کنگ چارلز کارونیشن میڈل کا اعزاز ڈاکٹر سر افتخار ایاز کے نام
ڈاکٹر سر افتخار ایاز صاحب کو کنگ چارلز کارو نیشن (تاج پوشی)میڈل دیا گیا ہے۔برطانیہ اورکامن ویلتھ کے سارے ممالک میں6مئی2023ء کوشاہ چارلز ثالث کی تاجپوشی کا جشن بہت جوش و خروش سے منایا گیا۔ جون1953ء میں ان کی والدہ ملکہ الزبتھ ثانی مرحومہ کا جشن تاجپوشی منایا گیا تھا۔ اور اب70 سال بعد چالرز کو یہ موقعہ نصیب ہوا ہے۔
سر افتخار صاحب کے میڈل کے سلسلہ میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ1953ء میں ملکہ الزبتھ کا رونیشن میڈل ان کے والد مرحوم و مغفور محترم مختار احمد ایاز صاحب کو ٹانگا نیکا میں دیا گیا اور اب آپ کے بیٹے سر افتخار ایاز صاحب کوچارلز کی کارونیشن (تاج پوشی)کا میڈل ملا ہے۔
سر افتخار احمد ایاز صاحب کو یہ میڈل اُن کی برٹشREALMS کے لئے طویل خصوصی خدمات کے لئے دیاگیا ہے۔ آپ یوکے میں اس وقت بحیثیت ایک سینئر ڈپلومیٹ کام کر رہےہیں۔
گذشتہ سال مئی میں آپ کو ملکہ برطانیہ کی پلاٹینم جوبلی کا میڈل دیا گیا تھا۔OBE اورKBE کے اعلیٰ اعزازت کے علاوہ آپ کو ملکہ الزبتھ کی طرف سے ’’خدمات انسایت‘‘ کے اعزاز کے طور خدمات انسانیت کا میڈل دی گیاتھا۔ اور دوسرے بہت سے اعزازات اور میڈل مل چکےہیں۔
طوالو کے گرنر جنرل سرTOFIGA FALANI جو کارونیشن میں شرکت کے لئے لندن آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے سرافتخارایاز صاحب کو میڈل دیتےہوئے اُن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئےبتایا کہ آپ 1985ء میں طوالو کامن ویلتھ فیلڈ ایکسپرٹ کے طور آئے تھے اور ان کی طوالو ،کامن ویلتھ اور برٹشREALMS کی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔
جناب عزّت مآب سر افتخار احمد ایاز تنزانیہ میں پلے بڑھےاور برطانیہ و امریکہ میں اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد چند سال یونیورسٹی آف دار السلام میںبطور ہیڈ آف انگلش ڈیپارمنٹ کا م کرتے رہے۔ پھر UNA کے ادارہ FAO کے تحت The Centre on Integrated Rural Development for Africa کے ساتھ منسلک رہے۔ بعدہCFC یعنی Commonwealth Fund for Technical Cooperation، UNDP اور UNESCOمیں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا۔
آپ نے United Nations Human Rights Councilمیں اقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے بھی خدمات سر انجام دیں نیز مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارہ میں UNHRCکے اجلاسات میں رونق افروز ہوتے ہیں۔آپ امن کے سفیر ہیں اور انسانی فلاح و بہبود، غربت کے خاتمہ نیز تنازعات کے حل کے لیے اپنے ماہرانہ مشورے پیش کرتے ہیں۔
آپ International Human Rights Committee کے چیئرمین بھی ہیں۔آپ 1996ء سے برطانیہ میں طوالو کے اعزازی قونصل کے طور پر خدمات بجالا رہے ہیں۔ آپ کامن ویلتھ میں طوالو کے ہائی کمشنراور UN Human Rights Council میں طوالو کے سفیر کے عہدہ پر فائز ہیں۔
آپ ایک انمول و بارآور مصنف و مقرر کے طور پر متعدد کتب و مضامین شائع فرما چکے ہیں نیز کئی اعلیٰ سطحی فورمز بشمول Peace and Climate Change Conferences وغیرہ میں مختلف ممالک میں مؤثر تقاریر فرما چکے ہیں۔
سر افتخار نے Small Island States میں’’ تعلیم سب کے لئے‘‘ کی ایک مقصود پالیسی اور پروگرام بنایا۔ جو بہت کامیاب ہوا اور اب تک جاری ہے۔ یہ پروگرام معیشت کی بہبودی نیز تعلیم و صحت کے نظام کو معیاری بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔برطانیہ میں طوالو کے اعزازی قونصل کے طور پر سر افتخار کا یہ طے شدہ مستحکم نظریہ رہاہےکہ طوالو کی وراثت اور کامن ویلتھ میں طوالو کی قابل فخر پہچان پروان چڑھے۔اس کے لیے سر افتخار نے کمال کی مستقل مزاجی سے اپنا غیر معمولی کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر طوالو کے مضبوط روابط استوار کیے ہیں۔یہ سب کچھ انہوں نے رضاکارانہ طور پر کیا۔حال ہی میں آپ نے طوالو اور دیگر اور کئی جزائرممالک کے مابین کامیاب روابط قائم کئے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

