غزل ۔ ۔ ۔ بہادر شاہ ظفرؔ
شاعر: بہادر شاہ ظفرؔ
میری آنکھ بند تھی جب تلک جلاتے نظر میں نور جمال تھا
کھلی آنکھ تو نہ خبر رہی کہ وہ خواب تھا کہ خیال تھا
میرے جی میں تھا کہ کہوں گا میں یہ جو دل پے رنج و ملال ہے
وہ جب آ گیا میرے سامنے نہ تو رنج تھا نہ ملال تھا
پس پردہ سن کے تیری صدا مرا شوق دید جو بڑھ گیا
یہی اضطراب کمال تھا یہی وجد تھا یہی حال تھا
ظفرؔ اس سے چھٹ کے جو جست کی تو یہ جانہ ہم نے کہ واقعی
فقط ایک قید خودی کی تھی نہ قفس تھا کوئی نہ جال تھا

