Latestاردوشاعری

!کچھ شاعری ہو جائے

Share your Love

شاعر: محمد اکرام چوہدری

اشعار ہمیشہ ہی سننے پڑھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے بہت خوش قسمت ہے کہ بہت ہی شاندار اور اعلی پائے کے شعرا سامنے آئے ہیں۔ یہاں انقلابی شعرا بھی لہو گرماتے رہے، رومانوی شاعری بھی اپنے عروج پر رہی پھر ہمارے عظیم شعرا نے بہت ہی بہترین اور سادہ انداز میں معاشرے میں پائی جانے والی تقسیم اور معاشرتی خامیوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ہماری شاعری کی تاریخ بہت شاندار ہے۔ ہمارے عظیم شعرائ کو ہمسایہ ملک بھارت میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے بالخصوص جب کبھی بھارت میں کوئی احتجاج ہوتا ہے تو فیض احمد فیض اور شاعر انقلاب کا لقب پانے والے حبیب جالب وہاں بھی مظاہرین کی زبان بنتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت مرتبہ ایسا بھی ہوا جب بولنے پر پابندیاں لگیں تو شعرائ حضرات نے آزادی اظہار رائے کے لیے آواز بلند کی اور جیلیں بھی کاٹیں۔ اب خدارا اس آزادی اظہار رائے کو آج بولنے کی آزادی سے مت ملائیے گا آج تو جو کچھ بولا جا رہا ہے یہ تو سماعتوں پر تشدد سے کم نہیں۔ اس آزادی کے لیے تو ہمارے عظیم شعراء کی قربانیاں ہرگز نہیں تھیں۔ آج تو آزادی کے نام پر طوفان بدتمیزی ہے، بہرحال اگر کسی کو برا بھی لگا ہے تو معذرت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہی حقیقت ہے اور ہمیں بولنے کی آزادی کو بچانے کے لیے کہیں نہ کہیں حدود کا تعین کرنا پڑے گا۔ اس طوفان بدتمیزی کو روکنے کے لیے حکومت کچھ کرے نہ کرے انفرادی طور پر بھی بھلے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے شعراء نے بہت اعلٰی معیار مقرر کیا ہے آج بولنے اور لکھنے والوں کو ان سے سبق ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی افراتفری اور تقسیم کو ختم کرنے کے لیے جہاں حدود سے تجاوز کیا جا رہا ہے وہاں ضرور بولنا چاہیے۔ آج بیٹھے بیٹھے یوں ہی خیال آیا کیوں نہ کچھ شاعری ہو جائے۔ بہرحال کل مزدوروں کا عالمی دن منایا گیا ہے سو دل کیا کہ آج یوم شاعری منایا جائے توپیش خدمت ہے امیر قزلباش کا کلام لکھتے ہیں۔

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا

اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا

گرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر

اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا

یقیں نہ آئے تو اک بات پوچھ کر دیکھو

جو ہنس رہا ہے وہ زخموں سے چور نکلے گا

اس آستین سے اشکوں کو پوچھنے والے

اس آستین سے خنجر ضرور نکلے گا

افتخار عارف کا کلام پیش خدمت ہے۔

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے

مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

میں اس کے ہاتھ نہ آو¿ں وہ میرا ہو کے رہے

میں گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہو

وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے

گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں

میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو

میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے

وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو

وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے

مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو

جب اعتبار ساجد لکھتے ہیں تو کچھ یوں لکھتے ہیں۔

باتوں باتوں میں بِچھڑنے کا اِشارہ کرکے

خود بھی رویا وہ بہت ہم سے کنارہ کرکے

سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں انجامِ خلوص

پھر اسی ج±رمِ محبت کو دوبارہ کر کے

جگمگا دی ہیں تیرے شہر کی گلیاں میں نے

اپنے ہر اشک کو پلکوں پہ ستارہ کر کے

دیکھ لیتے ہیں چلو حوصلہ اپنے دل کا

اور کچھ روز تیرے ساتھ گزارہ کر کے

ایک ہی شہر میں رہنا، مگر مِلنا نہیں

دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارا کر کے

مرحوم طارق عزیز کچھ یوں لکھتے ہیں۔

گناہ کیہہ اے ، ثواب کیہہ اے

ایہہ فیصلے دا عذاب کیہہ اے

میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی

ایہہ خواہشاں دا حباب کیہہ اے

جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا

تے فیر جگ دی کتاب کیہہ اے

ایہہ سارے دھوکے یقین دے نیں

نئیں تے شاخ گلاب کیہہ اے

ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے

تے ح±کمِ عالی جناب کیہہ اے

ناصر کاظمی کیا کمال لکھتے ہیں، پیش خدمت ہے ان کا کلام۔

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست

تو مصیبت میں عجب یاد آیا

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے

پھر ترا وعدہ شب یاد آیا

تیرا بھولا ہوا پیمان وفا

مر رہیں گے اگر اب یاد آیا

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے

پھر کوئی شہر طرب یاد آیا

حال دل ہم بھی سناتے لیکن

جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا

بیٹھ کر سایہ گل میں ناصر

ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

آج کا آخری شعر شہاب جعفری کا ہے اور کچھ یوں ہے یہ شعر ہم اپنے حکمرانوں، سیاست دانوں اور تمام طاقتور اور فیصلہ سازوں کے سامنے رکھ سکتے ہیں کہ کاش کوئی تو جواب دے۔

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *