الٰہی حکم ووٹ ایک امانت
تحریر: رانا محمود
28جون 2026، بروز اتوار، پاکستان پریس کلب لندن کے صحافی اپنی قیادت کا انتخاب کریں گے ۔
ووٹ ڈالنا بلاشبہ ہر رکن کا جمہوری حق ہے، تاہم ووٹ صرف حق رائے دہی ہی نہیں بلکہ امانت بھی ہے، اور امانت کو اسکے اہل کے سپرد کرنا الٰہی حکم ۔ اللّٰہ تعالیٰ حکم دیتے ہوے ارشاد فرماتا ہے
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ
سورۂ نساء کی یہ آیۂ مبارکہ محض ایک حکم نہیں، بلکہ انتخاب، قیادت اور حکمرانی کا ایسا جامع منشور ہے جس میں ووٹ دینے والے اور منتخب ہونے والے، دونوں کے فرائض نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ بیان کر دیے گئے ہیں۔
یہ قرآنِ حکیم کا ایجاز ہے کہ چند الفاظ میں ایک مکمل مضمون بیان کر دیتا ہے ۔ اسی لئے تو ارشاد ہوا
اَللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ
یعنی اللّٰہ کا کلام ہی بہترین کلام ہے ۔ اگر ہم دوبارہ سورۂ نساء کی اسی آیت پر غور کریں تو اس کا پہلا حصہ ووٹ دینے والوں سے مخاطب ہے جوہمیں یاد دلاتا ہے کہ ووٹ ذاتی تعلق، دوستی، گروہی وابستگی یا وقتی مفاد کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی امانت ہے جو صرف اسی شخص کے سپرد کی جانی چاہیے جو کردار، دیانت، صلاحیت اور خدمت کے اعتبار سے واقعی اس کا اہل ہو۔
آیت کا دوسرا حصہ منتخب ہونے والوں کو متنبہ کرتا ہے کہ جب قیادت ان کے سپرد کر دی جائے تو وہ ہر فیصلے میں انصاف کو مقدم رکھیں، کیونکہ اختیار اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، اور ایک دن اللّٰہ ربّ العزت کے حضور اس کی جواب دہی ہوگی ۔
یاد رکھئیے کہ ووٹ محض ایک پرچی نہیں، بلکہ الٰہی حکم کے تحت ایک امانت ہے جو قوموں کی تقدیر میں فیصلہ کُن ہے ۔
اسی ووٹ نے برطانیہ میں 2016ءکے بریگزٹ ریفرنڈم میں دہائیوں پر محیط یورپی سیاسی سفر کا رخ بدل دیا اور صرف چند فیصد ووٹوں کے فرق نے برطانیہ کی سیاسی، معاشی اور سفارتی سمت ہی تبدیل کر کے رکھ دی ۔
اسی طرح جرمنی میں ایڈولف ہٹلر بھی اگرچہ ووٹ کے ذریعے ہی اقتدار تک پہنچا، تاہم اقتدار ملنے کے بعد اس کی پالیسیوں نے پوری دنیا کو دوسری عالمی جنگ کی ہولناکی میں دھکیل دیا، جس کے اثرات آج بھی تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں ۔
بعینہ امریکہ میں سن 2000ءکے صدارتی انتخابات میں ریاست فلوریڈا میں محض 537 ووٹوں کے فرق نے جارج بش کو کامیابی دلائی۔ بعد ازاں عراق جنگ سمیت متعدد عالمی فیصلوں نے دنیا کی سیاست، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر انتہائ گہرے اور عمیق اثرات مرتب کیے ۔
یہ تمام مثالیں ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ ووٹ کا درست یا غلط فیصلہ قوموں بلکہ نسلوں کی تقدیر بدل کے رکھ دیتا ہے ۔ اسی لئے علّامہ نے کہا تھا کہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اور یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے کہ پاکستان کا قیام بھی عوام کے ووٹ سے حاصل ہونے والے مینڈیٹ کا نتیجہ تھا۔ ۱۹۴۶ء میں متحدہ ہندوستان کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کے مطالبے کو اپنا انتخابی منشور بنایا اور یوں مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستوں پر ہونے والے یہ انتخابات درحقیقت قیامِ پاکستان کے حق میں ایک عوامی ریفرنڈم بن گئے ۔ عوام کے اسی فیصلہ کن ووٹ نے تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کی ۔
لہٰذا آئیے اوراپنے ضمیر کو گواہ ٹھہرا کر، اپنے رب کے حکم پر لبیک کہتے ہوے اپنے ووٹ کی امانت صرف اسی شخص کے سپرد کریں جو واقعی اس کا اہل اور حق دار ہو۔
یاد رکھیے، آپ کا ووٹ صرف ایک فرد کو کامیاب نہیں کرتا، بلکہ اداروں کا وقار، انصاف کی بنیاد، اور آنے والی نسلوں کا اعتماد بھی محفوظ بناتا ہے ۔
۲۸ جون کو ووٹ ڈالنے ضرور جائیے کہ ووٹ کے ذریعے سے ہی آپ اہل قیادت کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔ یہی الٰہی حکم ہے اور یہی ایک باشعور معاشرے کی پہچان بھی ۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے ووٹ کی امانت صحیح ہاتھوں میں دینے کی توفیق عطا فرمائے

