اردو ادبمتفرق

خوشبو کیا خوشبو ہے یا ایک راز

Share your Love

تحریر: عبدالمنان گجر

کیا خوشبو صرف خوشبو ہے یا ایک ایسا راز جسے صدیوں سے روحانی علوم کے ماہرین سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟

یہ سوال آج بھی اسرار کی دھند میں چھپا ہوا ہے۔

دنیا کی تقریباً ہر قدیم تہذیب میں خوشبو کو محض جسمانی آسائش نہیں سمجھا گیا۔ مصر کے معبدوں سے لے کر ہندوستان کے قدیم آشرموں تک، عرب کے صحراؤں سے لے کر مشرقی خانقاہوں تک، خوشبو کو ایک ایسی چیز سمجھا گیا جو انسان کے ماحول، جذبات اور روحانی کیفیت پر اثر ڈالتی ہے۔

جب ہم روحانی علوم کی پرانی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک عجیب بات سامنے آتی ہے۔ اکثر مصنفین صفائی، پاکیزگی، بخور، لوبان، عطر اور خوشبو دار اشیاء کا ذکر کرتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں؟

کیا یہ صرف ماحول کو بہتر بنانے کے لیے تھا؟

یا اس کے پیچھے کوئی اور راز پوشیدہ تھا؟

بعض روحانی روایات میں یہ تصور ملتا ہے کہ کائنات میں انسان اکیلا نہیں۔ ایسی مخلوقات بھی موجود ہیں جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ اسلامی عقیدے کے مطابق جنات کا وجود قرآن سے ثابت ہے، جبکہ بعض عملیاتی روایات میں “موکلات” کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ان روایات کے مطابق بعض روحانی اعمال کے دوران مخصوص ماحول، مخصوص اذکار اور مخصوص خوشبوئیں استعمال کی جاتی تھیں۔

یہاں ایک دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے۔

انسان جب کسی خوشبودار باغ میں داخل ہوتا ہے تو دل کو سکون محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی گندے، آلودہ اور بدبودار مقام پر جاتا ہے تو طبیعت بوجھل ہونے لگتی ہے۔

سائنس اس کی ایک وجہ بتاتی ہے۔

روحانی علوم اس کی ایک دوسری تعبیر پیش کرتے ہیں۔

سائنس کہتی ہے کہ خوشبو دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتی ہے جو جذبات اور یادداشت سے متعلق ہیں۔

روحانی روایات کہتی ہیں کہ بعض خوشبوئیں ماحول میں لطافت پیدا کرتی ہیں۔

یہ لطافت کیا ہے؟

اس کا قطعی جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔

لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے تقریباً تمام روحانی نظام صفائی اور خوشبو کو اہمیت دیتے ہیں۔

اب ذرا غسل خانے کے بارے میں سوچئے۔

اسلامی تعلیمات میں بیت الخلاء میں داخل ہونے کی مخصوص دعا موجود ہے۔ بعض احادیث میں ایسی جگہوں کو ناپاک اور شیطانی اثرات کے لیے موزوں مقامات قرار دیا گیا ہے۔

کیا اس کی وجہ صرف گندگی ہے؟

یا اس کے پیچھے کوئی اور حکمت بھی موجود ہے؟

اس بارے میں قطعی دعویٰ کرنا درست نہیں، لیکن غور کرنے والے لوگ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ جہاں گندگی، بدبو اور آلودگی ہو وہاں انسان کا دل بھی گھبراہٹ محسوس کرتا ہے، جبکہ پاکیزہ اور خوشبودار جگہ پر طبیعت ہشاش بشاش رہتی ہے۔

بعض روحانی معالجین کا مشاہدہ ہے کہ جب مریض کو صاف ستھرا ماحول، خوشبو، ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن فراہم کی جاتی ہے تو اس کی ذہنی کیفیت میں بہتری آتی ہے۔

یہ بہتری خوشبو کی وجہ سے ہوتی ہے؟

یا ذکر کی وجہ سے؟

یا دونوں مل کر ماحول کو تبدیل کرتے ہیں؟

یہ سوال ابھی بھی تحقیق طلب ہے۔

روحانی علوم کی بعض پرانی کتابوں میں لوبان، صندل، گلاب اور عنبر کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے استعمال کا مقصد اکثر ماحول کو معطر کرنا اور یکسوئی پیدا کرنا بتایا جاتا ہے۔

لیکن یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔

خوشبو بذاتِ خود کوئی روحانی مخلوق کو بلانے یا قابو کرنے کا ذریعہ نہیں۔

کم از کم اس دعوے پر کوئی قابل اعتماد ثبوت موجود نہیں۔

البتہ یہ ممکن ہے کہ خوشبو انسان کے ذہن، احساسات اور روحانی توجہ کو متاثر کرے، اور یہی وجہ ہو کہ صدیوں سے عبادت گاہوں، خانقاہوں اور مراقبہ کے مقامات میں خوشبو کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ایک اور دلچسپ بات۔

کبھی آپ نے غور کیا کہ بعض گھروں میں داخل ہوتے ہی سکون محسوس ہوتا ہے؟

اور بعض گھروں میں بے وجہ گھبراہٹ؟

ضروری نہیں کہ اس کی وجہ کوئی ماورائی طاقت ہو۔

گھر کا ماحول، رہنے والوں کا رویہ، صفائی، روشنی، ہوا کا گزر اور خوشبو سب مل کر ایک کیفیت پیدا کرتے ہیں۔

روحانیت کا ایک بڑا راز یہی ہے کہ انسان کا باطن اور اس کا ماحول ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اگر گھر میں مسلسل جھگڑے ہوں، گندگی ہو، بدبو ہو اور منفی گفتگو ہو تو وہاں رہنے والوں کی ذہنی حالت بھی متاثر ہوتی ہے۔

اس کے برعکس اگر صفائی، خوشبو، دعا، تلاوت اور اچھے اخلاق ہوں تو ماحول تبدیل ہو جاتا ہے۔

شاید یہی وہ راز ہے جسے قدیم روحانی ماہرین مختلف انداز میں بیان کرتے رہے ہیں۔

حقیقی روحانیت خوشبو کی شیشی میں نہیں۔

حقیقی روحانیت دل کی خوشبو میں ہے۔

وہ خوشبو جو اخلاص سے پیدا ہوتی ہے۔

وہ خوشبو جو سچائی سے پیدا ہوتی ہے۔

وہ خوشبو جو اللہ کی یاد سے پیدا ہوتی ہے۔

اور یہی خوشبو انسان کے چہرے، الفاظ اور کردار سے محسوس ہونے لگتی ہے۔

باقی جہاں تک موکلات، جنات اور ماورائی قوتوں کا تعلق ہے، ان کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ ان موضوعات پر بہت سی روایات، قصے اور دعوے موجود ہیں، لیکن ہر روایت کو تحقیق اور عقل کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔

کیونکہ اصل روحانیت خوف میں نہیں، توازن میں ہے۔

اور اصل طاقت پوشیدہ مخلوقات میں نہیں، بلکہ انسان کے اپنے ایمان، کردار اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے میں ہے۔.

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *