حقیقی عزادار کون؟
تحریر: یاسر دانیال صابری
عزادار یعنی بیدار ضمیر انسان۔ عزادار یعنی ظلم کے خلاف قیام کرنے والا۔ عزادار یعنی مقصدِ کربلا اور مقصدِ امام حسینؑ پر چلنے والا۔ عزادار یعنی قرآن اور اہلِ بیتؑ کے راستے کا مسافر۔ عزادار یعنی نمازی، دیندار اور کردار کا سچا انسان۔
عزادار یعنی کربلا کے پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے والا۔ عزادار یعنی ظالم سے بیزاری اور مظلوم کا ساتھ دینے والا۔ عزادار یعنی میدانِ عمل میں موجود رہنے والا۔ عزادار یعنی انصاف پسند، حق گو اور سچائی کا علمبردار۔
عزادار وہ ہے جو ہر دور کے یزید کے خلاف آواز بلند کرے۔ عزادار وہ ہے جو تنہائی میں بھی حق کا ساتھ نہ چھوڑے۔ عزادار وہ ہے جو امام حسینؑ کے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرے، معاشرے میں ظلم، ناانصافی، فرقہ واریت اور برائی کے خلاف کھڑا ہو۔
آج ہمارے معاشرے میں عزاداری کا ظاہری پہلو تو بہت نمایاں ہے، لیکن حقیقی عزاداری کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ محرم کے جلوسوں میں سبیلیں لگتی ہیں، نوحے پڑھے جاتے ہیں، سینہ زنی ہوتی ہے، مگر اگر ان تمام اعمال کے ساتھ عملِ حسینؑ، کردارِ حسینؑ اور پیغامِ حسینؑ ہماری زندگیوں میں نہ آئے تو عزاداری کا اصل مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
عزادار صرف سیاہ لباس پہننے والا نہیں، بلکہ سیاہ لباس کے ساتھ سفید کردار رکھنے والا انسان ہے۔ عزادار وہ ہے جو نماز کا پابند ہو، والدین کا فرمانبردار ہو، جھوٹ، ظلم، رشوت، منافقت اور ناانصافی سے دور رہے۔ وہ اپنے معاشرے میں امن، محبت، اخوت اور بھائی چارے کا پیغام دے۔
بلتستان اور گلگت کے نوجوان محرم میں سبیلیں لگاتے ہیں، پانی پلاتے ہیں اور خدمت کرتے ہیں، جو یقیناً باعثِ اجر ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ عزاداری کو صرف رسم نہ بنایا جائے بلکہ اسے ایک عملی تحریک بنایا جائے۔ امام حسینؑ نے ہمیں صرف گریہ نہیں، بلکہ کردار، قربانی، استقامت اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا درس دیا ہے۔
محرم الحرام ہمیں صرف غم اور سوگ کا درس نہیں دیتا بلکہ ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کا پیغام بھی دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم، ناانصافی، نفرت، فرقہ واریت، جھوٹ اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں اتحاد، اخوت، صبر، برداشت، خدمتِ خلق اور انسانیت کی قدر کا سبق دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، محلوں اور معاشرے میں محبت، احترام، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دیں تو یہی محرم کا حقیقی پیغام ہوگا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کربلا کو صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ایک پرامن، باکردار اور بااخلاق معاشرہ تشکیل پا سکے، جہاں حق کی آواز بلند ہو اور مظلوم کو انصاف ملے۔ یہی محرم الحرام کا اصل معاشرتی سبق اور امام حسینؑ کی عظیم قربانی کا حقیقی پیغام ہے۔
محرم الحرام اور واقعۂ کربلا آج بھی عالمِ اسلام کے لیے اتحاد، اخوت، صبر اور حق پر ثابت قدمی کا عظیم پیغام رکھتے ہیں۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ فرقہ واریت، نفرت، تعصب اور انتشار سے بالاتر ہو کر قرآن اور سیرتِ اہلِ بیتؑ و صحابہؓ کی تعلیمات کو اپنائے۔ امام حسینؑ کی قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا، مظلوم کی حمایت کرنا اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے کوشش کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ آج جب عالمِ اسلام مختلف چیلنجز، اختلافات اور آزمائشوں سے گزر رہا ہے تو کربلا کا پیغام ہمیں اتحاد، بھائی چارے، کردار سازی اور اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد کی دعوت دیتا ہے۔ اگر مسلمان حق، دیانت، علم، اخلاق اور باہمی احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو امتِ مسلمہ دوبارہ عزت، وقار اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔
حقیقی عزادار وہ ہے جو اپنے کردار سے لوگوں کو متاثر کرے۔ وہ اپنے عمل سے دین کی تبلیغ کرے، سچ بولے، انصاف کرے، کمزور کا سہارا بنے اور مظلوم کی آواز بنے۔ ایسا عزادار ہی امام حسینؑ کے پیغام کا سچا وارث ہے۔
خدارا حقیقی عزادار بنیں، رسمی عزادار نہیں۔ محرم کا پیغام ہمیں بدلنے کے لیے آیا ہے۔ اگر ہمارے اعمال، کردار اور رویے نہ بدلیں تو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی حسینی ہیں؟
محرم الحرام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ دینِ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ حق، انصاف، صبر، قربانی اور اللہ کی رضا کے لیے ثابت قدم رہنے کا پیغام بھی ہے۔ واقعۂ کربلا نے واضح کر دیا کہ ایک مسلمان کے لیے حق کا ساتھ دینا اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ایمان کا تقاضا ہے۔ امام حسینؑ اور ان کے رفقاء نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر یہ سبق دیا کہ دین، اصول اور سچائی دنیاوی مفادات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ محرم الحرام ہمیں صبر، تقویٰ، اخلاص، اتحاد اور کردار کی پاکیزگی کی دعوت دیتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال کر ایک بہتر انسان اور بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عزادار بننے، راہِ حسینؑ پر چلنے، حق کا ساتھ دینے اور معاشرے میں کردارِ حسینی کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

