Latestشاعری

ہر طرف آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی

شاعر: سلیم کوثر

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں

ہر طرف آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی

کتنی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں

شہر آبادی سے خالی ہو گئے، خوشبو سے پھول

اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں

پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں، دل میں خوف کی

ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں

کون یہ پاتال سے اُبھرا کنارے پر سلیم

سر پھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *