اسلامیہ کی طرف سے کوئی بات منسوب کرتے ہوئے پوری طرح چھان بین کر لینی چاہیے ۔پھر کسی کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہو تو پوری احتیاط کرنی چاہیے ۔اسلام لوگوں کی زندگی لینے نہیں زندگی عطا کرنے آیاہے ۔اگر کسی کی زندگی لینے کی تعلیم جیسا کہ علماء کہتے ہیں قرآن میں موجود ہے تو اسے واضح ہونا چاہیے ۔یہ کوئی معمولی بات تو نہیں کہ کسی کی زندگی کو ختم کر دیا جائے ۔

آخر پر پھر اسی بات کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہماری زندگی کا مشن یہ ہو کہ ہم حب رسول ﷺ کو دنیا میں پھیلائیںنہ خوف رسولﷺ کو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *